کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کہاں تک پہنچی؟

کورونا وائرس دنیا بھر میں نہایت تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے، تاہم اتنی ہی تیز رفتاری سے دنیا بھر کے سائنس دان اس کے خلاف ویکسین کی تیاری میں بھی مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں اب تک متعدد ویکیسنز تجرباتی مراحل میں ہیں۔
 
 
گو کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس پر نہایت تیز رفتاری سے تحقیق ہو رہی ہے۔ ماہرین جینیات سے لے کر ماہرین وائرس تک تمام ہی محققین مختلف جہتوں سے اس وائرس کے انسداد کی کوشش میں مصروف ہیں، تاہم اس تمام تر تیزی اور متعدد ویکیسنز کے تجرباتی مراحل تک پہنچ جانے کے باوجود، اب بھی کورونا کے خلاف کسی ویکسین کے عام افراد تک پہنچنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
 
جنوری کی 21 تاریخ کو چینی محققین نے کورونا وائرس کا جینوم سیکوئنس جاری کیا تھا۔ اسی روز سے محققین نے اس کے خلاف ویکسین کی تیاری پر کام شروع کر دیا تھا۔ مارچ کی 16 تاریخ کو اس سلسلے میں پہلی ویکسین انسانوں پر آزمائے جانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
 
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک قریب 200 ویکیسنز تیار کی جا چکی ہیں، جن میں سے 44 کو انسانوں پر تجرباتی طور پر استعمال کرنے کی اجازت بھی دی جا چکی ہے۔
 
عام حالات میں کسی وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری میں برسوں لگتے ہیں۔ اب تک سب سے تیز رفتار ویکسین ممپس (کن پیڑے) کے وائرس کے خلاف تیار کی گئی تھی، تاہم اس کو بھی کلینیکل آزمائش تک پہنچنے میں چار سال لگے تھے۔ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری پر کام کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ وہ بارہ سے اٹھارہ ماہ کے دوران کوئی نہ کوئی ویکیسن کلینیکل مراحل سے آگے یعنی عام استعمال تک لے آئیں گے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سن 2021 تک دو ارب انسانوں کو ویکیسین دی جا چکی ہو گی۔
 
 
اب تک دنیا کے کسی بھی ملک میں کورونا وائرس کے خلاف کوئی بھی ویکیسن عمومی استعمال میں نہیں ہے۔
 
کورونا ویک، سینو ویک بائیو ٹیک
اس وقت اس دوڑ میں سب سے آگے کورونا ویک، چینی ادارے سینوویک بائیو ٹیک کی ویکسین ہے۔ یہ دوا اپنی آزمائش کے تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور برازیل، ترکی اور انڈونیشیا میں ہزاروں رضاکاروں پر استعمال کی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ویکسین نومبر میں دستیاب ہو جائے گی۔ گو کہ ابھی اس دوا کے کلینیکل ٹرائل جاری ہیں، تاہم چین میں اگست کے آخر سے انتہائی خطرات کے شکار افراد کو ہنگامی حالت میں یہ ویکیسن دینے کی اجازت دی جا چکی ہے۔
 
بی این ٹی 162 بی 2، فیزر بائیو ٹیک
امریکی جرمن فیزر اور بائیو این ٹیک آر این اے میسنجر ویکسین ہے۔ یہ اپنی آزمائش کے تیسرے مرحلے میں ہے اور اس وقت دنیا کے کورونا وائرس سے شدید پھیلاؤ والے مختلف علاقوں میں 44 ہزار افراد پر آزمائی جا رہی ہے۔ ویکیسن تیار کرنے والے ادارے کے مطابق اکتوبر کے آخر تک معلوم ہو جائے گا کہ آیا یہ ویکیسن کارگر ہے یا نہیں، جب کہ نومبر کے آخر تک سیفٹی سے متعلق ضروری ڈیٹا بھی مل جائے گا۔
 
ایم آر این اے 1273، موڈیرنا
ایک اور آر این اے میسنجر ویکسین امریکی ادارے موڈیرنا کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ جو اس وقت تیسرے مرحلے میں تیس ہزار افراد پر آزمائی جا رہی ہے۔ اس ویکسین کے ابتدائی مراحل کے نتائج کے مطابق ویکسین کا استعمال کرنے والے نوجوانوں اور معمر افراد دونوں میں ٹی سیلز سے اینٹی باڈیز پیدا ہوئیں۔ اس ویکسین کے ٹرائل میں نصف افراد کو یہ ویکسین دی گئی ہے، جب کہ نصف کو یہ نہیں دی گئی اور ایسے میں کووِڈ انیس کی علامات کے حامل 53 افراد کی جانچ کی جائے گی کہ انہیں کورونا وائرس کیسے لاحق ہوا؟ یا یہ کہ آیا یہ ویکیسن کورونا وائرس کے خلاف مؤثر تھی یا نہیں۔
 
Partner Content: DW
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
23 Oct, 2020 Views: 1995

Comments

آپ کی رائے