مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ تجھے

(محمد ساجدرضا مصباحی, اتردیناج پور بنگال انڈیا)
شیر اہل سنت حضرت مولانا شیر محمد صاحب خطیب وامام جامع مسجد دیبی گنج اتر دیناج پور بنگال کی رحلت پر ایک درد بھری تحریر


آج مورخہ۳/شعبان المعظم ۹۳۴۱ھ/ مطابق ۰۲/ اپریل ۸۱۰۲ء بروز جمعہ مبارکہ تقریبا دس بجے یہ جاں کاہ اطلاع ملی کہ شیراہل سنت،عالم جلیل حضرت مولانا شیر محمد نوری خطیب وامام جامع مسجد دیبی گنج اتر دیناج پور بنگال اللہ کو پیارے ہو گئے، اس افسوس ناک خبر نے ذہن ودماغ کو ماؤف کر دیا، کچھ دیر کے لیے سکتے کی کیفیت طاری رہی،سوچاہو سکتا ہے یہ افواہ ہو،تصدیق کے لیے جامع مسجد دیبی گنج کے متولی عزت مآب الحاج کبیر احسن صاحب کو فون کیا،فون ریسیو کر نے کے بعد میرے کچھ کہنے سے قبل ہی رندھی ہو ئی آواز میں انہوں نے فرمایا کہ اب ہمارے مولانا صاحب اس دنیا میں نہیں رہے، میں ابھی ان کے دولت خانے پر ہوں۔حاجی صاحب کی تصدیق کے بعد میرے لیے اس بات کو تسلیم کرلینے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تھا،آپ کے وصال کا یقین ہو جانے کے بعدمیری کیفیت اس طرح ہے:
العین تدمع والقلب یحز ن
ولانقول الا الامایرضی بہ ربنا
دل عم زدہ ہے،آنکھیں اشک بار ہیں اور زبان پر اناللہ وانالیہ راجعون جاری ہے۔
حضرت مولانا شیر محمد نوری نور اللہ مرقدہ اتر دیناج پور خصوصا علاقہ گوال پوکھرکے قد آور عالم دین تھے،آپ کی ذات سے دین وملت کی بے پناہ خدمات انجام پائیں،علاقہ گوال پوکھرمیں سنیت کے فروغ اور دیو بندیت ووہا بیت کی سر کوبی میں آپ کا نمایاں کردار رہا، آپ نے تین دہائی سے زائد عرصے سے اس علاقے کو اپنی دعوت وتبلیغ کامرکز بناکر وسیع پیمانے پر دعوتی وتبلیغی خدمات انجام دیں۔ جامع مسجد دیبی گنج آپ کی علمی، دعوتی اور تبلیغی سر گر میوں کا مرکز تھا،علاقے میں منعقد ہو نے والے جلسوں میں آپ خاص طور سے مدعو ہو تے،لوگ دل چسپی کے ساتھ آپ کا خطاب سنتے، آپ باتوں باتوں میں علاقے میں رائج خرافات پرمتنبہ فر ماتے، گناہوں سے بچنے کی تلقین کرتے اور اہل سنت کے عقائد ومعمولات پر سختی سے گامزن رہنے کی تاکید فر ماتے۔جامع مسجد دیبی گنج کے صدر دروازے پر کتابوں اور ہمدرد کی دوائیوں کی ایک چھوٹی سی دکان آپ کا ذریعہ معاش تھا۔آپ اپنی دکان میں بیٹھ کر ایک طرف کتابیں فروخت کرتے تو دوسری طرف گاہکوں کو نمازروزہ کی تلقین بھی فر ماتے،اور جب کبھی خالی بیٹھتے شیلف میں رکھی کتابوں میں سے کوئی کتاب اٹھا کر مطالعہ میں مصروف ہو جاتے۔

