بنگلورو تشدد: عدم برداشت یا تفریق و امتیاز

(Dr Salim Khan, India)

11 اگست کی شام بنگلورو میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے اور اس میں تین قیمتی جانیں پولس کی فائرنگ میں تلف ہوئیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 175 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ذرائع ابلاغ میں اس سانحہ کو مسلمانوں کے عدم برداشت یا انتہا پسندی سے منسوب کیا گیا حالانکہ حقیقت میں یہ انتظامیہ کے تساہل اور غیر حساسیت کا نتیجہ تھاجو تشدد میں بدل گیا ۔انتظامیہ کے حوالے سے مسلمانوں کے اند ر جو غم و غصہ پایا جاتا ہے اس کو مندرجہ ذیل واقعات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے ۔ بیدر کے شاہین اسکول میں امسال ۲۱ جنوری کو بچوں کے ذریعہ سی اے اے مخالف ڈرامہ اسٹیج کیا گیا ۔ اس کے خلاف 26؍ جنوری کو بی جے پی کے مقامی رکن نیلیش رکشیال کی شکایت پر پر آئی پی سی کی دفعہ 124 اے اور 504 کے تحت شاہین اسکول اور اس کی انتظامیہ کے خلاف نیوٹاؤن پولیس تھانے میںبغاوت کا معاملہ درج کرلیا گیا ۔ اس کے بعد۸۰ بچوں کو تفتیش کے نام پر ذہنی اذیت دی گئی اوران کے والدین اور ڈارمہ کے ناظرین تک کو پریشان کیا گیا۔ اسکول کی انچارج فریدہ اور چھٹی جماعت کی طالبہ نغمہ کی ماں نجم النساء کو گرفتار کرلیا گیا۔

ایک طرف تو مسلمانوں کے خلاف بیدر میں کرناٹک پولس کی یہ مستعدی اور دوسری جانب بنگلورو میں زبردست لاپروائی کا مظاہرہ اگر تفریق و امتیاز نہیں ہے تو کیا ہے؟ انتظامیہ کی جانب سے دکھائی جانے والی اس دلچسپی کی قلعی عدالت میں کھل گئی۔ جج صاحبہ نے پیشگی ضمانت کی سماعت کے دوران کہہ دیا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے پہلی نظر میں سیڈیشن کا معاملہ بنتا ہو۔ اپنے حکم میں عدالت نے یہ بھی لکھا کہ سی اے اے کے خلاف اسکول کے بچوں کے ذریعہ کھیلا گیا ڈرامہ سماج میں کسی بھی طرح کا تشدد یا بے یقینی ماحول پیدا نہیں کرتا ۔ اسی طرح کا معاملہ شہریتترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف 20 فروری کوبنگلورو کے فریڈم پارک میں منعقد ہونے والے جلسہ پیش آیا جہاں کالج کی ایک طالبہ امولیہ لیونا نے اسٹیجسے پہلے پاکستان زندہ باد اور پھر ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگوائے ۔

منتظمین نےاول تواس کے ہاتھ سے مائیک چھین کراسے روکا اور پھر پولیس نے حراست میں لے لیا۔ امولیہ پربھی ملک سے غداری کا مقدمہ درج کردیا گیا۔ اس کے بعد اسٹیج پر موجود رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے پاکستان مردہ بار کے نعرے لگوائے لیکن بی جے پی نے ان کی وضاحتوں کو مسترد کردیا۔ سیشن کورٹ نے امولیہ لیونا کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی تاہم نچلی عدالت کے ایک مجسٹریٹ نے تکنیکی بنیاد پر انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیاکیونکہ پولس گرفتاری کے بعد 90 دنوں کے اندر فرد جرم عائد کرنے میں ناکام ہوگئی تھی۔ امولیہ کے وکیل پرسنّا نے کالج کی طالبہ کو محض 'پاکستان زندہ باد' کا نعرہ بلند کرنے پر بغاوت کا مقدمہ درج کر کے جیل بھیجنے اور تفتیش کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دینے پر افسوس کا اظہار کیا ۔پرسناّ نے بتایا بہت مقدمات میں سپریم کورٹ یہ واضح کر چکا ہے کہ محض کچھ کہہ دینے سے کوئی باغی نہیں ہو جاتا۔ یہ سب حکومت کی جانب سے اپنے مخالفین کو ڈرانے کی کوشش ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ اس طرح ماحول کا سیاسی فائدہ کس طرح اٹھاتے ہیں اس کی ایک مثال بھی کرناٹک ہی کے چِک منگلور شہر سے سامنے آئی۔ 8ویں صدی میں ہندو فلسفی آدی شنکراچاریہ کی مورتی سرنگیری قصبے میں نصب ہے اس لیے ہندو اسے مقدس مانتے ہیں۔ بنگلورو تشدد کے دو دن بعد اس مورتی کی چھتری کے اوپر ایک بھیگا ہوا عید میلاد النبی کا جھنڈا پایا گیا جس پر گنبد خضرا کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس خبر کے آتے ہی بی جے پی کی رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے نے ٹوئٹ کیا ’’یہ جھنڈا ایس ڈی پی آئی کا ہے اور دانستہ طور پر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘ اس ٹویٹ سے علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی۔ اس پیغام کی دونوں باتیں جھوٹ تھیں ۔ اول تو وہ ایس ڈی پی آئی کا جھنڈا نہیں تھا ۔ دوسرے اسے دانستہ طور پر ماحول خراب کرنے کے لیے نہیں لہرایا گیا تھا بلکہ رکن پارلیمان ازخود افواہ پھیلا کر اس جرم کا ارتکاب کررہی تھیں ۔ اس طرح اگر تشدد پھوٹ پڑتا تو اس وہ اس کے لیے ذمہ دار ہوتیں اس لیے ان پر سماجی منافرت پھیلانے کا مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے ۔ پولیس نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر انکشاف جھنڈا رکھنے والے ملند ولد منوہر نامی شخص کو گرفتار کر کے اس پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام عائد کردیا ۔

