غلامی

(Asif Ashraf, Rawala Kot)

عشق اندھا ہوتا ہے اور عاشق جنونی۔ اب راز افشاں ہوا اور وہ بھی ڈھلتی عمر میں۔۔ کہ عشق وہی ہے جو دھرتی ماں سے کیا جائے ۔ دھرتی ماں کی کوکھ سے انسان جنم لیتا ہے ۔ اسی دھرتی ماں کی شناخت پر وہ زندگی میں ایک شناخت بنا کر جیتا ہے۔ کوئی صدر ریاست کہلاتا ہے کوئی وزیر اعظم اور بہت سارے ممبران اسمبلی ۔ کل جب یہ شناخت نہ ہو گی تو ان کی حیثیت کوٹلی ستیاں اور ایبٹ آباد کے کونسلر کی ہوگی۔ ڈی آئی جی اور کمشنر ان تحصیلوں کے ماتحت ہونگے تو سواد اعظم کی قیادت کا بھی دعویٰ نہ کر سکے گا۔ اب پتہ چلا کہ کشمیریت کے نعرے قوم پرست لگاتے ہیں ۔ صعوبتیں ان کا مقدر ہیں اور فائدے اس آڑ میں روایتی سیاست کاروں کو۔ ایک سیاست کار کا موقف تھا کشمیر آزاد ملک بن گیا تو ہجرت کر جاؤں گا۔ ایک بار سوچا اگر انہیں پاکستان کی اسمبلی کے لیے اتحادی جماعت ٹکٹ ہولڈر بنالے تو ووٹر ان سے کیا سلوک کریں گے۔ صدیاں بیت گئیں نواز شریف کے خاندان کو کشمیر سے پاکستان گئے ہوئے مگر آج بھی ’’کشمیریت‘ ‘ کی بنیاد پر نواز شریف، خواجہ آصف، سعد رفیق جیسے کتنے گھرانے ’’ناقابل قبول‘‘ اور ’’نا پسندیدہ‘‘ ہیں اور زیر عتاب بھی۔قلم قبیلہ کی دنیا میں حامدمیر بھی آباؤ اجداد کے ’’کشمیری‘‘ ہونے کی سزا بھگت رہا ہے۔ شاعرہ کو ادراک تھا جو اس نے برسوں پہلے لکھا " اپنی مٹی سے محبت میرا مسلک ہے شازی.۔ اپنی ماں کے لیے دل میں عداوت کیا رکھنا"۔ بھارت نے گزشتہ سال 5اگست کو جموں کشمیر کی حیثیت تبدیل کی تو بہت برا مانا گیا سارے کشمیری سراپا احتجاج ہو گئے لیکن ایک رد عمل وہاں سے آیا جہاں کی توقع نہ تھی جس کے متعلق پاکستان اور آزاد کشمیر بیٹھ کر کہا جاتا ہے کہ وہاں غیر مسلم ہیں ان کا ہمارا کیا تعلق وہ بھارتی ہیں جب آزاد کشمیر اور جی بھی کا مسلمان پاکستان کے ساتھ رہنے سے انکاری ہے پھر یہ نہیں نہ جانے کیوں سجھا جاتا کہ جموں کشمیر کا غیر مسلم کیسے بھارت کے ساتھ رہے گا۔ جموں میں بڑے خاندانوں کے غیر مسلموں نے بھارتی فیصلہ کے خلاف سخت احتجاج کیا ۔ ایسے ہی جیسے سندھیوں نے مہاجروں کی آمد پر کیا تھا۔ ان غیر مسلم کشمیریوں کا موقف تھا بھارت کے ہندوں کو جب شہریت ملے گی ہم کشمیری ہندو اقلیت بن جائیں گے یہ پہلی آواز تھی جو جموں سے اٹھی جموں میں JKLFکی بنیاد رکھنے والے یاسین ملک کے دست راست کاکا حسین کی گمشدگی جو غالباً شہادت میں بدل چکی کو 24سال گزر گئے۔ اب یہ خوشخبری بھی سامنے آئی کہ پانچ اگست بھارتی اقدام کے بعد 10اگست کو جموں ڈگری کالج سے طلبہ نے جو پہلا احتجاج کیا اس کی قیادت کاکاحسین کا بیٹا کر رہا تھا جو اپنے ساتھیوں سمیت گرفتار ہوا۔ دوسری طرف کارگل اور لیہہ میں آئے روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ مظاہرے کر رہے ہیں ان کے مظاہرے کراچی میں ایم کیو ایم کے زمانے کے مظاہروں سے بڑے ہیں ان کی مانگ سکردو لداخل روڈ کھلوانا ہے۔ وہ تقسیم کشمیر کے خلاف اور جی بی کو صوبہ بنائے جانے کے خلاف ایسے احتجاج کر رہے ہیں جیسے وہ کشمیری قوم پرست تنظیم JKNSFکے لوگ ہوں۔ اس ماحول میں جی بی کو صوبہ بنائے جانے کا شگوفہ چھوڑا گیا میری پہلے دن سے رائے تھی کہ جی بی کو صوبہ بنائے جانے کا اعلان صرف" بڑھک" ہے۔ یہ اعلان ویسا ہی ہے جیسے یو ٹرن خان کے باقی اعلان ہیں ایسے اعلان پر بھٹو بھی آزادکشمیر صوبہ نہیں بنا سکا تھا" کمزور ریاست" کے بس میں نہیں کہ وہ ایسا کر سکے ۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر یعقوب خان نے بھی گہرائی کا نقطہ سامنے لایا کہ چین کے حکومتی ذمہ داروں نے کبھی ایسی تجویز نہیں دی کہ پاکستان ان علاقوں کو صوبہ بنائے ورنہ سی پیک روک دیا جائے گا۔خدا فضل الرحمان اور نواز شریف کو سرخرو کرے جنہوں نے جرات سے صوبہ بنانے کے ناٹک کی مخالفت کی اور یہ اقدام نہ ہو سکا۔ ماضی میں یاسین ملک نے نواز شریف کو روکا تھا اب کشمیر میں ایسا کوئی لیڈر نہ تھا جو مزاحمت کرے ۔ حیران کن امر یہ سامنے آیا کہ آزاد کشمیر کے لیڈروں نے سطحی موقف دیا کہ اگر جی بی کو صوبہ بنایا گیا تو تحریک آزادی کو نقصان پہنچے گا۔ عقل کے ماروں کو اندازہ ہی نہیں کہ تحریک آزادی ختم ہو جائے گی۔ تقسیم کشمیر عملی ہو جائے گی۔ اس گھٹن زدہ ماحو ل میں مہاراجہ گلاب سنگھ کی ذر خرید عوام کو حقوق ملکیت دلا کر قوم بنانے والے سردار بہادر علی خان شہید کی سرزمین سے صغیر خان اٹھا اور تاریخ کا دھارا پلٹنے کی شروعات کی۔ اس نے سرینگر جانے والے قافلے کا رخ اسلام آباد کی طرف کیا۔ اس اسلام آباد میں پہلی آواز راجیو گاندھی کی آمد پر 89میں JKNSFکے صدر سردار آفتاب نے اٹھوائی اور اس جرم میں مہینہ بھر اڈیالہ جیل راولپنڈی مقدر رہا۔ پھر اسی اڈیالہ روڈ پر عارف شاہد لہو سے تاریخ رقم کر کے سرِ دار ٹھہرا۔اب آزادی مارچ کی شروعات کر کے صغیر خان نے بتایا کہ جب تک 47میں بننے والی انقلابی حکومت بحال نہیں ہوتی تحریک آزادی کشمیر کی کمان اور وکالت خود کشمیری نہیں کرتے عالمی سطح پر ہماری شنوائی ہزار سال بھی نہیں ہو گی۔ اس نے ایکٹ 74اور معاہدہ کراچی جیسے رسوائے زمانہ معاہدے کر کے کشمیری انقلابی حکومت کو کٹھ پتلی بنانے والوں سے ہی اس حکومت کی بحالی کا مطالبہ کرنا چاہا۔ اس نے کہا ہم جی بھی کے صوبہ بنانے کے مخالف نہیں لیکن وہ صوبہ با اختیار ہو اس کے ساتھ آزاد کشمیمر دوسرا با اختیار صوبہ ہو ۔ ان صوبوں پر 47کی حکومت بحال ہو کر اپنا اختیار استعمال کرے نہ گلگت صوبہ بنا کر پڑوسی ملک کا صوبہ بنایا جائے اور عمران مودی گٹھ جوڑ سے اگلے مرحلہ پر لداخ اور جموں بھارت کے صوبے بنیں۔ اس کی مانگ تھی کہ استور سے مظفر آباد سڑک فوری بنائی جائے تاکہ گلگت کے لوگ 24گھنٹوں کی مسافت سے راولپنڈی جانے کے بجائے 4گھنٹوں میں مظفر آباد پہنچیں۔ وہ گلگت بلتستان کی ہم وطن عوام کو وہ حقوق دلانا چاہتا تھا جو2 نومبر47میں اپنی حکومت کو سدھنوتی حکومت میں ضم کر کے انہوں نے ۔۔مگر اس کی آواز کو دبایا گیا۔ وہ ہزاروں غیرت مندوں کا آزادی مارچ لے کر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد جانا چاہتا تھا ۔ اس نے کسی سڑک کو بند نہیں کرنا تھا نہ کسی پل پر قبضہ کرنا تھا۔ بس اپنی یاداشت اسلام آباد والوں کو دینا تھی انہیں باور کروانا تھا وہ اصل میں فریق ہیں مگر ’’وکیل‘‘بن چلے ہیں اور اب ’’قابض‘‘ ہیں وہ اپنی اصل ’’حیثیت‘‘میں آئیں۔ اور ہماری" نمائندہ حیثیت" کو بھی تسلیم کریں جب یہ حیثیت تسلیم ہو گی تو دنیا ہماری بات توجہ سے سنے گی اور مسئلہ کشمیر کے حل سے امن قائم ہو گا ورنہ جنوبی ایشیا میں ہولناک ایٹمی جنگ ہونے جا رہی ہے وہ باور کروانا چاہتا تھا کہ وادی گلون اور لداخ پندرھویں صدی میں بھی ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھے۔ وہ بتا رہا تھا کہ گلگت بلتستان 47میں نہیں بلکہ پندرھویں صدی میں کشمیر تھا ۔ جب گلگت بلتستان کا یوسف شاہ چک متحدہ ریاست جموں کشمیر کا حکمران تھا۔ اسی وجہ سے یہ نعرہ گونج رہا ہے کہ کل جب تم برصغیر تھے ہم تب بھی کشمیر تھے۔ وہ جو ہزارہا کوشش کر کے لاکھوں روپے کے اخراجات کے بعد درجن بھر لوگ ہندوستان کے خلاف یو این او کے سفاتر میں یادداشتیں پیش کرنے بھجوائے ہیں وہ برداشت نہ کر سکے کہ ایک یادداشت انہیں بھی ملے۔ ان کی غلطیوں کا بھی ازالہ ہو ۔ میں نے یادداشت پڑھی اس میں کہیں جی بھی اور نام نہاد آزاد کشمیر سے پاکستانی فوج کے انخلاء کا مطالبہ نہیں تھا کہیں ہندوستان کے حق میں کوئی مطالبہ نہیں تھا ۔ اگر باباجان ، افتخار کربلائی اور تنویر احمد کی رہائی مانگ تھی تو یاسین ملک ، ظہور بٹ، فاروق ڈار المعروف بٹہ کراٹے ، شبیر شاہ کی بھارت سے رہائی کا مطالبہ بھی تھا۔ لیکن پہاڑ کاٹ کر راولاکوٹ تا راولپنڈی روڈ بند کی گئی ۔ کنٹینر تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیر میں استعمال ہوئے۔ تین اطراف سے دھرنا دینے والوں پر پہرہ لگایا گیا۔ کھانا تک نہ جانے دیا گیا۔ رپورٹرز کو بھی روکا گیا۔ آزادی مارچ کے شرکاء تک اظہار یک جہتی کرنے والوں کو نہ جانے دیا گیا۔ وہی تاریخ دہرانے کی سعی ہوئی جو مارچ 96کے آخری ہفتہ میں لبریشن فرنٹ کے ساتھ درگاہ حضرت بل سرینگر میں بھارت نے کی۔ وہاں شبیر صدیقی اور بشارت رضا نے مزاحمت کی تو عظیم شہادت پائی ۔ اسی طرح علی الصبح یہاں بھی اسلام آباد کے حکم خاص پر اپنی پولیس کا کندھا استعمال کر کے دھاوا بولا گیا مگر شبیر صدیقی کے جانشین صغیر خان نے کمال حکمت سے ساتھیوں کو مزاحمت سے روکا کارکن درگاہ حضرت بل کی تاریخ دہرانے کو تیار تھے ۔ راولاکوٹ میں پی سی کے ساتھ 55میں جو ہوا وہاں ہونا تھا مگر مدمقابل فورسز پرائی نہیں اپنی تھی ۔ غلام قوم کے پیٹ کے مارے مجبور ۔ ۔۔۔یوں رد عمل نہ ہوا دو روز پونچھ اور حویلی کا رابطہ پاکستان سے کٹا رہا۔ پر امن آزادی پسندوں نے محض ہنگامی اور وہ بھی خلاف توقع دیئے دھرنا سے طاقت اور اختیارات کے گمان میں مبتلا فرعونوں کو شکست بھی دی اور بے نقاب بھی کیا۔

