کوچہ درویش

(Prof Abdullah Bhatti, Lahore)

اگست کا مہینہ بارشوں کا موسم اپنے جوبن پر ‘ سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلند کوہ مری کا پر فضا صحت بھرا موسم آسمان سر مئی سیا ہ بادلوں سے گھرا ‘ ہوا کے تیز جھونکوں پر آبشاری پھوار سے بھرپور بادلوں کے آوارہ غول در غول پہاڑی زمین درختوں پر بچھے ہو ئے راستے میں آنے والی ہر چیزکو چوم کر نمی عطا کر تے ہو ئے چھٹی کا دن رات خوب جی بھر کر سونے کے بعد ناصر کشمیری کے لائے ہو ئے قدرتی پھلوں کے ساتھ فیضیاب ہوتا ہوا میں قدرتی نظاروں کے ساتھ قدرتی پھلوں کے ذائقوں سے خود کو آشنا کر تا ہوا میں ناصر کی اگلی بہشت نظر پیشکش ٹراؤٹ مچھلی کے ساتھ آلو پیاز بیگن سبز مرچوں کے گرما گرم خستہ پکوڑے تھے جن کی تیاری آخری مرحلوں میں تھی مری کے صحت افزا ٹھنڈے ٹھار قدرتی اجزا سے بھرپور قدرتی چشموں میں پلی دنیا کی نایاب ترین ٹراؤٹ مچھلی جو پانی کی تیز موجوں کے الٹی سمت تیر کر اپنی طاقت اورپھرتی کا مظاہرہ کر تی ہے جو پروٹین کا بھر پور ذخیرہ جسمانی اعضا کی مرمت کمزوری دور کر نے میں لاجواب اس میں شامل قدرتی اجزا نظام ہضم نظام جلد نظام اعصاب کے لیے تریاق کا مقام رکھتے ہیں پھر طاقت توانائی کا بھرپور خزانہ وٹامن بی کی اضافی خوبی تازہ خون بنانے میں بنیادی فعال کردار ادا کر تی ہے دماغی صحت اور یاداشت کو قائم اور مضبوط رکھنے میں فعال کر دار ادا کرتی ہے صحت مند نوجوان چھوٹے سائز کی ٹراؤٹ مچھلیاں وہ بھی قدرتی پہاڑی چشموں سے اگر آپ کو مل جائیں تو آپ یقینا طاقت توانائی چستی پھرتی کے نئے جہانوں سے متعارف ہو نگے اِس نرم و نازک مچھلی کو زیادہ نہیں بھونا جاتا ورنہ کوالٹی متاثر ہونے کا خطرہ ہو تا ہے ناصر کا دوست اور سوتن باجی مورت بھی تشریف لا چکی تھی جو ہیجڑا تھا اُس کی خواہش پر ہم اُس کو لڑکی کو کہہ کر بلاتے تھے جب سے اُس نے تو بہ کی تھی وہ ناچ گانا فحاشی کی تمام حرکتوں سے تائب ہو چکی تھی اب کھانے پکانے کی طرف زیادہ رجحان رکھ رہی تھی اُس نے نیا نیا یخنی پلاؤ پکانا سیکھا تھا آج اُس کا ناصر کے ساتھ ٹراؤٹ مچھلی اور پکوڑوں کے ساتھ دیسی بٹیروں کا یخنی پلاؤ بنانے کا ارادہ تھا اپنے اِس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اُس نے تیاری شروع کر دی تھی میرایک دوست حاجی صاحب لو دھراں سے ہر سال موسم گرما میں بہت سارے دیسی بٹیرے دے جاتے تھے جس کو ہم بدل بدل کر کبھی کڑاہی تو کبھی روسٹ بنا کر مری کے شاندار موسم کو یادگار بناتے تھے آج میری خواہش پر سالم دیسی بٹیروں کا یخنی پلا ؤ ہلکے نمک دار چینی لونگ کا لی مرچ ثابت ہری مرچ دیسی گھی میں بنانے کا ارادہ تھا ناصر بار بار باجی مورت کو چھیڑ رہا تھا کہ تم پہلی بار بنا رہی ہو کہیں سرکار کے بٹیرے ہی خراب نہ کر دینا تو باجی مورت ناصر کو سنانا شروع کر دیتی اﷲ کرے تیرے پکوڑے جل جائیں کچے رہ جائیں‘ میں دونوں کی نوک جھونک کو تبسم آلود نظروں سے دیکھتا کہ دونوں ہی عشق مجاز کی ٹھوکروں کے بعد راہ فقر عشقِ الٰہی کے کو چے میں آکر