سید اشرف جہاں گیر سمنانی اپنے ملفوظات کے آئینے میں

(محمد ساجدرضا مصباحی, اتردیناج پور بنگال انڈیا)
غوث العالم حضرت سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]کے ملفوظات کا مجموعہ ’’ لطائف اشرفی ‘‘ کے نام سے چہار دانگ عالم میں معروف ہے ، صوفیہ کے مجموعۂ ملفوظات میں ’’لطائف اشرفی ‘‘ کو جو مقام حاصل ہے اسے بیان کر نے کی ضرورت نہیں ،درحقیقت لطائف اشرفی علم وعرفاں کابحر ناپیدا کنار ، تصوف وروحانیت کے رموز واسرار کا انمول خزینہ ، سالکین راہِ شریعت کے عرفان وہدایت کا سر چشمہ اوربحر معرفت وحقیقت میں غوطہ زن اصحاب ِ حال کے لیے ایک مکمل نصاب ہے ،آٹھویں صدی ہجری سے اب تک یہ کتاب بطورحوالہ استعمال ہو رہی ہے ، اس کے مستند اور محقق ہو نے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کے مرتب حضرت مخدوم اشرف رحمۃ اللہ علیہ کے مرید خاص اور چہیتے خلیفہ تھے ، جنہوں نے آپ کی حیات ِ مبارکہ ہی میں اسے مرتب کر کے آپ کی بارگاہ میں پیش کیا اور سنایا ہے

مشائخ طریقت اور صوفیۂ عظام اپنے مریدین ومتوسلین کی اصلاح وتر بیت کے لیے جودینی ، اخلاقی اور اصلاحی باتیں بتاتے تھے ، انھیں ملفوظات کہا جاتا ہے، اولیاء اللہ کے دل نشیں ملفوظات وفرمودات اصلاح حال کا سب سے موثر ذریعہ ثابت ہوئے ہیں ۔بزرگوں کے ملفوظات دل ودماغ پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں ، اس سے ایمان میں تازگی اور روح میں حرارت پیداہوتی ہے، عبادتوں میں دل جمعی اور سکون پیدا ہوتا ہے،دنیا کی ناپائیداری اور بے ثباتی کا احساس پیدا ہو تا ہے، موت کاخوف پیدا ہو تا ہے اور آخرت کی فکر دامن گیر ہو تی ہے ۔حضرت شیخ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کے بقول :’’ قرآن وحدیث کے بعد کوئی کلام ، مشائخ طریقت کے کلام سے بلند وبالا نہیں ، کیوں کہ ان کا کلام عمل وحال کا نتیجہ ہو تا ہے ، محض یاد داشت اور قیل وقال کا ثمرہ نہیں ہو تا ‘‘۔
یہ حقیقت ہے کہ انسانی قلوب واذہان کو متاثر کرنے میں لمبی چوڑی تقریریں اس قدر اثر انداز نہیں ہوتیں جس طرح کسی ولی کامل کا ایک مختصر اور سادہ جملہ اثر انگیز ہوتا ہے،صوفیہ ٔ کرام کے ارشادات سیدھے دل پر اثر انداز ہو تے ہیں اور لمحوں میں دل کی دنیا بدل جاتی ہے ،برسوں کا روحانی سفر منٹوں میں طے ہوتا ہے اور دل ودماغ کی کثافتیں دورہو کر قلب ونظر معطر اور پاکیزہ ہو جایا کرتے ہیں ۔ ملفوظات صوفیہ کی یہ اثر انگیزی صرف ان کی مجالس ارشاد وہدایت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ان ملفوظات کے اثرات ان کی ظاہری زندگی کے بعد بھی برقراررہتے ہیں ،آج بھی یہ ملفوظات بیمار قلوب و اذہان کے لیے تریاق کی حیثیت رکھتے ہیں ، ان ملفوظات کی اثر پذیری نے ہزاروں گم گشتگان راہ کو منزل آشنا کیا ، آج صوفیہ ٔ عظام کے مجموعۂ ملفوظات طالبین حق اور سالکین راہ طریقت کے لیے نشان منزل ہیں ۔
سردست ہمیں تارک سلطنت ،غوث العالم ،قدوۃ الکبریٰ حضرت سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]کے ملفوظات وارشادات پر گفتگو کر نی ہے ، آپ کے ملفوظات وارشادات پر کچھ خامہ فرسائی سے قبل آپ کی شخصیت کا ایک اجمالی خاکہ پیش کر دیناضروری ،اس لیے کہ قول کی اہمیت کا اندازہ قائل کی شخصیت اور ان کی عظمت وفضیلت کی بلندی سے ہی لگایا جاتا ہے۔
حضرت سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ:
ہندوستان میں جن صوفیہ کے قدوم میمنت لزوم سے اسلام کی شمع فروزاں ہو ئی اور جن کے نقوش پا کی برکتوں سے کفر وشرک کی تاریکی کافور ہوئی ان میں ایک اہم نام قدوۃ الکبریٰ تارک سلطنت ، محبوب سبحانی ،حضرت سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] کاہے ، آپ نے برصغیر میں ارشاد وہدایت کی ایسی شمع روشن کی جس کی ضیا پاشیوں سے ہندوسندھ اور دنیا کا ایک عظیم خطہ روشن ومنور ہو گیا۔آپ کا تعلق ایران کے صوبہ خراسان کے دارالحکومت سمنان سے تھا ،آپ کے والد گرامی سلطان سید ابراہیم وہاں کے حکمراں تھے ، والد گرامی کے وصال کے بعد مسند شاہی پر جلوہ افروز ہوئے،لیکن فیاض مطلق نے آپ کے حصے میں روحانیت کی شہنشاہی لکھی تھی، اسی لیے شروع ہی سے کاروبارِ حکومت میں دل چسپی نہیں رہی ،لیکن جب تک سریر آراے سلطنت رہے رعایا کو خوش حال رکھا ، نظام ِ حکومت میں کوئی خلل واقع نہیں ہو نے دیا،اسی دوران حضرت خضر علیہ السلام کی بشارت کے مطابق میں کاروبارِ سلطنت کو خیر باد کہہ کر ہندوستان کے سفر پر روانہ ہوئے ،آپ کی منزل بنگال میں روحانیت کی جوت جگانے والے مرد قلندرحضرت شیخ علاء الحق پنڈوی رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ تھی ،دہلی اور منیر شریف ہو تے ہوئے پنڈوہ پہنچے تو مرشد نے خود بڑھ کر استقبال کیا ، باصرار اپنی ڈولی میں بٹھایا ، اپنی خانقاہ میں لےآئے ، خانقاہ پر پہلی نظر پڑی تو بے اختیار ڈولی سے اتر کر چوکھٹ پر سر رکھ دیا اور فر مایا :
مابر جناب دولتِ سر بر نہادہ ایم
رخت وجود برسر ایں سر کشادہ ایم
ہم نے اس بار گاہ پر سر بلندی کی دولت رکھ دی ہے ،وجود کے سامان ِ سفر کو اس آستانے پر کھول دیا ہے۔
حضرت سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]ایک طویل عرصے تک اپنے مرشد برحق شیخ علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کی خانقاہ میں رہے ، شیخ طریقت نے روحانیت کے مدارج طے کرائے ، مشائخ کے تبرکات اور بے شمار فیوض وبرکات سے مالا مال کیا ، پھر رشد وہدایت کا فیضان عام وتام فرمانے کے لیے آپ کوجون پور کے راستے روح آباد موجودہ کچھوچھہ مقدسہ بھیجا ،یہی مقام آپ کی دعوت و تبلیغ کا مرکز بنا، آج آپ کی بارگاہ مرجع خلائق اور روحانی فیوض وبرکات کا مرکز ہے ۔
حضرت مخدوم اشرف کی زبان میں بے پناہ تاثیر تھی:
اولیاء اللہ کی زبان پر اللہ تعالیٰ بے پناہ تاثیر ودیعت فرمائی ہے،ان کے ارشادات عام انسانوں کی گفتگوسے مختلف ہوتے ہیں ، ان کے ایک ایک لفظ میں معانی کا بحر ذخار پوشیدہ ہو تا ہے ،ان کی کوئی بات رائیگاں نہیں جاتی، زبان سے نکلتی ہےاور سیدھے باب اجابت سے ٹکراتی ہے، کبھی کبھی تو اللہ تعالیٰ کے محبوبین کو الفاظ کا سہا را بھی نہیں لینا پڑتا ، دل میں خیال آتا ہے اور وہ خیال حقیقت کا روپ ڈھار لیتا ہے ، حضرت سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] کو اللہ تعالیٰ نے کس قدر بلند مقام عطافر مایا تھا اور آپ کی زبان میں کس قدر تاثیر عطافر مائی تھی اس کا اندازہ لطائف اشرفی میں مذکور واقعات سے لگایا جاسکتا ہے ، ہم یہاں اس ضمن میں ایک واقعہ نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:
لطائف اشرفی جلد اول کے مقدمے میں ہے:
