اسلامی دنیا کے ماضی و حال کے 5 مضبوط لیڈران

 
اسلامی دنیا میں ماضی اور حال میں کئی ایسے حکمران گزرے ہیں ، جنہوں نے اپنی قوم کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا، اسلامی تصوارت کو حکومت کو شامل کیا، بلکہ انہوں نے بین الاسلامی اتحاد کے قیام پر بھی زور دیا۔ اس مضمون میں ماضی اور حال کے 5مضبوط لیڈران کے بارے میں بتایا جارہاہے ، جن کے بارے میں جاننا آپ کیلئے یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگا۔
 
 اسلامی اتحاد کے علمبردار شاہ فیصل :
شاہ فیصل اپریل 1906ء میں پیدا ہوئے۔ فیصل شروع ہی سے سمجھدار اور باصلاحیت انسان تھے۔ شاہ فیصل نے نوجوانی میں ہی اہم کارنامے انجام دینا شروع کردئیے تھے۔ 1920ء میں انہیں حجاز کا گورنر مقرر کیا گیا۔1953ء میں جب سعود بن عبدالعزیز بادشاہ بنے اور فیصل ولی عہد قرار دئیے گئے۔ ایک سال بعد وہ مجلسِ وزراء کے صدر یعنی وزیراعظم ہو گئے۔ 1964میں وہ بادشاہ بنے۔ شاہ فیصل کے گیارہ سالہ دور میں ترقی کے کام اس کثرت سے اور تیزی سے انجام دئیے گئے کہ سعودی عرب دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کی فہرست سے خوشحال اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گیا۔ شہروں اور بندرگاہوں کو جدید طرز پر توسیع دی گئی، ہوائی اڈے تعمیر کیے گئے، ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا،حرم میں توسیع کی گئی اور حاجیوں کو مختلف سہولیات فراہم کی گئیں۔ شاہی محلات کو تعلیمی و رفاہی اداروں کے سپرد کر دیا گیا۔
 
 
اتحاد اسلام شاہ فیصل کا بہت بڑا نصب العین تھا۔ شاہ فیصل نے اپریل 1965ء میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو اسلام کی بنیاد پر متحد کرنے کا عہد کیا۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے اسی سال انہوں نے 8 نومبر سے اسلامی ممالک کا دورہ شروع کر دیا۔ سب سے پہلے ایران گئے۔ اس کے بعد بالترتیب اردن، سوڈان، پاکستان، ترکی، مراکش ودیگر کادورہ کیا۔ اگست 1966ء میں ترکی گئے اور اس طرح ترکی کا دورہ کرنے والے پہلے عرب سربراہ بن گئے۔عرب دنیا میں ان کا دور "رحلات الخیر" یعنی بھلائی کے سفر کے نام سے مشہور ہے۔ ان دوروں میں شاہ فیصل نے یہ حقیقت سمجھانے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کی نجات صرف اسلام سے وابستہ ہے اور ان کی بھلائی اسلامی اتحاد سے وابستہ ہے۔ اگست 1969ء میں مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کے واقعے کے بعد عرب اور اسلامی ممالک کو شاہ فیصل کے موقف کی صداقت کا یقین ہو گیا اور تمام اسلامی ملک ایک تنظیم کے تحت متحد ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔ 22 تا 25 ستمبر 1969ء رباط (مراکش) میں دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان سربراہان کی کانفرنس ہوئی جس کا مستقل دفتر بعد میں جدہ میں قائم کیا گیا۔ اس تاریخ کے بعد اسلامی دفتر (سیکرٹریٹ) کے تحت مختلف قسم کی اسلامی کانفرنسوں کا انعقاد پابندی سے ہو رہا ہے۔
 
اپریل 1966ء میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔25 مارچ 1978میں ریڈیو سے اعلان نشر ہوا کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز کو ان کے بھتیجے فیصل بن مساعد بن عبد العزیز نے شاہی محل میں گولی مار کر شہید کر دیا ہے۔ اس طرح یہ عظیم لیڈر دنیا سے رخصت ہوئے۔
 
اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی روح اللہ خامنہ ای:
سید روح اللہ خمینی المعروف امام خمینی ایران کے اسلامی مذہبی رہنما اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی تھے۔ وہ 24 ستمبر 1902ء کو خمین میں پیدا ہوئے ۔ 1953ء میں رضا شاہ کے حامی جرنیلوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹا تو ایرانی علما نے درپردہ شاہ ایران کے خلاف مہم جاری رکھی اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی سیاست کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔ 28 اكتوبر 1964ء میں جب شاہ ایران كى حكومت نے اىک قانون كى منظورى دى جس كے تحت امرىكى جو چاہیں کرتے رہیں ان پر اىرانى قانون لاگو نہ ہو گا –تو اس کے اگلے دن امام خمینى نے مدرسہ فىضىہ قم مىں وہ شہرہ آفاق تقرىركى جو اىک عظىم انقلاب كا دىباچہ بن گئى انہوں نے لوگوں سے کہا: "اے نجف، قم،مشہد، تہران اور شیراز كے لوگو! میں تمہیں خبردار كرتا ہوں یہ غلامى مت قبول كرو كیا تم چپ رہو گے اور كچھ نہ کہو گے ؟ کیا ہمارا سودا كر دیا جائے اور ہم زبان نہ كهولىں؟"
 
 
اس تقرىر نے تخت شاہی کو ہلا كر ركھ دىا ، سات دن بعد امام خمینى كو گرفتار كركے تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سے جلا وطن كر دىا گیا، پہلے وہ ترکی، بعد میں نجف اور پھر فرانس میں رہائش پذیررہے۔17 جنوری 1979ء کو شاہ ایران ملک سے چلے گئے ، امام خمینى سولہ سالہ جلا وطنى كے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سے بہشت زہرا كے قبرستان تک لاكهوں ایرانیوں نے ان كا استقبال كیا ، یہ بهى عجیب دن تها کہ شاہانہ جاہ و جلال ركهنے والا اىک حكمران امریكا كى بهرپور سرپرستى كے باوجود اىک امام كے ہاتهوں شكست كها كر ملک سے فرار ہو چكا تها، اس كى نامزد كردہ شاہ پور بختیار کی حكومت خزاں رسیدہ پتے كى طرح كانپ رہى تهى، شاہ نے امام كى آواز دبانے كے لیے كیا کیا جتن نہ کئے، كون كون سے مظالم نہ توڑے لیكن امام خمینى كى آواز نہ دبائى جا سكى۔
 
امام خمینی کی انقلابی فکر نے جہاں ایران کو نجات بخشی وہیں پوری دنیا میں اسلامی تحریکوں کے لئے نسیم بہار ثابت ہوئی، انقلاب اسلامی سے پہلے ایران خطے میں اسرائیل کا رفیق کار تھا اور اب امام خمینی کی قیادت میں انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران نے اعلان کر دیا کہ ہم اسرائیل کو قبول نہیں کرتے۔امام خمینی نے جہاں دوسرے مقامات پر اپنے آپ کو رائج ڈپلومیٹک رسوم و رواج سے بالاتر قرار دیتے ہوئے حقیقی انقلابی راہبر کا کردار پیش کیا کہ جس کی مثال سلمان رشدی جیسے ملعون کے قتل کے فتوی کی صورت میں دی جا سکتی ہے، وہیں امام خمینی کی انقلابی افکار کا فیض فلسطین کے مظلوم مسلمانوں تک بھی پہنچا اور امام خمینی نے وہ عظیم جملہ بیان فرمایا کہ "اسرائیل باید از صفحہ روزگار محو شد" یعنی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہیئے۔ امام خمینی اپنے اس انقلابی موقف سے کبھی پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہ ہوئے اور اس فکر کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ تہران میں واقع عظیم اسرائیلی سفارت خانہ کو ختم کر کے اس بلڈنگ کو فلسطینی سفارت خانہ میں تبدیل کر دیا گیا۔فلسطینی رہنما یاسر عرفات امام خمینی سے ملنےتہران آئے اور یوں پوری دنیا میں موجود اسلامی تحریکوں کو ایک نیا افق نظر آنا شروع ہوا۔افکار امام خمینی کی بنیاد اس بات پر استوار تھی کہ دین اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔
 
سابق فوجی سربراہ و صدرپاکستان محمد ضیاء الحق:
جنرل محمد ضیاء الحق پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ تھے، جنہوں نے 1977ء میں اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا کر مارشل لا لگایا اور بعد ازاں صدارت کا عہدہ سنبھالا۔ وہ تا دم وفات، سپاہ سالار اور صدرات، دونوں عہدوں پر فائز رہے۔ضیاء الحق 1924ء میں پیدا ہوئے۔ سن 1945ء میں فوج میں کمیشن ملا۔ پاکستان کی آزادی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ 1964ء میں لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی، 1973ء میں میجر جنرل اور اپریل 1975ء میں لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کور کمانڈر بنے۔ یکم مارچ 1976ء کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے۔
 