میں رات کی ٹھٹھرتی سردی میں ان جوانوں کے عزم کا مشاہدہ کرتے ا سوقت کہیں اور چلا گیا جب وہ نعرے لگانے لگے۔ مقبول بٹ کا دیش۔ اشفاق مجید وانی کا دیش۔ ایک نعرہ ایک آواز۔۔جیئے گلنواز، جیئے گلنواز۔۔مقبول بٹ کو کیوں یہ عزت مل رہی ہے؟ کیوں ہر گزرتے لمحے اس کی چاہت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ وہ لینڈ لارڈ اشفاق مجید وانی کیوں نوجوانوں کا آئیڈیل ہے۔ گل نواز۔۔۔ہاں وہی گل نواز بٹ جو بھارتی مقبوضہ کشمیر کے خفیہ دورہ کے بعد جب کسی نئی جدوجہد کی بنیاد رکھنے پہلے اجلاس میں سینکڑوں لوگ اکھٹے کرتا ہے۔ دوسرے اجلاس میں مصلحت آڑے آتی ہے سینکڑوں درجنوں میں بدل جاتے ہیں۔ تیسرے اور آخری اجلاس میں درجنوں درجن سے بھی کم ہو جاتے ہیں۔ جس کو دن دیہاڑے علی الاعلان اور وہ 73سالہ تاریخ میں واحد اور اکلوتا اعزاز حاصل ہے کہ سیز فائر لائن پاؤں تلے روندھوائی مایوس متنفر اور بددل ہو کر سارے عزائم کے ساتھ گوشہ نشینی میں چلا جاتا ہے۔ کیوں آج بھی آزادی پسندوں کی" علامت" ہے۔ کیوں آج بھی پیرومرشد آفتاب خان کا موقف سچ ہے کہ جنگ کارکنوں سے مل کر لڑنی ہے۔ دھڑے بندیوں سے نہیں۔ سڑک پر لیٹے صغیر خان کو دیکھ کر سوچتا رہا کہ کس قوم کی شناخت کے لیے برسر پیکار ہے جس کا مطمع نظر روٹی پیٹ سڑک ٹوٹی کھمبا اور تبادلہ ہے۔ اور حمایت یافتگان ایسے کہ کسی ایک اخبار میں ان کا نام نہ آ سکا تو دوست ایسے’’ انقلابی‘‘ کے ایک رات بھی سڑک پر ساتھ گزر نہ سکے ناراضگی چلو اچھا ہوا آزاد مارچ سے دوست دشمن کی تمیز تو واضح ہوئی ۔

