صبح کے ناشتے میں ڈبل روٹی کھانے والے ہو جائیں ہو شیار، ناشتے میں ڈبل روٹی کا روزانہ استعمال دمے کی بیماری کا باعث کیسے ہوسکتا ہے؟ جانیں

 
زندگی کی رقتار میں وقت کے ساتھ جیسے جیسے اضافہ ہوا انسان نے بھی جلد بازی میں کھانے پینے کی ایسی چیزوں کا استعمال شروع کر دیا جو کہ نہ صرف جلد تیار ہو جائیں بلکہ ان کو کھانا اور تیار کرنا آسان بھی ہو- یہی وجہ ہے کہ صبح کے ناشتے میں پراٹھے کے نعم البدل کے طور پر ڈبل روٹی یا وائٹ بریڈ سامنے آئی جو کہ چکنائی کی کمی کے باعث ہلکی پھلکی ہوتی ہے اور جلد تیار بھی ہو جاتی ہے اس وجہ سے ہر ایک دسترخوان پر ناشتے میں ڈبل روٹی کی موجودگی لازم ملزوم ہو گئی-
 
ڈبل روٹی کے اجزائے ترکیبی
عام طور پر ہم سب کا یہ ماننا ہے کہ وائٹ بریڈ یا ڈبل روٹی کی تیاری میں آٹا ،میدہ بیکنگ پاوڈر استعمال کیا جاتا ہے اس کے لیے اس میں ذائقے کے لیے چینی نمک وغیرہ موجود ہوتا ہے اور ان میں سے کوئی بھی چیز صحت کے لیے خطرناک نہیں ہوتی ہے- مگر حالیہ دنوں میں RICH FOOD PURE FOOD نامی ایک کتاب سامنے آئی ہے جس کے اندر یہ چیز واضح طور پر تحریر ہے کہ ڈبل روٹی کے سفید رنگ کو برقرار رکھنے کے لیے اور اس کو دیر تک تازہ رکھنے کے لیے ایک کیمیکل ایذوڈی کاربن امائیڈ کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ سرخ ، نارنجی یا پیلے رنگ کا ہو سکتا ہے جس کو ای 927 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے- اس کیمیکل کا استعمال دنیا بھر میں اس کے مضر اثرات کے سبب بین ہو چکا ہے اس کے علاوہ ڈبل روٹی میں اس کیمیکل کی جگہ پر سلفر ڈائی آکسائڈ کا بھی استعمال ڈبل روٹی کے سفید رنگ کے لیے کیا جاتا ہے جو کہ ایک زہریلا مادہ ہے-
 
 
ایذوڈی کاربن امائیڈ کے انسانی جسم پر اثرات
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس کیمیکل کا روزانہ استعمال انسان کو دمے کی بیماری میں مبتلا کر سکتا ہے اس کے علاوہ جسم میں مختلف قسم کی الرجیز کا باعث ہو سکتا ہے اس وجہ سے اس کا کھانے پینے کی اشیاﺀ میں استعمال سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے-
 
اس کے علاوہ یہ انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے اور آسانی سے بیماریوں کا شکار بنا ڈالتا ہے - اس کو جب گرم کیا جاتا ہے تو گرم ہونے کے بعد یہ مختلف زہریلے مادوں کا اخراج کرتا ہے-
 
 
ہارمون کے نظام میں خرابی کا باعث بنتا ہے
اس کیمیکل کے ان خطرناک اثرات کے سبب آسٹریلیا اور امریکہ میں ڈبل روٹی میں اس کیمیکل کا استعمال ممنوع قرار دیا جا چکا ہے-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
19 Oct, 2020 Views: 1932

Comments

آپ کی رائے