صرف چہرے سے پتہ نہیں لگتا --- جسم کے 5 حصے جو آپ کی اصل عمر بتاتے ہیں

ہم میں سے اکثر افراد ہمیشہ جوان دکھائی دینے کے لیے اپنے چہرے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں- لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے چہرے کے علاوہ بھی جسم کے چند حصے ایسے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری عمر ڈھل رہی ہے اور ہم اب اصل میں جوان نہیں رہے بلکہ عمر کے اگلے حصے میں داخل ہورہے ہیں-
 
کہنیاں
جب آپ کی عمر ڈھلنے لگتی ہے تو، آپ کی کہنی کے آس پاس کی جلد جھریوں اور ڈھیلے پن کا شکار ہوجاتی ہے۔ ویسے آپ کی کہنی کی ہموار جلد کے خشک اور ناقص ہوجانے کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ مثال کے طور پر کپڑے رگڑنے سے یا میز پر کہنیاں مستقل رگڑنے سے بھی جلد کی خشکی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ وزن میں کمی بھی آپ کی کہنی کی جلد کو ڈھیلا کر دیتی ہے۔
 
ہاتھ
عمر بڑھنے کی علامات ظاہر کرنے کے لئے ہاتھ عام طور پر جسم کے پہلے حصوں میں سے ایک ہیں۔ جب آپ کی جلد کی عمر بڑھنے لگتی ہے تو، اس میں موجود کولیجن کم ہونے لگتا ہے، اور نمی کو برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس سے آپ کے ہاتھوں کی جلد خشک اور خارش کا شکار ہوسکتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ہاتھ کی رگیں بھی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہیں کیونکہ آپ کے ہاتھ نرم ٹشوز سے محروم ہوجاتے ہیں۔
 
ناخن
ناخن آپ کی صحت کے حوالے سے بہت کچھ ظاہر کرتے ہیں- وقت کے ساتھ آپ کے جسم میں ہونے تبدیلیاں ناخنوں سے نمایاں ہوتی ہیں- جب عمر بڑھنے لگتی ہے تو ناخنوں کی افزائش سست روی کا شکار ہوجاتی ہے - اس کے علاوہ ناخن اتنے کمزور ہوجاتے ہیں کہ آرام سے ٹوٹ سکتے ہیں-
 
گردن
عمر رسیدہ گردن کی سب سے عام علامات میں سے ایک عمودی پٹھوں کا خم ہوجانا ہے- ایک اور علامت یہ ہے کہ آپ کی گردن کی جلد بڑھنا شروع ہورہی ہے جبکہ اس پر براؤن دھبے بھی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ سورج کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان، جینیاتی عوامل یا موٹاپا جیسے صحت کے دیگر مسائل کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
 
ہونٹ
آنکھوں کے آس پاس کی جلد کی طرح، ہونٹ بھی جسم کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں زیادہ نازک ہوتے ہیں۔ عمر میں اضافے کے ساتھ ہونٹوں کے ساتھ جھریاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں لیکن اس کا سبب کچھ عادتیں، جیسے تمباکو نوشی آپ کے ہونٹوں کے گرد وقت سے پہلے جھریوں میں حصہ ڈال سکتی ہے۔ پانی کی کمی سے بھی ہونٹوں پر دراڑ پڑنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ اپنا فطری رنگ بھی کھو سکتے ہیں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
18 Oct, 2021 Views: 10880

Comments

آپ کی رائے