میری جین: بلوچستان کے ضلع کچھی میں ایک صدی پہلے پیش آنے والا حادثہ جس نے برطانوی خاتون کو امر کر دیا

 
تھوڑی دیر کے لیے سوچیے کے اگر آج بلوچستان کے اکثر علاقے پسماندگی سے دوچار ہیں تو آج سے 130 سال پہلے یہاں کا منظر کیسا ہو گا۔
 
اگر آپ یہ تصور کر ہی بیٹھے ہیں تو اب یہ سوچ لیں کہ ایک خاتون اس دور میں ایک ترقی یافتہ ملک کی زندگی چھوڑ کر ہزاروں کلومیٹر دور یہاں آئیں اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔
 
ہے نہ اچنبھے کی بات۔ یہ ان کی اپنے شوہر کے ساتھ لگاﺅ اور محبت تھی جو ایک برطانوی خاتون کو بلوچستان کے ویران پہاڑی علاقے میں لائی لیکن یہاں پیش آنے والے حادثاتی موت نے ان کے نام کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
 
یہ کہانی ہے ایک برطانوی خاتون میری جین کی جن کی ہلاکت کوئٹہ کے قریب بولان کے پہاڑی علاقے میں ہوئی جس کے باعث کوئٹہ اور سبی کے درمیان ریلوے لائن کے لیے بنائی گئی ایک سرنگ کو ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔
 
 
میری جین کون تھیں؟
محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل، ادیب اورمحقق نور خان محمد حسنی نے بتایا کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والی میری جین کے شوہر برطانوی دور حکومت میں کوئٹہ اور سبی کے درمیان شکارپور قندہار ریلوے لائن کی تعمیر کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔
 
ان کے مطابق میری جین کے شوہر ریلوے میں انجینیئر یا کسی اور پروفیشنل کے طور پر ملازم ہوں گے جس کے باعث ان کی تعیناتی یہاں کی گئی تھی۔
 
انھوں نے بتایا کہ آج کی سہولیات کے مقابلے میں 130 سال پہلے تو بلوچستان میں کچھ بھی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود اس خاتون نے ایک پسماندہ علاقے میں اپنے شوہر کے ساتھ قیام کیا۔
 
سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے دانشور ظفر بلوچ کہتے ہیں کہ چونکہ اس دور میں آمد و رفت آسان نہیں تھی اس لیے بہت سارے انگریز افسروں اور اہلکاروں کی بیویاں اور بچے بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ان منصوبوں کے قریب جو کیمپ قائم کیے جاتے تھے بعض مرد برطانوی افسروں کے ساتھ ان کی بیویاں بھی وہیں رہائش پزیر ہوتی تھیں۔
 
انھوں نے کہا کہ میری جین بھی اپنی وطن سے دور اپنے شوہر کے ساتھ یہاں مقیم تھیں۔
 
 
میری جین کی موت کیسے ہوئی تھی؟
اکثر محققین اس بات پر متفق ہیں کہ میری جین کی موت کولپور کے قریب حادثے کے نتیجے میں ہوئی۔
 
ایک اور دانشور عبد القادر کا کہنا ہے کہ میری جین کی موت سر پر یا بدن کے کسی اور نازک حصے پر پتھر لگنے کی وجہ سے ہوئی۔
 
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پہاڑوں میں چٹانوں کو توڑنے کے لیے ان کو بارودی مواد سے اڑایا بھی جاتا تھا تو عین ممکن ہے کہ اس دوران کوئی پتھر میری جین کو لگا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئیں۔
 
نور خان محمد حسنی نے بتایا کہ چونکہ خاتون کی اپنے شوہر کے ساتھ محبت تھی جس کے باعث خراج عقیدت کے طور پر اس سرنگ کو میری جین کے نام سے ہی منسوب کر دیا گیا۔
 
