گنگو کا بیٹا جمن کی بیٹی۔گنگا جمنا تہذیب

(Muddasir Ahmed, India)

فرانس کے صدر ایمنول میکرون نے پچھلے دنوں فرانس میں توہین رسالت کی سرگرمیوں کو بڑھاوا دیاہے۔یقیناً توہین رسالت کو انجام دینے والے اشخاص پر لعنت بھیجی گئی ہے۔لیکن یہاں سوال اُن ممالک پر اٹھ رہاہے جو اپنے آپ کو اسلامک ممالک ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں،چند ایک اسلامی ممالک میں فرانسیسی اشیاء اور کاروبار کا بائیکاٹ کیاگیاہے،اس کے علاوہ حکومتی سطح پر سفارتی سرگرمیاں منقطع نہیں کی گئی ہیں۔ملیشیاء جیسے طاقتور اسلامی ملک میں فرانس کے ساتھ سفارتی سرگرمیاں منقطع کرنے کے بجائے وہاں وزیر خارجہ نے فرانسیسی سفیر کو سیرت النبی کی کتاب تحفہ میںدیکر نبی کریمﷺکی زندگی کے تعلق سے تعارف پیش کرنے کی پہل کی،نبی ﷺکی سیرت سے دنیائے عالم کو متعارف کرانا اچھی بات ہے لیکن یہ بات تو وہ ہوئی کہ دشمن جنگ کیلئے ہتھیارتھامے کود چکاہے اور ہم اپنے دفاع کیلئے جوابی کارروائی کرنے کے بجائے پھول پکڑ کر دشمن کے ساتھ بات کرنے کیلئے جارہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر باشجاعت وطاقتور ممالک خاموش کیوں ہیں ۔ باقاعدہ طور پر فرانس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات منقطع کئے جاتے او ر وہاں کے حکمرانوں کو جواب دینے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جاتے۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ توہین رسالت ہونے کے باوجود مسلم سماج خاموشی اختیارکیاہواہے۔وہیںدوسری جانب ہندوستان نے بھی فرانس کا ساتھ دینے کی بات کہی ہے،اگر ہندوستانی حکومت فرانس کا ساتھ دیتی ہے تو دے،مگرتوہین رسالت جیسے سنگین معاملے میں ہندوستانی حکومت کا جو موقف دیکھا جارہاہے وہ ناقابل برداشت ہے،اسی کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی اسلامو فوبیا کے معاملات میں بھی اضافہ ہونے لگاہے۔وہاں ملک کی سب سے پسماندہ ریاست کے جاہل وگوار وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کہہ رہے ہیںکہ جو کوئی لوجہاد کی غلطی کو انجام دیتا ہے تو اس کیلئے رام نام ستیہ ہے،کہاجائیگااور اس کا حشر ارتھیوں پر اٹھایاجائیگا۔اسی دوران دہلی کے اسلامک کلچرل سینٹرپر بھی کچھ خودساختہ ہندو تنظیموںنے توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیاہے،جس سے اسلام اور مسلمانوںکی شبیہ خراب ہورہی ہے۔سوال یہ ہے کہ جو حضرات آر ایس ایس و موہن بھاگوت سے پردے کے پیچھے ملاقات کیلئے گئے تھے اور ملک میں بھائی چارگی کے پیغام کو عام کرنے کیلئے حکمت کا چولا پہن کر گھوم رہے تھے،وہ کہاں چلے گئے؟۔گنگو کی بیٹی اور جمن کے بیٹے یا جمن کے بیٹی اور گنگو کے بیٹے کے ساتھ ہونے والی شادیوں کو جو لوگ گنگا جمنا تہذیب کا نام دیکر مسلمانوںکے گرم خون کو پانی پانی کررہے تھے وہ اب کہاں چلے گئے؟کیا وہ واقعی مسلمانوںکے نا م پررام نام ستیہ پڑھانے کی تیاری کررہے ہیں،اگر ایسا نہیں ہے تو کیونکر فالج سے متاثر لوگوںکی طرح خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں،کیا واقعی مسلمان دہشت گرد ہیں؟کیا واقعی میں مسلمانوںکے وجود کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟کیا مسلمانوں کا درد لوک سبھا راجیہ سبھا کے ممبر بننے کیلئے ظاہرکیاجاتاہے؟کیا مسلمانوں کا استعمال صرف اور صرف سیاست کیلئے کیاجارہاہے؟کیا اسلام صرف افطار پارٹیاں کرنے کیلئے دنیا میں آیاہے؟ان تمام کے سوالات کے جوابات یقیناً سب جانتے ہیں لیکن بھگتی کی آڑمیں کوئی نہیں دینا چاہتا اور کوئی بھگتی کے نشے میں ان سوالات کو نہ مودی سے نہ مولوی سے کرنا چاہے گا،کیونکہ سب کو حکمت کی فکرہے!!!۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 161 Articles with 45649 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2020 Views: 862

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