پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ایس ایم ایس سروس: ان چاہے میسجز اور کالز کو کیسے بلاک کیا جا سکتا ہے؟

 
’ابھی اپنا پُرانا اے سی بیچ کر نیا اے سی لیں‘۔
 
’لان کے کپڑوں پر زبردست سیل‘۔
 
’ہیلو! آپ میرے سے دوستی کریں گی؟‘
 
آپ کو بھی آئے دن اس قسم کے ان گنت میسجز موصول ہوتے ہوں گے۔ شاید کبھی کسی پیغام سے واقعی کسی کو فائدہ بھی ہوا ہوگا، لیکن اکثر صارفین ایسی ان چاہی کالز اور ایس ایم ایس سے تنگ ہونے کی شکایت ہی کرتے نظر آتے ہیں۔
 
لیکن اب صارفین ان میسجز اور کالز سے باآسانی چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔
 
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) کی جانب سے فراہم کی جانے والی ایک سروس کے ذریعے موبائل فون صارفین ایسے ان چاہے میسجز اور کالز بلاک کر سکتے ہیں۔ یا مارکیٹنگ کی غرض سے کیے جانے والے میسجز سے چھٹکارا پانے کے لیے پی ٹی اے کے ’ڈو ناٹ کال رجسٹر‘ (ڈی این سی آر) کا حصہ بن سکتے ہیں۔
 
ان بن بلائے میسجز کو کیسے بلاک کریں؟
بعض افراد کے لیے ایسے تشہیری پیغامات دلچسپی کا باعث یا فائدہ مند ہوتے ہیں اور شاید بعض صارفین ایسے میسجز کے انتظار میں ہوتے ہوں کہ کب سیل لگنے کا میسج آئے اور وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ لیکن ایسے صارفین بھی ہیں جو ان میسجز سے تنگ ہوتے ہیں کیونکہ سیل کے بارے میں معلومات کے علاوہ بھی ہزاروں ایسی کمپنیاں آپ کو مارکٹینگ میسجز کرتی ہیں جن میں صارفین کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔
 
اس صورت میں اگر آپ ٹیلی مارکیٹنگ میسجز کو بلاک کرنا چاہیں، تو پی ٹی اے کی جانب سے فراہم کردہ سروس کو استعمال کرتے ہوئے اپنا نمبر ’ڈی این سی آر‘ پر ڈال سکتے ہیں، یعنی آپ پی ٹی اے کو بتا سکتے ہیں کہ ’میرا نمبر ان چاہی کال یا میسجز کے لیے رجسٹر نہ کریں۔‘
 
 
اس کے لیے آپ کو آر ای جی (REG) لکھ کر 3627 پر میسج بھیجنا ہوگا۔ اس کے بعد آپ کو ہر قسم کے تشہیری پیغامات اور کالز موصول ہونا بند ہو جائیں گی۔
 
ان کمپنیوں تک آپ کا نمبر پہنچتا کیسے ہے؟
اس بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی اے کے ترجمان خرم مہران کا کہنا تھا کہ اکثر اوقات ہم جب کوئی چیز خریدنے دکان پر جاتے ہیں تو وہاں پر ہمارا نمبر مانگا جاتا ہے جس کے بعد وہ نمبر ان کے ڈیٹا بیس میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔
 
’اس وقت نہ تو دکاندار بتاتا ہے کہ وہ نمبر کیوں مانگ رہا ہے اور نہ ہی خریدار ان سے پوچھتا ہے کہ آپ کیوں نمبر مانگ رہے ہیں۔ اگر کوئی پوچھتا بھی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ کوئی پروموشن یا سیل لگے گی تو آپ کو بتا دیا جائے گا۔
 
’لیکن یہاں یہ بات سمجھنی بھی ضروری ہے کہ بہت سے برانڈز کی مارکینٹنگ کمپنیاں ایک ہی ہوتی ہیں۔ جب آپ اپنا نمبر ایک برانڈ کے لیے رجسٹر کرتے ہیں تو وہ دیگر برانڈز کی مارکیٹنگ کے لیے استعمال ہوجاتا ہے۔‘
 
ان کا کہنا تھا کہ اس لیے پی ٹی اے نے یہ سروس فراہم کی ہے تاکہ ’آپ ہر قسم کے ٹیلی مارکیٹنگ میسجز کو بلاک کر سکیں۔‘
 
