ہائبرڈ وار اور قومی ذمے داریاں

(Umer Farooq, )

ففتھ جنریشن جنگ کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ذرائع ابلاغ کے بکثرت استعمال اور حکومتی پالیسی کی کمزوریوں کے باعث سادہ لوح لوگ بھی اس میں نا جانتے ہوئے ملوث ہو جاتے ہیں اور اس میں انفارمیشن وار فیئر سے کام بھی لیتے ہیں۔اور ملکی ساخت کے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وار فیئر یا ہائبرڈ وار فیئر ہمارے ملک اور فوج کے خلاف سازش ہے۔جسے عوام کے تعاون سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبے سی پیک کے خلاف مختلف محاذ پر جاری جنگ بھی ففتھ جنریشن وار کا ایک حصہ ہے، جسے قومی سلامتی کے ادارے موثر اقدامات سے کاؤنٹر کر سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ جوجھوٹ کے کاروبارپھیلانے میں اپنابھرپورکرداراداکررہے ہیں یہ لوگ اس ہائبرڈوارکانہ صرف حصہ ہیں بلکہ دشمن کے آلہ کارکے طورپراستعمال ہورہے ہیں چنددن قبل پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کرنے کی کوشش مگر حقیقت سامنے آنے سے ان کی یہ کوشش ناکام ہوگئی ۔ پاکستان کی سالمیت اور اس کے اہم اداروں سے متعلق متنازعہ بیانات دینے والی پی ٹی ایم کے ایک رہنما ارشد آفریدی نے ٹویٹر پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں درجن بھر بچے اپنے جسم پر پٹیاں اور ڈھیروں زخم لیے نظر آرہے تھے۔

پی ٹی ایم کے رہنما نے اس تصویر کو خیبر پختونخوا کے علاقے وزیرستان قرار دیتے ہوئے ملک کے سکیورٹی اداروں پرطنز کے تیر برسائے، ارشد آفریدی نے لکھا کہ فلسطین کے علاقے وزیرستان شکتوئی میں بے گناہ خواتین، بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں پر اسرائیلی جارحیت چار روز سے جاری ہے جو کہ ظلم و بربریت کی انتہا ہے۔انہوں نے اس ٹویٹ میں پاکستان کو اسرائیل اور پاکستانی سکیورٹی اداروں کو اسرائیلی فوج سے تشبیہ دیتے ہوئے طنز کیا کہ وزیرستان میں ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں۔مگر ان کے پراپیگنڈہ کے اس غبارے میں سے ہوا اس وقت نکلی جب وائس آف امریکہ کے ایک ٹویٹر ہینڈل سے یہی تصویر پوسٹ کی گئی اور اس کے ساتھ افغانستان کی وزارت دفاع کا ایک بیان بھی شامل کیا گیا جس میں کہا گیا کہ افغانستان کے صوبہ پکتیا میں ایک جھڑپ کے دوران 12 بچے زخمی ہوگئے۔

یہ وہ ہتھکنڈے ہیں کہ جس کی وجہ سے اس بات کوشدت سے محسوس کیاجارہاہے کہ اس طرح کے پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف مؤثرقانون سازی کی جائے تاکہ یہ قانون کی گرفت میں آسکیں اسی حوالے سے چنددن قبل قومی اسمبلی میں پاک فو ج کو بدنام کرنے والوں کیخلاف سخت سزا ؤں کا بل پیش کیاگیاہے جس کے تحت پاک فوج سے متعلق بل کے تحت مسلح افواج یا اس کے کسی بھی رکن کا ارادتا تمسخر اڑانے اور بدنام کرنے والوں کو2 سال تک قید یا5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔

یہ بل اجلاس میں ایجنڈے سے ہٹ کر حکومتی رکن امجد علی خان نے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860اورمجموعہ ضابطہ فوجداری1898 میں مزید ترمیم کرنے کا بل (فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ2020)پیش کرنے کیلئے تحریک ایوان میں پیش کی جسکی ایوان نے کثرت رائے سے منطوری دیدی۔ڈپٹی سپیکر نے بل مزید غوروخوص کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بجھوادیا۔قومی اسمبلی میں ضابطہ فوجداری اور دیوانی مقدمات کے حوالے سے ملزم کی گرفتاری سے قبل اسکی شناخت ظاہر نہ کرنے اورملزم کی قومیت کی تشہیر کی ممانعت سے متعلق 2قرار دادیں بھی متفقہ طور پر منظور کر لیں۔قرار دادوں میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہائی پروفائل کیسز میں پولیس،تحقیقاتی ادارے اورمیڈیا کو پابند بنایا جائے کہ کوئی بھی معلومات ملزم کی گرفتاری سے قبل لیک نہ کی جائے جبکہ کسی بھی مجرم یا ملزم کیساتھ اس کی قومیت کی تشہیر نہ کی جائے۔

