عہد حاضر کے چیلنجز اور میڈیا کا کردار

(Zubair Bashir, Beijing)
چائنا میڈیا گروپ کے سربراہ اور ایڈیٹر ان چیف شن ہائی شونگ نے رہنما خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں جو باتیں کیں وہ عہد حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق تھیں۔ انہوں نے کہا "میڈیا کو افواہیں پھیلانے اور پریشانی پیدا کرنے کی بجائے سچائی پر مبنی خبریں دینی چاہئیں، تفرقہ پیدا کرنے کی بجائے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور وبا کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے کی بجائے اس کا سائنسی طریقے سے مقابلہ کرنے کی کوششوں کا ساتھ دینا چاہیے۔نشریاتی اداروں کو ہوائی حملوں کی بجائے اعتماد کو فروغ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑی خبروں کی اطلاع دیتے وقت مقصدیت ، انصاف پسندی اور سچائی کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہئے ، انہوں نے زور دیا کہ چینی اور لاطینی امریکی اور کیریبین میڈیا کو بنی نوع انسان کے صحت مند سماج کی تعمیر کو فروغ دینے کے لئے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

چائنا میڈیا گروپ کے سربراہ اور ایڈیٹر ان چیف شن ہائی شونگ

ہم جس دور میں زندگی بسر کر رہے اس دور میں میڈیا بڑی اہمیت حاصل کرچکا ہے۔ روائتی میڈیا کے ساتھ ساتھ شوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر شخص مکمل آزادی کے ساتھ جو چاہیے شیئر کر دیتا ہے۔ بدلتے ہوئے ان نئے حالات کی وجہ سے بڑے میڈیا ہاؤسز کی ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہ ان اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ افواہوں اور معاشرے کے لئے نقصان دہ رجحانات کی ترویج کو روکنے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے 28 اگست کو بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ اور اس کے لاطینی امریکہ کے میڈیا پارٹنرز نے ایک آن لائن تعاون فورم کا انعقاد کیا۔ فورم کے اختتام پر جاری ایک مشترکہ بیان کہا گیا کہ کووڈ-19 کی وبا پر قابو پانے اور چین-لاطینی امریکہ ہم نصیب سماج کی تعمیر کے لئے مل جل کر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

اس موقع پر چائنا میڈیا گروپ کے سربراہ اور ایڈیٹر ان چیف شن ہائی شونگ نے رہنما خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں جو باتیں کیں وہ عہد حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق تھیں۔ انہوں نے کہا "میڈیا کو افواہیں پھیلانے اور پریشانی پیدا کرنے کی بجائے سچائی پر مبنی خبریں دینی چاہئیں، تفرقہ پیدا کرنے کی بجائے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور وبا کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے کی بجائے اس کا سائنسی طریقے سے مقابلہ کرنے کی کوششوں کا ساتھ دینا چاہیے۔نشریاتی اداروں کو ہوائی حملوں کی بجائے اعتماد کو فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑی خبروں کی اطلاع دیتے وقت مقصدیت ، انصاف پسندی اور سچائی کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہئے ، انہوں نے زور دیا کہ چینی اور لاطینی امریکی اور کیریبین میڈیا کو بنی نوع انسان کے صحت مند سماج کی تعمیر کو فروغ دینے کے لئے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

اسی دوران ، لاطینی امریکی میڈیا اور کیربئین ممالک کی میڈیا تنظیم کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ کووڈ- کی وبا نے لاطینی امریکہ اور کیریبین علاقوں کی معاشی اور معاشرتی نشونما پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں۔ لیکن مشکل وقتوں میں چین ہمارا ہمیشہ قابل اعتماد ساتھی اور دوست رہا ہے۔ لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے سے تعلق رکھنے والے 19 ممالک نے چین کے منظور شدہ بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر میں حصہ لیا۔ ہم چین کے ساتھ کثیرالجہتی کا دفاع کریں گے اور تحفظ پسندی کی مخالفت کریں گے۔

فورم میں موجود دیگر شرکا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہ دنیا میں تمام ایماندار میڈیا انصاف کے حق میں کھڑا ہوگا۔ لاطینی امریکی پریس ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ اس مشکل وقت میں میڈیا کو زیادہ سے زیادہ ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ میڈیا کو ان حکومتوں کی حمایت کرنی چاہئے جو اس وبا سے لڑنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔

چین-لاطینی امریکہ میڈیا تعاون ایک بین الاقوامی ماڈل بن چکا ہے۔ 17 جب چین وبا کے خلاف نبرد آزما تھا تو لاطینی امریکی پریس ایسوسی ایشن کے تحت کام کرنے والی میڈیا تنظیموں نے مشترکہ طور پر چائنا میڈیا گروپ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ۔ اسی طرح جب لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے میں وبا پھیلنے لگی تو چائنا میڈیا گروپ نے بھی لاطینی امریکی میڈیا کے ساتھ تعاون کیا اور جہاں تک ممکن ہو سکے طور پر مدد فراہم کی۔

فورم کے شرکا نے صحت مند معاشرے کے قیام کےلئے مل جل کر کام کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

عہد حاضر میں میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

موجودہ عہد میں میڈیا وار اور پروپیگنڈا ایک ایسا ذریعہ اور ہتھیار ہے جسکی مدد سے کسی بھی جنگ اور مہم میں ملک اور ریاستیں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر سکتی ہیں۔ انسان انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر پروپیگنڈا اور میڈیا وار سے باآسانی متاثر ہوتا ہے۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں کہلایا جانے والا ''پروپیگنڈا'' آج اکیسویں صدی میں ''میڈیا وار'' کہلاتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کہ جب پوری دنیا مختلف ممالک اور ریاستوں میں تقسیم ہو چکی ہے، اب اقوامِ عالم پروپیگنڈا اور میڈیا وار کو مخالف ملک اور عوام کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی عوام کے ایمان، اعتقاد اور ایقان کو اپنی ملکی، ریاستی اور قومی پالیسیز پر برقرار رکھنے اور انہیں قومی وریاستی پالیسیزکے مطابق چلانے اور گامزن رکھنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

اکیسویں صدی میں آج پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل تینوں قسم کے میڈیا پروپیگنڈا وارکے بہترین ذرائع ہیں۔ آج پوری دنیا میں کرونا وائرس کی جنگ ملکوں اور ریاستوں کی سرحدوں پر نہیں بلکہ ان کی گلیوں، محلوں، قصبوں، دیہاتوں اور شہروں میں لڑی جا رہی ہے۔ اس جنگ میں ہر ملک کی حکومت اپنی پوری کوشش اور توانائی کے ساتھ اپنے ملک کی عوام کو افواہوں، مایوسیوں اور آہوں و یاس سے بچانے کے لیے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا سہارا لے رہی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zubair Bashir

Read More Articles by Zubair Bashir: 32 Articles with 8255 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2020 Views: 77

Comments

آپ کی رائے