انھوں نے بتایا کہ ’یہ سروس بلکل مفت ہے۔ صارفین کو اس سروس کے استعمال پر کوئی چارجز نہیں دینے ہوں گے۔‘
 
سپیم میسجز کو کیسے بلاک کیا جائے
مارکیٹنگ میسجز کے علاوہ آپ کے موبائل نمبر پر مختلف نمبروں سے بھی میسجز موصول ہوتے ہیں، جیسے ’پانی والی ٹینکی صاف کروانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں‘ یا پھر ’ہوم ٹیوشن‘ یا ’اے سی سروس کی سہولت کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔‘
 
اس بارے میں پی ٹی اے کے ترجمان خرم مہران نے بتایا کہ یہ میسجز ایک شخص دوسرے کو ذاتی حیثیت میں بھیجتا ہے۔ مارکیٹنگ میسجز سے ہٹ کر یہ عام موبائل نمبر سے خاص سافٹ ویئر کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔
 
’اس لیے پی ٹی اے کے لیے ان کو بڑے پیمانے پر روکنا مشکل ہے۔ اگر کوئی صارف ہمیں شکایت کرتا ہے کہ اسے ایسے میسجز ان مخصوص نمبرز سے موصول ہو رہے ہیں تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے لیکن اگر وہی میسجز دیگر نمبرز استعمال کر کے کوئی بھیجتا ہے تو وہ ہم خود سے بلاک نہیں کر سکتے ہیں۔‘
 
میسجز کی اس قسم میں فراڈ کرنے والے میسجز اور کالز کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ’انکم سپورٹ پروگرام‘، ’آپ کا انعام نکلنا‘ یا پھر ’موبائل کیش ٹراسفر‘ وغیرہ۔
 
ایسی صورت حال میں صارفین پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر ان مخصوص نمبروں کی معلومات فراہم کر کے شکایت درج کر سکتے ہیں۔
 
’ہم اس کی تحقیقات کرتے ہیں اور اگر آپ کے ساتھ فراڈ ہوا ہو تو اس پر قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو بھجوا دیتے ہیں۔‘
 
انھوں نے مزيد بتایا کہ موبائل کمپنیوں کی جانب سے یہ سہولت دی جا رہی ہے کہ ہم ان میسجز کو بھی بلاک کر سکتے ہیں۔
 
اس کے لیے صارفین کو مخصوص نمبر لکھ کر اور اس کے جانب سے موصول ہونے والے میسج کو کاپی کر کے 9000 پر ایس ایم ایس کرنا ہوگا۔ ایسا کرنے سے اس نمبر سے ایسے میسج موصول ہونا بند ہو جائیں گے۔ پی ٹی اے کے مطابق اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے صارفین کو معمولی سے چارجز دینے ہوں گے۔
 
ناگوار اور تنگ کرنے والی کالز کو کیسے بلاک کروائیں؟
اگر آپ خاتون ہیں اور آپ کا نمبر کسی کے پاس نہ چاہتے ہوئے بھی چلا گیا ہے تو آپ اکثر یہ جملہ استعمال کرتی ہوں گی کہ ’پتا نہیں کون اور کیوں تنگ کر رہا ہے۔‘
 
ایسی کالز سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آپ کے موبائل فون میں ویسے تو ’بلاک کالز‘ کی آپشن موجود ہوتی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے آپ ایسی کالز بلاک کر سکتے ہیں۔ واٹس ایپ پر بھی اس سے متعلق فیچر موجود ہوتا ہے۔
 
لیکن اس کے علاوہ آپ اپنے موبائل کی نیٹ ورک سروسز استعمال کرتے ہوئے انجانے شخص کی جانب سے کی جانے والی کالز یا میسجز کو بلاک کر سکتے ہیں۔
 
اس کے لیے آپ کو اپنے نمبر سے 420 یا #420* ملانا ہوگا جس کے بعد آپ ایسی کالز کو بلاک کر سکیں گے۔
 
تاہم اس سروس کو استعمال کرنے کے بھی چارجز ادا کرنے ہوں گے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
27 Jan, 2021 Views: 2329

Comments

آپ کی رائے