افریقہ کی جان لیوا ’آگ کی جھیل‘ جسے مقامی لوگ ’جہنم کا دروازہ‘ قرار دیتے ہیں

 
وسطی افریقہ میں چھُپی یہ سلگتی ہوئی ایک جھیل جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ منظر فلم ’لارڈ آف دی رنگز‘ سے مستعار لیا گیا ہے۔
 
یہ جھیل کرہِ ارض کے وسط تک جانے کا راستہ ہے جہاں مائع چٹانوں کا درجہ حرارت 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ’شیطان کی ہانڈی میں سوپ اُبل رہا ہوں۔‘
 
ماہر آتش فشاں بینوئٹ سیمٹز کے مطابق عوامی جمہوریہ کانگو میں چُھپے اس آتش فشاں ’نیراگونگو‘ میں دہکتی ہوئی آگ کا یہ گڑھا دنیا کے سب سے بڑے اور زندہ آتش فشاؤں میں سے ایک ہے۔ ماہر آتش فشاں سمیٹس نینوئٹ نے تقریباً پانچ برس تک اس آتش فشاں پر تحقیق کی ہے۔
 
260 میٹر چوڑے اس آگ کے تالاب کو آتش فشاں کے دھانے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں تقریباً 60 لاکھ کیوبک میٹر لاوا موجود ہے جو کہ 2500 اولمپک سوئمنگ پولز کو بھرنے کے لیے کافی ہے۔
 
آگ اور گندھک (سلفر)
نیراگونگو نامی یہ آتش فشاں سنہ 2002 سے مستقل پھوٹ رہا ہے اور اسی لیے اسے دنیا کے سب سے متحرک آتش فشاؤں میں شامل کیا گیا ہے۔
 
 
جب لاوا پھٹتا ہے تو آتش فشاں کی گہرائی میں اس کے مرکز سے گیس بھی خارج ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ ٹھنڈا ہو کر دوبارہ اس کے اندر ڈوب جاتا ہے۔
 
لاوے کے گرم اور پھر سرد ہونے کے اس مسلسل عمل کی وجہ سے اس میں کسی آبشار جیسی آواز پیدا ہوتی ہے جس کے دوران گیس کے دھماکے بھی سنائی دیتے ہیں جو سلگتے ہوئے لاوے کے شعلوں کو دس میٹر تک فضا میں بلند کرتے ہیں۔
 
بینوئٹ سیمٹز کہتے ہیں کہ ’کرہ ارض پر ایسی کوئی دوسری جگہ نہیں، آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہو کر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ زمین ایک زندہ چیز ہے اور ہم انسان اس سیارے کی انتہائی چھوٹی سی مخلوق ہیں۔‘
 
ایک حیرت انگیز چمک
کبھی کبھار آتش فشاں کا یہ تالاب جب بھاپ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ڈھک جاتا ہے تو لاوے کی یہ جھیل دکھائی نہیں دیتی، لیکن کبھی کبھار یہ اتنا صاف ہوتا ہے کہ جھیل کا یہ ’دہکتا حُسن‘ صاف نظر آتا ہے اور سات سو میٹر گہری اس جھیل کے مناظر یہاں آنے والوں کے چہروں پر ایک گرم چمک بن کر دکھائی دیتے ہیں۔
 
 
یہ نظارہ رات کے وقت زیادہ روح پرور ہوتا ہے جب ان پگھلی ہوئی چٹانوں کی سرخ اور سیاہ نوکیں اندھیرے میں چمکتی ہیں اور دہکتے ہوئے تالاب سے نکلنے والی تپش آسمان پر نارنجی روشنی بن کر پھیل جاتی ہے۔
 
دوست یا دشمن
نیراگونگو ڈی آر کانگو کے مشرق میں روانڈا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
 
یہ آتش فشاں شہر کے انتہائی قریب ہے۔ یہاں سے شہر صرف 18 کلومیٹر دور ہے۔ یہاں کی واحد خاتون گائیڈ روتھ امرونگی کا کہنا ہے کہ ’اس شہر کے لوگ خوفزدہ بھی ہیں اور اسے نظر انداز بھی کرتے ہیں۔‘
 
’ہم ایک ایسی چیز کے قرب میں رہتے ہیں جو ایک خوفناک تباہی کا باعث بن سکتی ہے، لیکن ہم اپنی زندگیاں خوف میں نہیں گزار سکتے۔‘
 
 
’اگر ہم نتائج کی پرواہ کرتے رہیں گے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اس آتش فشاں کی مثبت بات یہ ہے کہ یہاں سیاح آتے ہیں۔ محققین اور میڈیا بھی آتا ہے جس کی وجہ سے یہاں ملازمتیں ملتی ہیں اور مقامی کاروبار کی مدد ہو جاتی ہے۔‘
 