اس واقعہ کی جانچ پڑتال کے دوران نہایت دلچسپجو حقائق سامنے آئے ۔ ایس پی کے مطابق شرابی ملند کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہے۔انہوں نے یہ واضح کیا کہ یہ ایس ڈی پی آئی یا کسی سیاسی جماعت کا جھنڈا نہیں ہےبلکہ بینر پر عید میلاد (گنبد خضریٰ) کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ایس پی نے یہ تفصیل بیان کی کہ واردات کے دن کافی بارش ہو رہی تھی ۔ ملند اپنے آپ کو بارش سے بچانے کے لئے کچھ ڈھونڈ رہا تھاتو وہ بینر ہاتھ آگیا اور اس نے اول توخود کو اس ڈھانپ لیا۔ پھر اسے محسوس ہوا کہ وہ مقدس چیز ہے اس لئے اس نے اسے ’بھگوان‘ کے پاس محفوظ رکھ دیا۔اس کا مقصد ماحول خراب کرنا نہیں تھا ۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار کے نشے میں دھت بی جے پی ارکان پارلیمان سے بہتر تو وہ شرابی ہے جس کو نشے کی حالت میں بھی دیگر مذاہب کے تقدس کا احساس ہے۔ اس اثناء میں آسام کے بی جے پی رکن اسمبلی شیلادتیہ دیو نے بھی اسی طرح کی ایک متنازعہ بیان بازی کردی ۔ انہوں نے آسام سے تعلق رکھنے والے مصنف، ناول نگار اور فلسفی پدم شری آنجہانی سید عبد الملک کو ’دانشور جہادی‘ کے خطاب سے نواز دیا ۔

آسام کے ہوجائی حلقۂ انتخاب کی اس رکن اسمبلینے گزشتہ مہینے بی جے پی لیڈران پر انہیں نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی تھی ۔ مسلمانوں کے خلاف بدزبانی کرنے والی شیلادتیہ نے بعد میں پارٹی سے رجوع کرلیا لیکن سید عبدالملک کے بیان پر اس کی اپنی ہی پارٹی کے لیڈران کی جانب سے ہدف تنقید بن گیا۔ آسام اقلیتی بہبود بورڈ کے سربراہ اوربی جے پی رہنما مومن الاول نے شیلادیتہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وہ عوامی طور پر معافی نہیں مانگتے تو میں ہمیشہ ان کے خلاف سخت رُخ اختیار کروں گا۔‘‘ اس معاملے کا فائدہ اٹھانے کے لیے کانگریس بھی سرگرم ہوگئی ۔ آسام کے سابق وزیر اعلیٰ ترون گگوئی نے شیلا دیتیہ دیو کے تبصروں پر سخت تنقید کی۔ کانگریس کے رکن پارلیمان عبد الخالق نے تو اسے پاگل قرار دےکرپاگل خانہ بھیجنے کا مشورہ دیا۔کانگریسنے اسےتنازہ بیانات دینے والی راکھی ساونت قرار دےدیا۔ اس معاملے میں کانگریس کے اقلیتی شعبہ نےشیلا دیو کے خلاف گوہاٹیکے ہانٹی گاؤں پولیس تھانہ میں شکایت درج کرائی اور رکن اسمبلیشیلادتیہ دیوکی گرفتاری عمل میں آئی ۔ اسی طرح کاسلوک چک منگلور کی بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے کے ساتھ بھی ہونا چاہیے تبھی جاکر ان موقع پرست سیاستدانوں کی عقل ٹھکانے آئے گی جو فرقہ وارانہ منافرت پھیلا کر اپنی سیاسی دوکان چمکاتے ہیں ۔ یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں ماننے والے ہیں ۔ انتظامیہ اگر نفرت پھیلانے والوں پر لگام لگا دے تو عوام کو بھی اطمینان ہوگا اور بیجا ردعمل وتشدد کے واقعات رونما نہیں ہوں گے۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1085 Articles with 375172 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2020 Views: 305

Comments

آپ کی رائے