تحریر برائے لکھاری ۔۔۔

(Munazza Hussain, Karachi)

میری آج کی تحریر کا اصل موضوع لکھنے پہ بحث کرنا ہے ، لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی یہ صلاحیت آللہ کی طرف سے ہوتی ہے جو لکھنا جانتا ہو ضروری نہیں ہے کہ اس نے لکھنا سیکھا ہو ہاں لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ اس شوق کے باعث اس نے اس کام پہ محنت کی اس ہنر کو سنوارنے کے لئے جدوجہد کی اور اپنے لکھنے کے فن کو مزید چمکایا ہو ، لکھنا ایک بہت بڑی طاقت ہے ایک قلم اگر حق کے لئے کچھ لکھے تو وہ جہاد سے کم نہیں ہوتا ، لیکن اس وقت بات لکھاریوں کی ہو رہی ہے تو میں بھی گفتگو اس جانب موڑتی ہوں ، یہ خیال کہ اگر کوئی لکھاری سیاست پہ بات کرتا ہے تو وہ کچھ اور نہیں لکھ سکتا یا اگر کوئی ناول نگاری کرتا ہے تو وہ کسی اور موضوع پہ بات نہیں کرسکتا ، نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے ، لکھنے والا ہر تحریر لکھ سکتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس کی مہارت اس چیز میں ذیادہ اچھی ہوگی جس کا وہ ماہر ہے لیکن اپنے انداز بیان کو کسی اور ڈھانچے میں بھی ڈالنا چاہیئے تاکہ دماغ تازہ ہر سکے ۔ ہم لکھاری کبھی کبھار ایک بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں جس میں ہم کچھ بھی لکھنے کا قابل نہیں ہوتے دماغ میں نئے لفظ نہیں بن رہے ہوتے کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہر لیکن لفظ ساتھ نہیں دے رہے ہوتے ایسی بیماری کو رائیٹرز بلاک کہتے ہیں ، میں خود اس بیماری کا شکار رہی ہوں اور کچھ بھی لکھنے سے قاصر تھی پھر ایک کتاب کے مطالعے کے دوران اندازہ ہوا کہ یہ بھی ایک بیماری ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ اپنی تحریر کا انداز بدل کے دیکھو میں نے بھی سیاسی اور تنقیدی تحریروں کے بجائے ایک سادہ تحریر سے شروعات کی ہے ۔ ہم ایک روٹین سے تھک جاتے ہیں پھر ہمیں وکیشنز کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کچھ دن کہیں اور گزار کہ جب واپس آئیں گے تو اپنے کام میں پھر سے تازہ دم ہوجائیں گے اسی طرح میری یہ تحریر بھی ایک چھوٹی سی کوشش ہے ۔ ہمارے نبی ًًٍصلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے “جو لکھنا جانتا ہو تو اس کا نا لکھنا گناہ ہے“ ہمارے ًمذہب میں لکھنے کو بہت اہمیت دے گئی ہے علم کو لکھ کر محفوظ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ انبیاء کے زمانہ ہر یا قدیم بادشاہوں کے زمانے ہر وقت ہر سفر میں لکھنے کا سامان ہر وقت موجود ہوتا تھا خیر آج کے زمانے میں تو ٹیکنا لوجی اتنی عام ہے کہ ہم سب کے پاس موبائل فونز کی صورت میں ہر وقت لکھنے کے لئے کچھ ساتھ ضرور ہوتا ہے ۔ تحریر کا اختتام اس بات پہ کرونگی کہ شاید کسی قاری کو میری تحریر سمجھ نہ آئے یا یہ بیکا ر کاوش سمجھے تو اس سے میری گزارش ہے کہ میں اپنا ٹریک بدلنے کی کوشش کر رہی ہوں ایک ادبی تحیھ لکھ کر کوشش کر رہی ہوں کہ اس میں بھی پرفیکشن لا سکوں ۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munazza Hussain

Read More Articles by Munazza Hussain: 9 Articles with 2984 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Sep, 2020 Views: 95

Comments

آپ کی رائے