کچھ ذکر ٹیوشن سینٹرز کا!

(Bilal Hussain, Karachi)
کچھ ذکر ٹیوشن سینٹرز کا

قسم: طنز و مزاح
عنوان:ٹیوشن سینٹرز
ازقلم: ناچیز
میرا تعلق اس شہر کراچی سے ہے کہ جس کی دیواروں پر جا بجا ٹیوشن سینٹرز کے اشتہاروں کا پلستر نظر آتا ہے۔ کہیں آدم جی ٹیوشن سینٹر کی تختی تو کہیں میک کہیں ڈیبس تو کہیں فیلکن کہیں شاہین تو کہیں کوا، کہیں المزمل تو کہیں المدثر نامی ٹیوشن سینٹرز کی تختیاں، (ان تختیوں سے من وجہ کچھ فائدہ ہمارے حصے میں بھی آتا ہے: مہمانوں اور اوبر کریم والوں کو راستہ سمجھانے میں کافی حد تک آسانی ہوتی ہے) ٹیلی ویژن کھولوں تو ٹیوشن کے کمرشل، موبائل پر ٹیوشن کے تشہیری پیغامات! خاکروب کی نوکری تلاش کرنے کی غرض سے OLX کھولوں تو ہر دوسرے اشتہار میں ٹیوشن۔ ارے بھائی سارے افلاطون، ارسطو اور جالینوس یہیں سمٹ گئے ہیں کیا؟

چھوٹے علاقے ٹیوشن کا نشہ کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں کہ یہاں ہر دوسرا گھر ٹیوشن سینٹر ہے، رشتے کی منتظر بہنیں اپنے وقت کو دھکا دینے کے لئے ٹیوشن سینٹر پڑھانے میں لگ جاتی ہیں اور اپنی سرخی پاؤڈر کا سامان کرتی نظر آتی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ایک طبیب کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سر درد کی شکایت کی جس پر وہ فرمانے لگے: آپ اپنے بچوں کو فلاں ٹیوشن میں داخل کروادیجئے۔ ہم نے عرض کی : ہمارے سر درد کا اس ٹیوشن سینٹر سے کیا تعلق؟ گویا ہوئے: بہت ممکن ہے کہ بچوں کی تعلیمی خستہ حالی کے سبب آپ کو سر درد کا عارضہ لاحق ہوا ہو۔ بہرحال بجائے دوائی لینے کے ہم ان سے ٹیوشن کاجھوٹا معاہدہ کرکے لوٹے اور واپسی میں تھوڑے تصرف کے ساتھ مولانا روم کا یہ شعر بھی گُنگنایا:
؎شاد باش اے ٹیوشنِ خوش سودائے ما
اے طبیبِ جملہ علّت ہائے ما
بعد میں پتا چلا کہ وہ طبیب پارٹ ٹائم اس ٹیوشن سینٹر کے منتظم بھی ہیں، یا پھر اس ٹیوشن سینٹر کے منتظم، پارٹ ٹائم طبیب بھی ہیں۔

ویسے تو ہم نے بھی بڑے بڑے گناہ کئے ہیں مگر پہلے درجہ سے لے کر اب تک ٹیوشن کی راہ لینے جیسے گناہ سے ہمارا دامن باالکل پاک رہا ہے، بسا اوقات تو کچھ مَناطقہ سے شدید لعن طعن بھی حصے میں آیا کہ کیسا لڑکا ہے ٹیوشن نہیں جاتا! جیسے اس ملک میں تمام آفات و بليات کا نزول ہمارے ٹیوشن نا جانے کے سبب سے ہے، ٹیوشن نہ جانے سے میرے سینگ نکل آئے ہوں اور کوئی لڑکی مجھ سے شادی کرنے پر رضا مند نہ ہو،

جیسے میرے ٹیوشن چلے جانے سے مسئلۂ کشمیر کا عقدہ کھل جائے گا، کراچی میں اردو بولنے والوں کو سرکاری نوکریاں ملنے لگ جائیں گی، سڑکوں پر ماموں لوگ چائے کا خرچہ مانگنا چھوڑدیں گے۔
پچھلے دنوں ایک ٹیوشن سینٹر کے دلدادہ ماہر اقتصادیات سے ہماری گفتگو ہوئی بلکہ ہمیں ان سےہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا جوکہ ہم پر Supply and Demand کے حوالے سے کچھ نکات جزالہ کی گولہ باری کررہے تھے، ہم نے ان سےعرض کی کہ ”فی بعض الاحیان رسد اپنے مقابل کے سامنے باالکل زیر نظرآتی ہے تو وہ کون سے عوامل ہیں جن کے ذریعے ہم اس کا سدِ باب کرسکتے ہیں؟“ ہمارا سوال سُن کر انہوں نے ہماری طرف باالکل بھی التفات نہیں فرمایا، شاید یہ بتانے میں کہ الف ، ب سے پہلے ہوتا ہے ان کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔
؏- ہم سرِ طور بھی مایوسِ تجلی ہی رہے

بہرحال پھر وہ ہمیں بمع ہمارے ویلے ساتھیوں کے Determination of priorities اور Allocation of Resource کے بارے میں کچھ بتانے لگےجس پر ہماری سرکشی نے پھر سر اٹھاکر استفہاماً عرض کیا کہ ”جناب کیا ان چیزوں کے علاوہ بھی معیشت میں کچھ ایسے مسائل ہیں جو خاص اہمیت رکھتے ہوں مثلاً: ترجیحات کا تعین اور وسائل کی تخصیص وغیرہ؟ یا پھر یہ سب افواہ ہے؟
اس بار ان کے چہرے کا جغرافیہ بدل گیا اور بولے ”نہیں! ایسا کچھ بھی نہیں۔ “

ناچیز یہ سمجھتا ہے کہ اساتذہ کے الفاظ ہی سب کچھ ہیں۔ ٹیوشن سینٹرز ضرور جائیں مگر خود کو انتہائی غبی تسلیم کرلینے کے بعد نیز جو تعلیمی ادارے اپنے طلبہ کو ٹیوشن جانے کی اجازت دے رہے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے اساتذہ کو پارٹ ٹائم دنبے نہلانے وغیرہ جیسے کام کرنے کی بھی تجویز دیں۔

نوٹ: ٹیوشن کے فوائد و نقصانات، مالکان کے مقاصد، اساتذہ کی بےحسی، معاشرے میں اس کی وقعت اوراس کے سبب پیش آنے والے احوال وغیرہ ایک طویل بحث ہے جس کے لکھنے کو دفتر درکار ہے مزید یہ کہ اس طرح کا منجن بیچنے میں ہمیں کوئی دل چسپی بھی نہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Bilal Hussain

Read More Articles by Bilal Hussain: 2 Articles with 849 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Sep, 2020 Views: 741

Comments

آپ کی رائے