یادش بخیر!مولانا شیر محمد صاحب کا نام میں نے سن شعور سے ہی سن رکھا تھا، آپ کے جلال وجمال کا تذکرہ کئی بار بڑوں کی محفل میں سنا تھا، لیکن پہلی بار ملاقات کا شرف 1998ء کے ماہ شعبان میں ہوا،جامع مسجد دیبی گنج میں تراویح کے لیے حافظ کی ضرورت تھی،مولانا نے مفتی طاہر حسین مصباحی کونیہ بھیٹہ (مقیم حال خلیل آباد بستی اتر پردیش)سے ایک اچھے حافظ کے لیے کہہ رکھا تھا،مفتی صاحب موصوف نے مجھے حکم فر مایا کہ دیبی گنج کی جامع مسجد میں تراویح پڑھا دوں، میں اپنے سینر کا حکم ٹال نہیں سکا، مفتی صاحب مجھے لے کر دیبی گنج پہنچے،جامع مسجد صدر دروازے کے پاس حضرت مولانا شیر محمد صاحب اور متولی مسجدجناب الحاج کبیر احسن صاحب ایک بینچ پر بیٹھے تھے، مفتی صاحب کو دیکھتے ہی دونوں چہک اٹھے،پر تپاک انداز میں مصافحہ ہوا، مفتی صاحب نے میرا تعارف کرایا،دونوں حضرات خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بہت ہی شفقت بھرے لہجے میں جامع مسجد میں تراویح پڑھانے کی دعوت دی۔حضرت مولانا شیر محمد صاحب کا ایک تصورمیں میرے ذہن ودماغ میں تھا کہ وہ بہت لحیم شحیم ہوں گے،پورے جاہ وجلال کے ساتھ کہیں تشریف فر ماہوں گے،مجھ جیسے کمتر اور طالب علم پر کوئی خاص توجہ نہیں دیں گے،لیکن اس ملاقات نے میرے تصورات کے تانے بانے بکھیر دیے، نہ تو وہ جاہ وجلا ل تھا نہ علاقے کی ایک معروف شخصیت ہو نے کا غرّہ۔سادہ لباس، منحنی ساجسم،سر پر دوپلی ٹوپی، جسم پر ایک عام سا کرتا اور علاقائی تہبند،چہرے پر بلا کی نورانیت، ہونٹوں پر تبسم اور بات بات پر ظرافت دیکھ کر میں دنگ رہ گیا،عزت مآب حاجی صاحب اور آپ دیر تک ہم لوگوں سے گفتگو میں مصروف رہے، میں آپ کے ساتھ حاجی کبیر احسن صاحب کی فصیح اردو میں گفتگو سن کر بے پناہ متاثر ہوا،چاے واے کا دور چلا اور ہم لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو گئے۔

رمضان کی چاند رات کو میں دیبی گنج پہنچا،حضرت سے دوسری بار ملاقات کاشرف حاصل ہوا،پندرہ دنوں تک دیبی گنج میں حاجی صاحبکے گھر قیام رہا، پندرہ روزہ قیام کے دوران میں نے بیشتر اوقات حضرت ہی کی صحبت میں گزارے،جب بھی کسی موضوع پر گفتگو ہو تی تو بے لاگ تبصرہ فر ماتے،شرعی مسائل کی بات آتی تو فتاویٰ رضویہ کا حوالہ پیش فر ماتے،اپنی طالب علمی کے زمانے کے واقعات سناتے اور میں دل چسپی کے ساتھ سراپا سماعت بن جاتا، کس طرح پندرہ دن گزرا،تراویح ختم ہو ئی اور پندرہ رمضان المبارک کومجھے وداع کرتے ہوئے حاجی صاحب قبلہ اور حضرت مولانا شیر محمد صاحب جذباتی ہو گئے، فر مایا کہ اس سال تراویح میں بہت لطف آیا، مسجد میں بڑی رونق رہی،اب آپ جارہے ہیں ہمیں افسوس ہے کہ ہم لوگ خا طر خواہ آپ کی خدمت نہیں کر سکے، ہم امید رکھتے ہیں کہ آئند بھی ہمیں محروم نہیں کریں گے، نہ جانے ان دونوں کے ان جملوں میں کیا تاثیر تھی،وہ ۱۹۹۸ءکا سال تھا اور یہ ۲۰۱۸ء ہے،میں رمضان کے لیے دیبی جامع مسجد کا مستقل حافظ ہو گیا۔

