چوہدری پرویز الٰہی کے لئے!

(Anwar Graywal, Bahawal Pur)

 چوہدری پرویز الٰہی صاحب! آگے بڑھیے، چودہ برس قبل آپ کے لگائے ہوئے پودے (کہ جو اِتنے برسوں میں تناور اور سایہ دار درخت بن چکا ہے) کی جڑیں کھوکھلی کی جارہی ہیں، اس کی شاخیں نوچی جارہی ہیں، اس کی آبیاری تعطل کا شکار ہے۔ اگر آپ نے ظلم کرنے والوں کا ہاتھ نہ روکا تو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا درخت خشک ہو جائے گا۔ چھبیس لاکھ کے قریب غریب بچوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا، ان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والے ، بہت ہی کم تنخواہ پانے والے لاکھوں اساتذہ بے روز گار ہو جائیں گے۔۔۔ستم ملاحظہ ہو کہ یہ تمام مظالم ڈھانے والا کوئی اور نہیں، پنجاب کے وزیر تعلیم مُراد راس ہیں، موصوف جس روز سے اپنے عہدہ جلیلہ پر جلوہ افروز ہوئے ہیں، پیف کے خلاف شمشیر زن ہیں۔ اقتدار کے دو برس میں اپنے ہی ماتحت اس ادارے کے خلاف جس قدر غم و غصے، نفرت، انتقام اور غیر اصولی دباؤ کا اظہار انہوں نے کیا ہے، اس کی ماضی بعید تک بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو معرضِ وجود میں آئے ہوئے تو تین عشرے ہونے کو ہیں، مگر موجودہ صورت حال میں یہ 2006ء میں ڈھالا گیا، بہت ہی کم فیس والے نجی سکولوں کو الحاق کی پیش کش کی گئی، فی بچہ فیس کا معاملہ طے ہوا، جس کے بدلے میں صاف ماحول، معیاری تعلیم ، واش روم اور پینے والے پانی وغیرہ کا فارمولہ بھی طے کیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے الحاق شدہ سکولوں کی تعداد بڑھنے لگی، یہ ادارہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا ہوا، اس مقام پر پہنچ گیا کہ چھبیس لاکھ سے زائد بچے مفت اور معیاری تعلیم سے مستفید ہو رہے ہیں۔

وزیر تعلیم پنجاب کا کہنا ہے کہ مَیں روزِ اوّل سے ہی اس ادارے کے بارے میں مشکوک تھا، کہ یہاں کرپشن ہو رہی ہے۔ انہی شکوک و شبہات کی بنا پر انہوں نے ادارے کی کرپشن کا اندازہ لگانے کے لئے اپنی مرضی کا ایم ڈی لگایا، جنہوں نے بہت ہی ’عرق ریزی‘ کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ سکولوں میں بہت سے بچے ’’فیک‘‘ ہیں۔ واضح رہے کہ پیف کے سکولوں میں صرف انہی بچوں کو شمار کیا جاتا ہے، جو SIS(سٹوڈنٹ انفارمیشن سسٹم)میں موجود ہوں، یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ہر سکول میں کچھ نہ کچھ بچے ایسے ضرور موجود ہیں، جو تعلیم تو حاصل کر رہے ہیں، مگر SISمیں نہیں، ایسے بچوں کی پے منٹ پیف ادا نہیں کرتا۔ جو بچے ’ویری فائی‘ نہیں ہوئے، یا جو بچے مانیٹرنگ والے دن غیر حاضر تھے، ان تمام کو ’’فیک‘‘ قرار دے کر ان کی پے منٹ روک لی گئی۔ یوں کم از کم پانچ لاکھ سے زیادہ بچے ہیں، جو ’فیک‘ کہلائے۔ پیف کا قانون ہے کہ اَسّی فیصد حاضری پر کوئی جرمانہ وغیرہ نہیں ہوگا، مگر گزشتہ اکتوبر کی مانیٹرنگ کے موقع پر غیر حاضر ہونے والے بچوں کی پے منٹ بھی نہیں آرہی، خواہ کسی سکول کے پانچ فیصد بچے ہی اس روز غیر حاضر تھے۔