دھرتی ماں کے عشق نے پھر سمجھایا کہ لاکھوں میں تم ہزاروں سہی۔ تم حق پر ہو۔ کامیابی جلد تمہارا مقدر ہے۔ تمہارے ضمیر مطمئن ہیں۔
کیونکہ
اِک دن پوچھے گی ہم سے وطن کی آبرو
کس کس کی کٹی گردنیں کس کس نے بیچا لہو۔

ایک سوال ۔۔۔؟بھارت کی تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک ، فاروق ڈار، شبیر شاہ اور شمالی کشمیر گلگت کی جیل میں پابند سلاسل بابا جان اور افتخار کربلائی میں کیا "یکسانیت"ہے۔پونچھ میں اسیر صغیر خان اور اس کے ہم سفروں اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اسیر ظہور بٹ میں کیا "جڑت"ہے۔ میرپور میں مقید تنویر احمد کی ان کے ساتھ کیا "قربت"ہے۔ کیا اس سب کا نام "کشمیری"اور "غلامی"نہیں؟؟ْ سعودی عرب کی حکومت نے بیس روپے کے نئے نوٹ (ریال ) کے نقشہ پر ساری ریاست جموں کشمیر بشمول جی بی کو پاکستان بھارت اور چین سے الگ اور '' آزاد ملک ''دیکھا کر کیا ثابت کیا ہے ؟ عقل والوں کے لیے اس میں قدرت کی طرف سے پیغام بھی ہے اور نشانی بھی ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Ashraf

Read More Articles by Asif Ashraf: 13 Articles with 3329 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2020 Views: 871

Comments

آپ کی رائے