پا کستان میں گداگری کا بڑتھا ہوااضافہ

(فضل عظیم, Karachi)

علوم عمرانیات کے ماہرین گداگری کو ایک ایسا سماجی رویہ قرار دیتے ہیں جس کے تحت معاشرے کا محروم طبقہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوسروں کی امداد کا محتاج ہوجاتا ہے۔ یہ طبقہ امیر افراد سے براہ راست اشیائے خوردو نوش، لباس اور دیگر ضروریات کیلئے رقم کا مطالبہ شروع کردیتا ہے

معاشیات کے ماہرین کی رائے میں بھیک مانگنا درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کے منفی پہلوؤں میں سے ایک ہے اور کسی بھی سرمایہ دارانہ معاشرے کی جڑوں کو کمزور کرنے کا سبب ہے۔ اس نظام کے بعض پہلو معاشرے کے ایک طبقے کو غیر منافع بخش بنا دیتے ہیں۔

گداگری غربت اور محرومی سے جنم لینے والی ایک سرگرمی کا نام ہے۔ یہ دوسروں کے سامنے پیش کی جانے والی ایسی درخواست کا نام ہے جسے پیش کرنے کا مقصد حصول رقم یا صدقات ہوتا ہے اور جسے پیش کرنے والا یہ رقم ذہنی و جسمانی مسائل، غربت وغیرہ کے سبب خودکمانے سے قاصر ہوتا ہے۔

پسماندگی اور غربت کے باعث دن اور رات لمحات میں ہر سمت بھیک مانگتے نظر آتے بچوں کی تعداد انتہائی دردناکصورت اختیار کرتی جارہی ہے، غربت اور بیروزگاری کے مارے افراد نے گداگری کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے، اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کیلیے بھوک کے مارے نچلے طبقے کے لوگ یہ پیشہ اختیار کرتے ہیں بلکہ اپنے گینگ کے سربراہوں اور پولیس کو حصے کے طور پر بھتہ بھی ادا کرتے ہیں۔

ہمارے ملک میں یوں لگتا ہے جیسے سب کو مانگنے کی لت لگ گئی شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہائے زندگی ہو گا جو ترقی کی منازل اتنی تیزی سے نہیں طے کر رہا ہو گا جتنا کہ پاکستان میں گداگری کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس گداگروں کی تعداد، عمر اور اوسط آمدن سے متعلق اعدادو شمار موجود نہیں ہیں۔ قیصر بنگالی نے بتایا کہ گداگروں کے گینگ مختلف شہروں میں کام کرتے ہیں جو اپنے کارندوں کو رش کے مقام پر منتقل کرتے رہتے ہیں، بعض حقیقی ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 18کروڑ نفوس پر مشتمل پاکستان کی 49 فیصد آبادی انتہائی غربت کی زندگی گزار رہی ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ غریبوں کے لیے ہر سال 70 ارب روپے مختص کرتی ہے۔

پاکستان کے ہرشہر کی ہر سڑک ، ہر گلی، ہر محلے، ہر بازار میں گداگروں کی بے شمار تعداد دیکھنے میں آتی ہے۔

اس کے علاوہ کراچی کی تقریباً ہر بس میں ایک نہ ایک گداگر عورت ضرور نظر آتی ہے ۔ بس کے رکتے ہی یہ گداگر خواتین پھٹے پرانے کپڑے اور پاوٴں میں ٹوٹی چپل پہنے بس میں سوار ہوجاتی ہیں اور بلند آواز کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں بھیک مانگنے لگ جاتی ہیں ۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کے باعث گداگروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان میں عورتو ں اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: فضل عظیم

Read More Articles by فضل عظیم: 2 Articles with 479 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2020 Views: 253

Comments

آپ کی رائے