تقریبا بیس سال کی طویل صحبت مجھے میسر آئی، اس عرصے میں میں نے بہت سارے نشیب وفراز دیکھے،نازک حالات کا مشاہدہ کیا،لیکن کبھی بھی مولانا شیر محمد صاحب کو مایوس اور پریشان نہیں دیکھا، سخت سے سخت حالات کا وہ مردانہ وار مقابلہ کرتے، رب تعالیٰ نے انہیں فکر وتدبر اور ضبط وتحمل سے نوازا تھا،معاملات کی پیچید گیوں کو وہ بہت آسانی سے حل کر لیتے،وہ شیر دل تھے، کبھی کسی سے نہیں ڈرتے تھے، تراویح کی نماز ختم ہو نے کے بعد دس،ساڑھے دس بجے تاریک رات میں تن تنہا اپنی سائیکل لے کر بے خوف وخطر دیبی گنج سے اپنے گاؤں ہر یانی کے لیے نکل پڑتے، کبھی کبھی میں ٹوکتا، حضرت اتنی رات کو اکیلے جانے میں ڈر نہیں لگتا؟ مسکرا کر فر ماتے شیر محمد کسی سے نہیں ڈرتا۔ ان کے گاؤں ہر یانی میں نناوے فیصد دیابنہ ہیں، ان لوگوں نے آپ کو تنگ کر نے کی کوشش کی، لیکن آپ نے کبھی بھی ان سے داب نہیں کھایا، فکر وتدبر سے ان کی شرارتوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا،دشمنوں نے آپ کے عزم وحوصلے کو دیکھ کر ہتھیار ڈالنے ہی میں عافیت سمجھی۔
آپ معتقدات اہل سنت کی ترویج واشاعت کا کوئی موقع نہیں گنواتے،چلتے پھرتے کوئی نیوٹل قسم کاآدمی مل جاتا جو دیوبندی گاؤں میں رہنے کی وجہ سے دیو بندی کہلاتا تو اسے بڑے حکیمانہ انداز میں سمجھاتے، نر می کے ساتھ پیش آتے اوراس کی مسلسل نگرانی فر ماتے۔اس علاقے کے بچوں کی دینی تعلیم وتربیت آپ کا اہم مشن تھا،آپ نے مختلف اوقات میں تقریبا ایک درجن طلبہ کو میرے ساتھ جامعہ صمدیہ پھپھوند شریف بھیجا، جب بھی فون کر تا، آپ ان طلبہ کی کار کردگی کے بارے میں پوچھتے۔ اپنے گاؤں کے ایک طالب علم کو میرے ساتھ کیا اور فر مایا غریب بچہ ہے، گھر والے دیو بندیت سے متاثر ہیں، اگر پڑھ لکھ لے گا تو اس کے گھر والوں کا ایمان محفوظ ہو جائے گا، اسے اپنے ساتھ لے جائیے اور اس کا ہر طرح سے خیال رکھیے۔ اس طرح نہ جانے کتنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اتر پردیش کے مختلف مدارس میں بھیجا،یہ اپنے آپ میں ایک کار نامہ ہے۔

علم اور عہدے والے بہت ملتے ہیں،لیکن ان دونوں اوصاف کے ساتھ خوش خلقی، کشادہ ظرفی بھی ہو، ایسا کم ہو تا ہے،حضرت مولانا شیر محمد صاحب علم والے بھی تھے، اور صاحب عہدہ بھی تھے، علاقہ گوال پوکھر کی ایک مرکزی مسجدکے خطیب وامام، ایک قدیم ادارہ(دارالعلوم غوثیہ مصطفی آباد تھاروٹولہ گوال پوکھر) کے بانی، ناظم اور صدرالمدرسین اور علاقائی سطح کے ہر دل عزیز مقرر،غرور وتکبر پیدا ہو نے کے لیے یہ اوصاف کیا کم تھے، لیکن میں ذمے داری سے کہہ سکتا ہوں کہ مناصب جلیلہ نے آپ کے اخلاق میں کوئی فرق آنے نہیں دیا، آپ کی دکان کیا تھی، علاقے کے علما کی ملاقات گاہ تھی، دن بھر علما، طلبہ، عوام وخوا ص کا آنا جا نا رہتا، آپ سب سے کشادہ قلبی سے ملتے، خیر خیریت در یافت فر ماتے، حسب مراتب چائے پان سے ضیافت فر ماتے۔کبھی کبھی بعض افراد بہت دیر تک بیٹھ جاتے جس سے ان کے معمولات متاثر ہوتے لیکن کبھی ناگواری یا ترش روئی کا مظاہرہ نہیں فر ماتے،ان کا یہ وصف ان کی ہر دل عزیزی میں چار چاند لگا دیتا۔