’’ حضرت قدوۃ الکبریٰ کا معمول تھا کہ جمعہ کی نماز سفر ہو یا حضر، کبھی نہیں چھوٹتی تھی ، روح آباد کے قرب وجوار کے کسی قصبہ میں تشریف لے جاتے تھے ، کیوں کہ اس وقت تک جامع مسجد کی بنیاد اپنے قصبہ میں قائم نہ فر مائی تھی ، ایک دن نماز جمعہ کے لیے قصبہ سنجھولی تشریف لے گئے ، نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اس قصبہ کا مُلّا اور اس کے کچھ شاگردوں نے حضرت قدوۃ الکبریٰ سے علم الکلام کا یہ مسئلہ دریافت کیا ،کہ بندہ اختیار رکھتا ہے یا نہیں ؟تیسری چیز بیچ میں نہیں ، اگر ہم کہیں کہ صاحب اختیار ہے تو پھر ہم قدریہ ہوئے ، اور اگر کہیں کہ بندہ عدم اختیار ہے تو پھر جبریہ ہو ئے ، پس ان دونوں صورتوں کے درمیان ہمارا مذہب کون سا ہے ؟حضرت قدوۃ الکبریٰ نے فرمایاکہ مسئلۂ اختیار اگلوں سے مشکل چلا آتا ہے ، لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باعتبار ظاہر تو اختیار ہے اور باعتبار حقیقت جبر ہے ،جیساکہ مقدمہ کتاب بزدوی میں حضرت امام فخر الاسلام نے ذکر کیا ہے کہ صورۃً اختیار ہے اور حقیقتا جبر ہے ،ملاّ نے حضرت قدوۃ الکبریٰ کے مزاج ومنشاکو غور سے نہ سنا اور اپنے علم کے غرور میں چند ایسی علمی بحثیں چھیڑ دیں جن کا کچھ مفہوم ومقصود نہیں تھا بلکہ ان باتوں سے اس کا مقصوداپنی فضیلت کا اظہار تھا اور اس کی ان باتوں سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ حضرت سےحسد رکھتا ہے ۔ حضرت اس کی باتوں کا جواب ٹھیک ٹھیک دیتےتھے ، چنانچہ باہمی ایک دوسرے کی باتوں اور دلائل کے ثابت کر نے میں اصل بات لمبی ہو گئی ۔۔۔۔۔ قصہ مختصر بحث اس مرتبہ کو پہنچی کہ اس مُلّاکی زبان سے خلاف ادب بات نکل گئی ۔ حضرت قدوۃ الکبریٰ کے دل میں اسم القہار کی بجلی پرتو فگن ہوئی اورآپ نے فرمایا: ’’اب تک تیری زبان چل رہی ہے ‘‘یہ فر ماتے ہی اس کی زبان تالو سےکھنچ کر باہر آگئی ، بولنے کی سکت باقی نہیں رہی ، تمام حاضرین محفل حیران وپریشان تھے اور ہر ایک عذر خواہی کر نے لگا ۔ اس مُلّا کی ماں بہت ہی بوڑھی تھی ، مشائخ اور بزرگوں سے اس کو بڑا اعتقاد تھا ، اس نے اپنے بیٹے کی یہ حالت سنی تو روٹی پیٹتی قدوۃ الکبریٰ کی خدمت میں آئی اور آپ کے پیر پکڑ لیے اور معافی مانگنے لگی ، سب کے رو برو اس بری طرح روئی کہ حاضرین مجلس کے دل بھر آئے ، وہ روتی جاتی اور کہتی جاتی کہ یامیر پُت بھِکّہ دے جب اس کی فریاد درازی حد سے گزری تو آپ نے فر مایا کہ مائی ! تیر نشانہ پر پہنچ چکا اور اب وہ لوٹ نہیں سکتا ، ہاں ! اتنا ہو جائے گا کہ اس کی زبان جو باہر نکل آئی ہے وہ منھ کے اندر چلی جائے گی اور ہکلا کر بولے گا۔صرف یہی نہیں بلکہ اس کی اولاد، پوتے پڑپوتے سب کے سب ہکلے ہوں گے ،اور اس قصبہ میں کوئی عالم زندہ نہیں رہے گا ، جوعالم بنے گا وہ مر جائے گا ، ان ملفوظات کا جامع نظام حاجی غریب یمنی اس واقعہ کے ایک عرصہ کے بعد اس قصبہ میں ایک مرتبہ گیا، میں نے تلاش کیا تو وہ بے ادب مُلاّ مر چکا تھا ، اس کے ایک بیٹا ہے جو اس سے زیادہ ہکلا ہے اور اب وہی قصبہ جو فاضلوں اورعالموں سے بھرا رہتا تھا آج ویران پڑا ہے ، بہت سے عالم انتقال کر چکے ہیں ، بعض نے جو کچھ پڑھا لکھا تھا، بھول چکے ہیں ۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص: ۳۲، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
حضرت سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی کے ملفوظات:
غوث العالم حضرت سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]کے ملفوظات کا مجموعہ ’’ لطائف اشرفی ‘‘ کے نام سے چہار دانگ عالم میں معروف ہے ، صوفیہ کے مجموعۂ ملفوظات میں ’’لطائف اشرفی ‘‘ کو جو مقام حاصل ہے اسے بیان کر نے کی ضرورت نہیں ،درحقیقت لطائف اشرفی علم وعرفاں کابحر ناپیدا کنار ، تصوف وروحانیت کے رموز واسرار کا انمول خزینہ ، سالکین راہِ شریعت کے عرفان وہدایت کا سر چشمہ اوربحر معرفت وحقیقت میں غوطہ زن اصحاب ِ حال کے لیے ایک مکمل نصاب ہے ،آٹھویں صدی ہجری سے اب تک یہ کتاب بطورحوالہ استعمال ہو رہی ہے ، اس کے مستند اور محقق ہو نے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کے مرتب حضرت مخدوم اشرف رحمۃ اللہ علیہ کے مرید خاص اور چہیتے خلیفہ تھے ، جنہوں نے آپ کی حیات ِ مبارکہ ہی میں اسے مرتب کر کے آپ کی بارگاہ میں پیش کیا اور سنایا ہے ۔مرتب ملفوظات حضرت نطام یمنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حوالے سے لطائف اشرفی میں خود وضاحت فر مائی ہے :
’’ اس زمانے میں جب کہ مجھے یہ دولت عظیم حاصل تھی ، ملہم غیب نے میرے دل میں یہ القا فر مایا کہ میں حضور کے بعض الفاظ متبرکہ اور مَعارف و طریقت کے چند وظائف غریبہ کو بطریق کوائف احوال اور کرامات عجیبہ اور ان معارف کو جو زمانہ کے مشائخ حضرات اور اکابر زمانہ سے میں نے حضر وسفر میں حاصل کیے ہیں معرض بیان میں لاؤں اور ان کرامات وخوارق کا بھی ذکر کروں جو بعض بد عقیدہ لوگوں ، گمراہوں اور اس زمانہ کے حاسدوں کے رو بروحضور والا سے صادر ہوئے ہیں ،خصوصیت کے ساتھ ان واقعات اور ان حقائق کا اظہار کروں جو حضرت شیخ حاجی چراغ اور حضرت قدوۃ الکبریٰ کے مابین پیش آئے ، اس لیے اور بھی کہ ان واقعات کو تحریر کر نے کے لیے حضرت والا نے ہی اشارہ فر مایا تھا ۔
اگر چہ حضرت کے خوارق وعادات جو کچھ میں پیش کررہاہوں وہ بے شمار اور بے تعداد خوارق میں سے صرف چند ہیں کہ تمام خوارق کا شمار وبیان ناممکن ہے ، ان میں سے جو ضبط تحریر میں آسکتے تھے ـــــــــــ قید کتا بت میں لایا اور حضرت مخدومی کی خدمت میں پیش کیے اور سمع ہمایوں تک ان کو پہنچایا بلکہ بعض مقامات پر تو حضرت کے بعینہ الفاظ اور اقوال صریحہ کو بیان کیا ہے ‘‘۔[ لطائف اشرفی مترجم اردو، جلد اول ص:۶۔ازحاجی نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ]
اصل کتاب فارسی زبان میں تھی ، بعد میں کئی مرحلوں میں اس کا اردو تر جمہ ہو ا، اردو ترجمے کے بعد فارسی داں طبقے کے ساتھ ہندووپاک اور اکناف عالم میں بسے اردوخواں طبقے کے لیے بھی اس سے استفادہ آسان ہو گیا ہے ، حضرت سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] کے ملفوظات بعض دیگر تصانیف میں بھی ملتے ہیں، لیکن لطائف اشرفی خاص آپ کے ملفوظات وارشادات کا مجموعہ ہے اس ضخیم کتاب میں جو اردو ترجمے کے بعد کئی جلدوں میں چھپ رہی ہے آپ کے ارشادات کو ساٹھ لطائف میں منضبط کیا گیا ہے ،یہ سارے لطائف علم وعرفاں کا عظیم خزانہ اور اہل طریقت کی تعلیمات کے لیے گنجینہ ہیں ۔
قدوۃ الکبریٰ حضرت سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھ ــــ ۸۲۸ھ] کے ملفوظات میں توحید اور اس کے مراتب ، ولی اور ولایت کی معرفت ،معجزہ وکرامت،شیخ طریقت کے شرائط، اصطلاحات تصوف،فکرومراقبہ ، معانی زلف وخال ، سماع واستماع مزامیر، مسائل قضا وقدر ،ارکان اسلام کے رموز واسرار، امت کے فرقوں کا بیان اور مذاہب کی تفصیل ، دنیا کے عجائب وغرائب ، اخلاق وآداب ، تصوف ومعرفت ، شطحیات صوفیہ وغیرہ کو موضوع سخن بنایا گیا ہے ۔
اس مقالے میں آپ کے تمام ملفوظات مبارکہ پر تبصرہ اور ان کی عظمتوں کو اجاگرکر نا ممکن نہیں ، اس لیے ہم یہاں اس گلستان معرفت کے چند گل بوٹوں کو پیش کر کے قارئین کے ذہن ودماغ کو معطر کر نے کی کوشش کریں گے ۔
توحید اور اس کے مراتب :
اصطلاح شرع میں توحید اللہ جل شانہ کو تنہا معبو د ماننا اورعبادت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ہے ۔قدوۃ الکبریٰ حضرت شید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] کے مجموعہ ٔ ملفوظات میں پہلا لطیفہ اسی حوالے سے ہے ، توحید کے تعلق سے آپ کے فرمودات وارشادات کا حاصل یہ ہے کہ توحید عاشق کا محبوب کے صفات میں مٹ جانا ہے ،حضرت نورا لعین قدس سرہ نے آپ کی بارگاہ میں مراتب توحید کے تعلق سے سوال کیا تو آپ نے ارشادفر مایا کہ:
