فنی تعلیم کی ضرورت

(Rizwana aziz, Karachi)

فنی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہنر یا کاریگری کے ہیں ۔ہر دور کے مختلف تقاضے اور ضرورتیں ہوتی ہیں یہ دور ترقی کا دور ہے اور اس دور کی اہم ضرورت فنی مہارت ہے ۔فنی تربیت انسان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے اور ایک با عزت روزگار حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔

جو ملک فنی تعلیم کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور فنی مہارت کو لازمی قرار دیتے ہیں وہ اتنی جلدی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں ۔جہاں فنی ماہرین کی کمی ہے وہ ترقی کرنے کے لیے دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کے محتاج رہتے ہیں ۔

نوجوان نسل اپنا آدھا وقت ڈگری کے حصول میں گزار دیتی ہے اور آدھا روزگار کی تلاش میں ۔پبلک سیکٹر میں چند ہزار آ سا میا ں ہوتی ہیں جنہیں سفارش اور رشوت کی زنجیروں نے جکڑ رکھا ہے اور نوجوانوں کو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی ملازمت کے حصول میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ ما یوسی کا شکار ہو کر یا تو غلط راہ اختیار کر لیتے ہیں اور کچھ دلبرداشتہ ہو کر خود کشی جسے سنگین اقدام کی طرف بھی چلے جاتے ہیں ۔اگر نوجوان نسل تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مند ی کی جانب راغب ہوں تو اس سے معاشی مسلہ سے نبٹا جا سکتا ہے ۔تعلیم کے ساتھ اگر کوئی شارٹ کورس بھی کر لیں جیسے موبائل ریپئرنگ ،الیکٹریشن ،الیکٹریكل وا ئرنگ ،سول ڈرافٹسمین ،ریفریجریشن اینڈ ائر کونڈیشنگ ،دیگر ٹکنیکل کورسز جیسے تھر ی ڈی ڈ ذا ننگ ،فیشن ڈیزائننگ ،الیکٹریكل ایپ لانسز وغیرہ تو اپنا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں یہ مشینی دور ہے آج کے دور میں ایک ہنر مند ایک ادیب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ایک لوہار ایک بی ۔اے ڈگری ہولڈر سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ لوہا ر اپنے فن کے سبب آسانی سے ملازمت اختیار کر لے گا جب کے گریجویٹ کافی جگہ درخواستیں دے گا دھکے کھا ے گا ہنر مند انسان آسانی سے روزی پیدا کر لیتا ہے اور ملک کی معیشت کو بھی مضبوطی فراہم کر سکتا ہے ہنر مند ی بیروزگاری کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہنر مندی کو پسند فرمایا ہے ایک بار ایک سوالی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا" یا رسول ﷺ! بہت غریب ہوں کوئی ایسا عمل بتا دیں کہ یہ غربت ختم ہو جائے" آ پ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے اس سے کلہاڑی منگوائی اور اس پر دستہ لگا کر اسے لکڑی کاٹ کر بیچنے کے ہنر کی ترغیب دی ۔اسی طرح حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ "جب میں کڑیل جوان دیکھتا ہوں تو مجھے اچھا لگتا ہے مگر جب یہ کہا جائے کہ اسکے پاس کوئی ہنر نہیں ہے تو وہ میری نظروں سے گر جاتا ہے "۔ہنر مندی حصول معاش کا بہترین زریعہ ہے اور اس سے مہنگائی کا خاتمہ بھی ممکن ہے ۔کہتے ہیں کہ سری لنکا میں شرح خواندگی اٹھانوے فیصد ہے مگر فنی تربیت حاصل نہ کرنے کے با عث انہیں غربت کا سامنا ہے ۔قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے فرمایا "ہمارے لوگوں کو فور أ سائنسی اور تکنیکی میدان میں مہارت حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔تا کہ ملک کی معاشی حالت کے مستقبل کو مظبوط بنایا جا سکے ۔"پاکستان میں فنی تعلیم کے شعبے میں توجہ کی بہت ضرورت ہے یہاں پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ تو ہیں پر کورسز جدید نہیں کہ آج کے تقاضوں کو پورا کر سکیں انہیں اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے یہاں ہر شعبے میں ترقی حاصل کرنے کے لئے فنی ماہرین کی ضرورت ہے حکومت کو چاہیے کہ نصا ب میں فنی مہارت کا کوئی ایک نصاب ضرور شامل کرے اور فنی تربیت گاہوں کی تعداد میں اضافہ کرے نیز ان تربیت گاہوں کی فیس کم سے کم ہو تاکہ طالب علم انکے اخراجات برداشت کر سکیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ فنی مہارت حاصل کر کے ملک کو با م عروج پر لے جائیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwana aziz

Read More Articles by Rizwana aziz: 19 Articles with 5196 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2021 Views: 354

Comments

آپ کی رائے