گداگری ایک عادت ۔ ایک معاشرتی بیماری

گداگری میں جہاں تک غربت کا تعلق ہے، اس سے کہیں زیادہ انسان کی عادت کا عمل دخل بھی ہے۔ ایک دفعہ انسان اس کا عادی ہوجائے، تو پھر یہ عادت ایک نسل سے دوسری نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔باپ گداگری کی عادت میں مبتلاہے، وہ اپنے ساتھ بیٹے یا بیٹی یا دونوں کواس کی عادت ڈالتا ہے۔ اس سے یہ بچے شروع ہی سے گداگری کی تربیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اور ہمار معاشرہ ان بچوں کی ایک بہت بڑی تعدادسے محروم رہ جاتا ہے،جو آگے چل کر ملک وقوم کے لئے فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔مگر یہ عادی لوگ کام کاج کرنے کے بجائے بھیک مانگتے ہیں۔ کہیں بھی تھوڑے ساہجوم نظرآئے، ٹریفک سگنل پر، پبلک پارک میں، بازاروں میں، حتی کہ چھوٹی چھوٹی دوکانوں کے باہر یہ گداگر پہنچ جاتے،اور ان میں مرد ،عورتیں بالخصوص بچے شامل ہوتے ہیں۔ جو بہت نامناسب اور تکلیف دہ بات ہے۔

ہمیں معاشرے میں بہت سے ایسے بوڑھے اورکمزور افرادنظر آئیں گے،جو اپنے بڑھاپے اور کمزوری کے باوجودمحنت مزدوری کرکے عزت کی زندگی گزار رہے ہیں۔لیکن یہ گداگر صحت مند ہونے کے باوجود بھیک مانگتے ہیں۔بحیثیت قوم ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم عادی گداگروں کی حوصلہ شکنی کریں، جس طرح جناب فاروق اعظمؓ نے ان کی حوصلہ شکنی فرمائی تھی۔ آپؓ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے، ایک بندہ بیٹھا تھا بالکل صحت مند۔ آپؓ نے پوچھا کیوں بیٹھے ہو؟ اس نے عرض کی کہ میں بیٹھا ہوں تاکہ لوگوں سے سوال کروں گا، مجھے پیسے ملیں گے۔آپؓ نے فرمایا کہ تجھے اگر میں نے مسجد میں دوبارہ دیکھا،تو کوڑے سے تیری وہ مرمت کروں گا کہ تیری نسلیں یاد رکھیں گی، اﷲ نے تمہیں اعضاء دیئے ہیں، تمہارے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں۔پھر فرمایا "سب سے بہتر وہ انسان ہے جو خود کمائے خود کھائے ، اوراس نادار کو بھی کھلائے، جو کام کے قابل نہیں ہے"۔

اس سلسلے میں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے ، کہ اگر ہم کسی پیشہ وار گداگر کو ایک روپیہ دیتے ہیں، تو ہم نیکی نہیں کرتے، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اورمعاشرے میں ان کی تعداد میں اضافے کا بحث بنتے ہیں۔کیونکہ اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ صدقہ،جو آدمی غریب ضرور ہے لیکن ٹھیک ہے، کماسکتا ہے ،اسے اس لیے نہ دیا جائے کہ کہیں اسے گدا گری کی عادت نہ پڑ جائے ۔

یہ ایک نہایت اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف کوئی عملی اقدام اٹھائے، اور اس بیماری کی روک تھام کے لئے قانون سازی کرے۔ورنہ یہ معاشرتی بیماری ایک ناسور کی شکل اختیارکرجائے گی، اور آنے والے وقتوں میں بڑا چیلنج بن جائے گی۔

 

Shehzad Ahmed
About the Author: Shehzad Ahmed Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.