اگر آپ موبائل فون سے دور نہیں رہ سکتے ، تو کہیں آپ کو ”نومو فوبیا“ تو نہیں ہوگیا؟ جانئے اس کی علامات

 
”موبائل فون“ ہماری زندگیوں کا ایک لازمی جُز بن گیا ہے۔ ان دنوں کوئی بھی کام موبائل فون کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب لوگوں کو ہر وقت یہی خیال رہتا ہے کہ کہیں ان کا موبائل کھو تو نہیں گیا؟ یا وہ کہیں اپنا موبائل تو نہیں بھول گئے؟ یا آپ کو ہر وقت یہی دھڑکا لگارہتاہے کہ کہیں آپ کے موبائل فون میں موجود نمبرز ڈیلیٹ تو نہیں ہوگئے، اگر وہ ڈیلیٹ ہوگئے تو۔۔؟ اس طرح کے خیالات اگر آپ کے دل میں ہر وقت آتے ہیں تو جان لیں آپ ”نومو فوبیا (nomophobia) (جسے نوموبائل فون فوبیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) کا شکار ہوگئے ہیں۔
 
اس جدید دور میں آ پ کو اکثر لوگ اپنے موبائل فون میں غرق دکھائی دیتے ہوں گے۔ سڑک ہو یا ہوٹل، گھر ہو یا پارک، غرض یہ کہ آج کل ہر جگہ بس موبائل فون ہی استعمال کیاجارہاہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ”نوموفوبیا“کا شکار ہیں اور انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے۔ نوموفوبیا دراصل موبائل فون کے دور جانے، اس کی سروس بند ہوجانے، فون کے کھوجانے یا گم ہوجانے کے خوف/ڈر کو کہا جاتا ہے۔ اس میں انسان کو ہر وقت بس اپنے موبائل فون کا ہی خیال رہنے لگتا ہے۔
 
2019 میں آکسفورڈ ڈکشنری میں“نومو فوبیا“ لفظ کو شامل کیاگیا ہے۔ جس کے اس میں معنی ”موبائل فون نہ ہونے پربے چینی، یا موبائل فون سروس نہ ہونے پر بے چین ہوجانا“ کے ہیں۔ اس لفظ کی ڈکشنری میں شمولیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اب سیل فون کی وجہ سے لوگ مختلف طرح کی بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں اور انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہو پارہا۔  2019 میں ایک تحقیق ”جرنل آف فیملی میڈیسن اینڈ پرائمری کئیر“ میں شائع کی گئی ۔ اس تحقیق کو مکمل کرنے کیلئے سروے کیا گیا۔ جس میں زیادہ ترلوگوں کا یہی کہنا تھا کہ جب ان کے پاس ان کا موبائل فون نہیں ہوتا تو وہ ٹینشن میں آجاتے ہیں، ان میں بے چینی اور ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے۔
 
 سائیکولوجی ریسرچ اینڈ بی ہیور مینجمنٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ابھی تک نومو فوبیا کو Diagnostic and Statistical Manual of Mental Disorders میں شامل نہیں کیاگیا، جبکہ 2014 میں کی جانے والی ایک تحقیق میں ریسرچرز کا کہناتھا کہ نوموفوبیا کو نفسیاتی بیماری کی فہرست میں عنقریب شامل کئے جانے کے امکانات موجود ہیں، تاہم اب تک اسے نفسیاتی بیماریوں کی فہرست میں باقاعدہ طور شامل نہیں کیاگیا ہے، لیکن چونکہ اس کے شکار لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ اس لئے توقع ہے کہ عنقریب اسے باقاعدہ ایک نفسیاتی بیماری مان لیا جائے گا۔
 
2020 میں ایک جریدے ”سلیپ“ میں شائع ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق 327 یونیورسٹی طلبہ کا جب سروے کیاگیاتو 90 فیصد طلبہ نوموفوبیا کا شکار دکھائی دئیے۔ کچھ لوگ اس کا خطرناک حد تک شکار تھے جبکہ کچھ لوگوں میں یہ مسئلہ کم دیکھاگیا۔ یہ طلبہ ای میل، ٹیکسٹ میسج، سوشل میڈیا ایپلی کیشنز، سونے کیلئے لیٹ جانے کے باجود موبائل فون استعمال کرتے دکھائی دئیے۔ کئی طلبہ رات میں آنکھ کھلنے کے بعد دیر تک دوبارہ موبائل کا استعمال کرتے دکھائی دئیے۔
 