راہ حق کا سفر شروع کر چکے تھے بارش رک چکی تھی اِس لیے دونوں دیوانوں نے اپنا کام شروع کر دیا پہلے یخنی پلاؤ کا مرحلہ تھا جب پلاؤ یخنی کے بعد دم کی اسٹیج پر آیا تو دیسی بٹیروں اور خالص باسمتی کے ریشمی خوشبودار چاولوں نے فضا کو مہک آلودہ کر دیا باسمتی اور بٹیروں کی ہو شر با خوشبو نے فضا ؤں کو جکڑ لیا کہ سارے مشام جان پلا ؤ کی خوشبو سے مہکنے لگے پاکستان کا خالص باسمتی چاول بھی خدا کا کیا خاص انعام لیے جس گلی محلے میں پکایا جاتا ہے پوری گلی محلہ مہک مہک جاتا ہے کہ گزرنے والا مدہوش ہو کر اہل مکین کو رشک بھری نظروں سے دیکھتا ہے پھر باجی مورت نے بٹیرا پلاؤ کو دم پر ہلکی آنچ پر رکھ دیا تاکہ چاولوں اور بٹیروں کی خوشبو سے ایک ایک چاول مہک اٹھے باجی مورت اپنے کام سے فارغ ہو کر میرے پاس آبیٹھی اور آنے والے دنوں کی باتیں کر نے لگی کہ توبہ کے بعد جب میں واپس پشاور جاؤں گی تو وہاں پر برادری کے لوگوں کی مخالفت کا کس طرح مقابلہ کروں گی میں اُس کو مشورے دیتا جارہا تھا اطمینان بخش بات یہ تھی کہ وہ تو بہ کے وعدے پرپہاڑ کی طرح اٹل کھڑی تھی ساتھ میں وہ ذکر اذکار اور روحانی مشقوں اور مراقبے کی مختلف ترکیبوں کے بارے میں بھی پو چھتی جارہی تھی میں اُس کی ہمت اورپکے عزم کو دیکھ کر خدا کا شکر ادا کر تا کہ گناہوں غلا ظتوں میں لپٹا ہوا یہ انسان خدا کے خاص فضل سے توبہ کی پل صراط پر کامیابی سے گزر رہا تھا تو بہ کے بعد کبھی مُڑ کر بھی نہ دیکھا اُسے حضر ت امیرخسروؒ اور نظام الدین اولیا ؒ سے بہت عشق تھا اُس نے حضرت امیر خسروؒ اور حضرت نظام الدین اولیا ؒ کے تذکرے کو چھیڑا ہوا تھا بار بار اِس خواہش کا اظہار بھی کر رہی تھی کہ زندگی میں ایک بار ضرور دہلی میں تاریخ انسان کے اِن دو عظیم اولیاء کرام کے مزاروں پر سلام کرنے جائے گی ۔ اور جاکر ضرور گائے گی ’’او موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے نظام میرا جوبن گروی رکھ لے ‘‘اِن باتوں کے ساتھ اُس کا پلاؤ کی طرف بھی پورا دھیان تھا آخر اُس نے پلاؤ کی تیاری کا نعرہ مارا تو ناصر لڑکھڑاتا اٹھا اب اُس کی باری تھی وہ ٹراؤٹ مچھلی کے ٹکڑوں کو تو ے پر جبکہ مختلف قسم کے پکوڑوں کو تیل میں تلنے کے لیے تیاری کر چکا تھا میرے کانوں میں سرگوشی کر کے گیا سرکار میری عزت رکھ لیں میں بنانے جارہا ہوں میں الفت بھری نظروں سے اُس کی ادب سے بھرپور حرکتوں کو خوب انجوائے کرتا اب ناصر نے جاکر دونوں کام باجی مورت کی مدد سے کرنے شروع کر دئیے بیسن والے پکوڑوں اور ٹراؤٹ کے پروٹین سے بھرپور ٹکڑوں کی خوشبو سے فضا مہک اٹھی پکوڑوں اور تیل کا پتہ نہیں کیا رشتہ ہے جیسے ہی دونوں کا ملاپ ہوا چاروں طرف انتہا انگیز خوشبوؤں کے قافلے اترنے لگے پھر مخملی نرم و گداز سبز گھاس والے لان پر چٹائی بچھا دی گئی پکوڑوں کے لیے املی جنگلی پو دینے جنگلی انار دانے ہری مرچ ہرا پو دینہ کالی مرچ والی چٹخارے دار چٹنی پکوڑوں کے سواگت کے لیے دستر خوان پر رکھ دی گئی اِسی دوران باجی مورت نے پرات نما بڑے سائز کے تھال