یہ ہیں پاکستانی سیاست دانوں کی وہ ”بیٹیاں“، جنہوں نے ابھی تک سیاسی میدان میں قدم نہیں رکھا

 
پاکستان کے ماضی اور حال کے کئی ایسے سیاست دان ہیں، جن کی بیٹیوں نے ان کی طرح سیاست کے میدان میں قدم تو نہیں رکھا لیکن وہ مختلف حوالوں سے مشہور ہیں ۔ کسی کی بیٹی کھیل کے میدان میں مائیک پکڑے دکھائی دیتی ہیں ، تو کسی کی بیٹی قلم کی طاقت کو آ زما رہی ہیں ۔ اس مضمون میں چند سیاست دانوں کی مشہور بیٹیوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے، آئیے آپ بھی جانئے کہ کس سیاست دان کی بیٹی کس چیز کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں ۔
 
آصف زرداری کی بیٹیاں بختاور اور آصفہ:
سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کی بیٹیاں بختاور اور آصفہ بھٹو زرداری نے اب تک سیاست کے میدان میں قدم نہیں رکھا ۔ ان کے بھائی بلاول بھٹو زرداری اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین ہیں اور سیاست کے میدان میں اہم کردار نبھا رہے ہیں ۔ دونوں بہنیں مختلف سیاسی معاملات میں بولتی ضرور دکھائی دی ہیں لیکن اب تک باقاعدہ طور پر وہ سیاست میں نہیں آئیں ۔ بختاور بھٹو زرداری نے ایڈن برگ یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ایم اے آنرز کیا ہے ۔ انہوں نے ایک نجی ادارہ 'Save the Flood and Disaster Victims Organization' کے نام سے بنا رکھا ہے، جس کے تحت وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب آصفہ بھٹو نے یونیورسٹی کالج آف لندن سے ”گلوبل ہیلتھ“ میں ایم ایس سی کیا ہے ، انہوں نے بھی اب تک باقاعدہ طور پر اپنے والدین اور بھائی کی طرح سیاسی میدان میں قدم نہیں رکھا ۔
 
 
مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو:
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد سوچا جا رہا تھا کہ ان کی بیگم غنویٰ بھٹو پاکستانی سیاست میں اپنے بچوں فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی جونیئر کو لے آئیں گی ۔ لیکن اب اتک ایسا نہیں ہوسکا ہے ۔ فاطمہ بھٹو نے برنارڈ یونیورسٹی سے ایم اے کیا ہے ۔ وہ ایک کامیاب لکھاری ہیں ، جو کہ ملکی اخبار ”دی نیوز“ اور غیر ملکی اخبار ”دی گارجین“ کیلئے بھی لکھتی رہی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں ، جن میں Whispers of The Desert کے علاوہ فکشنل ناولز The Shadow Of The Crescent Moon اور The Runaways بھی لکھ چکی ہیں ۔ وہ بطور مصنفہ کام کررہی ہیں اور سیاسی میدان میں آنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔
 
 
عندلیب عباس کی بیٹی زینب عباس :
پاکستان تحریک انصاف کی اہم کارکن عندلیب عباس قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان کی بیٹی زینب عباس نے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاسی میدان کو اپنے کیرئیر کیلئے نہیں چُنا، بلکہ انہوں نے کھیل کے میدان میں قدم جمانے کا فیصلہ کیا ۔ زینب ایک مشہور اسپورٹس اینکر ہیں ، جو اب تک کئی کھیلوں سے متعلق پروگرامز کی میزبانی کے فرائض بھی نبھا چکی ہیں ۔ انہوں نے پاکستان سپر لیگ کے میچوں کے دوران بھی بطور اسپورٹس اینکر فرائض انجام دئیے ۔ ان کی شادی سابق کرکٹر حفیظ کاردار کے پوتے حمزہ کاردار سے ہوئی ہے ۔ وہ اب بھی اسپورٹس ایکسرٹ کے نام سے مشہور ہیں اور آئی سی سی ورلڈ کپ 2019کے کمنٹری پینل میں بھی شامل رہ چکی ہیں ۔
 