عبد القادر رند کہتے ہیں کہ ’اس سے بڑھ کر عشق اور کیا ہو سکتا ہے کہ میری جین ہزاروں میل دور اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے آئیں اور ان کے ساتھ قیام کے دوران ہی اس کی موت ہوئی۔‘
 
انھوں نے بتایا کہ اس وقت تک سفر کی ایسی سہولیات بھی نہیں تھیں کہ میری جین کی لاش واپس برطانیہ لے جائی جاتی۔
 
تینوں محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میری جان کی لاش برطانیہ نہیں لے جائی گئی بلکہ ان کو اس پہاڑ کے اوپر ہی دفنا دیا گیا جس سے سرنگ گزارنے کے دوران ان کی موت واقع ہوئی۔
 
 
پہاڑ کے اوپر قبر کے آثار نظر نہیں آتے؟
میری جین کے نام سے منسوب سرنگ والی پہاڑی پر اس وقت کسی قبر کے آثار نہیں ہیں۔
 
عبدالقادر رند کے مطابق آج اس واقعے کو سوا سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ ’اگر کسی قبر کو پختہ نہ کیا جائے اور اس کے ساتھ اس کی مناسب حفاظت بھی نہ ہو تو اتنی دیر بعد اس قبر کے آثار کا باقی رہنا ممکن نہیں۔‘
 
ظفر بلوچ نے بتایا کہ اگر مناسب حفاظت نہ ہو تو تیس چالیس سال بعد مٹی کی بنی قبر کے نشان ختم ہو جاتے ہیں اور یہ تو ہے بھی ایک پہاڑی علاقہ، جہاں کسی عام قبر کا اتنی دیر تک قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔
 
خیال رہے کہ اس واقعے کو ایک صدی سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس علاقے میں ریوڑ بھی چرتے رہتے ہیں۔ جس علاقے میں ریوڑ گزرتے ہوں تو وہاں قبر کے نشانات بہت زیادہ طویل عرصے تک قائم نہیں رہ سکتے۔
 
نورخان محمد حسنی کے مطابق چونکہ ان کی قبر کو پہاڑ کے اوپر بنایا گیا تھا، اس لیے بارشوں کے باعث اس کے اوپر سے مٹی بہہ گئی ہو گی۔
 
 
میری جین سے منسوب سرنگ کہاں واقع ہے؟
میری جین سے منسوب یہ سرنگ بلوچستان کے ضلع کچھی میں درہ بولان میں واقع ہے۔ اس درے کو نہ صرف خاصی اسٹریٹیجک اہمیت حاصل ہے بلکہ یہ زمانہ قدیم سے آمدورفت اور تجارت کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔
 
یہ درہ موسم کی مناسبت سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی آمدورفت کا اب بھی ایک بڑاذریعہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسے لوک شاعری میں بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔
 
چونکہ ریلوے لائن کو روڈ کی طرح درے کے ساتھ ساتھ بنانا ممکن نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ متعدد پہاڑوں میں سرنگ بنا کر گزارنا پڑی۔ غالباً اس خطے میں درہ بولان وہ واحد علاقہ ہے جہاں ریلوے لائن پر سب سے زیادہ سرنگیں ہیں جن کی تعداد 17 ہے۔
 
کوئٹہ کی جانب سے ان میں سے دوسرا سرنگ وہ واحد سرنگ ہے جو کہ میری جان کے نام سے منسوب ہے۔ یہ سرنگ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 40 کلومیٹر کے فاصلے پرجنوب مشرق میں واقع ہے۔
 
برصغیر پر قبضے کے بعد برطانیہ سے ہزاروں خواتین یہاں قیام کے لیے آئیں لیکن ان میں سے صرف چند کے نام امر ہوئے جن میں میری جین بھی شامل ہیں۔
 
جس سرنگ کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی، اسی نے ہی میری جین کو تاریخ میں امر بھی کر دیا۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
16 Jan, 2021 Views: 2882

Comments

آپ کی رائے