’’ توحید کے چند مرتبے ہیں :
۱۔ توحید ایمانی،۲۔توحید علمی،۳۔ توحید رسمی ،۴۔ توحید حالی
پہلا مرتبہ توحید ایمانی ہے اور وہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے وصف الوہیت کی بے مثلی اور اس کے معبو دحق ہو نے کی یکتائی کا موافق قرآن وحدیث کے اشارات ودلائل کے دل سے تصدیق کرے اور زبان سے اقرار کرے ۔
توحید علمی باطن سے حاصل ہو تی ہے ، یہ دوسرا درجہ باطن سے متعلق ہے اور اس سے حاصل ہو تا ہے ، اس کو علم یقین بھی کہتے ہیں۔
تیسرا مرتبہ توحید رسمی ہے اور وہ یوں ہے کہ ایک فرد فطین وذکی کتابوں کے مطالعہ سے یا کسی بزرگ سے سن کر توحید کے بارے میں گفتگو کرے اور بحث ومباحثہ میں بے مغز باتیں کرے، لیکن حال توحید سے اس کے دل میں کوئی اثر نہ ہو گا ۔
چوتھا مرتبہ توحید حالی ہے اور وہ یہ کہ توحید کی حالت ذات موحد کا وصف لازم ہو جائے اور علامات وجود کی تمام تاریکیاں بجز اس کے جو تھوڑی سی باقی رہ گئی ہیں نور توحید کی چمک میں جویندہ اور گم شدہ ہو جائیں اور نور توحید اس کے نور حال میں پوشیدہ اور داخل ہو جائے جیساکہ تاروں کی روشنی آفتاب کی روشنی میں فنا ہو جاتی ہے ۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص: ۳۵ تا ۳۹ ملخصا، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
توحید کے تعلق سے حضرت قدوۃ الکبریٰ سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ کا[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]یہ ارشاد بھی اپنے اندر معانی کا ذخیرہ سموئے ہو ئے ہے :
حضرت نظام یمنی قدس سرہ نقل فرماتے ہیں کہ :
’’ حضرت قدوۃ الکبریٰ قدس سرہ نے فرمایا : توحید الہی یہ ہے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ ہمیشہ سے اپنی ذاتی یکتائی سے نہ کسی کے ایک کہنے سے بے مثلی اور تفرد سے موصوف ہے ، کان اللہ لہ ولم یکن معہ شئی [ اللہ تعالیٰ موجود تھا اور اس کے ساتھ کوئی شئی موجود نہ تھی] اب بھی ازلی صفت اور انمٹ یکتائی سے متصف ہے ، الآن کماکان [ آج بھی ویسا ہی ہے جیسا تھا ] اور ہمیشہ اسی طرح رہے گا ، کل شئی ھالک الا وجھہ [ ہر چیز مٹنے والی ہے سوا اللہ کی ذات کے ]یہاں لفظ ھالک ہے ، لفظ یھلک نہیں ہے ،تاکہ معلوم ہو کہ تمام چیزوں کا وجو داس کے وجود میں آج مٹا ہوا ہے ۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص: ۵۰، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
ولی کون ہے :
ولی اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مقرب بندے ہوتے ہیں ، جنہیں اللہ جل شانہ کا قُر بِ خاص حاصل ہو تا ہے، وہ ہمیشہ مامورات پر عمل پیرا ہو تے ہیں اور منہیات سے کوسوں دوررہتے ہیں ، شریعت ہمیشہ ان کے پیش نظر رہتی ہے، وہ اسرارِ طریقت سے آشنا ہو نے کے ساتھ علم شریعت کے بھی حامل ہو تے ہیں ، سنت پرعمل در آمد ان کا خاص وطیرہ ہو تاہے ، وہ کبھی بھی طریقت کے نام پر شریعت کو پامال نہیں کرتے۔
غوث العالم حضرت سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] نے رسالہ قشیریہ کے حوالے سے فر مایا:
’’ تحقیق ولی کے دومعنی ہیں ، ایک فعیل کے وزن پر بمعنی مفعول، یعنی وہ شخص جس کے امر کا متولی اللہ تعالیٰ ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وھو یتولی الصالحین ،[ وہ ذمہ دار ہے صالحوں کا ]اور وہ اس کو اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا ، ایک لحظہ کے لیے بھی ، اور اللہ تعالیٰ اپنی ذمے داری کی رعایت فرماتا ہے ، اور دوسرے معنی فعیل بمعنی فاعل ہیں ، یعنی وہ ذمے دار ہے حق تعالیٰ کی بندگی ، اس کی اطاعت اور عبادت کا ، اس پر تواتر کے ساتھ یہ ذمے داری عائد ہے، بغیر اس کے کہ نافرمانی درمیان میں آئے ، پس یہ دونوں وصف موجود ہو نے چاہئیں ، تاکہ ولی ولی بن جائے ۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص: ۵۷، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
آپ نے مزید فر مایا :
’’ولی وہ ہے جس کا دل حق سبحانہ تعالیٰ سے انس رکھے ، اور غیر حق سے متوحش اور گریزاں ہو ۔‘‘
پھر ارشاد فر مایا :
’’شرط ولی یہ ہے کہ گناہوں سے محفوظ ہو ، جس طرح نبی کی شرط یہ ہے کہ معصوم ہو ،جس کسی پر بھی از راہِ شریعت اعتراض ہو پس وہ مغرور اور فریب خوردہ ہے‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص: ۵۸، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
ولی کے لیے ضروری ہے کہ وہ شریعت کا پابند ہو ، اسے شریعت کا ہمیشہ پاس ولحاظ ہو ، شریعت کے کسی ادنیٰ حکم سے بھی رو گردانی نہ کرے ، اس ضمن میں قدوۃ الکبریٰ حضرت سید اشرف جہاں گیر سمنانی قد س سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] نے ارشاد فر مایا :
’’ حضرت ابویزید بسطامی قدس سرہ ایک ایسے شخص سے ملنے کو چلے جس کی ولایت آپ سے بیان کی گئی تھی ، جب ان کی مسجد کے قریب آپ پہنچے تو ان کے باہر آنے کے انتظار میں بیٹھ گئے ، کچھ دیر بعد وہ شخص باہر نکلا تو اس نے قبلہ کی طرف تھوک دیا،شیخ ابو یزید بسطامی قدس سرہ وہاں سے پلٹ پڑے ، اور اس شخص کو سلام بھی نہیں کیا ، اور فر مایا کہ جب آداب شریعت کا بھی اس شخص کو پاس نہیں ہے تو یہ اسرار خداوندی کا امین کس طرح ہو سکتا ہے۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص: ۵۸، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
سنت رسول کی پیروی اور آپ کے ارشادات کو عملی جامہ پہنانامومن کامل کی اولین ترجیح ہو تی ہے ، اولیا ء اللہ تو اللہ کے مخصوص بندے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق ہوتے ہیں ، ا ن کی ولایت کامعیار ہی اتباع سنت ہے، سنت رسول سے لاپروائی کر نے والا ولایت کے مرتبے پر ہر گز فائز نہیں ہو سکتا۔
حضرت سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] ارشاد فرماتے ہیں :
’’ ولی کےشرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ رسول اللہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قولا وفعلا اور از روئے اعتقاد تابع ہو ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی [ اے رسول فرمادیجیے کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھنا چاہتے ہو تو میری پیروی کرو ] پس سلوک وطریقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے راستہ کو طے کر نے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے،تابع پابند ہے اپنے متبوع کے حکم کا ۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص: ۵۹، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
ولی کاعالم ہو نا ضروری ہے :
بلا شبہہ جاہل ولایت کے درجے پر فائز نہیں ہو سکتا ، عابد ِ بے علم شیطان کے مکر وفریب کا شکار ہوکر اپنی زندگی کا سارااثاثہ گنوا بیٹھتا ہے اور لمحوں میں اپنے ایمان سے ہاتھ دھوکر ساری عبادتیں رائیگاں کر دیتا ہے، وہ خیر وشر کے در میان امتیاز نہیں کر پاتا چہ جائے کہ روحانیت کے منازل طے کرے ۔
غوث العالم حضرت سید مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]ارشاد فر ماتے ہیں :
’’ولی کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ عالم ہو جاہل نہ ہو‘‘
