حضرت بری امام رحمتہ اللہ تعالی علیٰہ ؛-

(وشمہ خان وشمہ, منیلا)
حضرت بری امام رحمتہ اللہ تعالی علیٰہ ؛-

حضرت بری امام رحمتہ اللہ تعالی علیٰہ ؛-

حضرت بری امام رحمتہ اللہ تعالی علییہ اسلام کا اصل نام شاہ عبدالطیف ہےآپ کے والد کا نام سید محمود شاہ رحمتہ اللہ تھاآپ کی والدہ ماجدہ بی بی فاطمہ کے بطن سے 1026 میں آپ سے ولادت ہوئی آپ کا شجرہ نسب حضرت علی رضی اللہ تعالی سے ملتا ہے آپ کے آباواجداد عراق سے ہجرت کر کے راول پنڑی میں آباد ہوگے
تعلیم و تربیت:آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت آپ کے والد نے کی آپ نے چھؤٹی عمر میں دینی تعلیم ختم کردی آپ کا بچپن سے رحجان دین کی طرف تھا آپ کھیل خود سے دور رہتے تھے آپ کے والد نے مویشی رکھے تھے آپ ان کو چرانے جنگل جاتے وہاں آپ ایک کونے میں اللہ کی عبادت کرتے رہتے تھےآپ جھوٹ نہیں بولتے تھے نہ گالیاں دیتے تھےآپ دس سال کے ہوگے تو آپ کے والد آبپارہ اسلام آباد پر آباد ہوگئے۔
آپ بچپن سے ایک کامل انسان تھےآپ کے والد نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کو اٹک مدرسے اعلی تعلیم دلائی آپ نے قرآن حکیم کی تفسیر،حدیث،فقہ منطق،ریاضی وغیرہ کی تعلم حاصل کیآپ نے علم طب، علم الادب،علم المعانی اور دیگر روحانی علوم حاصل کیا۔
آپ نے مزید اسلامی علوم اور روحانی حاصل کے لئے آپ کشمیر،بدخشا،مشہدمقدس،نجف اشرف،کربلا معلی،بغداد شریف، بغارا،مصر اور دمشق کا سفر کیا جس سے آپ کی روحانی تربیت پر اچھے اثرات مرتب ہوئے واپسی میں حج بیت اللہ کی سعادت ہوئی-
آپ جمال اللہ حیات پیر رحمت اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئےجن کا تعلق حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے تھااور غوث پاک کے پوتے تھے آپ نے ان سے بہت فیض حاصل کیآپ نے ان کی سرپرستی میں بیت کی
سیرت مبارکہ واقعات کے آئینہ میں:-آپ نے اسلام کی تبلیغ کے لئے لوگو ں کوصراط مستقیم پر گامزن کیابے شمار بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں کو راہ حق پر چلنے کی تعلیم دی کفر کے اندھیرے میں ڈوبے لوگوں کو اسلام کا نور کی ہدایت کی روشنی سے گامزن کیا