رمضان المبارک میں، میں جب تک وہاں موجود رہتا، امامت کے لیے مجھے سختی کے ساتھ حکم دے کر آگے بڑھا دیتے،جمعہ کے خطاب کے لیے ضد کرتے میں تراویح کی تیاری کا عذر کرتالیکن میرا عذر کم شرف قبولیت حاصل کر پاتا،چند منٹ ٹوٹی پھوٹی تقریر کر کے بیٹھتا تو زبردست انداز میں میری تقریر کی تشریح فر ماتے اور بڑے مشفقانہ انداز میں القاب وآداب سے نواز کر میر ی حوصلہ افزائی فرماتے،یہ ان کی انتہائی شفقت اور حد درجہ خر د نوازی تھی،ان کا یہی برتاؤ ہر نوجوان عالم کے ساتھ ہو تا، وہ حصول یابیوں پر کھل کر داد دیتے، سراہتے، اور مزید ترقی کی داعائیں دیتے، اور کو تاہیوں پر مشفقانہ لب ولہجے میں تنبیہ فر ماتے۔

حضرت مولانا شیر محمد صاحب نور اللہ مرقدہ بڑے جفا کش اور محنتی واقع ہوئے تھے، عہد طالب علمی ہی سے انہوں بے پناہ مصیبتیں جھیلیں، نہایت کس مپرسی کے عالم میں جامعہ نعیمیہ مرادآباد سے اپنی تعلیم مکمل فر مائی، فراغت کے بعد گھریلوذمے داریوں میں گھر گئے، اس کے باوجود انہوں نے اپنے مشن اور مقصد کو پس پشت نہیں ڈالا، ایک عرصے تک کشمیر کے کسی علاقے میں امامت اور تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد جب علاقےمیں مستقل سکونت اختیار فرما ئی تو مدرسہ غوثیہ مصطفی آباد تھارو ٹولہ قائم فر ماکر اس کی مکمل ذمے داری اپنے سر لے لی، ادارے کے مصارف کے انتظام کے لیے خود جد وجہد فر ماتے، صبح وشام تگ ودو کے بعد ادارے کے اساتذہ کی تنخواہیں اور تعمیرات کے اخراجات مکمل فر ماتے، دیبی گنج جامع مسجد میں پنج وقتہ امامت اور جمعہ کی محفل میں باضابطہ خطابت کے علاوہ علاقے کی دینی ومذہبی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ہمیشہ تیار رہتے، غریب، امیر ہر کوئی دیبی گنج کے مولانا صاحب ہی کو یاد کرتے اور آپ بلا کسی ناگواری کے ہر ایک کی ضرورتوں کو پورا کر نے کے لیے پہنچ جاتے،دھوپ کی شدت، سخت ٹھنڈک، موسم کی نے رخی کی کبھی پرواہ نہیں کرتے۔دین وملت کے تئیں یہ آپ کو ذوق جنوں ہی تھا کہ آپ ان تمام مصروفیات کے لیے وقت نکال لیتے تھے اور ذرا بھی تھکا وٹ محسوس نہیں کرتے تھے،وہ صحیح معنوں میں اس شعر کے مصداق تھے۔
میں کہاں رکتاہوں عرش وفرش کی آواز سے
مجھے جانا ہے بہت اونچا حد پر واز سے