آپ نے مزید فر مایا :
’’اگر علم کا چراغ ولی کے دل میں نہ ہو تو اسے شر کی خبر نہیں ہو سکتی اور وہ صحراے ظلمت اور دشت کدورت میں مارامارا پھرتا رہے، ہاں ! اس علم سے مراد علم مدرسہ نہیں بلکہ وہ علم ہے جسے علم وراثت کہا گیا ہے ، علما ابنیاے کرام کے وارث ہیں ، یہ علم تصرف الہی اور اس کی متناہی عنایت سے حاصل ہو تا ہے۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۵۹، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
شیخ طریقت کو کن اوصاف کا حامل ہو نا چاہیے :
بیعت و اردات بہت ہی پاکیزہ عمل ہے ، اس عمل میں شیخ طریقت بندہ اور معبود حقیقی کے درمیاں ربط قائم کر نے کا وسیلہ ہو تا ہے ، کامل شیخ طریقت اپنے مرید صادق کو دنیاوی آلائشوں سے دور کر کے فکر آخرت میں مشغول کر دیتا ہے اور معصیت کی نحوستوں سے نکال کر اس کا رشتہ خالق لم یز ل سے مستحکم کر دیتا ہے ۔ آج ایسے افراد بھی مسند طریقت پر قابض نظر آتے ہیں جنھیں نہ تو شریعت کا علم ہے اور نہ ہی تصوف وروحانیت سے آشنائی ، ایسے خود ساختہ شیوخ طریقت اپنے مریدین کی دنیا وآخرت سنوار تو نہیں سکتے ہاں اپنی اور اپنے ارادت مندوں کی تباہی کا سامان ضرور پیدا کرسکتے ہیں ۔
قدوۃ الکبریٰ حضرت سید مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]نے اپنے ملفوظات میں مشیخیت کےشرائط کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، ہم یہاں اس کا اجمال پیش کرتے ہیں ۔
[۱] سالک اس وقت تک مسند ارشاد پر نہ بیٹھے جب تک اس کی اجازت شیخ سے نہ ملے ۔ [۲]نسبت مع الحق،انسیت حضوری دل میں استوار ہو گئی ہو یعنی دل کا ایک لازمی وصف بن گئی ہو ، اور وہ نفس سالک کا لازمہ بن جائے ،جیسے بینائی قوت باصرہ کے لیے ، اور شنوائی قوت سامعہ کے لیے لازمی وصف ہے ۔[۳]مرید کا بے کار اور غلط کاموں پر مواخذہ کرے ، خواہ وہ کم ہو یازیادہ ، صغیر ہو ں یا کبیر، اس سلسلہ میں مواخذہ کو نظر انداز نہ کرے اور تساہل کو روا نہ رکھے ۔[۴] مرید کی حرکات وانفاس پر محاسبہ کو لازمی قرار دے ، [ یعنی مریدوں کا محاسبہ کرتا رہے اور کسی موقع پر اس میں مسامحت نہ کرے ، [ ڈھیل نہ دے]۔[۵] وہ مرید کے سامنے تنزیہ وتقدیس کی سب سے زیادہ کامل صورت میں [ پاکیزہ صورت اور پاکیزہ حال میں ] پیش ہو ، اپنے مرید پر اپنے رازوں کو ہر گز ظاہر نہ کرے ، ، سواے اس کے کہ وہ اس کے کھانے پینے اور سونے اور دوسرے اوصاف بشری کا مشاہدہ کرسکے اور اس کی دوسری باتوں سے آگاہ نہ ہو ۔[۶] مرید کو اس کی اجازت نہ دے کہ دوسرے پیر کے پاس یا دوسرے پیر کے مریدوں کے پاس بیٹھے، کیوں کہ ممکن ہے کہ اس مرید کی خواہش اس کے خلاف ہو اور پیروں پر لازم ہے کہ مرید کی خواہش کے خلاف حکم دیں ۔[۷]ابتداے تر بیت میں مرید کو پاک غذا کے بارے میں یقین دلائے ۔[۸]اگر کوئی شیخ اپنے کسی ہم عصر شیخ کو نسبت میں اپنے سے قوی پائے تو شیخ کو چاہیے کہ اس کی صحبت اختیار کرے اور اپنے مریدوں کو بھی اس کی خدمت میں حاضر ہو نے کا حکم دے ۔[۹] شیخ کے لیے ضروری ہے کہ اس راہ سلوک کا پورا پورا علم رکھتا ہو کہ جس مرید کو اس راہ میں کوئی دقت پیش آئے وہ اس سے عہدہ بر آہو سکے اور مرید کی ان مشکلوں کو دور کر سکے ۔ [۱۰]شیخ کو لازم ہے کہ ایک شبانہ روز میں مرید سے صرف ایک مرتبہ اختلاط کرے بس اس سے زیادہ اختلاط اورمجالست نہ کرے کہ کثرۃ المشاہدۃ فقد الحر مۃ [ کثرت سے ملاقات توقیر ضائع کر نا ہے]‘‘ [ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۲۲۵، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
قدوۃ الکبریٰ حضرت سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]کے بیان کر دہ یہ شرائط مشیخیت کس قد معنیٰ خیز اور گیرائی وگہرائی کے حامل ہیں اس کا اندازہ اصحاب فکر ونظر بخوبی لگا سکتے ہیں ، ہر ایک شرط اپنے اندر معانی کا سمندر سموئے ہو ئے ہے ، جس کی تفصیل وتشریح کے لیے باضابطہ وقیع مقالے کی ضرورت ہے ، لطائف اشرفی میں بھی بہت تفصیل کے ساتھ ان کی تشریح کی گئی ہے اور سلف وصالحین کے واقعات کی روشنی میں ان شرائط کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں ۔
مرید ومسترشد کے آداب :
جس طرح ایک شیخ کامل کے لیے کچھ آداب اور شرائط ہیں ، اسی طرح کام یاب اور سچے مرید ومستر شد کے بھی کچھ آداب وشرائط ہیں ، اگر مرید ان آداب کی بجا آوری کرے گا ، اپنے شیخ کے فیوض وبرکات سے مکمل فیض یاب ہو گا اور ان کی پامالی ان کی ارادت کو بے فیض کر دے گی پھربیعت وارادت محض ایک رسم بن کر رہ جائے گی۔ قدوۃ الکبریٰ سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]کے ملفوظات میں اس حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ملتی ہے ، جسے لطائف اشرفی کے مرتب حضرت نظام یمنی قدس سرہ نے اپنی کتاب میں نقل فر مائی ہے ، ہم یہاں اس حوالے سے آپ کے گراں مایہ ملفوظات کو ملخصا پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔
’’حضرت قدوہ الکبریٰ فر ماتے ہیں کہ شیخ وشیوخت کی شرائط کی طرح مرید ومستر شدکی بھی دس شر طیں ہیں :
[۱] مرید اپنے شیخ سے کوئی بات نہ چھپائے اور خیر وشر سے جو کچھ اس کے دل پر وارد ہو شیخ کے حضور میں تمام وکمال پیش کردے ۔[۲] اپنے پیر سے جو کچھ مشاہدہ کرے اس پر اعتراض نہ کرے خواہ بحسب ظاہروہ اس میں کوئی بھلائی نہ دیکھتا ہو ۔ [۳]شیخ کی طلب کا جذبہ مرید میں صادق ہو خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو ، اپنی اس طلب سے باز نہ آئے ، خواہ تمام دنیا کی تلواریں اس کے سر پر کھنچی ہو ۔[۴]ہر معاملہ اور ہر بات میں شیخ کی اقتدا نہ کرے ، جب تک شیخ اس کو اس کام کے کر نے کا حکم نہ دے ۔[۵] شیخ کے کلام وحکم کے ظاہر معنی پر ٹھہرا رہے اور ہر گز اس کی تاویل نہ کرے ۔[۶]شیخ کے اشارات اور احکام ظاہری کو بجا لائے ،[ ان پر بھروسہ کرے ] تعمیل میں جلدی کرے ، خواہ وہ اس اشارت کے معنی سے آگاہ ہو یا نہ ہو ۔[۷]خود کو سب سے کم تر جانے اور کسی پر اپنا حق نہ جانے نہ کسی کا اپنے اوپر حق خیال کرے جس کا ادا کر نا اس پر واجب ہو ۔[ ۸] کسی امر میں خیانت نہ کرے اور پیر کی تعظیم میں بے انتہا کوشش کرے ۔[۹] مرید کو دوجہان سے کوئی خواہش اور حاجت نہ رہے ، جب تک اس میں خواہش اور حاجت باقی ہے وہ خواہشات کا طالب ہے ۔[۱۰] ہر اس شخص کے حکم کا فر ماں بردار ہو جس کو شیخ نے اس پر افسر رکھا ہو خواہ خود علم میں اس ہستی سے بلند وبرتر ہی کیوں نہ ہو۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۲۲۶تا ۲۴۴ ملخصا،از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
صوفیہ کو شاہان زمانہ سے ملاقات کر نا چاہیے :
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اللہ والوں کو دنیا اور اہل دنیا سے کیا مطلب ، خاص طور سے سلاطین اور ارباب ِ اقتدار سے انھیں دور ہی رہنا چاہیے ، بلکہ عام نظروں میں سلاطین سے رسم وراہ کو مذموم سمجھا جاتا ہے ۔ حضرت مخدوم اشرف جہاں سمنانی قدس سرہ کا نظریہ اس سے مختلف ہے ۔آپ کا ارشاد ہے:
’’ انسانوں کے مختلف طبقات اور دنیا مین یہ بات مشہور ہے کہ درویش کو سلاطین اور ملوک سے کیا تعلق اور بادشاہوں سے رسم وراہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ عوام کا یہ قول ایک بڑی غلطی ہے، جس سے جہالت ، غرور اورخود پسندی کی بو آتی ہے ۔۔۔۔۔ امرا اور سلاطین یا تو عبادت گزار اورعادل ہوتے ہیں ۔ اگر وہ عادل ہیں تو عادل وعابد کا چہرہ دیکھنا باعث برکت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:عند ملاقات الملوک تنزل الرحمۃ یعنی بادشاہوں سے ملاقات کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے ۔ حضرت علیہ الؒصلواۃ والتحیات نوشیرواں کے شر کے باجود اس اھناھا اور ازکھا [ وہ مبارک اور پاکیزہ تھا ] فر ماتے ہیں ‘‘۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلددوم ، ص: ۸۳ از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
ذکر الہی مے خانۂ عشق کی شراب ہے:
اللہ کا ذکر قلب ونظر کی ٹھنڈک اور دل کے اطمینان وسکون کا باعث ہے ، قرآن مقدس میں ذکر الہی کو اطمینان قلبی کے حصول کا ذریعہ اور نفع دینی ودنیاوی کا باعث قرار دیا گیاہے ، صوفیہ نے ذکر الہی کوزندگی اور زندہ دلی کی علامت کہا ہے ۔ غوث العالم محبوب سبحانی حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]فر ماتے ہیں :
’’ خداے تعالیٰ کے اذکار عشق الہی کے مے خانہ کی شراب ہے اور آبِ رواں اور کبھی نہ ختم ہونے والے چشمے کا پانی ہے، جو بالکل پوشیدہ طریقہ سے پیا سے کے حلق اور ناطق کے دہن میں پہنچتا ہے ، مقصود کونین اور وجود خافقین [ کائنات] جو کچھ اس میں ہے، اسی شراب اور اسی پانی کے ایک گھونٹ کا اثر ہے ۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۳۹۸، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
شطحیات صوفیہ :
شطحیات صوفیہ کی حقیت کے حوا لے سے علامہ قطب الدین دمشقی قدس سرہ لکھتے ہیں :
صوفی جب نفس وہوا کی وادی کو پار کرکے عالم حقیقت میں پہنچ جاتا ہے جو مقام فنا ہے-[صوفیہ کے نزدیک فنا کا معنی یہ ہے کہ وہ ذات حق کے سوا کسی کو نہ دیکھتا ہے نہ جانتا ہے] تو اس مقام پر وہ اپنے وجود سےبھی غافل ہوتا ہے ،اس وقت یہ گمان گزرتا ہے صرف رب تعالی ہے اور کچھ بھی نہیں چونکہ ذات حق کے سوا کچھ بھی نہیں ہو تا ،جلوۂ حق کے مشاہدہ کی کیفیت میں ’’انا الحق ‘‘،’’لیس فی الدار الا اللہ‘‘ ، ’’لیس فی الوجود سوی اللہ‘‘،جیسے کلمات صادر ہو جاتے ہیں ،اور سننے والا اسے حلول سمجھ بیٹھتا ہے ۔اس مقام پر نجات کا راستہ یہ ہے کہ جب کو ئی اس طر ح کی بات سنے تو سننے والا یہ سمجھے کہ کسی سے ایسا اس خیال کی بنا پر صادر ہواہے کہ وہ دنیا وآخرت کی ہر چیز سے بے خبر ہے یہاں تک کہ اسےخود کا بھی ہو ش نہیں ہے، سِرّ ِتوحید میں گم ہے، تجلیات حق میں مستغرق ہے ،مگر حقیقت میں فی نفسہ ہر شی کا وجود رہتا ہے ، صوفی کا مشاہدہ مقام فنا میں بہتر ہے اور یہ ایک بلند مقام ہے مگر دوسری جہت سے یہ مقام خطر ہے۔‘‘ [ الرسالۃ المکیہ ص: ۱۶۱، ۱۶۲،شاہ صفی اکیڈمی الہ آباد]
حضر ت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]فرماتے ہیں :
’’الشطح ھوافاضۃماء العرفان عن ظرف استعداد العارفین حین الامتیان‘‘
شطح کے معانی یہ ہیں کہ خدا شناسوں [ عارفوں ] کے ظرف کے استعداد کے پُر ہو جانے پر اس سے عرفان کے پانی کا چھلک جانا۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۶۴۴، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
حضرت سید اشرف مخدوم سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] فر ماتے ہیں :
صوفیہ کرام کا طریقہ اور قانون مقررہ یہ ہے کہ مشائخ کے کلمات شطحیات کو نہ تو قبول کرنا چاہیے اور نہ ان کو رد کر نا چاہیے کہ یہ مقام وصول کا مشرب ہے ، عقل وخر دکی رسائی یہاں نہیں ہے۔
بعض صوفیہ کرام نے مشائخ کے شطحیات کی ایسی سائشتہ تاویلیں کی ہیں اور جن معنی [ محل ] میں استعمال کیے گئے ہیں ، ان کی نہایت خوبی سے تشریح کی ہے ، اور اس طرح کے وہ ادراک کے قابل بن گئے ہیں اور جو پاک طبع سامع ہے وہ ان کو سمجھ لیتا ہے [ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۶۴۴، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
مشائخ کی صحبت کے فوائد :
مشائخ کرام کی بارگاہوں میں حاضری بے شمار بر کات وسعادات کے حصول کا ذریعہ ہے ، اس لیے کہ اللہ کے نیک بندے جہاں ہو تے ہیں وہاں رب کی نعمتوں کا نزول ہو تا ہے ،ایسی محفلیں دلوں میں خیر کا جذبہ پیدا کرتی ہیں ، قدوۃ الکبریٰ حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] فر ماتے ہیں :
’’ فرائض وواجبات کی ادائیگی کے بعد اصحاب طلب کے لیے یہ بہت اہم اور ضروری ہے کہ مشائخ روزگار اور مردان نامدار کی خدمت میں اپنی عمر گراں مایہ کو صرف کرے ، اس لیے کہ ان کی ایک ملاقات سے جو فائدہ حاصل ہو تا ہے ، بہت سے چلوں اور زبردست مجاہدوں سے بھی نہیں حاصل ہوتا، خاص طور سے اپنے پیر ومرشد کی نگاہ لطف وکرم مرید کے لیے اکسیر دولت ہے، نہ معلوم کس وقت مرید ان کی نگاہ اکسیر سے کندن ہو کر صاحب اسرار بن جائے ۔ [ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۶۷۲، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
حضرت مخدوم سمناں فر ماتے ہیں :
مشائخ کا دیدار ایک ایسی عبادت ہے کہ اگر وہ فوت ہو جائے تو اس عبادت کی قضا ادا کرنے کا وقت نہیں ہے۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۶۷۲، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
آپ کا ارشاد گرامی ہے :
ہر چند کوئی شخص گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہو اور صغیرہ گناہوں سے نہ بچتا ہو ، اگر کسی درویش کی نظر کیمیا اثر اس پر پڑ جائے تو بہت جلد اس کو مناہی اور معاصی کے گرداب سے انابت وتوبہ کے ساحل پر وہ شیخ پہنچادے گا ۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۶۷۵، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
مزارت اولیا کی زیارت
اولیاء اللہ اور سلف وصالحین کے مزارات مقدسہ کی زیارت باعث حصول سعادت ہے ،اولیا ء اللہ کی آرام گاہیں نزول رحمت وانوار کا مرکز ہوا کرتی ہیں ، ہمارے اسلاف اپنے بزرگوں کے مزارت پر چلہ کشی کر کے ان کے روحانی فیوض سے مالا مال ہوا کرتے تھے ۔ غوث العالم حضرت سید مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قد س سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] فر ماتے ہیں :
’’اکابر کی زیارت کے بعد جو مسند ارشاد پر متمکن ہیں ، اکابر کے مزارات کی بھی زیارت ضرور کر نا چاہیے کہ بعض ارباب طریقت اور اصحاب معرفت نے اپنے مقصود حقیقی ان قبور کی زیارت وملازمت سے ہی حاصل کیا ہے ۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۶۸۳، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
مولف لطائف اشرفی حضرت نظام یمنی قد سرہ فر ماتے ہیں :
’’حضرت قدوۃ الکبریٰ فر ماتے تھے کہ میں حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی قدس اللہ سرہ کی خدمت میں باریاب تھا ، کسی شخص نے شیخ قدس اللہ سرہ سے سوال کیا کہ بد ن کو خاک میں ادراک نہیں ہے ، جسم یہ ادراک روح سے کرتا تھا ، اب دونوں جدا ہو گئے،عالم ارواح میں کوئی حجاب نہیں ہے، ایسی صورت میں کسی قبر پر جانے سے کیا حاصل ؟ اس لیے کہ جس طرف بھی روح کی جانب توجہ کی جائے وہاں روح موجود ہو گی نہ صرف قبر میں!
