ختم نبوت ضرورت و اہمیت

(Malka Mubeen Khalid, )

ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ پر نبوت کے مقدس سلسلے کی تکمیل ہو چکی ہے ۔آپ ﷺ کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا،اس موضوع پر قرآن کریم کی آیات مبارکہ بے شمار احادیث مبارکہ اور اس کے علاوہ مفّصلین کی بے شمار کتب سے اس کے شواہد ملتے ہیں۔

ترجمہ: ’’آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا‘ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا‘ اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔‘‘(سورہ مائدہ: 3)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہوتے۔(ترمذی صفحہ209 جلد2)

حضرت حسن رحمۃ اﷲ علیہ سے آیت خاتم النبیین کے بارہ میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ’’اﷲ تعالیٰ نے تمام انبیأ کو محمد ﷺ پر ختم کردیا اور ان رسولوں میں سے جو اﷲ کی طرف سے مبعوث ہوئے آخری ٹھہرے۔‘‘(درّ منثور صفحہ204 جلد5)

دنیا میں بے شمار انبیاء کرام تشریف لائے لیکن جب آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو اﷲ تعالیٰ نے کُل کائنات کو آپ کی نبوت و رسالت کے لئے ایک اکائی بنا دیا. آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے،آپ ﷺ کاقبلہ آخری قبلہ بیت اﷲ شریف ہے۔آپ ﷺ پر نازل شدہ کتاب آخری آسمانی کتاب ہے۔یہ سب آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ منصب ختم نبوت کے اختصاص کے تقاضے ہیں جو اﷲ تعالیٰ نے پورے کر دیئے ۔چنانچہ قرآن مجید کو ذکر للعالمین اور بیت اﷲ شریف کو ھدی للعالمین کا اعزاز بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے صدقے میں ملا۔ آپﷺ کی امت آخری امت قرار پائی ۔

ختم نبوت کا عقیدہ عقائد میں سے ایک ہے اور اسلام کی ضروریات و اصول کو دین میں شامل کیا گیا ہے ۔قرآن کریم کی ایک سو ایک آیت اور دو سو دو احادیث مبارکہ سے یہ مسئلہ واضح ہے کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور دفاع کے لیے سب سے پہلے جو جنگ لڑی گئی وہ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے زمانہ خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی جس میں بہت سے صاحبہ کرام نے شرکت کی اور کچھ نے حق کی راہ میں شہادت پائی ٹکرے ٹکرے کر کے انھیں شہید کر دیا گیااسی طرح جب جب ختم نبوت کے خلا ف بات آئی تو ہر اک اک مسلمان نے اس کے لئے آواز بلند کی اور اپنی جان و مال ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پیش کی لیکن آج کے اس جدید دور میں رد قادیانیت کے لیے جدید اسلوب اپنانے کی ضرورت ہے ۔قادیانیوں کی دعوت اور سازشوں کا عمومی میدان دینی مدارس کے طلبہ اور مساجد کے نمازی نہیں قادیانیوں کی محنت کا میدان مسجد و مدرسہ سے لا تعلق افراد و طبقات ہیں اور زیادہ تر وہ جن کا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ افراد جو دین کی معلومات سے بہرہ ور نہیں ہیں جبکہ ہماری محنت کا میدان زیادہ تر ہمارا اپنا ماحول ہے لیکن ہماری محنت کا اصل میدان دین سے لا تعلق افراد و طبقات ہیں جن کی طرف ہماری توجہ بہت کم ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی جدوجہد اور ترجیحات کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔قادیانیوں کی محنت کا طریق کار بدل چکا ہے۔ان کے دلائل انسانی حقوق کے جدید فلسفہ اور آج کے بین الاقوامی قوانین و رواجات پر مشتمل ہوتے ہیں اور وہ ان حوالوں سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے میڈیا کے تمام شعبوں صحافت، ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا میں اپنی کمین گاہیں قائم کر رکھیں ہیں ہمیں اس صورت حال پر توجہ دینا ہوگی اور ان ہتھیاروں اور اسلوب میں مہارت حاصل کرنا ہوگی جو آج کے دور میں عام طور پر استعمال ہو رہے ہیں، اور جن کے بغیر کوئی جدوجہد آگے نہیں بڑھ سکتی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malka Mubeen Khalid

Read More Articles by Malka Mubeen Khalid: 5 Articles with 2779 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Aug, 2020 Views: 584

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