بلاول اور مریم کے علاوہ۔۔۔ آنے والے مستقبل میں کن سیاستدانوں کی اولادیں ان کی جگہ لے سکتی ہیں؟

 
ہر ملک میں کئی سیاسی خاندان ایسے ہوتے ہیں، جو اُس ملک کی سیاست پر قابض ہوتے ہیں۔ ایک سیاسی خاندان اقتدار میں آتاہے تو دوسرا لائن میں کھڑا ہوکر جیسے اپنی باری کا انتظار کرتا ہے،یوں اگلی حکومت اس کی آجاتی ہے۔کئی ممالک میں اس طرح کچھ خاندانوں کی اجارہ داری برسوں سے ان کی ملکی سیاست پر قائم ہے اور چلی آرہی ہے۔ہمارے ملک کے کئی علاقوں میں جاگیردارانہ نظام قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کے ان علاقوں میں بس اسی علاقے کے جاگیردار و سرمایہ دار ہی سیاست میں حصہ لیتے ہیں، اس کے بعد ان کے بچے سیاسی میدان میں آجاتے ہیں۔ یوں موروثی سیاست کا سلسلہ چلتارہتاہے۔
 
ہمارے ملک میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو اس کی پہلی مثال ہیں، جو بے نظیر کی شہادت کے بعد سیاسی میدان میں آئے ہیں، جبکہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی وقتاًفوقتاًسیاسی محاظ آرائیوں کے دوران سامنے آتی رہی ہیں۔ ان دو نوں کے علاوہ کونسے ایسے سیاستدان ہیں، جن کی اولادیں ان کی جگہ مستقبل میں سیاسی میدان میں قدم رنجہ ہوکر کسی اہم پوزیشن پر پہنچ کر اہم کردار نبھاسکتی ہیں، آئیے ذرا اُن پر نظرڈالتے ہیں۔
 
علی ترین:
2017میں جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین کو ناہل قرار دیا تو پھر ان کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 154خالی ہوئی، ان کی خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ان کے بیٹے علی ترین کو نامزدگی ملی۔یوں پہلی مرتبہ جہانگیر ترین کے خاندان میں موروثی سیاست کاآغاز ہوا۔ علی ترین نے ضمنی انتخابات میں حصہ ضرور لیا لیکن وہ پاکستان مسلم لیگ نون کے امیدوار اقبال شاہ قریشی سے ہار گئے۔ یوں اپنے والد کی سیٹ پر وہ قومی اسمبلی میں جانے میں ناکام ہوئے۔ علی ترین نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ہوا ہے۔ وہ اپنے والد کی طرح”نیا پاکستان“ بنانے کے حمایتی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان سپر لیگ کی ٹیم ”ملتان سلطان“ کو خریدرکھاہے۔اس وقت تو اسمبلی میں موجود نہیں ہیں، لیکن یہی لگتا ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستانی سیاست میں اہم کردار نبھاسکتے ہیں۔
 
 
علی حیدر گیلانی:
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان یوسف گیلانی جوکہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔انہیں کچھ عرصے قبل تک اپنے بیٹے علی حید گیلانی کی گمشدگی کا صدمہ تھا۔ علی حیدر گیلانی کو 2013میں ملتان سے اغوا کرلیاگیاتھا، 3سال کے بعد2016میں انہیں ایک جوائنٹ آپریشن کے نتیجے میں افغانستان سے بازیاب کیاگیا تھا۔ بازیاب ہونے کے بعدا نہوں نے 2018میں اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے الیکشن میں حصہ کیااور صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 211سے وہ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے اور صوبائی اسمبلی میں جا پہنچے۔ اس طرح ان کے سیاسی کیرئیر کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے، اب یہی سمجھاجارہا ہے کہ صوبائی اسمبلی پہنچنے کے بعد ان کی اگلی منزل اگلے الیکشن میں قومی اسمبلی ہوگی۔ یوں کہاجاسکتا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کا نام سیاست میں علی حیدر گیلانی ہی آگے بڑھائیں گے۔
 
 

مونس الٰہی:

اس وقت پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے فرائض نبھانے والے مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الٰہی سیاسی میدان میں ایک اہم نام ہیں۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے بیٹے مونس الٰہی بھی سیاسی میدان میں داخل ہوچکے ہیں، انہوں نے 2018میں الیکشن لڑا اور این اے 69گجرات سے وہ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے اور قومی اسمبلی تک جا پہنچنے۔ اس دوران چونکہ موجودہ دور میں حکومت کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق میں اتحاد تھا، تاہم 2020کے آغاز میں ایسی باتیں سامنے آئیں کہ شاید ان کے درمیان اب اتحاد برقرار نہ ررہ پائے، تاہم مونس الٰہی نے 10فروری2020کو ایک ٹوئٹ کے ذریعے یہ واضح کیا کہ دونوں جماعتوں کا اتحاد برقرار رہے گا۔ یوں مونس الٰہی اب مستقبل میں پاکستانی سیاست میں کسی اہم عہدے پر فائز نظر آسکتے ہیں، کیونکہ ان کی سیاسی گرومنگ کا عمل جار ی ہے، جوکہ انہیں مستقبل میں کسی اہم عہدے کی جانب لے جانے میں اہم کردار اداکرے گی۔

 
 
ایمان مزاری:
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کے پاس اس وقت انسانی حقوق کی وزارت کا قلمدان ہے۔ ان کی بیٹی ایمان مزاری ایک پڑھی لکھی باشعور لڑکی ہیں۔2015کے الیکشن میں ایمان مزاری نے ٹوئیٹر پر کھلے عام یہ کہا تھا کہ انہوں نے اپنا ووٹ مسلم لیگ ن کو دیاہے۔گزشتہ سال انہوں نے ایک ویڈیو پاکستان فوج کے خلاف بھی بنائی تھی، جس پر ان کی والدہ ان سے ناراض دکھائی دیں، تاہم انہوں نے اس ویڈیو سے متعلق اپنی اور والدہ کی بات چیت کوبھی سوشل میڈیا پر شیئر کردیاتھا، جس سے واضح ہوتاہے کہ وہ اپنی بات کہنے کے معاملے میں بہت دلیر ہیں۔ ایمان مزاری نے بطور ممبر پاکستان تحریک انصاف کیلئے کچھ عرصے کام بھی کیا ہے۔تاہم بعد میں وہ یہ کہہ کر پیچھے ہٹتی دکھائی دیں کہ پارٹی کی کچھ خواتین کا سلوک ان کے ساتھ اچھا نہیں۔ ایمان مزاری جس طرح پاکستانی سیاست اور فوج اور جرنلزم پر جس حوالے سے کھل کر اپنی باتیں کرتی آئی ہیں،اس سے اندازہ ہورہاہے کہ شیریں مزاری کی بیٹی مستقبل میں سیاسی میدان میں اُتر سکتی ہیں۔
 
 
ذوالفقار علی بھٹو جونئیر:
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے جن کا نام ان کے دادا کے نام پر ہی ذوالفقار علی بھٹو جونیئر رکھاگیا ہے۔ وہ ایک بڑے سیاسی گھرانے کے بیٹے ہیں ۔ ان کی والدہ غنویٰ بھٹو نے ان کے والد مرتضیٰ بھٹو کے دنیا سے گزرجانے کے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھا ۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) گروپ کی چئیر پرسن ہیں ۔کئی سالوں تک انہوں نے سیاسی میدان میں قدم جمانے کی کوشش کی اور تن تنہا اپنی پارٹی سنبھالتی دکھائی دیں ۔ ان کے بچے فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر پاکستان میں نہیں رہتے ۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا تعلق چونکہ بڑے سیاسی گھرانے سے ہے، اس لئے لوگوں کی توقع ہوگی کہ شاید وہ مستقبل میں پاکستانی سیاست میں نظر آجائیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور فاطمہ بھٹو کی جانب سے انتخابات میں حصہ نہ لینے سمیت ملکی سیاست میں متحرک کردار ادا نہ کرنے کے باوجود اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں لوگ انہیں مستقبل کے لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں اور لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ ملکی سیاست میں کردار ادا کرکے متبادل قیادت کے طور پر سامنے آئیں ۔ تاہم دونوں کی جانب سے تاحال اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ وہ کب تک ملکی سیاست میں حصہ لیں گے ۔ ذوالفقار جونئیر امریکاکے ایک مقامی بار میں منعقد ہونے والے ڈریگ شو میں رقص کرتے ہیں ۔ ان کاکہنا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے ، کیونکہ انہوں نے وہاں پر اپنے آرٹ کا مظاہرہ شروع کردیا تو یہ ان کیلئے مشکل ہوجائے گا ، اس لئے وہ فی الحال پاکستان نہیں جانا چاہتے ۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
22 Sep, 2020 Views: 3299

Comments

آپ کی رائے