آپ کے والد نے آپ کی شادی ضلع ہزارہ کے ایک معزز گھرانے سسید نور محمد کی بیٹی سے کرادی ۔آپ شادی کے تھوڑے عرصے بعد زوجہ دام خاتون کے ساتھ کنگڑ تشریف لے گئے وہاں اللہ پاک نے آپ کو ایک بیٹی کی نعمت سے سرفراز کیا جس کا انتقال بچپن میں ہوگیا بیٹی کے انتقال کے بعد آپ کی زوجہ بھی رخصت ہوگئ ان کے انتقال کے بعد آپ اللہ کی عبادت میں اور مشغول ہوگے۔
کرامات؛ـحضرت بری امام رحمتہ اللہ علیہ کے بے شمار ایسے کرامات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں
آپ بچپن سے ولی اللہ تھےبچپن سے آپ کے کرامات کا ظہو ر شروع ہوا تھا -
آپ بچپن میں مویشی کو چرنے کے لئے گئے تو حسب معمول ان کو کھلا چھوڑ دیا کرتے خودا ایک کونا پکڑ کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگئےمویسی قریب کھیت میں جاکر فصل کو تباہ کردی کھیت کے مالک کو غصہ آیا ؤہ آپ کے والد کے پاس گئے شکایت کی وہ آپ کے پاس آکر ایک ضرب لاگئی آپ متوجہ ہوئے فرمایا ابا جان میں جنت الفردوس کی سیر کر رہا تھاوالد نے فرمایا بیٹا آپ کے مویشی نے کھیت تباہ کر دیا آپ نے فرمایا آپ جا کر خود دیکھ لے کھیت تباہ نہیں ہوئے آپ گئے اور کھیت کا مالک کھیت وہی ہرے بھرے تھے مالک خاموش رہ گیا۔
2۔جیسا کہ زوجہ کی وفات کے بعد آپ کی طبیت مچلنے لگی آپ اکتا گئے گاؤں کے قریب ایک ندی کے کنارے عبادت میں مشغول ہوگئے آپ نے تقریبا بارہ سال ندی کے پانی میں کحڑے ہوکر چلا کیا زیادی تر روزے رکھا کرتے تھے اس کی بدولت آپ انتہائی لاغر ہوگئے اس وقت آپ کے مرشد حضرت جمال اللہ حیات تھے ان کو کچف ہوا بری کا پانی سے باہر نکل لو آپ کمزور چلنے پھرنے سے قاصر تھےآپ کے ایک مرید نے اپنے گھر لے گیا آپ کی خوب خدمت کی
کہا جاتا ہےکہ اس مرید کے 70 ستر بھینس تھیں اور وہ ایک بھینس کا دودھ آپ کو پلاتا دوسرے دن وہ مر جاتی مرید بھی اپنے عقدیدے کا پکا تھااس بات کا ذکر آپ سے نہیں کیا ایسے ساری بھینس مر گئ لوگو ں سے دودھ مانگا سب نے یہ کہہ کر منا کر دیا کہ ہمارے جانور مر جائے گے یون بری امام علیہ اسلام کو دودھ نہیں ملا تو سارا قصہ سنا دیا اور کہا ایک بھنسا ہے آپ نے کہا وہ بھنسا نہیں بھنس ہے اس کو دودھ پیا تو وہ بھی مر گیا
مردی پریشان ہوا آپ کو ﷺسہ سنایا آپ مسکرائے جس ندی میں آپ نے چلا کیا آہ نے کہا وہا ں جاکر اپنی تمام بھنسوں کا نام لو مگر بھجھے نہیں دیکھنا مرید ندی مین گیا ایک ایک کا نام لیا اور ساری کی ساری بھنس آگی مگر بھنسا کا نام لیتے ہی پیچے دیکھا تو وہ بھنسا پتھر کا بن گیا
3-ایک دفعہ آپ غار مین چلا کاٹ رہے تھے ایک جن آپ کو بار بار تنک کر رہا تھا آپ نے منا بھی کیا مگر وہ باز نہ آیا آپ کو روز تنک کرتا ایک دن آپ جلال میں آگئے اسے پکڑ کر پوری قوت سے چٹان میں مارا وہ پتھر بن گیا
آپ نے اس غار میں کئ برس چلہ کاٹے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے پوتے کا الہام ہوا وہ گئے
فرمایا اے لطیف باہر آجاوآج کا دن بڑا مبارک ہے آج کے دن تم امام بر ہوں آپ کو بری کا لقب ملا کہا جاتا ہے کہ بحری کہتے کہتے بری پڑ گیا
4- ایک مرتبہ آپ نور پور شاہاں کے ایک جنگل میں شیشم کے خشک درخت کے نیچے تشریف تھے اسی اثنا مین ہندو یاتروں کا ایک قافلہ آپ کے پاس سے گزرا تو آپ نے ان سے پوچھا کہاں جارہے ہو ان میں سے ایک ہندو نے کہا ہم گنگا میں اشنان کرنے جارہے ہین ہمارے گناہ جھڑ جائیں گے
امام بری رحمتہ علیہ نے فرمایا نہانے سے گناہ صاف نہیں ہوتے اگر انسان پانی میں نہاکر اپنے گناہ صاف کرئے گا تو وہ اللہ کی عبادت کیسے کرئے گا
آپ کی یہ بات سن کر ہندویاتیوں نے مزاق اڑیا اور ایک ہندو نے کہا عبادت سے انسان خدا کے قریب ہوتا ہے تو خشک پرانے شیشم کے درخت کے نیچے عبادت سے خدا پر رحم نہیں کا وہ آپ کے لئے درخت ہرا بھرا بھی کر سکتا ہے
آپ نے فرمایا وہ بڑا غفور رحیم ہےکا ئنات کا زرہ زرہ اس کے حکم کے تابع ہے آپ نے اللہ سے دعا کی بارہ گاہ الہی میں عرض کیا اے اللہ ان ہندوں نے میرا امتحان لیا ہے اس میں مری کامیابی کردے مجھے سرخرو کر دے
آپ کی دعا قبول ہوگی درخت ہرا بھرا ہوگیا ہندوں نے یہ کرامات دیکھی تو اس قدر متا ثر ہوگئے سب کے سب مسلمان ہوگئے۔