حضرت شیخ نے یہ اعتراض سن کر فر مایا کہ قبر پر جانے کے بہت سے فائدے ہیں ، ایک تو یہ کہ تم کسی سے ملاقات کے لیے جاتے ہو تو اس میں جس قدر قریب ہو گے اتنی ہی تمہاری جانب اس کی توجہ زیادہ ہو گی ، دوسرے یہ کہ جب کسی قبر پر جاؤگے اور صاحب قبر کی قبر کا مشاہدہ کروگے تو صاحب قبر بھی پورے طور پر تمہاری طرف متوجہ ہوں گے اور ان سے زیاہ فائدہ حاصل ہو گا ، نیز یہ کہ روح کے لیے ہر چند حجاب نہیں ہے اور تمام عالم اس کے لیے یکساں ہے، لیکن وہ بدن جس سے وہ ستر سال تک متعلق رہی ، وہ اسی بدن کے ساتھ محشور بھی ہو گی اور پھر ابدالآباد تک اسی بدن میں رہنا ہو گا پس روح اس جگہ کو اپنی نظر میں زیادہ رکھے گی ، بمقابلہ دوسری جگہوں کے۔‘‘ [ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد اول ، ص:۶۸۴، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
گناہوں سے توبہ:
اللہ جل شانہ کا پنے بندوں پر بے پناہ فضل واحسان ہے کہ اس نے اپنے نافرمان بندوں کو بھی اپنی نافرمانی سے رجوع اور گزشتہ نافر مانیوں سے تائب ہو نے کا موقع عطافر مایا ، گناہوں کے دَلدَل میں پھنسا انسان بھی صدق دل سے توبہ ورجوع کے ذریعہ اپنے رب کی رضا حاصل کر سکتا ہے اور صدق وصفا کی نئی زندگی کا آغاز کر سکتا ہے۔حدیث پاک میں صدق دل سے توبہ کرنےوالوں کے سلسلے میں فرمایا گیا کہ وہ ایسا ہے کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
قدوۃ الکبریٰ سید مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]فرماتے ہیں :
’’ توبہ کر نے والوں کااس سے زیادہ کیا مرتبہ ہو گا کہ تائب کہتا ہے تبت[ میں توبہ کرتاہوں ] اور اللہ تعالیٰ فرماتاہے: قبلت ، توبہ کے بعد انابت ہے۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم ، ص:۱۷۸، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
آپ نے یہ بھی فرمایا:
’’ توبہ اتنی پختہ کریں کہ پھر برے افعال میں مبتلانہ ہوں ، بلکہ دل میں برے افعال کا خیال تک پیدا نہ ہو ،صغیرہ گناہوں پر اصرار سے کبیرہ گناہ ہو جاتا ہے۔کبیرہ گناہوں سے استغفار کرنےسے مغفرت کے اثار جلد ظاہر ہو نے لگتے ہیں ۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم ، ص:۱۷۸، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
تارک سلطنت حضرت سیداشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]کے ملفوظات میں جہاں تصوف وروحانیت کے رموز واسرار ، پیری مریدی کے اصول وآداب اور صوفیۂ کرام کے احوال وکیفیات کا بیان پورے آب وتاب کے ساتھ نظر آتا ہے وہیں عبادات، معاملات اور اخلاق وعادات ،کائنات کے عجائبات کا بیان بھی نمایاں طور پر ملتا ہے ۔لطائف اشرفی حصہ دوم میں نماز، روزہ ، حج ، زکات وغیرہ عبادات کے حقائق کی صوفیانہ تشریح اور ان میں پنہاں اسرار کے حوالے سے آپ کے گراں قدر ملفوظات شامل ہیں ۔
طریقت کا وضو :
حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]فر ماتے تھے:
’’ عابد نمازِ شریعت ، زاہد نمازِ طریقت اور عارف نمازِ حقیقت اداکرتے ہیں ، جس طرح نماز شریعت کی شرائط ہیں اسی طرح نماز طریقت کی بھی شرائط ہیں، پہلے طریقت کے وضو کی تشریح سنو :
وضو کی تین قسمیں ہیں : پہلی قسم عوام کا وضو ، دوسری خواص کا وضو، تیسری قسم خاص الخاص کا وضو ۔ از روے شریعت عام مومن ومسلمانوں کا وضو بے وضو ہو نے کے بعد خاص اعضا کا دھو نا ہے ، جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں تحریر کیا گیا ہے،خواص اصحاب طریقت کا وضو دل کو باطنی برائیوں کی آلودگی سے پاک کر نا ہے اور جو خاص الخاص ارباب حقیقت ہیں ان کا وضو ماسوی اللہ کے خیال سے اپنے باطن اور روح کو پاک کر نا ہے ، اگر چہ [ اللہ تعالیٰ کی ] محبت ومعرفت حاصل ہو چکی ہو ۔کتا ب کشف الاسرار میں بیان کیا گیا ہے کہ جس طرح جسم کی طہارت کے بغیر نماز نہیں ہو تی اسی طرح دل کی پاکیز گی کے بغیر معرفت روا نہیں ہوتی اور دل کو تدبر اور ذکر وفکر کے صاف پانی سے پاک کیا جاتا ہے۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم ، ص:۱۸۶، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
عارفان حق کی نماز:
نماز عبادات میں سب سے افضل عبادت ہے ، ترک نماز کسی بھی حال میں جائز نہیں ، خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کر نا مومن کامل کی نشانی ہے ، فرائض وشرائط کی رعایت کے ساتھ نماز اداکرلینے سے نماز کی صحت کا حکم لگادیاجاتا ہے اوربندہ ادائیگی فرض سے سبک دوش ہو جاتا ہے، لیکن عارفانِ حق اور اصحاب طریقت کی نماز کی ایک الگ ہی شان ہو تی ہے ۔
مخدوم سمناں سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ[۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] فرماتے ہیں :
’’شریعت کی روسے ظاہری نماز کا تعلق اعضاسے ہے ، طریقت کی رو سے باطنی نماز کا تعلق دل کے تفکر سے ہے اور ازروئے حقیقت نماز روحانی کا تعلق فیض الہی کے ساتھ استغراق سے ہے ، خواص کا رخ اگر چہ بظاہر کعبے شریف کی جانب ہو تا ہے لیکن باطنی طور پر وہ رب کعبہ کی جانب متوجہ ہو تے ہیں ، کیوں کہ بدن کا سجدہ خضوع ہے اور دل کا سجدہ خشوع ہے، الخشوع فی الصلاۃ الاعراض ماسوی اللہ یعنی نماز میں خشوع اللہ تعالیٰ کے غیر سے بے نیاز ہو ناہے، جو صرف خواص کو حاصل ہو تا ہے ۔‘‘
مصلی کوبجاں اندر نماز است
دلش در پیش او اندر نیاز ست
نماز پنج گانی زاہدانست
نماز دائمی از عارفانست
وہ نمازی جو اپنی روح کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے ،اس کا دل اللہ تعالیٰ کے حضور نیاز میں ہے،زاہدوں کے لیے پانچ وقت کی نماز ہے لیکن عارفان حق ہمیشہ اداے نما ز میں رہتے ہیں ۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم ، ص:۱۷۸، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
آپ نے مزید فرمایا :
’’عابدوں ، زاہدوں ، اور عارفوں کی نماز کی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، اور جو یہ آیہ ٔ کریمہ میں فرمایا گیا ہے : الذین ھم علیٰ صلاتھم دائمون [ سورۂ معارج آیت ۲۳] [جو اپنی نماز کے پابند ہیں ] یہ نماز بھی مختلف ہوتی ہے ، عوام کے لیے پانچ وقت ، جمعہ عیدین ، تراویح ، اور لیلۃ الرغائب وغیرہ کی نمازیں ہیں جنھیں وہ ہمیشہ پابندی سے اداکرتے ہیں ، اور ان کی ادائیگی میں چوک اور غفلت کو جائز نہیں قرار دیتے ۔خواص ہر حال میں اشراق ، چاشت، زوال آفتاب تہجد کی نمازیں اور شیخ کی اتباع میں میں دیگر نوافل خشوع اور دل کی حضوری کے ساتھ اداکرتے ہیں ۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم ، ص:۱۷۸، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
روزہ کے روحانی اثرات:
روزہ ایک اہم عبادت اور اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ،یقینا روزہ قلب کی صفائی ، ذہن ودماغ کی پاکیز گی اور نفسانی خواہشات کو زائل کر نے کا اہم ذریعہ ہے۔ قدوۃ الکبریٰ حضرت سید محمد اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]کے ملفوظات میں روزہ کے حیرت انگیز اسرار بیان کیے گئے ہیں ۔
آپ فر ماتے ہیں :
روزہ رکھنے سے مراد محض بھوکا رہنا نہیں ہے ، بلکہ دوسرے فائدے بھی اس کے ساتھ ہیں ، تاکہ ان کا فائدہ بھی حاصل ہو ، اگر محض بھوکا رہنے سے کمال حاصل ہو سکتا تو تمام جوگی کامل ہو تے اور جانور بھوک سے کمال حاصل کر لیتے ، بھوک سبب کمال نہیں بلکہ کمال عرفان حاصل ہو جانے میں ہے، قال علیہ السلام رب صائم لیس من صوم الاجوع وعطش، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ بعض روزہ داروں کو ان کے روزے سے بھوک اور پیاس سے کچھ نہیں ملتا ، اگرچہ بھوک سے باطن میں نورانیت پیدا ہو تی ہے ،اور کسی قدر کشف بھی حاصل ہو جاتاہے ،لیکن جلد ہی زائل ہو جاتاہے ۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم ، ص:۱۹۱، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
روزہ میں انسان بھوکا رہتا ہے، بھوک انسانی روح کو لطیف کر دیتاہے ، یہاں تک کے اس کے اندر کشف کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے ،یہ کیفیت غیر روزہ دار کے اندر بھی پیدا ہوسکتی ہے جیساکہ ایک موقع پر حضرت سید مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ نے فرمایا :
’’ملک بہار میں ایک لالہ رُخ دوشیزہ کا ایک سرو قد نوجوان سے رشتہ قرارپاہا اورسمن صفت کا نوجوان سے نکاح ہو گیا ، دلہن لباس حیااور زیور وفا سے آراستہ تھی ، [شرم کی وجہ سے] تین دن تک دولھا کے گھر میں کچھ نہ کھایا ، جب بھی دولہا کی ماں کھانے کے لیے کہتی، وہ کوئی نہ کوئی بہا نہ کردیتی ، تین دن میں اسے کمال حاصل ہو گیا ،چوتھے دن شرم کی چادر اتار کر اس نے سسر سے کہا کہ گھر کا سامان باہر نکال دیں کہ گھر میں آگ لگنے والی ہے ،سسر نے اس کی بات پر توجہ نہ دی ، قدرت الہی سے ایک ساعت گرزنے نہ پائی تھی کہ گھر میں آگ لگ گئی ، اس طرح کی چند اور باتیں جو دلھن نے کہی پوری ہو ئیں ، بالآخر یہ واقعہ حضرت شیخ شرف الدین منیری رحمۃ اللہ علیہ کے گوش گزار کیا گیا ، حضرت شیخ نے مزید حالات اس سے دریافت فرمائے جو آپ کی خدمت میں عرض کر دیے گئے ، آپ نے حالات سن کر فرمایاکہ دلھن کو کھانا کھلاؤ ، اسے کھانا کھلایا گیا ، ، اس کے بعد اس سے در یافت کیا ،اب بتاؤ تمہارے باطن میں کچھ نظر آتا ہے ؟ دلھن نے جواب دیا کہ مجھے تو کچھ بھی نظر نہیں آتا ، حضرت شیخ منیری نے اس وقت فر مایا کہ درا صل بھوکا رہنے کی وجہ سے دلھن کو جزوی کشف حاصل ہو گیا تھا ،[ اب زائل ہو گیا۔‘‘[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم ، ص:۱۹۲، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
حضرت مخدوم سمناں قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]نے فر مایا :
روزہ رکھنے کا مقصد کم خوراکی ہے ، اگر صائم روزہ رکھے اوررات کو پیٹ کی زنبیل بھرے تو یہ باعث شرم ہے ، کم خوراکی سے متعلق بے شمار نکتے ہیں ۔‘‘ [ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم، ص: ۱۹۴، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
اہل طریقت کی زکات:
زکات اسلام کا اہم فریضہ ہے ، جس کی ادائیگی اصحاب اثروت پر اپنے شرائط کے ساتھ فرض ہے، مختلف انواع کے اموال کا الگ الگ مقدار کے ساتھ زکات ادا کر نا لازم ہے ، لیکن اہل طریقت کی شان یہاں بھی نرالی ہے ۔ حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]فرماتے ہیں :
’’اہل شریعت کی زکات الگ ہے اور اہل طریقت کی زکات الگ ہے ، جیسا کہ منقول ہے کہ کسی شخص نے حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ دوسوم درہم میں کتنی زکات اداکرنی چاہیے؟ آپ نے فرمایا کہ تمہارے طریقے کے مطابق بتاؤں یا اپنے طریقے کے مطابق کہوں ۔ اس شخص نے کہا کہ مسئلہ تو ہر ایک کے لیے یکساں ہے ، لہذا آپ کے طریقے اور میرے طریقے کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا ہے ؟۔ حضرت شبلی نے فرمایا کہ تمہارے طریقے کے مطابق دوسو درہم میں سے پانچ درہم زکات اداکی جائے گی،میرے طریقے کے مطابق وہ تمام دوسو درہم اور ان کے علاوہ پانچ درہم اور ادا کیے جائیں گے ۔ اس شخص نے دریافت کیا کہ دوسودرہم تو آپ کے پاس ہیں ،وہ آپ زکات میں ادا کردیں گے ، پانچ درہم کس طرح فراہم ہوں گے،فرمایا پانچ درہم قرض لے کر دوں گا ۔ اس شخص نے کہا کہ اس قسم کی زکات کس مذہب میں ہے ، فر مایا : یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے دریافت فرمایا :’’ اپنے اہل وعیال کے لیے کیا رکھا ہے، عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ [ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم ، ص: ۱۹۵، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
اہل صفا کا حج :
حج ایک عظیم سعادت ہے ، حرمین شریفین کی زیارت اور روضۂ سر کار پر حاضری ہر مومن کی اولین آرزو ہو تی ہے ،حجاج کرام حج کے ارکان اداکرکے اپنے حج کی تکمیل کرتے ہیں ، لیکن اہل طریقت ظاہری حج کے ساتھ سلوک کے منازل بھی طے کر نے کے قائل ہیں ، ملفوظات مخدوم سمناں میں حج کے ارکان کی صوفیانہ تشریح جس انداز میں کی گئی ہے وہ یقینا پڑھنے اور دل ودماغ میں بسانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ آپ فر ماتے ہیں :
’’ جب حج کے لیے راستے پر قدم رکھے تو چاہیے کہ فنا کی چار تکبیریں دنیا کے چار گوشوں پر پڑھے ،اور جس منزل میں قیام کرے ،سلوک کی منزلوں میں سے کوئی منزل طے کرے ،جب میقات پر آئے تو لباس ظاہری کو اتار دے ،اور گزی کے ٹکروں کا احرام باندھے، ظاہری اور معنوی طورپر نا امید ی کو چکنا چور کرنے کی عادت پیدا کرے ، دنیاوی معاملات اور برے لوگوں سے علاحدگی اختیار کرے،جب عرفات میں آئے تومعارف کے اسرار، عارفوں کے آثارومشاہدات سے آگاہی حاصل کرے ، جب مزدلفہ میں آئے تو حاصل شدہ مرادات سے دستبردار ہو جائے ، جب مطاف میں آئے تو کعبۂ دل کے گرد گرداں ہو ، ماسوی اللہ کے خیال سے خود کو پاک کرے ، چند ساعتیں دل کے کعبے میں آرزوئے محبوب کے طواف میں گزارے تاکہ دل کی آنکھ سے صاحب خانہ کا مشاہدہ اس طرح حاصل ہو جائے جس طرح تم نے ظاہری آنکھوں سے خانہ کعبہ کو دیکھا ہے ، نیز طواف کرتے ہو ئے مولوی[ مولانا رومی ] کی یہ غزل اس ذوق سے پڑھتا رہے کہ ایک خاص کیفیت حاصل ہو جائے ۔
طواف حاجیاں دارم بگرد یار می گردم
نہ اخلاق سگاں دارم کہ بر مردار می گردم
لطائف اشرفی جلددوم کے لطیفہ ۳۲ میں یہ پوری غزل موجود ہے ۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلددوم ، ص: ۲۰۴، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