’اس کے علاوہ اس علاقے کے تحفظ کے بارے میں بھی آگاہی پیدا ہوتی ہے۔‘
 
جہنم کا دروازہ
مقامی لوگوں میں نیراگونگو سے متعلق کئی پُراسرار کہانیاں مشہور ہیں۔
 
کئی لوگ یقین رکھتے ہیں کہ یہ ’جہنم کی روحوں کا ٹھکانہ ہے۔‘ جبکہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک دوسری دنیا کی طرف جانے کا راستہ ہے جہاں پر’گناہ گاروں کی روحوں کو جلایا جاتا ہے۔‘
 
 
دوسری جانب نیک لوگوں کی روحیں قریب ہی روانڈا میں موجود ایک دوسری پہاڑی ’کاریسمبی‘ میں جاتی ہیں جو کہ ایک غیر متحرک آتش فشاں ہے جو برف سے ڈھکا ہوا ہے۔
 
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نیراگونگو میں لاوا اس وقت پھوٹتا ہے جب بُری روحیں ناراض ہو جاتی ہیں۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو مقامی افراد آتش فشاں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے عبادات کرتے ہیں۔
 
ایسی افواہیں بھی ہیں کہ گذشتہ صدیوں میں ان عبادات کے دوران کنواری لڑکیوں کو بھی اس آتش فشاں کے اندر پھینکا جاتا تھا۔
 
جنت کا باغ
نیراگونگو کانگو کی روانڈا اور یوگنڈا کی سرحد کے ساتھ موجود ویرونگا نیشنل پارک میں واقع ہے۔
 
یہ افریقہ میں قدیم اور حیاتیاتی طور پر متنوع ترین علاقہ ہے جو اندازاً دنیا بھر کے جنگلی گوریلوں میں سے ایک تہائی کا مسکن ہے۔
 
 
یہاں آٹھ آتش فشاں ہیں جن میں سے دو اب بھی متحرک ہیں۔ یہ تقریباً تیس لاکھ سال قبل کرہ ارض کی ٹیکٹانکس طاقت کے باعث وجود میں آئے۔
 
قدرت کی طاقتیں
کسی بھی وقت کرہ ارض پر پانچ سے آٹھ لاوا کی جھلیں ہوتی ہیں۔ اتنی کم تعداد کی ایک وجہ اس کی تشکیل کے لیے ضروری حالات کا غیر معمولی ہونا ہے۔
 
ماہر آتش فشاں کینیتھ سمز کا کہنا ہے کہ ’اس کے لیے سطح سے بہت قریب لاوے کا دہانا ہونا ضروری ہے جو آتش فشاں کے ایسے نظام سے منسلک ہو جو لاوے کو اوپر کی جانب لا سکے۔‘
 
سمز اس لاوے کی جھیل کے مطالعے کے سلسلے میں درجنوں مرتبہ نیراگونگو پر کوہ پیمائی کر چکے ہیں۔
 
 
ان کا کہنا ہے ’لاوا کی کثافت کا بھی درست ہونا ضروری ہے، اس لاوے میں سیلیکا کی مقدار 50 فیصد سے کم ہے جو اسے زیادہ بہنے کے قابل بناتا ہے (سیلیکا کی وجہ سے لاوا زیادہ چپچپا ہو جاتا ہے)۔
 
’یہ حالات وقت کے ساتھ ساتھ برقرار رہنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے لاوے کی جھیلیں خاص طور پر نیراگونگو جیسے ہونا بہت نایاب ہے۔‘
 
حیرت کدہ
سائنسدانوں کے لیے نیراگونگو کے آتش فشاں کا مطالعہ ایک انتہائی دلفریب تجربہ ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔
 
سمز کہتے ہیں ’لاوے کی یہ جھیل نہ صرف بڑی اور غیر معمولی ہے بلکہ یہ ناقابل یقین حد تک متحرک بھی ہے اور یہ ہر سال بدلتی رہتی ہیں۔‘
 
'جب میں سنہ 2010 یہاں آیا تھا تو لاوے کی جھیل ساکن تھی اور لاوا اس گڑھے کے فرش سے صرف پندرہ میٹر کی بلندی پر ٹھہرا ہوا تھا۔‘
 
 
’مجھے لاوے کو دیکھنے کے لیے لاوے کے چھینٹوں سے بنی عمودی کونوں پر چڑھنا پڑا، جو اتنی گرم تھیں کہ میرے جوتوں کے تلوے نرم ہو گئے اور مجھے ہاتھوں کی گرفت مضبوط کرنے کے لیے تھرمل دستانے پہننے پڑے۔‘
 
’جب اس کے اندر سے نکلنے والی گیس سطح کو چیرتی ہوئی نکلتی تو ایسے لگتا کہ کسی برتن میں پانی اُبل رہا ہے۔ لاوے کے چھینٹے میرے سر سے اونچے جاتے ہوئے واپس میرے سامنے جھیل میں گرتے رہے۔‘
 
