پرانے جوتے

(shabbir Ibne Adil, Karachi)
تحریر: شبیر ابن عادل
کیا ہوا ؟؟؟ جمیلہ بیگم نے اپنے معصوم سے بیٹے جاوید کو اداس دیکھ کر سوال کردیا ۔
کچھ نہیں ۔ جاوید نے منہ لٹکائے ہوئے کہا ۔
کچھ تو ہوا ہے ، اپنی امی کو نہیں بتاو گے ۔۔ جمیلہ نے اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔
چھوڑیں، امی ۔ بس رہنے دیں ۔ اسکول میں میرے دوست میرے پرانے جوتے کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ نہ تو آپ نئے جوتے دلاتی ہیں اور نہ ہی میرے کلاس فیلو باز آتے ہیں ۔ جاوید نے دکھ بھرے لہجے میں اپنی پریشانی بیان کی ۔
جاوید گھر سے کچھ فاصلے پر واقع ایک گورنمنٹ ہائی اسکول میں ساتویں جماعت کا طالبعلم تھا ۔
اس کی دو چھوٹی بہنیں جویریہ اور جنت بھی تھیں ۔ اس طرح وہ تینوں بہن بھائی اپنے والدین کے ساتھ مزے سے زندگی گذار رہے تھے ۔ وہ لوگ غریب تھے اور کھینچ تان کر گذر بسر کررہے تھے ۔ ان کے ابو حیات علی خان ایک پرائیوٹ آفس میں چھوٹی سی ملازمت کررہے تھے ۔
ابھی جمیلہ اپنے بیٹے جاوید کو سمجھا ہی رہی تھیں کہ ان کے ابو آفس سے آگئے اور بولے کہ ماں بیٹے میں کیا باتیں ہورہی ہیں ؟؟؟
ان دونوں نے ہنس کر کہا کہ بس یونہی ۔ اسی دوران جویریہ اور جنت بھی آگئیں ۔ وہ روزانہ اپنے ابو کا آفس سے واپسی پر استقبال کیا کرتی تھیں ۔ اور حیات بھی اپنی فیملی میں آکر بہت خوش ہوتا تھا ۔
اس طرح غریب ہونے کے باوجود وہ صبر وشکر کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے ۔ حیات علی خان اپنے رب کا شکر گذار بندہ تھا ۔ یہی خوبی اس کی بیوی جمیلہ میں بھی تھی ۔
جاوید اسکول جاتے ہوئے گھبرانے لگا تھا ۔ اس کے کلاس فیلو اس کی غربت کا مذاق اڑاتے تھے ۔ اس وجہ سے جاوید پریشان رہنے لگا تھا۔
چند روز میں اس کے ابو حیات کو بھی جاوید کی پریشانی کا علم ہوگیا ۔ ایک دن وہ آفس سے واپس آئے تو جاوید کو باہر لے گئے ۔
ہم کہاں جارہے ہیں، ابو ؟؟؟؟ جاوید نے اپنے ابو سے پوچھا ۔
مگر وہ کچھ نہ بولے ۔ بس وہ جاوید کا ہاتھ پکڑ کر چلتے رہے۔ تھوڑی دیر پیدل چلنے کے بعد وہ مین روڈ کی دوسری جانب ایک ایسی بستی میں پہنچ گئے، جہاں فقیر رہتے تھے ۔ کچے اور عارضی گھر ۔ جن کے دروازوں پر پھٹے پرانے کپڑوں کے پردے پڑے تھے۔ گھروں کی حالت بہت ابتر تھی ۔
تھوڑی دیر میں اس کی نظر ایسے کئی لڑکوں پر پڑی، جن کے پیر یا ہاتھ کٹے ہوئے تھے ۔ان کی حالت دیکھ کر جاوید کپکپانے لگا ۔ تب اس کے ابو نے کہا کہ میں تم کو یہی دکھانے لایا تھا کہ تم پرانے جوتوں کی وجہ سے پریشان ہو، تم کو جوتے مل جائیں گے ۔ لیکن ایسے لوگ بھی ہیں ، جن کے پاوں ہی نہیں ۔ ہم اپنی غربت کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں ۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ہم سے بھی زیادہ غریب ہیں ۔
ہم پرانے جوتوں سے عاجز ہیں، لیکن ایسے لوگ بھی ہیں، جن کے پاوں ہی نہیں ۔
اس لئے ہر حال میں اپنے ربّ کا شکر ادا کرنا چاہیے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: shabbir Ibne Adil

Read More Articles by shabbir Ibne Adil: 87 Articles with 17675 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2021 Views: 232

Comments

آپ کی رائے