شوپیاں کے سیب باغ میں تین نوجوان کیسے قتل ہوئے؟

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کاکمیشن، عالمی عدالت انصاف ، ایمنٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ جیسے معتبر عالمی ادارے بھارتی فورسز کے جنگی جرائم پر کوئی کاروائی کر سکتے ہیں۔ بھارتی عدالتوں ، کورٹ مارشل سے کشمیریوں کو کبھی انصاف نہیں ملا۔ بھارتی فوج نے راجوری کے تین غریب نوجوان مزدوروں کو قتل کیا۔انہیں غیر ملکی دہشتگرد قرار دے کر اسلحہ و گولہ بارود بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا۔اب سچ سامنے آنے پر سارا الزام اپنے مقامی مخبروں پر ڈال رہی ہے۔جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں اشی پورہ علاقے کے ایک باغ میں 18جولائی 2020کوبھارتی فوج کی 62آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس ٹاسک فورس نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران فرضی تصادم میں راجوری کے تین مزدور قتل کئے اور انہیں غیر ملکی دہشتگرد قرار دے کر تینوں کو جنگ بندی لکیر کے قریب مظفر آباد، بارہمولہ شاہراہ پر سپردخاک کر دیا۔اڑھائی ماہ قبل قتل کئے جانے والے راجوری کے تین نوجوانوں امتیاز احمد ولد صابر حسین اور ابرار احمد ولد بگا خان ساکنان دھار کوٹر نکہ ساکری اور ابرار احمد ولد محمد یوسف ساکن ترکسی کی لاشیں گانٹہ مولہ بارہمولہ میں واقع غیر ملکی جنگجوؤں کیلئے مخصوص قبرستان سے 75 روز بعد ہفتے کی صبح ایک مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبرکشائی کے بعد ورثا ء کے حوالے کی گئیں۔ان میں سے ابرار کی عمر 16سال تھی۔گورکن عبد المجید کے مطابق لاشیں ابھی تک تازہ تھیں، گلی سڑی نہ تھیں، بدبو بھی نہ تھی۔ یہ ان کی بے گناہی کا ثبوت ہے کہ انہیں نیا کفن پہنا کر نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھریہاں سے 450کلو میٹر(براستہ جموں) دور اپنے آبائی قبرستانوں میں دفن کیا گیا۔ اگر خونی لکیر جنگ بندی لائن نہ ہو تو 19گھنٹے کے بجائے صرف نصف گھنٹہ میں بارہمولہ سے راجوری پہنچا جا سکتا ہے۔ لواحقین ایک ایمبولینس گاڑی میں لاشیں لیکر راجوری کیلئے روانہ ہوئے۔راجوری میں جہاں جہاں سے ایمبولنس گذری، وہاں سبھی دیہات میں لوگ سڑکوں پر انتظار کررہے تھے۔لوگ بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے۔ 18جولائی کو پولیس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا ’’امشی پورہ شوپیان علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع فوج کی جانب سے دی گئی، جس کے بعدپولیس، فوج کی آر آر ،سی آر پی ایف نے سیب باغ کا محاصرہ کیا اور مشترکہ آپریشن کیا ،جس کے دوران تین جنگجو مارے گئے‘‘۔بیان میں کہا گیا تھا ’’62آر آر کی طرف سے امشی پورہ میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، تلاشی کارروائی کے دوران جھڑپ میں تین جنگجو مارے گئے، اس آپریشن میں پہلے فوج نے حصہ لیا بعد میں پولیس اور سی آر پی ایف بھی شامل ہوئی۔بیان میں کہا گیا تھا’’جھڑپ میں تین عدم شناخت جنگجومارے گئے، اور مقام جھڑپ سے تین لاشیں برآمد کی گئیں جنکی شناخت کی جارہی ہے،انکے قبضے سے قابل اعتراض چیزیں بشمول اسلحہ و گولہ بارود برا ٓمدکیا گیا‘‘۔بیان میں کہا گیا تھا’’عسکریت پسندوں کی لاشیں وصول کرنے کیلئے کوئی سامنے نہیں آیا۔ تو انہیں بارہمولہ میں دفن کر دیا گیا۔پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ تدفین سے پہلے ہلاک شدگان کے ڈی این اے نمونے حاصل کئے گئے۔اگست کے پہلے ہفتے میں3عدم شناخت جنگجوؤں کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر آئیں۔عدم شناخت جنگجو راجوری کے تین مزدور نکلے۔اس کے فوراً بعدراجوری کے3 کنبے سامنے آئے جنہوں نے بھارتی فوج کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شہید کئے گئے 3نوجوانوں کو بے گناہ مزدور قرار دیا جوجھڑپ سے صرف ایک روز قبل مغل روڑ سے شوپیان مزدوری کرنے گئے تھے۔یہ مغل روڈ آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کو مقبوضہ راجوری پونچھ اضلاع سیگزرتے ہوئے جنوبی کشمیر کے شوپیاں، پلوامہ اضلاع سے ملاتی تھی۔

