سپر سانک طیارے: آواز سے تیز سفر کی دوڑ میں شامل تین نئے طیاروں کی خصوصیات

 
مائیک بینِسٹر کہتے ہیں کہ ’جس دور میں لوگ میدانوں میں گھڑ سواری کیا کرتے تھے تب بھی وہ تیز سفر کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔‘
 
مائیک اس بات سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ انھوں نے 22 سال تک برٹش ایئرویز کا کونکورڈ طیارہ اڑایا ہے۔ اس ایئرلائن میں کونکورڈ کے سینیئر کپتان کے طور پر انھوں نے اس طیارے کی اکتوبر 2003 میں نیویارک سے لندن تک آخری کمرشل پرواز اڑائی تھی اور اس کے بعد انھوں نے یہ جہاز اس کی آخری پرواز کے تحت اڑا کر برسٹل کے میوزیم تک پہنچایا تھا۔
 
اب تقریباً دو دہائیوں بعد دنیا ایک بار پھر ایسے طیارے بنانے اور استعمال کرنے کے قریب ہے جو آواز کی رفتار سے زیادہ تیز اڑ سکیں گے۔
 
رواں ماہ ’بوم سپر سونک‘ نامی کمپنی نے اپنا ایکس بی 1 آزمائشی سپرسونک (آواز کی رفتار سے تیز) طیارہ متعارف کروایا ہے۔ سنہ 1968 میں سوویت یونین کے ٹوپولیف ٹی یو 144 کے بعد یہ پہلا سویلین سپر سونک طیارہ تھا۔
 
اس باریک اور نوکیلی مشین کے ذریعے بوم کمپنی اپنے مجوزہ ڈیزائن ’اوورچر‘ کے مختلف پہلوؤں کو آزما سکے گا۔ اوورچر اس سے زیادہ شاندار تکونے پروں والا طیارہ ہو گا، جو کونکورڈ کی یاد دلائے گا۔
 
اوورچر میں 65 سے 88 مسافروں کی گنجائش ہو گی اور یہ سمندروں کے اوپر ماک 2.2 (آواز کی رفتار سے 1.2 گنا زیادہ تیز) رفتار کے ساتھ اڑان بھرے گا، جس سے انسانی آبادی اس کی رفتار سے پیدا ہونے والے سونک بوم (آواز کے دھماکے) سے محفوظ رہے گی۔
 
ناسا کے پاس اپنا ایک عجیب الخلقت آزمائشی طیارہ ہے، پتلا اور لمبا ایکس 59۔ یہ سنہ 2022 میں اڑان بھرے گا اور اس میں کوشش کی جائے گی کہ خشکی کے اوپر مسلسل آواز کی رفتار سے زیادہ تیز اڑان بھری جا سکے۔ چنانچہ اس کے لیے ضرورت ہے کہ سونک بوم کو ختم کرنے یا کم از کم حد پر رکھنے کے طریقے تلاش کیے جائیں۔
 
 
اور اس کے بعد ایریون نامی کمپنی بھی موجود ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اس کا ’اے ایس ٹو‘ ڈیزائن اس دہائی کے آخر تک سپرسونک رفتار کی شہری پروازیں شروع کر دے گا۔ مگر محض آٹھ سے 10 مسافروں کی گنجائش کے حامل اس طیارے کی نظریں ایک بالکل مختلف مارکیٹ پر ہیں، یعنی سپرسونک کاروباری سفر۔
 
بینسٹر کہتے ہیں کہ یہ بات زیرِ غور ہونی چاہیے کہ یہ طیارے ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ کمرشل پروازوں کے شعبے میں داخل ہونے والے یہ طیارے بالکل مختلف شعبوں میں کام کریں گے۔
 
وہ کہتے ہیں کہ ’اے ایس ٹو کے ساتھ ایریون کی کوشش ہو گی کہ خشکی پر ماک 1.4 (آواز کی رفتار سے اعشاریہ چار گنا زیادہ) کی رفتار سے سفر کیا جائے، جس سے کم سونک بوم پیدا ہو گا۔ بوم سمندروں کے اوپر ماک 2.2 کی رفتار سے اڑنا چاہتا ہے اور میرے خیال میں اس کی مارکیٹ میں زیادہ طلب ہو گی۔‘
 
لیکن ان طیاروں کو انجینیئرنگ کا ایک مسئلہ حل کرنا ہو گا کہ جب وہ اس رفتار پر سفر کرتے ہیں تو اس وقت ہوا انجن میں کیسے داخل ہوتی ہے۔
 
