بڑھتی ہوئے ریپ کیسز اور حکومت

(Abdul Sami, )


صبح کا وقت تھا پانچ سالہ چھوٹی بچی مروا کیک لینے دکان گئی اور دن دہاڑے غائب ہوگئی دو دن بعد اس کی لاش کچرے سے اس حالت میں ملی کہ وہ زیادتی کی نشانہ بنی تھی اور پھر اس کی لاش کو جلا کر کچرے میں پھینکا گیا تھا ابھی یہ معمہ حل نہیں ہوا تھا کہ اس دوران کراچی میں ایک اور بچی کو حوس کی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی مگر اہل علاقہ والوں کے آنے کی وجہ سےوہ بچی بچ گئ ، اس کے بعد پھر موٹروے جو کہ محفوظ شاہراہِ سمجھا جاتا ہے جہاں پر عموماً کیمرے لگے ہوتے ہے اس پر خاتون کو بچوں کے سامنے درندوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا اس واقعہ کی تفتیش جاری تھی کہ پنجاب میں ایک اور چھوٹی بچی حوس کا نشانہ بنی اب آتے ہیں حکومت کے کردار کی طرف پچھلے 2 دنوں میں تقریباً چھ ریپ کیسز ہوئے مگر پولیس اب تک ایک کیس میں بھی مجرم کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے اس کے علاؤہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2019 میں تقریباً 2884 ریپ کیسز ہوئے تھے اور روز 8 کیسز ہوتے ہے مگر اب تک حکومت کوئی ٹھوس قانون سازی کرنے میں ناکام ہے حالانکہ پاکستان کے قانون پروٹیکشن آف ویمن ایکٹ 2006 میں بھی یہ صاف لکھا ہے کہ اگر کوئی اس طرح زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزائے موت دی جائیگی، اور پھر سب سے بڑا قانون اللّٰہ کا قانون اور جو ملک اللّٰہ کے نام پہ بنا ہوں تو اس میں تو کم از کم پھر قانون بھی اسی کا ہونا چاہیے اور اگر ہم ان درندوں کو اللّٰہ اور اس کے رسول کی قانون کے مطابق سزا دینگے تو پھر ایسے کیسز کبھی بھی نہیں ہونگے مگر ہماری حکومت اس سنجیدہ مسئلہ کو سنجیدہ نہیں لے رہے ورنہ اس سے پہلے زینب اور اس کے علاؤہ کئی ایسے کیسز ہوئے ہے اگر ان کیسز میں مجرمان نشان عبرت بن جاتے تو آج مروا اور موٹروے پر خاتون کے ساتھ ہونے والی دلخراش واقعات رونما نہ ہوتے لیکن افسوس کے اس ملک میں ہر بات پر سیاست ہوتی ہے جب بھی کوئی ایسا کیس آجاتا ہے تو حکومت اور اپوزیشن قانون سازی کے ذریعہ مجرمان کو نشان عبرت بنانے کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات شروع کرکے اپنا سیاست چمکاتے ہے اور دو چار دن سیاست چمکانے کے بعد پر معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے اور پر نہ اس جرم کا راستہ روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور نہ ہی مجرمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑے کر دیتے ہے جس سے باقی درندوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور کچھ دنوں بعد ایک اور واقعہ رونما ہوجاتی ہے، اس لئے کم از کم اب تو حکومت اور اپوزیشن کو چاہیے کہ سیاسی سکورنگ کے بجائے اس پر قانون سازی کریں اور اس طرح کی درندوں کو نشان عبرت بنانے کا قانون بنا کر اس پر عمل کریں ورنہ وہ دن دور نہیں کہ یہ درندے آپ لوگوں کے گھر تک بھی پہنچ جاینگے اور پھر آپ پھچتاویں کے علاؤہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Sami

Read More Articles by Abdul Sami: 6 Articles with 1090 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Sep, 2020 Views: 147

Comments

آپ کی رائے