تاجکستان کا قومی دن

(Javed Malik, )

نو ستمبر تاجکستان کا یوم آزادی ہے 1991 ء کو اسی روز تاجک قوم نے روسی تسلط سے آزادی حاصل کی تھی۔نو ستمبر کی صبح آنکھ کھلی تو دن چڑھ آیا تھا۔ہوٹل کی کھڑکی سے پردے ہٹائے تو سرمئی دھوپ کمرے میں داخل ہوگئی سامنے نظر پڑھی تو ایک دل چسپ نظارہ میرا منتظر تھا اپنے مخصوص ثقافتی لباس میں ملبوس بہت سی طالبات قطار میں چل رہی تھی ان کے دمکتے چہروں سے خوشی عیاں تھی ہم جس ہوٹل میں ٹھرے تھے وہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے کا سب سے اچھا اور مرکزی ہوٹل تھا تاجکستان کے صدر کی رہائش گاہ اور سمونی چوک بالکل ہمارے سامنے تھے ہوٹل اور ان کے درمیان صرف ایک پارک حائل تھا پارک کی فٹ پاتھ پر اس وقت تاجک مرد و زن کثیر تعداد میں موجود تھے جو آزادی کا جشن منا رہے تھے ان کی ترتیب دیکھ کر مجھے اپنا لاہور یاد آگیا جس کی جشن آزادی ہلڑ بازی موٹر سائیکلز کے پھٹے سائلنسروں کی آوازوں اور پاور ہارنز کے بغیر پھیکی ہوتی ہے تاجکستان میں پھٹے سائلنسر کی آواز تو کیا سنائی دیتی سات دن میں ہمیں کوئی موٹر سائیکل بھی دکھائی نہیں دی۔
اس روز شام کو ہمیں دوشنبے کے نیشنل اسٹیڈیم میں جشن آزادی کے گرینڈ فنکشن میں شرکت کرنی تھی اس سے قبل دنیا بھر سے آئے ہوئے صحافیوں کے اعزاز میں مختلف اہم شخصیات نے کھانوں کا اہتمام کیا تھا تاجکستان کے وزیر اعظم قاہر رسول زادہ اور دوشنبے کے میئر رستم امام علی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں رستم امام علی بالکل اپنے والد صدر امام علی رحمان کی شبہیہ ہیں دو روز قبل صدر امام علی رحمان سے ملاقات کے بعد میرے جو احساسات تھے ان کے بیٹے سے مل کر وہ اور بڑھ گئے امام علی رحمان تاریخ ساز راہنما ہیں جنہوں نے آزادی کے بعد پانچ سال بدترین خانہ جنگی کی آگ میں جلنے والے تاجکستان کو امن دیا خوشحالی دی آج کا ہنستا مسکراتا خوبصورت تاجکستان ان کی دن رات محنت کا ثمر ہے اور ان کا بیٹا بھی ایک پرعزم سیاست دان ہے جس کا جوش جذبہ اور عزم گفتگو سے صاف جھلکتا ہے ہم میں سے اکثر صحافیوں کا خیال تھا کہ رستم امام علی اپنے والد کا ایک بہترین جانشین ثابت ہوگا اور ہم اس نوجوان کو تاجکستان کا آئندہ صدر بنتا دیکھ رہے تھے۔

جشن آزادی کی تقریب گویا رنگوں اور خوشبوؤں کا ایک میلہ تھا بہت بڑے اسٹیج کے پیچھے ایک دیوہیکل سکرین لگائی گئی تھی اس پر سب سے پہلے قومی ترانہ چلایا گیا اس کے بعد مختلف ثقافتی ترانے دکھائے گئے جن پر سینکڑوں نوجوان لڑکے لڑکیاں پرفارم کر رہے تھے ان کی پرفارمنس اتنی شاندار تھی کہ پورا اسٹیڈیم جھوم رہا تھا ایک رقص کا ماحول تھاہمارے میزبان ایک ایک صحافی سے گذارش کر رہے تھے کہ وہ بھی اس رقص میں شریک ہوں قازقستان کی ایک صحافی ساتھی نور بھی سب صحافیوں کو اس خوشی میں شریک ہونے کا کہہ رہی تھی وہ وسطی ایشیائی ممالک بہت منجھی ہوئی اور سمجھدار رپورٹر تھی جو یہاں کے ممالک کی ثقافت پر عبور رکھتی تھی اس پورے سفر کے دوران اس نے قدم قدم پر ہماری راہنمائی کی جس بناء پر تمام صحافی اس کے ازحد مشکور تھے ۔