’یہ سب بہت بڑا تھا، شدید سرخ رنگت اور خطرناک حد تک گرمی کے ساتھ یہ انتہائی سحر انگیز تھا۔‘
 
ایک مشکل کوہ پیمائی
نیراگونگو کی چٹان 3470 میٹر بلند ہے اور لاوے کی جھیل تک پہنچنے کے لیے سیاحوں کو کانگو کی سرحد کے پار روانڈا جانا پڑتا ہے اور پھر وہاں سے پہاڑی کی چوٹی تک کوہ پیمائی کرنی پڑتی ہے۔
 
یہ فاصلہ آٹھ کلومیٹر کا ہے جس میں تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر عمودی چڑھائی ہے۔ چوٹی تک پہنچنے میں چھ گھنٹے لگتے ہیں اور ہائیکرز رات وہاں گزار کر صبح واپس نیچے آتے ہیں۔
 
 
خطے میں جاری تنازع کی وجہ سے سیاحوں کو ایک گروہ کی صورت میں جانا پڑتا ہے جن کے ساتھ مسلح رینجرز ہوتے ہیں۔
 
یہ کمزور دل افراد کا کام ہر گز نہیں ہے۔ ورونگا پارک کے رینجرز پر اکثر مسلح ملیشیا کی جانب سے حملہ کیا جاتا ہے۔ صرف سنہ 2020 میں 14 رینجرز اور چار شہری مارے گئے اور پھر اس پارک کو بند کر دیا گیا۔
 
دھماکے کی طاقت
نیراگونگو گذشتہ پچاس برسوں میں دو بار پھٹا ہے۔
 
سنہ 1977 میں لاوے کی ایک بہت بڑی مقدار آدھی رات کو پھوٹ پڑی اور تقریباً 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے قریبی دیہاتوں میں پھیل گئی۔ جس کی وجہ سے کم از کم ساٹھ افراد ہلاک ہوئے ہوئے تاہم بعض اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد زیادہ تھی۔
 
سنہ 2002 میں یہ آتش فشاں ایک بار پھر پھوٹ پڑا تھا۔ اس مرتبہ آتش فشاں کی ایک جانب سے یہ لاوا نکلا۔
 
 
سارا لاوا گوما شہر میں پھیل گیا تھا۔ 150 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے اور شہر 15 فیصد کے قریب تباہ ہو گیا۔ اس سے ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے تھے۔
 
تنبیہی اشارے
تب سے اب تک گوما شہر کی آبادی میں دس لاکھ سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے اور آج آتش فشاں کے پھٹنے کے خطرات کی ہر ممکن نگرانی کی جاتی ہے۔
 
سیمٹز کہتے ہیں سوال یہ نہیں ہے کہ اگلی بار آتش فشاں پھٹے گا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ’ایسا کب ہو گا؟‘
 
 
’کرہِ ارض پر موجود کسی بھی دوسرے آتش فشاں کی طرح ہمیں اگلی بار آتش فشاں پھٹنے سے متعلق پیشگی اشاروں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ آئندہ آتش فشاں پھٹنے سے متعلق شاید ایسے اشارے ملیں لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بغیر کسی وارننگ کے ہو جائے، اس لیے کوئی نہیں بتا سکتا کہ اگلی بار آتش فشاں کب پھٹے گا۔‘
 
زندگی چلتی رہتی ہے
لیکن یہاں کے مقامی لوگ ثابت قدم ہیں۔ راجر کبالی ایک آتش فشاں کے گائیڈ ہیں اور وہ نیراگونگو پر سو مرتبہ سے زیادہ مرتبہ جا چکے ہیں۔
 
وہ کہتے ہیں ’ہر مرتبہ جب میں لاوے کی جھیل کو دیکھتا ہوں تو میں حیران رہ جاتا ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے میں کرہ ارض کے وسط میں دیکھ رہا ہوں۔ اسے دیکھ کر مجھے یقین ہونے لگتا ہے کہ زمین زندہ ہے اور میرا خدا کی حیران کُن تخلیقات پر یقین بڑھ جاتا ہے۔‘
 
کبالی کے خیال میں اس جھیل کو دیکھنے کا بہترین وقت بارشوں کا موسم ہوتا ہے کیونکہ اس وقت جھیل کو ڈھکنے والے بادل بارش کی وجہ سے صاف ہو جاتے ہیں۔
 
وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’یہ موسم ہوادار اور سرد ہو سکتا ہے خصوصاً رات کے وقت لیکن جب آپ یہاں ابلتے ہوئے لاوے کو دیکھنے آتے ہیں ہیں تو آپ اس قدر سحر زدہ ہو جاتے ہیں کہ آپ سردی کو بھول جاتے ہیں۔‘
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
26 Jan, 2021 Views: 2949

Comments

آپ کی رائے