سپر سونک رفتار پر سفر کرتے تمام طیاروں کے انجن میں ہوا جانے سے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہوا کے داخلے کی جگہ (اِن ٹیک) ایسے ڈیزائن کی جاتی ہے کہ ہوا کا یہ بہاؤ توڑا جا سکے اور اسے ایسی رفتار پر لایا جا سکے جسے انجن برداشت کر سکے۔
 
یہ انتہائی حساس معاملہ ہے جس پر کونکورڈ کی ریٹائرمنٹ کے وقت برطانیہ اور فرانس کے حکام میں تنازع بھی پیدا ہو گیا تھا۔ ایئر فرانس نے اپنے کونکورڈ طیارے ریٹائر کر دیے تھے لیکن برٹش ایئرویز ان طیاروں کی پروازیں جاری رکھنا چاہتا تھا۔
 
بینسٹر کے مطابق ’ایئربس کمپنی جو اس وقت کونکورڈ کے ڈیزائن پر اپنا اختیار قائم کر چکی تھی، ہمیں اس کی پروازیں جاری رکھنے کے لیے ڈیزائن میں رد و بدل کی اجازت نہیں دیتی تھی کیونکہ اس وقت تک (اِن ٹیک) ڈیزائن ایک راز تھا۔‘
 
ہوابازی کی صنعت اس وقت کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث مشکل میں ہے۔ ایئر لائن کمپنیوں نے مسافروں کی کمی کی وجہ سے طیاروں کے آرڈرز میں یا تاخیر کی ہے یا انھیں منسوخ کر دیا ہے۔
 
تو کیا اب بھی سپر سونک جہازوں کی طلب ہے؟
بڑا سوال یہ ہے کہ کووڈ 19 کے بعد ہوا بازی کی صنعت کیسے بحالی کی طرف جائے گی۔ بینسٹر کہتے ہیں کہ ’ایک نظریہ یہ ہے کہ کاروباری سفر اب پہلے جیسے مقام پر نہیں آ سکے گا، لیکن نہایت امیر لوگوں کے لیے سٹیٹس ایک اہم معاملہ ہے۔‘
 
وہ سمجھتے ہیں کہ سپر سونک پروازوں کی شہرت سب سونک (آواز کی رفتار سے کم) رفتار والے طیاروں میں بزنس کلاس کے مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے گی۔
 
ایریون کا اے ایس ٹو طیارہ فلوریڈا کے قریب کیپ کیناویرال میں بنایا گیا ہے۔ مقامی افراد اس علاقے کو ’سپیس کوسٹ‘ (یعنی خلائی ساحل) کہتے ہیں۔ کمپنی کو لگتا ہے کہ کاروباری مسافروں کو ایسے ہی تین انجن والے جیٹ طیارے کا انتظار ہے جو چند افراد کو دنیا بھر کی سیر 1000 میل فی گھنٹے کی رفتار سے کروا سکے گا۔
 
کمپنی کو توقع ہے کہ اس کا یہ جیٹ طیارہ سنہ 2027 میں پرواز کر سکے گا۔
 
 
بزنس جیٹ طیارے چلانے والی کمپنیاں اپنے کلائنٹس کو مختلف اقسام کے طیاروں کی پیشکش کرتی ہیں اور ایریون کے حکام سمجھتے ہیں کہ اے ایس ٹو ان بیڑوں میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہو سکے گا۔ انھیں امید ہے کہ وہ 10 برسوں میں 300 طیارے فروخت کر سکیں گے۔
 
ایریون کی ساکھ اس وقت قائم ہوئی جب دنیا کی سب سے بڑی ایروسپیس کمپنیوں میں سے ایک بوئنگ نے اس کمپنی میں کچھ سرمایہ کاری کر کے اس کے بورڈ میں دو نشستیں حاصل کر لیں۔ اسی طرح بوم کے مشاورتی بورڈ میں دفاعی ساز و سامان بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے سابق افسران ہیں۔
 
جیٹ کرافٹ کے صدر چیڈ اینڈرسن کہتے ہیں کہ ’یہ اگر کا سوال نہیں، بلکہ ’کب‘ کا سوال ہے۔‘ یہ کمپنی نجی جیٹ طیاروں کی خرید و فروخت کرتی ہے اور ان پر مشاورت بھی فراہم کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ہم سب کے پاس جو سب سے زیادہ اہم اثاثہ ہے وہ وقت ہے۔‘ ان کے مطابق لندن سے نیویارک یا دبئی کے روٹ اس طرح کی ٹیکنالوجی کے لیے قدرتی طور پر فِٹ ہیں۔
 
مگر باوجود اس کے کہ بوم نے سمندر پر سپرسونک رفتار سے پرواز کرنے کا اعلان کیا ہے اور بوم کو یقین ہے کہ خشکی کے اوپر آواز کی رفتار سے زیادہ تیز پروازوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے، اب بھی امریکی ریگولیٹری اداروں نے شہری سپر سونک پروازوں سے پابندی ہٹائی نہیں ہے۔
 