سفر وسیلہ ظفر ہے :
انسان زندگی میں متعدد انواع کے سفر کرتا ہے،کبھی تجارت کے لیے اپنے وطن سے دور جاتا ہے ، کبھی سیر وتفریح کے لیے رخت ِسفر باندھتا ہے ، کبھی حصول علم کے لیے اپنے اہل وعیال کو خیر باد کہتا ہے، کبھی شیخ طریقت سے ملاقات یا مزارات مقدسہ کی زیارت کے لیے دوردراز مقام پر جاتا ہے ،لیکن یہ طے ہے کہ سفر چاہے جس مقصد سے کیا جائے ،اس سے کئی طرح کے تجربات حاصل ہوتے ہیں ، تجارت میں نفع ہو تا ہے ، علم وآگہی سے آشنائی ہو تی ہے، شیخ طریقت کے فیوض وبرکات سے حصہ ملتا ہے ۔ حضرت سید مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]نے اپنے ملفوظات میں سفر کی متعدد قسمیں بیان کی ہیں اور سفر کے فوائد کو قرآن کریم اور سیرت نبوی کی روشنی میں وسیلہ ٔ ظفر قرار دیا ہے۔
آپ فر ماتے ہیں :
’’مسافرت میں اگرچہ بہت سی تکالیف اور سختیاں برداشت کر نی پڑتی ہیں اور لوگ اپنے وطن اصلی سے دور ہو جاتے ہیں ،لیکن راحت اور خیریت سے قریب رہتے ہیں ، کیوں کہ [ اس حقیقت پر کہ سفر کرنے سے] بہت سے فائدے حاصل ہو تے ہیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ ہجرت فر مایا دلیل محکم ہے ۔‘‘
آپ فر ماتے تھے کہ :
’’ سفر کے جملہ مقاصد میں سے ایک مقصد مشائخ سے ملاقات کرنا ہو تا ہے ، اور اپنے زمانے کے زرگوں کا دیدار جو دولت کی اکسیر اور شوکت کا کیمیا ہے ، یہ کسی لوہے کے مانند دل رکھنے والے شخص کو کیسے حاصل ہو سکتا ہےکہ وہ اس سفر سے مشرف ہو ۔‘‘۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلددوم ، ص: ۲۲۸، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]

ملفوظات اشرف میں عجائبات عالم ذکر:
غوث العالم سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]نے دنیا کے مختلف خطوں کا سفر فرمایا ، دنیا کی عجیب وغریب مخلوقات اور اور محیر العقول حالات وکیفیات مشاہدہ کیا ، آپ نے خودفر مایا ہے کہ :
’’ میں نے موجودات اور مخلوقات سے متعلق عجیب وغریب باتیں دیکھی ہیں ، اگر انھیں بیان کروں تو بعضے لوگ یقین نہ کریں ۔‘‘۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلددوم ، ص: ۲۳۷، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
جامع ملفوظات حضرت سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ] حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’ لطائف اشرفی ‘‘ میں ایسے متعدد عجائب وغرائبات نقل کیے ہیں۔اس حوالے سے ہم یہاں آپ کے صرف چند ارشادات نقل کرتے ہیں :
[۱] ایک پاؤں کے انسان :
حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ [۷۰۷ھــــ۸۲۸ھ]فر ماتے ہیں :
’’ ہم جزیرے کے بیا بان میں سفر کررہے تھے کہ ہمارے سامنے ایک پاؤں کے انسانوں کی جماعت نمودار ہوئی ، وہ انتہائی تیزی کے ساتھ چل کر ہمارے پاس آئے ، اور ہماری جماعت کو دیکھ کر سخت حیران ہو ئے ، انھوں نے جو باتیں کیں وہ ہمیں سمجھ میں نہیں آئیں ، بالآخر اشاروں سے ان کا مقصود معلوم ہوا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ تم لوگ دو پاؤں سے کس طرح چلتے ہوئے ، سب سے آخر میں ہم نے ان کے دین ومذہب کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا کوئی دین ومذہب نہیں ہے وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ دین ومذہب کیا ہو تاہے، البتہ اس کا اقرار کیا کہ ہم اتنا جانتے ہیں کہ زمین وآسمان کا پیدا کر نے والا کوئی صانع ض ضرورہے ۔‘‘۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلددوم ، ص: ۲۴۱، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]
ایک چراغ جو اب تک روشن ہے:
بصرے میں جس قدر عجیب وغریب آثار مشاہدے میں آئے ، دوسری جگہ کم ہی ہوں گے ، یہاں کے مشہور نخلستانوں کی جیسی بے حد لذیذ کھجوریں دوسری جگہ پیدا نہیں ہوتیں ، یہاں حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ، زین العابدین رضی اللہ عنہ، سعد اور طلحہ رضی اللہ عنہما کے مزارات ہیں ، بغداد شریف میں حضرت غوث الثقلین رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت خواجہ معروف کر خی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر بزرگان عالم اور اولیاے نامدار کے مقبرے ہیں ، جن کی تفصیل بیان کر نا ممکن نہیں ہے، جس شخص کو مذکورہ بزرگوں کے مزارات کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے وہی جانتا ہے کہ اسے کس قدر سعادت حاصل ہوئی ہے۔
گازرون میں بہت سے اولیاے زمانہ کی قبریں ہیں ، لیکن سب سے زیادہ عجوبہ جو یہاں مشاہدے میں آیا وہ حضرت شیخ ابو اسحاق گازرونی کا مقبرہ اور وہ چراغ ہے جو آپ نے اپنے دست مبارک سے روشن کیا تھا اور ابھی تک روشن ہے ، امید ہے کہ قیام قیامت تک اسی طرح روشن اور تابندہ رہے گا ۔ بیان کیا ہے جاتا ہے کہ بادشاہ شیراز نے جو زیور صلاح سے آراستہ اور لباس فلاح سے پیراستہ تھا ، اس چراغ کو بجھا دیا تھا لیکن پلک جھپکنے سے پہلے چراغ روشن ہو گیا ، اور زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ اس کا بیٹا مر گیا ۔‘‘[ ص: ۲۴۶][ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلد دوم ، ص:۲۴۶، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ۔ حضرت ابو اسحاق گازرونی کا اسم مبارک ابو اسحق ابراہیم بن شہریار بن زاردان فرخ بن فیروز گارئی تھا ، آپ نے ذی قعدہ ۴۲۶ھ میں وفات پائی ]
گلبر گہ میں سات سو سالہ بزرگ سے ملاقات :
’’ حضرت قدوۃ الکبریٰ فر ماتے تھے کہ جب دکھن کے سفر پر ہمارا گزر گلبر گہ کے علاقے میں ہوا تو ہم نے دیکھا کہ اس علاقے کے ایک پہاڑ کے دامن میں ایک بزرگ گو شہ نشیں تھے ، دریافت کر نے پر معلوم ہواکہ [ اس وقت] ان کی عمر سات سو سال تھی ، یہ بات دنیا کے عجائب وغرائب میں سے ہے ، ان بزرگ نے بہت سی باتیں بتائیں ، ان کے پاس ایک انگوٹھی تھی،جو دنیا کے عجائب میں سے تھی، اس انگوٹھی میں یہ خاصیت تھی کہ جب پہننے والا اس کے نگینے کا رُ خ اپنی طرف کر لیتا تو نگاہوں سے غائب ہو جاتا اور جب اس نگینے کا رُخ باہر کی جانب کرتا تو ظاہر ہو جاتا تھا، رخصت ہوتے وقت انھوں نے ایک شغل بتایا ، جس کے فائدے حد بیان سے باہر ہیں ۔ اس علاقے کے لوگ بے حد حسین ہیں ۔۔۔ اس علاقے کے ہر گاؤں اور شہر مین عجیب باغات اور روشیں تھیں ، حضرت نے فر مایا اسی وجہ سے اس کا نام گلبر گہ ہے ۔۔[ لطائف اشرفی ار دوترجمہ، جلددوم ، ص: ۲۴۳، از حضرت نظام یمنی رحمۃ اللہ علیہ ]


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجدرضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجدرضا مصباحی: 39 Articles with 22085 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2020 Views: 199

Comments

آپ کی رائے