تقریب کی اہم بات صدر امام علی رحمان کا خطاب بھی تھا وہ ایک شعلہ بیان مقرر ہیں اور ان کی تقریر سنتے ہوئے آپ کو کہیں کہیں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے تاجکستان کی عوام ان سے والہانہ پیار کرتی ہے اس کا مظاہرہ آج تیسری تقریب میں ہم دیکھ رہے تھے۔

تاجکستان کی ایک اور خوبصورتی وقت کی پابندی ہے جشن آزادی کی یہ تقریب بھی ہمارے اندازوں کے برعکس بالکل طے شدہ شیڈول کے مطابق تھی تقریب میں تاجکستان میں تعینات پاکستان کے سفیر عمران حیدر سے بھی ملاقات ہوئی اگلے روز انہوں نے مجھ سمیت پاکستانی صحافیوں حفیظ اﷲ عثمانی اور قاضی آصف کو عشائیہ پر بھی مدعو کیا وسطی ایشیائی ممالک اور ہمارے مستقبل قریب میں بڑھتے تجارتی روابط کی نبض پر ان کا ہاتھ ہے اور وہ جس خوبصورتی سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں وہ لائق تحسین ہیں۔

تقریب سے واپسی پر کچھ دیر ہوٹل میں سستانے کے بعد ہم لوگ چہل قدمی کرنے نکل گئے تاجکستان کے لوگ صبح جلدی اٹھتے ہیں اور رات جلدی سو جاتے ہیں لیکن اس روز جشن آزادی کے سبب شہر میں چہل پہل عروج پر تھی ہم چونکہ پاکستان کے قومی لباس شلوار قمیض میں تھے اور ایک ساتھی صحافی حفیظ عثمانی کی داڑھی بھی تھی اس لیئے ہر چوک پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ٹولے ہم سے مصافحہ کرتا ان کی زبان تاجک ہے جو فارسی سے ملتی جلتی زبان ہے تاجکستان میں انگریزی بولنے سمجھنے والے شاید چند ہی لوگ ہوں وہ مقامی زبان کے علاوہ روسی زبان بول لیتے ہیں پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں پاکستان کا نام سن کر محبت اور جوش کا ایسا عالم ہوتا ہے کہ ان کے بس میں نہیں ہوتا کہ کیسے آپ کوخوش آمدید کہیں ہوٹل کے قریبی مال میں ہمیں چند ایسے نوجوان بھی ملے جو ٹوٹی پھوٹی انگریزی جانتے تھے ایک خاتون نے پاکستان کا نام سن کر آنکھیں بند کی سینے پر ہاتھ رکھا اور تقریباً چلاتے ہوئے لو پاکستان کہا جو اس کی زبان میں بہت بھلا لگ رہا تھا عام لوگ ہمیں کوئی بہت باعمل مسلمان سمجھ کر بڑی عقیدت سے ملتے اور ہمارے ساتھ سیلفیاں بھی بناتے۔

تاجکستان سیاحت اور کاروبار دونوں کیلئے بہت شاندار ملک ہے تاجک امام امام بخاریؒ اور ان جیسے بزرگوں ،علماء،اور صلحاء کی نسل سے ہیں دوشنبے کا اپنا ایک سحر ہے جو آپ کو محصور کر دیتا ہے 2019 کے ہمارے دورے کے خوبصورت یادیں آج بھی میرے ساتھ ہیں اور آج نو ستمبر کے دن ایک بار پھر میرا دل چاہ رہا ہے کہ اڑ کر دوشنبے پہنچ جاؤں اور تاجکستان کی جشن آزادی کو مقامی لوگوں کے ساتھ مناؤں تاجک لوگوں کی محبت اپنائیت اور مہمان نوازی نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Malik

Read More Articles by Javed Malik: 2 Articles with 544 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2020 Views: 121

Comments

آپ کی رائے