5-ایک دفعہ مغل شہنشاہ شاہجہاں کسی مہم کے سلسلہ میں ہزارہ آئے چند حاسد لوگون نے بری امام کے لئے الٹی باتئں بولی بادشاہ سلامت نے شہزادہ اورنگ زیب عالگیر کو کے سپرد یہ کام دیاآپ جا کر دیکھے شہزادہ وہاں گئے حضرت بری امام علیہ اسلام نے کیفیت جان لی اور قران پاک کی تلاوت کی
سن لو بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ کچھ خوف ہے اور نہ غم؛
آپ دوبارہ تدریس مین مشغول ہوگئ شہزادہ عالگیر خا موشی سے کھڑے رہےشہزادہ بہت متاثر ہوا اور آپ سے عقیدت کا اظہار کیا آپ نے دعا کی آپ ہندوستان کے بادشاہ بنے گے مگر رزق حلال نہیں کھاو گے تو اپنی اولاد کو پاک اور اچھی روزی نہین کھلاو گےدعا ہرگز قبول نہیں ہوگئ۔
6-کہا جاتا ہے جن دنوں دھیر کوٹ میں پانی کی قلت تھی لو دور دراز سے پانی لاتے تھے ایک دفعہ آپ کے لئے آپ کا مرید پانی لینے گیا بہت دیر ہوگی اس نے کہا بہت دور سے لایا ہوں یہاں پانی نایاب ہےشیر محمد کی بات سن کر آپ نے اپنا عصا وہیں ایک جگہ زمیں میں گارڈ دیا اور فورا پانی کا چشمہ نکلنے لگا تیزی سے آپ کی کرامت سے زمین سے پھؤٹنے والے چشمے آج بھی موجود ہے۔

7 شہزادہ حسین خان دنیاوی شان وشوکت کے دلدار کے دل میں بری امام کی اتنی محبت اور ان کے کرامات کا اثر ہوا کہ سب کچھ چھوڑ کر ان کے عقیدت مند بن گئے آپ بریا مام علیہ اسلام نے ان کو سخی شاہ حسین کا لقب دیا وہ بارہ گاہ الہی میں ایک مقبول وبرگزیدہ بن گئے۔
وصال مبارک؛-آخر وہ لحمہ بھی آگیا جب آپ نے لبیک کہا اس دنیائے فانی سے میں زندگی کے 91 برس کی عمر میں وصال کیا۔1117 بطابق 1708 آپ کے روضہ مبارک کی تعمیر اورنگ زیب عالگیر بادشاہ نے کرائی،
آج بھی بے شمار عقیدت مندروزانہ حاضری کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
 

29 Sep, 2020 Views: 168

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