پیف سکولوں کی پے منٹ کا عالم یہ ہے کہ فروری 20ء میں گزشتہ پانچ ماہ کی کٹوتیاں ہوئیں، اور فروری سے نیا نادرشاہی حکم جاری ہوا کہ (نام نہاد) ’فیک‘ طلبا کی کٹوتی کے علاوہ بھی تمام سکولوں کو نصف پے منٹ دی جائی گی۔ یوں جانئے کہ اب ہر سکول کو اوسطاً تیس سے چالیس فیصد پے منٹ کی جارہی ہے۔ حکم ہے کہ یہ بقایا ادائیگی اُس وقت ممکن ہوگی جب سکول کھلیں گے اور دوبارہ ویری فیکیشن ہو گی، تب جتنے بچے ہوں گے، اُن کی پے منٹ کی جائے گی۔ یہاں ایک اہم مسئلہ یہ بھی تھا کہ مارچ میں جب سکول بند ہوئے تھے تب داخلوں کا آغاز تھا، سکول بند ہو جانے کی وجہ سے داخلے نہیں ہو سکے، اب اگر سکولوں کوSISمیں نئے داخلوں اور پرانے بچوں کا جائزہ لینے کی مہلت نہ دی گئی تو یہ تمام کٹوتیاں ہضم کرنا حکومت کے لئے بہت آسان ہو جائے گا۔

بچوں کو بے اصولی سے ’فیک‘ قرار دینے ، غیر حاضر بچوں کی پے منٹ کاٹنے اور کُل پے منٹ کی نصف بلا جواز کٹوتی کے علاوہ اور ستم بھی ڈھایا جا رہا ہے، وہ ہے پے منٹ میں تاخیر، کئی کئی ماہ کی پے منٹ ادا نہیں کی جاتی۔ عید الفطر پر تین ماہ کی پے منٹ بنتی تھی، بے حس حکمرانوں نے ایک روپیہ ادا نہیں کیا۔ عید الاضحی پر قربانی کا موقع ہوتا ہے، اُس مہینے پے منٹ نہیں کی گئی، ابھی تک تین ماہ کی پے منٹ بقایا ہے۔ ستم کی کہانی یہیں نہیں رُکتی، فاؤنڈیشن کی طرف سے مڈل کلاس کے ایک بچے کے لئے پانچ سو پچاس روپے مقرر ہیں، گزشتہ چھ برس میں اس رقم میں ایک روپے کا اضافہ نہیں ہوا۔ پاکستان میں کون سی ایسی چیز ہے، جس کی قیمت چھ سال سے ایک جگہ پر قائم ہو، تمام سرکاری اداروں کے ملازمین کی (اِس سال کے علاوہ)تنخواہ میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے، یہ بھی نیم سرکاری اور پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ ادارہ ہے، چھ برس میں مہنگائی کہاں تک پہنچ چکی ہے؟ فی بچہ پے منٹ میں اضافہ کا تو وزیر موصوف نے نہیں سوچا، البتہ سکولوں والوں کو حکم ملا ہے کہ SISمیں ہر ماہ اپنے اخراجات کی تفصیل بتائی جائے، تاکہ کروڑوں روپے کی اس ’’لوٹ مار اور کرپشن‘‘ کا حساب لیا جاسکے۔خدایا! جب ایک بچے کی ساڑھے پانچ سو فیس دے کر اس کا رزلٹ لیا جاتا ہے، مانیٹرنگ ہوتی ہے، یہ تو تنخواہ کی طرح سروسز کے پیسے ہیں، اتنی تھوڑی رقم کا حساب اور احتساب چہ معانی؟ ایسے تو پھروزیر تعلیم سمیت، پیف اور دیگر سرکاری تنخواہ دار لوگوں کو بھی اپنی تنخواہوں کا آڈٹ کروانے کا حکم دیا جائے۔ (جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 587 Articles with 232980 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Sep, 2020 Views: 95

Comments

آپ کی رائے