 
1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیااور 4 جولائی 1977 کی شام مارشل لا کا نفاذ کر دیا گیا۔دسمبر 1984ء کو ضیا الحق نے صدارتی ریفرنڈم کروایا جس میں کامیابی کے بعد ان کے منصب صدارت میں توثیق ہو گئی۔فروری 1985ء میں محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنے۔ باہمی اعتماد کی بنیاد پر 30 دسمبر 1985ء کو مارشل لا اٹھا لیا گیا اور بے اعتمادی کی بنیاد پر آٹھویں ترمیم کے تحت جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988ء کو محمدخان جونیجو کی حکومت برطرف کر دی۔
 
1978 اور 1985 کے درمیان ضیا نے پاکستان کو ایک مذہبی ریاست میں بدلنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے۔ مذہبی قوانین کے نفاذ اور اسلام کے منافی پائے جانے والے قوانین کو خارج کرنے کے لیے وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی اور اسے قانون سازی کے کچھ اختیارات بھی دیے گئے۔ ریاست نے زکوٰۃ اور عشر وصول کرنے کے اختیارات اپنے پاس رکھ لئے۔ احمدیوں کو اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنے، قرآن مجید اپنے پاس رکھنے اور تلاوت کرنے، ایک دوسرے سے مسلمانوں کی طرح سلام کرنے کا انداز اپنانے، اور اسلامی خطابات اور اپنی بیٹیوں کے نام رسول اللہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین پر رکھنے سے منع کر دیا گیا۔قرآن مجید کی توہین کرنے کی سزا اور گستاخی کرنے پر موت یا عمر قید کی سزا دینے کے لیے تعزیرات پاکستان میں ترمیم کی گئی (بعد میں شرعی عدالت نے گستاخی کرنے پر موت کی سزا کو لازم قرار دے دیا)۔ پارلیمنٹ کو مجلس شوریٰ کا نام دیا گیا۔ضیا الحق نے اسمبلیوں میں ارکان کی رکنیت کی اہلیت اور نااہلی کے متعلق قانونی تقاضوں میں ترمیم کی تاکہ وہ مذہبی معیار کا احترام کریں۔ انہوں نے نظام تعلیم کو بھی الٹ دیا، پہلے تو انہوں نے مدرسوں کی تعداد بڑھانے میں سہولت فراہم کی اور تمام جماعتوں کی نصابی کتابوں میں مذہب سے منسلک اسباق کی تعداد بڑھا دی گئی۔
 
1979 میں سوویت یونین (روس) کی افغانستان پر جارحیت کا مقصد پاکستان فتح کرکے بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے روس اور بھارت کی جانب سے ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کا احساس کرتے ہوئے اور افغانستان کی آزادی کے لئے کوشاں عوام کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ساتھ ہی انہوں نے کشمیر میں جدوجہد شروع کروائی۔ 17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب ایک فضائی حادثے کا شکار ہونے کے باعث وہ دنیا سے رخصت ہوئے۔
 
عالم اسلام کا موجودہ ہیرو رجب طیب اردوان:
 26 فروری 1954ء کو پیدا ہونے والے ترک سیاست دان، استنبول کے سابق ناظم، جمہوریہ ترکی کے سابق وزیر اعظم اور بارہویں منتخب صدر ہیں۔ رجب28 اگست2014ء سے صدارت کے منصب پر فائز ہوئے۔اکتوبر 2009ء میں دورۂ پاکستان کے موقع پر رجب اردوان کو پاکستان کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا۔
 
 
سن 2008ء میں غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے کے بعد رجب طیب اردوان کے زیرقیادت ترک حکومت نے اپنے قدیم حلیف اسرائیل کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اس پر سخت احتجاج کیا۔ ترکی کا احتجاج یہیں نہیں رکا بلکہ اس حملے کے فوری بعد2009میں عالمی اقتصادی فورم میں ترک رجب طیب اردوان کی جانب سے دوٹوک اور برملا اسرائیلی جرائم کی تفصیلات بیان کرنے کے دوران جب انہیں ٹوک کر روک دیاگیاتو بولنے کے لئے مناسب وقت نہ دینے پر رجب طیب اردوان نے فورم کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور فوری طور پر وہاں سے واپس لوٹ گئے۔ اس واقعہ نے انہیں عرب اور عالم اسلام میں ہیرو بنادیا اور ترکی پہنچنے پر فرزندان ترکی نے اپنے ہیرو سرپرست کا نہایت شاندار استقبال کیا۔اس کے بعد 31 مئی بروز پیر 2010 ء کو محصور غزہ پٹی کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے آزادی بیڑے پر اسرائیل کے حملے اور حملے میں 9 ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد پھر ایک بار اردوان عالم عرب میں ہیرو بن کر ابھرے اور عوام سے لے کر حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نے ترکی اور ترک رہنما رجب طیب اردوان کے فلسطینی مسئلے خاص طورپر غزہ پٹی کے حصار کے خاتمے کے لیے ٹھوس موقف کو سراہا اور متعدد عرب صحافیوں نے انہیں موجودہ دور کے قائداسلام قرار دیا۔
 
