مہنگائی ایک بین الاقوامی مسئلہ ؟

(Syed Mujtaba Daoodi, Karachi)

آج کے زمانے میں کوئی نہیں جو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان نہ ہو۔ ویسے تو مہنگائی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ دنیا کے سبھی ملکوں میں ضروریات زندگی کی چیزوں کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑی حد تک یہ ایک فطری امر بھی ہے کیونکہ دنیا کی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس رفتار سے چیزوں کی پیداوار میں نہیں ہوا۔ اور یہ بھی بات ہم سب ہی جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کے خواہشمند یا طلبگار زیادہ ہو جائیں تو اس کی قیمت بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔

دنیا میں لوہے، کوئلے اور پٹرول وغیرہ کے ذخیرے بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی کے پیشِ نظر جس تیزی سے استعمال میں آ رہے ہیں اتنی تیزی سے نئے ذخیروں اور وسائل کی دریافت نہیں ہوسکتی۔ غرض یہ چند عام حقائق ہیں جو دنیا کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سمجھنے میں ہمیں مدد دیتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں مہنگائی کا مسئلہ شدید اور تشویشناک ہے۔

پاکستان بنیادی طور پر غریب اور پسماندہ ملک ہے جو آزادی ملنے کے بعد سے ترقی کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ لیکن ہماری ترقی کے تمام منصوبے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات زندگی کی اشیاء کی کمی وغیرہ کی وجہ سے پوری طرح عمل میں نہیں آ پاتے۔ جس ملک کی بیشتر آبادی کو دو وقت پیٹ بھرنے کو روٹی نہ مل سکے وہاں پر سماجی ترقی اور تہذیب و تمدن کی بہتری کی باتیں کرنا ایک کربناک مذاق ہی معلوم ہوتی ہیں۔

بہرحال ان مسائل کو دور کرنے کے لئے ملک کو بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑیں اور جی توڑ کر کوشش کرنا پڑیں۔ اس سلسلے میں جو اقدامات اور کوششیں کی گئیں ان میں زرعی پیداوار، صنعتی ترقی اور بے روزگاری ختم کرنے کے منصوبے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ابتداء میں ان منصوبوں کی ترقی کی رفتار دیکھ کر یہ امید پیدا ہوچلی تھی کہ جلد ہی ملک خودکفالتی کے راستے پر پوری طرح گامزن ہوجائے گا اور غریبی اور بدحالی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ لیکن دوسری طرف ملک کی آبادی بھی غیر معمولی رفتار سے بڑھتی گئی اور ملک کی خوشحالی کے راستے میں ایک مہیب رکاوٹ بن کر سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اسی دوران وطن عزیز کواپنے پڑوسی ملک بھارت سے جنگ لڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

ظاہر ہے کہ ان حالات میں مہنگائی کا بڑھنا قدرتی تھا۔ لیکن موجودہ مہنگائی کی صورتحال کو منافع خوری بلیک مارکیٹ اور رشوت اور سابقہ ادوار میں ہونے والی ہوش ربا کرپشن اور لوٹی گئی دولت کا منی لانڈرنگ کے ذریعہ ملک سے باہر منتقلی اس تباہ کن مہنگائی کے بنیادی اسباب ہیں۔ عوام کو عرصے تک مصنوئی معشیت کا سہارہ دے کر بیوقوف بنایا جاتا رہا۔۔۔۔ غریبی میں کمی کی بجائے بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ آج پاکستان میں مفلسی اور بدحالی کا مسئلہ جتنا اہم ہوگیا ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھا۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غریبی اور بدحالی کو روکنے کے لئے حکومت اور عوام دونوں کو جدوجہد اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کے دستور میں عوام سے اس بات کا وعدہ کیا گیا ہے کہ حکومت ان کی زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کی ذمہ دار ہے۔ ویسے بھی عوامی حکومت یا جمہوریت اسی وقت اپنے نام کی اہل قرار دی جا سکتی ہے جب وہ اپنی عوام کو زندگی کی لازمی ضروریات کو پورا کرنے کا حق دے سکتے ہیں۔

مہنگائی روکنے کے لئے حکومت کو اپنے تمام وسائل اور قوت سے کام لینا چاہیے اور بلیک کرنے والوں، رشوت خوروں اور بے ایمانی کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دینی چاہیے۔کیونکہ اگر جلد ہی موثر اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ مسئلہ اتنا بڑھ جائے گا کہ اس پر قابو پانا ناممکن ہوجائے گا۔ مہنگائی کی وجہ سے ایک طرف تو حکومت کے بہت سے ترقیاتی منصوبے عمل میں نہیں آ پاتے اور دوسرے ملک میں بے اطمینانی اور جگہ جگہ حکومت کے خلاف جذبات پیدا ہوتے ہیں جو تخریبی کارروائیوں اور توڑ پھوڑ کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور ان تخریبی کارروائیوں سے ملک کے امن و اطمینان میں خلل پیدا ہوتا ہے اور ترقی کے منصوبے سست اور بے عمل ہو جاتے۔

حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جو کہ ایک اچھا اقدام تھا ورنہ پچھلے ادوار میں محض سیاسی فائدےاٹھانے کے لئیے تنخواہوں میں اضافہ کر کے ملکی بجٹ میں اضافہ اور اس اضافے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح بڑھتی رہتی تھی۔

گو کہ موجودہ حکومت نے ابھی تک جو اقدامات معشیت کی بحالی کے لئے اٹھائے ہیں ان کے ثمرات ابھی سامنے نہیں آئے ہیں لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عوام نے اس سلسلے میں مناسب تعاون نہیں کیا۔

ظاہر ہے کہ قانون اور حکومت ہی منافع خوروں کو سزا دے سکتی ہے لیکن کیا یہ عوام کا فرض نہیں کہ وہ ایسے لوگوں کو قانون کی نظر میں لائیں۔ پرامن طریقوں سے ذخیرہ اندوزوں وغیرہ کو بے نقاب کریں۔ اور ان کا سماجی بائیکاٹ کریں۔ اگر عوام اور حکومت دونوں اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح اور خلوص اور لگن سے انجام دینے کی کوشش کریں تو وہ دن دور نہیں جب ملک میں خوشحالی کا سورج چمکے گا-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Mujtaba Daoodi

Read More Articles by Syed Mujtaba Daoodi: 36 Articles with 7919 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Oct, 2020 Views: 229

Comments

آپ کی رائے