اس بل کے خلاف نام نہادسول سوسائٹی ،این جی اوزاورقوم پرست میدان میں آگئے ہیں انہوں نے پروپیگنڈہ مہم شروع کردی ہے ، انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن نے کہاہے کہ ملکی میڈیا پہلے ہی فوج پر تنقید نہیں کرتا اور وہاں سلیف سینسرشپ ہے،''تاہم سوشل میڈیا پر کچھ لوگ فوج کو ہدف تنقید بناتے ہیں اور اب وہاں بھی سینسر شپ ہوجائے گی، فیس بک پہلے ہی قابل اعتراض مواد کو ہٹا چکی ہے اور اگر یہ قانون پاس ہوجاتا ہے تو سوشل میڈیا پر مزید سختیاں ہوں گی۔ میرے خیال میں اس قانون کا کوئی جواز نہیں اور یہ آزادی اظہار رائے کو دبانا کا ایک حربہ ہے۔

نام نہادانسانی حقوق کمیشن ڈالرہضم کرنے کے لیے اس حدتک گرسکتاہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا یہ لبرل اورقوم پرست جن عالمی طاقتوں سے فنڈزلے کراپنے ملک اورفوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں یہ ذراان عالمی طاقتوں کے اپنی فوج کے حوالے سے قوانین بھی پڑھ لیں تاکہ انہیں اندازہ ہوکہ امریکہ ،برطانیہ اوردیگرممالک میں اس قسم کی بات کرنے کی سزاکیاہے اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ پروپیگنڈہ بھی اسی ہائبرڈجنگ کاحصہ ہے پہلے ادوار میں کسی ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے وہاں فزیکل طور پر افواج کا اتارنا ضروری تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ کام اپنے ملک میں رہتے ہوئے سر انجام دیا جا سکتا ہے۔پہلے ایک ملک سے دوسرے ملک جاسوس بھیجے جاتے تھے آج کل یہ کام اینٹی سٹیٹ ایکٹر ز کو سپانسر کر کے لیا جارہاہے۔ اس کے لئے مختلف ذرائع اور این جی اوز کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔لوگوں کو مختلف بیانیوں اور نظریات میں الجھایا جاتا ہے اور اس کے لئے نت نئی ٹرم بھی استعمال کی جاتی ہیں ۔

دوسری طرف ففتھ جنریشن وار فیئر جیسی اصطلاحات کا استعمال بظاہر جمہوریت اور سول حکومتوں کو کمزور کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔یہ نظریات کی جنگ ہے۔مختلف قومی،نظریاتی، مسلکی، فکری ایشو بیان کر کے کسی بھی قوم کو تقسیم کرنا۔ان کے مابین ایسی نفرتیں پیدا کر دینا، جس سے کوئی خاص مسلکی، لسانی، علاقائی گروہ یا آبادی اس قدر ناخوش، بیزار، ناراض اور محرومی کا شکار ہوجائے کہ ملکی سالمیت کی جنگ اس کے لئے اہم نہ رہے۔ پرسیپشن (ادراک)اور انفارمیشن کی اس جنگ میں کلچر اور ویلیوز پر بھی حملہ کیا جاتا ہے۔پاکستان اپنی جغرافیائی لوکیشن اور مسلم نیوکلیئر پاور ہونے کے باعث اس طرح کی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ اس جنگ میں دشمن میڈیا اور نام نہاد سوشل میڈیا ،سیکولرطبقہ ،قوم پرستوں کا بھی بھر پور استعمال کررہاہے۔

خیبرپختونخواہ کے قبائلی علاقوں کی پی ٹی ایم ہویابلوچستان کی بی ایل اے، سندھ کے قوپرست ہوں یاآزادکشمیرکے نیشنلسٹ ،ان سب کامشن ایک ہی ہے کہ کس طرح ریاست پاکستان کوکمزورکیاجائے ،دہشت گرد ی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعد ریاست اورفوج کے خلاف ہائبرڈوارمسلط کی جارہی ہے،اس جنگ میں ہمارے نوجوانوں کوپروپیگنڈے کے ذریعے استعمال کیاجارہاہے جو چیلنج اس وقت افواج پاکستان کو درپیش ہے، وہ شاید ہی دنیا کی کسی اور فوج کو درپیش ہو،ایسے حالات میں کسی کومنفی پروپیگنڈے کی اجازت ملک دشمنی اورغداری ہوگا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 90 Articles with 19583 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2020 Views: 221

Comments

آپ کی رائے