چنانچہ بے انتہا سیاسی لابنگ سے گزرنا ہو گا اور اس میں ناسا کا ایکس 59 اہم کردار ادا کرے گا۔
 
اہم بات یہ ہے کہ بڑے ناموں مثلاً انجن تیار کرنے والی جنرل الیکٹرک اور بوئینگ جیسے بڑے ناموں کی شمولیت سے یہ پورا معاملہ خیالی سپرسونک ڈیزائنز کے گذشتہ سالوں سے اب باہر آ چکا ہے۔ اینڈرسن کہتے ہیں کہ ’یہ حقیقی اور اہل کھلاڑی ہیں۔‘
 
ناسا کو لگتا ہے کہ سونک بوم اب بھی سپر سونک پروازوں کو دوبارہ شروع کروانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بھلے ہی ناسا کی اپنی سپرسونک تحقیق میں شامل منصوبہ ایکس بی ون اور ایکس 59 ایک ہی کام کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں مگر اس کے باوجود ایکس 59 ایک بالکل مختلف چیز ہے۔
 
 
ایکس 59 ایک طویل پینسل جیسا جہاز ہو گا جس میں آگے اور پیچھے کی جانب فور پلینز (کینارڈز) کہلانے والے چھوٹے پروں اور دم کی سطح کے درمیان تکونے پر (ڈیلٹا ونگز) موجود ہوں گے اور اس میں کاک پٹ جہاز کی ناک میں کہیں پیچھے کی جانب ہو گا۔ اس سب کی وجہ سے ایکس 59 ایک ترقی پذیر ٹیکنالوجی ہے جو مستقبل میں زیادہ سے زیادہ مسافروں کو سپرسونک پروازیں کروا سکے گی۔
 
آواز کی رفتار سے اعشاریہ چار گُنا زیادہ کی حد کے حامل ایکس 59 کی کوشش ہو گی کہ اس کا سونک بوم بمشکل ہی زمین سے ٹکرائے۔ یہ سب ’این ویو‘ نامی لہر پر منحصر ہے اور اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ جب سونک بوم اونچائی سے زمین کی جانب آتا ہے تو جو دباؤ ہم محسوس کرتے ہیں وہ انگریزی حرف این کی شکل کا ہوتا ہے۔ ایکس 59 کی کوشش ہے کہ ریگولیٹری ادارے ایک قابلِ برداشت سونک بوم کی حد متعین کریں۔
 
اس کی پرواز سنہ 2022 میں متوقع ہے اور اس کی ساخت سے ہوگا یہ کہ سونک بوم اس کے طویل جسم پر پھیلتا رہے گا جس سے اس کا زمین پر اثر کم سے کم ہوگا۔
 
سنہ 2024 آنے تک منفرد ساخت کا حامل یہ طیارہ امریکہ کے مخصوص حصوں میں آواز کی رفتار سے زیادہ تیز پرواز کرے گا اور جہاں جہاں سے یہ گزرے گا، وہاں کی آبادی کا اس کے شور پر ردِعمل معلوم کیا جائے گا۔
 
اس طیارے میں ہائی ڈیفینیشن کیمرے بھی شامل ہیں کیونکہ پائلٹس کو اپنی بصارت کی راہ میں حائل طویل ناک کے آگے بھی دیکھنا ہوگا۔ کونکورڈ میں بھی یہی مسئلہ درپیش تھا جس کی وجہ سے اس کی ناک کو مشہورِ زمانہ ڈروپ سنوٹ طرز پر بنایا گیا جو ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران نیچے کر دی جاتی ہے جبکہ پرواز کے دوران اسے سیدھا کر لیا جاتا ہے۔
 
 
کونکورڈ سے انجینیئرنگ کا یہ تصور حاصل کرنے پر بینِسٹر کو اطمینان ہوجانا چاہیے۔ اور ایکس 59 اور ایکس بی ون دونوں ہی کی انوکھی ساخت کی وجہ سے جہاں تک ظاہری خوبصورتی کی بات ہے تو یہاں کونکورڈ فاتح ہے۔
 
اس کی خوبصورتی نے لوگوں میں وہ اُنسیت پیدا کی جو آج تک بھی قائم ہے، جیسا کہ کونکورڈ اُڑانے والے تجربہ کار پائلٹ مائیک بینِسٹر کہتے ہیں کہ ’کونکورڈ دماغ کے آرٹ اور سائنس دونوں ہی حصوں کے لیے خوشگوار احساس پیدا کرتا تھ۔‘
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
20 Oct, 2020 Views: 2835

Comments

آپ کی رائے