اہل خانہ نے کہا کہ یہ تینوں نوجوان مزدوری کے لئے17 جولائی کو بذریعہ مغل روڈ راجوری سے شوپیاں پہنچے، جہاں انہوں نے ایک کمرہ کرایہ پر لیا اور اسی شام اپنے گھر والوں کو فون پر مطلع کیا کہ انہیں ایک مقامی سیب باغ میں کام مل گیا ہے ،جسے وہ اگلے روز شروع کر رہے ہیں۔اس کے بعد ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ۔ ان کے اہل خانہ نے پولیس اور صحافیوں کو بتایا کہ وہ یہ سمجھے تھے کہ کشمیر میں چونکہ فون اور دوسری مواصلاتی سروسز اکثر بند ہو جاتی ہے، اس لئے ان کے عزیز ان سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر جب اس معاملے پر بڑے پیمانے پربحث شروع ہوئی اورفرضی جھڑپ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جانے لگا تو 13اگست کوشوپیان پولیس نے خصوصی ٹیم ایک ڈی ایس پی کی قیادت میں تشکیل دی، جسے راجوری بھیجا گیا۔ اس نے اہل خانہ کے بیانات قلمبند کئے ۔اس دوران متاثرہ کنبوں نے ڈپٹی کمشنر آفس راجوری کے باہر دھرنا دیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔اس کے بعد ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی تاکہ پولیس کی زیر نگرانی پہلے تشکیل دی گئی ٹیم کے تابع ڈی این اے نمونے حاصل کئے جائیں۔راجوری میں ڈی این اے نمونے حاصل کئے گئے۔جب سب کو پتہ چل گیا کہ بھارتی فوج نے تین مزدور غیر ملکی قرار دے کر فرضی جھڑپ میں قتل کر دیئے ہیں تو فوج نے 11اگست کو آپریشن امشی پورہ سے متعلق کورٹ آف انکوائری کرنے کا حکم دیا۔ 18اگست کو فوج نے جھڑپ کی تحقیقات کیلئے سیول گواہوں سے کمیشن آف انکوائری کے سامنے اس جھڑپ کے بارے میں معتبر اطلاعات کا اشتراک کرنے کیلئے مقامی اخبارات میں اشتہارات شائع کئے۔18ستمبر کوفوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ’’امشی پورہ شوپیان جھڑپ کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہے ۔ فوج نے اعتراف کیا کہ فوج نے بدنام زمانہ کالے قانون افسپا(AFSPA) کے تحت حاصل خصوصی اختیارات سے تجاوز کیا ہے،لہٰذا با اختیارانضباطی اتھارٹی نے حکم دیا ہے کہ فوجی قانون کے تحت ان لوگوں کیخلاف کارروائی کی جائے جو ابتدائی تحقیقات کے دوران جوابدہ پائے گئے ہیں‘‘۔یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی فوج نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔وہ ماورائے عدالت سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے۔یہ بھی پہلا موقع نہیں کہ آپریشن کرنے والی فورسز کو خصوصی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے پایا گیا ہو۔فوج افسپا کے تحت حاصل خصوصی اختیارات سے مسلسل تجاوز کر رہی ہے ۔بھارتی فورسز اپنے قواعد و ضوابط کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ با اختیار انضباطی اتھارٹی کی ہدایات نام نہاد ہیں۔کشمیر میں جنگل کا قانون ہے۔ فوجی قانون کے تحت نظم شکنی کی پاداش میں جنگی جرائم میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ شواہداور تحقیقات کے لئے انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں ۔وہ ذمہ داروں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مگر معاملات ہمیشہ گول کر دیئے جاتے ہیں۔ راجوری کے تین نوجوانوں کے قتل میں ملوثین کیخلاف کورٹ آف انکوائری کے لئے شہری گواہوں کو بھی طلب کیا گیا جن میں وہ لوگ شامل تھے جو مقامی فوج کیلئے ’مخبر‘ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ مگر بھارتی فوج نے اپنے اہلکاروں کو بچانے کے لئے سارا قصوروار ان مخبروں کو ٹھہرادیا ہے۔ اس بار کچھ اشارے مل رہے تھے کہ مزدوروں کے قاتل فوجی اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گی۔ ان پر قتل کا مقدمہ قائم ہو گا۔لگتا ہے اس بار پھر بھارتی فوجی اہلکاروں کو بچانے کے اقدامات ہو رہے ہیں۔

