ہاربین برفانی شاہکاروں سے روشن تر

شمال مشرقی چینی شہر ہاربین کی دنیا بھر میں ایک خاص شہرت ہے۔ اس شہرت کی وجہ اس میں منعقد کیا جانے والا برفانی شاہکاروں کا فیسٹیول ہے۔ اس فیسٹیول میں ہزاروں فنکاروں اور مزدوروں کی شرکت ہوتی ہے۔
 
برفانی شہر
ہر سال شمال مشرقی چینی شہر ہاربین میں فنکار برف سے ایک نیا شہر تخلیق کرتے ہیں۔ فن کے یہ نمونے اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ ہر سال یہ انٹرنیشنل برفانی فیسٹول پانچ جنوری سے شروع ہوتا ہے۔ فنکار اپنی برفانی تخلیقات کرسمس کے قریب مکمل کر لیتے ہیں۔
 
برفانی شاہکار تکمیل کے مرحلے میں
ہاربین کے فیسٹول میں شریک فنکار اپنی تخلیقات کو حتمی شکل دے چکے ہیں۔ان تخلیقات کا نظارہ منجمد دریائے سونگ ہُوا سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ رات کو اس شہر میں درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ دن بھر یہ درجہ حرارت منفی دس ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔
 
ہاتھوں سے فنکاری مگر احتیاط کے ساتھ
برف کے بلاک کو فنکار اپنی ضرورت کے مطابق بجلی سے چلنے والی آری استعمال کر کے کاٹتے ہیں۔ اس سارے عمل میں انتہائی احتیاط برتی جاتی ہے۔ برف سے شاہکار کی تخلیق کے لیے مختلف اوزاروں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
 
ایک برفانی شاہکار کی تخلیق
منجمد برف کے بلاک کو کاٹنے اور جوڑنے کے لیے پانی کا استعمال بطور مصالحے یا مورٹر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کسی بھی کریک یا جوڑ یا سوراخ کو بند کرنے کے لیے صرف پانی ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔
 
سہارے ہی سہارے
ہاربین کے برفانی شاہکاروں کے لیے بارہ ہزار کے قریب ورکرز برف تراشی میں مصروف ہوتے ہیں۔ منتظمین کے مطابق اس فیسٹیول کی تیاری کے لیے ایک نئی چھوٹی سی بستی بسانا پڑتی ہے تا کہ ہزاروں افراد اس میں آباد ہو سکیں۔ ان افراد کا تعلق قریب اور دور کے علاقوں سے ہوتا ہے۔
 
مناسب آرام کا وقفہ
برف میں دن بھر کام کرنے والے ہزاروں افراد کو مناسب اور توانا رکھنے کے لیے آرام و راحت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پلاسٹک کے خیموں میں گرما گرم خوراک اور چائے کافی کا بند و بست کر کے رکھا جاتا ہے۔ یہ خیمے فیسٹیول کے مقام سے باہر لگائے جاتے ہیں۔
 
برفانی خامشی
ہاربین فیسٹیول کی تیار ی کے دوران مہاتما بدھ کے ایک بڑے مجسمے کو چھیڑا نہیں جاتا، رواں برس کا یہ فیسٹیول کسی حد تک خاموش رہے گا کیونکہ کورونا وبا کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہو گی۔ امکان ہے کہ زیادہ تر ملکی سیاح ہی اس میلے میں شرکت کریں۔
 
برف تراشی کی روایت
ہاربین کا تہوار پہلی مرتبہ سن 1985 میں منعقد کیا گیا تھا۔ تاہم چین میں برف تراشی کی ایک قدیمی روایت بھی موجود ہے۔ برف تراشی کا سترہویں صدی سے تعلق بیان کیا جاتا ہے۔
 
آگ اور برف
اس فیسٹیول میں آگ برساتی ہوئی چینی ڈریگون کے مختلف روپ برف تراشی سے تخلیق کیے جاتے ہیں۔ یہ ڈریگون چینی ثقافت اور تاریخ کا ایک اہم استعارہ ہے۔ اس فیسٹیول کے لیے اسی فٹ بال میدانوں کے برابر کا علاقہ مختص کیا جاتا ہے۔
 
شبینہ نظارہ
رات کے وقت برف کے شاہکاروں کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجا دیا جاتا ہے۔ اس باعث اس فیسٹیول کا شبینہ منظر ایک جداگانہ روشنیوں سے مزین ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہزراوں لائٹس لگائی جاتی ہیں۔
 
بلند برفانی شاہکار
ہاربین کا فیسٹیول بلاشبہ اپنی مثال آپ ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ اس کے ہر چھوٹے بڑے نمونے کو ایک جداگانہ رنگ اور فنکاری کی قابل تعریف مثال قرار دیا جاتا ہے۔ کئی نمونے پچاس میٹر تک بلند بھی ہوتے ہیں۔
 
Partner Content: DW
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
05 Jan, 2021 Views: 2176

Comments

آپ کی رائے