 
ہینڈرکس کالج کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے ذریعے یہ بات سامنے آئی کہ نوموفوبیا کا شکار لوگوں کو اس وقت گھبراہٹ ہونا شروع ہوجاتی ہے جب وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے موبائل کہاں رکھا تھا۔ یا انہیں خواب بھی یہی آتے ہیں کہ ان کا موبائل فون چوری ہوگیا یا گُم گیا ہے۔ ایسے لوگ روز مرہ کاموں کو انجام دینے کے دوران بے چین رہنے لگتے ہیں۔ اس تحقیق کی نگران جینیفرپیکزا کا کہنا ہے کہ لوگوں میں ڈر کی وجہ مختلف ہوتی ہیں۔ کوئی موبائل فون کے گم جانے سے خوفزدہ ہوتاہے، تو کوئی اسے رکھ کر بھول جانے سے، کسی کو موبائل فون میں موجود نمبرز کے ڈیلیٹ ہوجانے کا خوف زیادہ رہتا ہے تو کسی کو اس کے نیٹ ورک کے چلے جانے کا ڈر رہتا ہے۔ غرض یہ کہ نوموفوبیا کا شکار لوگوں کے ڈر کی وجوہات ایک جیسی ہوں ضروری نہیں ہے۔
 
علامات:
اگر آپ سونے سے قبل موبائل فون کو مکمل کھنگالنے کے عادی ہیں۔ سوشل میڈیا ایپلی کیشنز، اس کے نوٹیفکیشنز، پیغامات، ای میلز اور نیوز فیڈز دیکھتے رہتے ہیں اور ذہن میں یہی بات چلتی رہتی ہے کہ کوئی نوٹیفکیشن دیکھنے سے نہ رہ جائے وغیرہ۔ اگر فون اسی وجہ سے ہر وقت ہاتھ میں رہنے لگے تو جان لیں کہ آپ نوموفوبیا کا شکار ہورہے ہیں۔
 
 
آپ کو نوموفوبیا تو نہیں؟ سوالنامے کے ذریعے جاننے کی کوشش کریں:
مندرجہ ذیل سوالات کو دیکھیں، اگر اس میں سے زیادہ تر جواب ہاں میں ہے تو آپ نوموفوبیا میں مبتلا ہیں۔
 
1: موبائل فون میں آنے والی معلومات، پیغامات اور دیگر چیزوں پر ہر وقت نظررکھنا، جب پیغامات وغیرہ نہ آئیں تو بے چین ہوجانا۔
 
2: اگر فون میں موسم یا اردگرد کیا ہورہا ہے، اس بارے میں معلومات نہ آرہی ہو تو بے چین ہوجانا۔
 
3: فون کی بیٹری کے کم ہوجانے یا ختم ہوجانے کا خوف طاری رہنا۔
 
 4: اگر ڈیٹا نیٹ یا وائی فائی کی سہولت دستیاب نہ ہو، پھر بھی بار بار چیک کرتے رہنا کہ ڈیٹا چلا یا کوئی اور وائی فائی سگنلز موجود ہیں یا نہیں، جن سے ڈیوائس کو چلایاجائے۔
 

5: اگر موبائل فون ہر وقت ساتھ نہ ہو۔ ایسے میں ہر وقت یہی سوچنا کہ اس کے نہ ہونے سے میں ”آن لائن کمیونٹی“ سے مکمل کٹ گیا ہوں۔

 
 
کیسے ٹھیک ہوں؟
اگر یہ تمام باتیں آپ میں موجود ہیں تو جان لیں کہ آپ نوموفوبیا میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے ریسرچر جنیفرکا مشورہ ہے کہ سونے سے قبل موبائل فون کو ہرگز استعمال نہ کریں۔ اگر اس کے بغیر نہ رہا جاتا ہو تو موبائل فون کو بیڈ روم میں ہی نہ رکھیں۔ گھر کی کسی دوسری جگہ پر رکھیں۔
 
اگر ابتدا میں موبائل فون بیڈ روم سے باہر نکالنے کی ہمت نہ ہورہی ہو تو پھر اس میں “do not disturb” کا آپشن استعمال کریں۔ تاکہ نوٹیفکیشنز، فون کالز وغیرہ آنا بند ہوجائیں۔ ویسے ایمرجنسی کال کا آپشن موجود ہوتا ہے، اس لئے اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں کیا ہوگا۔ اس آپشن کو لگانے کا اصل مقصد آپ کی سوشل میڈیا نوٹیفکیشن سے توجہ ہٹانا ہے۔
 
موبائل فون کو ہر وقت چیک کرنا بند کردیں۔ اس کی ایک مخصوص جگہ بنائیں اور اسے وہیں رکھیں، تاکہ گم جانے کا ڈر نہ رہے۔
 
مختلف سرگرمیوں میں لگ جائیں، نئے مشاغل اپنائیں، ہر وقت فون کو ہاتھ میں رکھنے کی عادت کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح آپ نوموفوبیا میں مبتلا ہونے سے بچے رہیں گے۔
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
24 Sep, 2020 Views: 1189

Comments

آپ کی رائے