 
جگنو محسن کی بیٹی میرا سیٹھی:
جگنو محسن نے 2018 کے الیکشن میں حصہ لیا اور پی پی 184اوکاڑہ ڈسٹرکٹ سے الیکشن جیتا، وہ اب پنجاب اسمبلی کی ممبر ہیں ۔ ان کی بیٹی میرا سیٹھی نے ان کی طرح سیاست کے داؤ پیچ سیکھنے کی طرف توجہ نہیں دی بلکہ انہوں نے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا ۔ وہ پاکستان کی ایک مشہور اداکار ہ ہیں۔ انہوں نے 2011 میں ”سلوٹیں“ ڈرامے میں نتاشا کا کردار نبھاکر شوبز میں انٹری دی۔ اس کے بعد انہو ں نے ”محبت صبح کا ستارہ ہے“ میں کام کیا، اس کے بعد سے اب تک وہ ”دل فریب“، م ”مجھے کچھ کہناہے“ ، ”تجھ سے نام ہمارا“، ”جھوٹ“، ”خوشبو کا سفر“، ”دل بنجارا“ ، ”یہ دل میرا“ ودیگر میں کام کیاہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک فلم ”7 دن محبت کے“ میں بھی کام کرچکی ہیں۔
 
 
جہانگیر ترین کی بیٹی سحر ترین:
جہانگیر ترین پاکستان تحریک انصاف کے اہم کارکنان میں سے ایک ہیں۔ ان کی بیٹی سحر ترین چاہتیں تو سیاست میں قدم رکھ دیتیں لیکن انہوں نے سیاست کے پُر خار میدان میں قدم نہیں رکھا اور فیشن ڈیزائننگ میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کم عمری سے ہی ہی اسکیچنگ کرتی تھیں، جب انہوں نے دیکھا کہ ان کا جھکاؤ اس فیلڈ کی جانب ہے توا نہوں نے فیشن ڈیزائننگ میں ہی نام کمانے کا فیصلہ کیا۔ وہ 2014 میں منعقد ہونے والے سن سلک فیشن ویک میں بھی اپنی کلیکشن پیش کرچکی ہیں۔ وہ فیشن ڈیزائننگ کی دنیا میں بنٹو کاظمی اور ثنا سفیناز سے متاثر نظر آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے فیشن ڈیزائننگ باقاعدہ طور پر کسی سے سیکھی اور پڑھی نہیں ہے، انہوں نے جو کچھ سیکھا ہے خود ہی کام کرکے سیکھاہے۔
 
 
سلمان تاثیرکی بیٹی شہربانو تاثیر:
سلمان تاثیر کا شمار کاپاکستان پیپلز پارٹی کے اہم اراکین میں ہوتا تھا ، 2011 میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی صورت میں جاں بحق ہونے سے قبل وہ گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز تھے ،و ہ یہ ذمہ داریاں 2008 سے نبھارہے تھے۔ ان کی بیٹی شہربانو تاثیر سماجی کارکن کے طور پر کئی مواقع پر متحرک نظر آئیں ۔ جب کیرئیر چننے کی باری آئی تو انہوں نے جرنلزم کا میدان اپنے لئے منتخب کیا، کیونکہ انہیں فیشن کی دنیا کا تجربہ بہت ہے، اس لئے وہ مختلف جرائد اور اخبارات کیلئے مضامین لکھتی دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے امریکا کے اسمتھ کالج سے تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی جریدوں جیسے نیوزیک، نیویارک ٹائمز، گارجین، بی بی سی اور سنڈے ٹائمز کیلئے بھی مضامین لکھے ہیں۔
 
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
28 Sep, 2020 Views: 7684

Comments

آپ کی رائے