فوجی افسران اور اہلکاروں کا کبھی کورٹ مارشل نہ ہو گا۔مزدوروں کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کے 40روز بعد25ستمبر کوانسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون،وجے کمار نے اعتراف کیا کہ راجوری کے تین کنبوں کے ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل ہو گئی ہے جو اْن تین نوجوانوں کے اہل خانہ سے ملتی ہے، جو امشی پورہ شوپیان میں مارے گئے تھے۔اب یہاں سے ایک نئی کہانی شروع ہوتی ہے۔30ستمبر کوامشی پورہ شوپیان فرضی انکاؤنٹر معاملے میں پولیس نے 2مقامی نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے مبینہ طور پر راجوری کے تین مزدوروں کے بارے میں فوج کو غلط اطلاعات فراہم کی تھیں۔ دونوں نوجوانوں کو چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شوپیان کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس نے دونوں کی 8روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کی۔ یہ دونوں افراد فورسز کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کاتعلق شوپیان کے دو مضافاتی دیہات سے ہے۔ ہیر پورہ شوپیان پولیس سٹیشن میں دونوں کی خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔اب راجوری سے تعلق رکھنے والے 3 مزدوروں کی نعشیں حکام نے لگ بھگ ا ڑھائی ماہ بعد اہل خانہ کی حوالے کردیں۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ75روز بعد بھی لاشیں اچھی حالت میں پائی گئیں اور لاشوں میں کوئی بدبونہیں تھی۔ 2014 سے لے کر اب تک گانٹھ مولہ میں200 سے زیادہ گولیوں سے چھلنی لاشوں کو دفن کیا گیاہے جن میں راجوری کے یہ تین مزدور بھی شامل ہیں اور یہ پہلی بار ہوا ہے جب لاشوں کو نکالا گیا ۔رواں سال اپریل سے پہلے صرف غیر ملکی جنگجوؤں کی لاشیں اس قبرستان میں دفنائی جاتی رہی ہیں لیکن پھرمقامی مجاہدین کی لاشوں کو بھی کوروناکے پیش نظریہاں سپرد خاک کرنا شروع کیا۔

مزدوروں کے لواحقین مجرموں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شہداء کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس دنیا کا کوئی قانون ہمارے بچوں کو واپس نہیں لاسکتا لیکن ملزمان کے خلاف کارروائی ہمارے زخموں پر مرہم ہوگی، ہمارے لئے یہ سکون ہے کہ ہمارے بیٹوں کی نعشیں اب کسی نامعلوم جگہ پر نہیں ہیں بلکہ آبائی قبرستان میں ہیں۔انہیں بھارت سے انصاف کی کوئی امید نہیں۔ بلکہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے انصاف دلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔متاثرہ کنبوں نے فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے اورغریب نوجوانوں کے قتل کے اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کے لواحقین کہتے ہیں کہ آخر کار ہمیں اپنے معصوم لڑکوں کی نعشیں مل گئیں لیکن اب ہماری اگلی جدوجہد اس جعلی مقابلے کے ملزموں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا ہے۔جو کہ بھارتی فوجی ہیں۔ بھارتی فوج اب الزام اپنے مخبروں پر ڈال کر انصاف سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ بھارتی فوج ہی کشمیریوں کی قاتل ہے۔ نہتے اور معصوم کشمیریوں کو بھارتی فوج فرضی جھڑپوں میں یا حراست میں لے کرمیڈلز اور پرموشن کے لئے قتل کر رہی ہے۔جو کہ انسانیت کے خلاف سنگین جنگی جرائم ہیں۔ بھارتی فورسز کے خلاف انسانیت کے خلاف سنگین جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220665 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
09 Oct, 2020 Views: 250

Comments

آپ کی رائے