15 جولائی 2016 کی شب فوج کے ایک دھڑے نے اچانک ہی ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر دیا لیکن بغاوت کی اس سازش کو تر ک عوام نے سڑکوں پر نکل کر، ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ناکام بنادیا اور یہ ثابت کیا کہ اصل حکمران وہ ہے جو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرے۔ اس کے بعد رجب طیب اردوان نے ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ترکی میں صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم کروایا جس کی کامیابی کے بعد ترکی میں اب صدارتی نظام رائج ہے۔ رجب طیب اردوان اسلام پسند ہیں ۔ وہ خلیفہ عبدالمجید ثانی کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں اور اردوان دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہو اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، انہوں نے بارہا عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین پر بات کی ہے اور مسلمانوں کے حق کیلئے آواز بلند کی ہے۔موجودہ دور میں کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ طیب اردوان 2023 میں معاہدہ لوزان کے ختم ہونے کے بعد خلافت عثمانیہ قائم کریں گے، جس میں بہت سے اسلامی ممالک شرکت کریں گے اور مسلمان دوبارہ خلافت عثمانیہ قائم کرکے اپنا عظیم مقام بحال کریں گے، تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی تصدیقی پیغام ان کی حکومت کی جانب سے جاری نہیں کیاگیا۔
 
دور جدید کے انقلابی بانی مہاتیر محمد:
مہاتیربن محمد ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم ہیں، جنہوں نے 10 مئی 2018ء کو انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا لیکن فروری 2020 میں وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے۔ اس کے قبل وہ اس عہدہ پر 1981ء سے 2003ء تک، یعنی 22 سال تک اسی عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
 
 
 ملائیشیا کی تاریخ میں مہاتیر محمد کا کردار ایک محسن اور دور جدید کے انقلاب کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مہاتیر محمد نے ملائیشیا کی تاریخ بدلی قوم کو سیاسی اور سماجی اندھیروں سے نکالا۔ انہوں نے ملائیشا میں رہنے والے اور مختلف زبان بولنے والے لوگوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرکے انہیں ایک قوم کے وجود کے اندر سمو دیا۔ اس کا سارا کریڈٹ اور فخر اس فلسفہ انقلاب کو جاتا ہے،جس کی آبیاری مہاتیر محمد نے کی۔ آج مسلم امہ کو جو معاشی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں، ان کا علاج مہاتیر محمد کے نظریات میں پوشیدہ ہے۔
 
مہاتیر محمد 1981ءسے لے کر 2003ءتک مسلسل ملک کے وزیر اعظم رہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے ملک کو اہم صنعتی اور ترقی یافتہ قوم میں بدلنے کا ایجنڈا پیش کیا، جو پبلک پالیسی مہاتیر محمد نے اختیار کی اس کی بنیاد درج ذیل سیاسی فلسفہ پر قائم ہیں۔ مہاتیر محمد کے نزدیک ”خاندان کا ادارہ“ مالے معاشرہ کا بنیادی سماجی اکائی ہے ،جس کو ریاست اپنے نظام کا حصہ بنا کر اس کو مالی اور سماجی استحکام بخشے اور اس خاندانی نظام نے ملائیشیا کو جدید ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسرا نظریہ ریاست ہے جو مہاتیر محمد کے نزدیک آئین اور قانون کی پاسداری پر قائم ہونی چاہیے۔ ریاست کا نظام خود احتسابی پر قائم ہونا چاہیے، وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام ریاست کو قائم کرنا چاہیے۔، نظم و ضبط میں کسی قسم کی جھول برداشت نہیں کرنی چاہیے۔ مہاتیر محمد کے نزدیک دہشت گردی کا نظریہ بھی مغرب کے سیاسی فلسفہ کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلم ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ ان کے نزدیک انسانی حقوق و فرائض میں ایک توازن قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔ان کے مطابق مَلے قوم اپنی اسلامی اور دینی شناخت کو کبھی قربان نہیں کرسکتی، وہ اسلامی تاریخ و رثہ کو اپنی قوم کے وجود کے لیے بہت اہم قرار دیتے ہیں اور یہی وہ مہاتیر محمد کا فلسفہ تھا جس نے ملائیشیا کو دنیا کی ترقی یافتہ قوم میں بدل دیا،آ ج مہاتیر محمد اسلامی دنیا کیلئے ایک مثالی لیڈر ہیں، جن کے بتائے فئے فرمودات پر عمل کرکے کوئی بھی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتاہے۔
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
17 Sep, 2020 Views: 3900

Comments

آپ کی رائے