حضرت مولانا شیر محمدصاحب کا ایک عظیم کار نامہ یہ ہے کہ آپ نے شاگر دوں کی ایک عظیم جماعت پیدا کی، آپ کی درسگاہ سے فیض حاصل کر نے والے علما آج ملک کے مختلف گوشوں میں دینی ومذہبی خدمات انجام دے رہے ہیں، یقیناان خدمات کے اجر میں مولانا موصوف کا بھی حصہ ہو گا۔

موت حقانیت ہر کسی کو تسلیم ہے، آنا اور جانا دنیا کی ریت ہے، ہمیں بھی اس دن کا سامنا کر نا ہے،ہمارا بھی جنازہ اٹھے گا، ہمیں بھی کفن پہنایا جائے گا، ہمیں بھی گور غریباں کو اپنا مسکن بنانا ہو گا،ہمارے اپنے بھی بلکتے ہوں گے،ہمارا گھر بھی ماتم کدہ بنے گا، لیکن ہمیں معلوم نہیں ہماری موت کس حال میں ہو گی۔ مولانا شیر محمد صاحب بڑے خوش نصیب ہیں کہ انہیں اسی سال حج کی سعادت نصیب ہوئی، روضہ رسول کی زیارت کا شرف حاصل ہوا،وقت اجل آیا توجمعہ کے مبارک دن نے ان کااستقبال کیا۔ایں سعادت بزور بازو نیست...........اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فر مائے۔

ابھی چند دل قبل سوشل میڈیا کے توسط سے آپ کی ناسازی طیبعت کی اطلاع ملی تو فوری طور پر ان کے بڑے صاحب زادے مولانا نورانی زید مجدہ(جوگوا میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں)کو فون لگایا اور صورت حال سے واقفیت حاصل کی، انہیں دلاسہ دیا، مولانا مرحوم کے داماد مولانا شہباز ارشد صاحب(جوحیدر آباد میں پی ایچ ڈی مکمل کر رہے ہیں) سے بھی خیر خیریت دریافت کر کے چھوٹے صاحب زادے غلام جیلانی سلمہ کا نمبر حاصل کیا جو حضرت کے ساتھ سلی گوڑی کے پیرامل ہاسپٹل میں موجود تھے، عزیزم غلام جیلانی نے بتایا کہ والد گرامی کی طیبعت پہلے سے بہتر ہے اور72/ گھنٹے گزر جانے کے بعد ہاسپیٹل سے چھٹی مل جائے گی۔ میں نے رب تعالیٰ کی بار گاہ میں آپ کی شفایا بی کے لیے دعا کی اور مطمئن ہو گیا۔

آج صبح جمعہ کا دن ہو نے کی وجہ سے اپنی قیام گاہ پر”سہ ماہی پیغام مصطفی اتر دیناج پور“ جسے ایک دودن میں پریس بھیجنا ہے، کی ایڈیٹنگ میں مصروف تھا،اسی دوران میں نے اپنے ادارے کے استاذ مولانا راشد القادری مصباحی کی گھبرائی ہوئی آواز سنی،وہ فون پر کسی سے بات کررہے تھے، کمرے سے باہر آکر معلوم کیا تو پتہ چلا کہ حضرت مولانا شیر محمد صاحب اب ہمارے در میان نہیں رہے،اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اورغم واندوہ کی تاریکیوں میں ڈوب کر ماضی کی یادوں میں کھوگیا۔

مصیبت کی اس گھڑی میں میں مولانا مرحوم کے جملہ اہل خانہ کے غم میں شریک ہوں، رب تعالیٰ کی بار گادست بدعاہوں کہ آپ کے صاحب زادے مولانا نورانی سلمہ اوران کے جملہ اہل خانہ کوصبر جمیل عطافر مائے اور مولانا شیر محمد صاحب کوجنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فر مائے آمین بجاہ حبیبہ سید الکریم وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین۔
شریک غم
محمد ساجد رضا مصباحی
استاذدارالعلوم غریب نواز داہو گنج کشی نگر یوپی
متوطن: نوری نگر کمات، ضلع اتر دیناج پور بنگال
مورخہ۳/ شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ/۲۰/ اپریل۲۰۱۸ء بعد نمازعصر



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجدرضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجدرضا مصباحی: 39 Articles with 22043 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2020 Views: 125

Comments

آپ کی رائے