میں چاول اور اُس پر سالم بٹیرے سجا کر بھاپ اڑاتے پلاؤ کو لاکر رکھ دیا نرم و ملائم ریشمی چاولوں پر سالم بٹیرے دعوت طعام دے رہے تھے میں نے ایک سالم بٹیرا اٹھا یا جو اندر تک خوب پک چکا تھا اُس کا ٹکڑا منہ میں ڈال کر اُس کی لذت سے تعارف ہوا باجی مورت میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ پاس ہوئی یا نہیں تو میں اٹھ کر اُس کے پلاؤ کی شاندار تعریف کر تا ہوں اِسی دوران ناصر ٹراؤٹ مچھلی کا ٹکڑا ادرک لیموں رس چٹنی کے ساتھ پیش کر تا ہے میں اُس کی تعریفوں کے پل باند ھ دیتا ہوں دونوں کے چہروں پر پھولوں کی برسات ہو نے لگتی ہے اور مورت باجی نے کھانا شروع کر دیا ناصر پکوڑوں کی برسات مسلسل کر رہا تھا پھر وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گیا ہم تینوں بڑے تھال میں اکٹھے پلاؤ سے فیض یاب ہو رہے تھے لذت نشہ توانائی سرور کی نہریں اور لہریں حلق سے اُتر رہی تھیں دونوں دیوانے میری نظر میں سرخرو ہو نے کے بعد ساتویں آسمان پر محو پرواز تھے وہ میری خوشی اور میں اُن دونوں کی خوشی میں مست توانائی سے بھرپور پلاؤ اور پکوڑوں سے جی بھر کر لطف اندوز ہو رہا تھا دونوں میری قربت اورساتھ کے بہانے تلاش کر تے تھے یہ عشق پیار بہت عجیب نشہ بیماری ہے امر بیل کی طرح آپ کی رگوں میں اتر جاتی ہے پھر آپ کی رگوں میں خون نہیں کسی کا پیار عشق دوڑتا ہے پھر گھائل کی ایک ہی خواہش ہو تی ہے کہ کوئی طریقہ لمحہ ایسا ہو کہ وہ محبوب کے قریب ہو دونوں اِس لمحے کو انجوائے کر رہے تھے کہ میں اُن کے سامنے تھا اُن پر اپنا پیار لٹا رہا تھا وہ تابعداری کے سانچے میں ڈھلے تابعداری نبھا رہے تھے ‘ عشق بھی کیا جذبہ ہے کہ محبوب پر جان دولت وقت ہر چیز قربان کر نے کو عاشق ہر وقت تیار رہتا ہے ‘ دنیا سے دور دنیا داری سے دور ہم تینوں ایک دوسرے میں مست اپنی چھوٹی سی دنیا سجا کر بیٹھے تھے ایک دوسرے کی قربت کو محسوس انجوائے کر رہے تھے خوشی یہ تھی کہ ہمارے درمیان کوئی غیرنہیں تھا ہم خدا کا عشق اس پر مر مٹنے کا جذبہ زندگی ساتویں آسمان پر دھمال ڈال رہی تھی ۔ میرے دونوں بالکے دیوانے مست تھے کہ وہ میری خدمت کر رہے تھے اور میں بہت خو ش تھا اچانک میں نے دیکھا ناصر بے حس و حرکت ایک طرف دیکھ رہا تھا کھانا چھوڑ کر ادھر دیکھ رہا تھا وہ تھوڑا بے چین تھا اُس کی خوشی میں کوئی رنگ میں بھنگ آگیا تھا میں نے اُس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو قریبی مسجد کے امام مسجد صاحب اپنے چند جوان طالب علموں کے ساتھ آہستہ آہستہ ہماری طرف بڑھ رہے تھے ان کے چہروں کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی اچھے مقصد کے لیے نہیں آئے تھے ہم تینوں کھانا چھوڑ کر اُن کا انتظار کر نے لگے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Abdullah Bhatti

Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 541 Articles with 265915 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Oct, 2020 Views: 427

Comments

آپ کی رائے