عوام کو سیدھا کر دکھایا، حکومت کی وہ کامیابی جس کا کریڈٹ کوئی نہیں لینا چاہتا

 
وطن عزیز کو میسر اہل اور زرخیز قیادت کی وجہ سے ملک کے موسم میں آنے والی تبدیلیاں زیادہ سرعت سے رونما ہورہی ہیں۔ ان ’’خوشنما‘‘ تبدیلیوں کی وجہ سے ملک کے عوام سردی، گرمی، خزاں، بہار اور برسات سے ماورا ہوگئے ہیں۔ جس طرف آنکھ اٹھاؤ، پرائس لسٹ آویزاں ہے۔ نہیں معلوم یہ خواباں ہے کہ تعبیراں ہے۔ الغرض اس نئی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ملک بھر میں موسم بھی ون یونٹ ہوگیا ہے۔ گنگا ایک ایسا دریا ہے جو بھارت میں بہتا ہے۔ لیکن کرہ ارض پر بہت سے ایسے ممالک بھی پائے جاتے ہیں جہاں یہی دریا الٹا بہتا ہے سیدھا ہو کے نہیں دے رہا ہے۔ ملازمت پیشہ، دیہاڑی دار، سب کے سب ناک کی سیدھ اور کان کی آڑ میں دن رات دال روٹی کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ مملکت خداداد پر گرانی کی گھٹا چھائی ہے اور مہنگائی کی برکھا، سال کے 12 مہینوں برس رہی ہے۔
 
مہنگائی ایک ایسا مظہر ہے کہ اس میں ترقی سست ہو، تیز تر ہو یا تیز ترین، کوئی کریڈٹ لینے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ گرانی ہونے کی بنا پر تجوریاں بھرنے والے بھی اپنے دلوں میں پھوٹنے والے لڈو چھپائے، چپ سادھ رکھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ زمانہ قبل از اکیسویں صدی میں بھی جمہور، دور جمہوریت و آمریت میں اسی رواج کے عادی ہوا کرتے تھے۔ اس دور میں جن بچوں کے قد نہیں بڑھتے تھے، ان کا نام مہنگائی رکھ کر اس قدرتی امر کو مہمیز دینے کی کوشش کی جاتی تھی۔
 
 
چھوٹے چھوٹے گھر، کچے گھروندے، تجوریاں بھی چھوٹی، بچوں کے غلک جیسی ۔ لیکن اس میں پیٹ کاٹ کاٹ کر جمع کی جانے والی پونجی بھی مہنگائی کی رم جھم میں بے وقعت و بے توقیر ہوتی جارہی ہے۔ ملک اپنا، ادارے بھی اپنے، مگر اپنے اعداد و شمار کے ذریعے اس حقیقت پر اترانے کی کوشش کرتے ہیں کہ افراط زر (قیمتوں میں اضافے کے تناسب کا گورکھ دھندا) 11 فیصد سے کم ہوکر 9 فیصد ہوگیا ہے تو دوسری جانب مرکزی بینک یہ اعلان کرتا ہے کہ زرعی پالیسی کے تحت شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھی جارہی ہے۔ 7 میں سے 9 منہا کریں تو نتیجہ منفی 2 آتا ہے۔ ہاں! بس یہی تو غریب کی کمائی ہے۔
 
پاکستان انتہائی تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ تجارتی، مالیاتی خسارہ سمیت ملک کے عوام، سبھی قابو میں ہیں۔ لیکن کیا آتش فشاں ہمیشہ سرد رہتے ہیں۔ نیشن کی ہائبرنیشن کبھی بھی ختم ہوسکتی ہے۔ عرب اسپرنگ کی طرح، بیرونی ہاتھ، داخلی عناصر کسی بھی عوامی امنگ کو اسپرنگ لگا سکتے ہیں۔ ملک کے بدلتے موسمیاتی حالات کسی بھی یکسانیت کی کبھی بھی نفی کرسکتے ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات جس چھتری تلے سمٹے ہوئے ہیں، وہ حکومت وقت کی سیاسی پریشانیاں تو رفع کررہے ہیں لیکن جمہوریت کے باوجود جمہور پر پاک سرزمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔
 
مہنگائی پر قابو اسی صورت ہوسکتا ہے، جب اسے تسلیم کرلیا جائے۔ غلطی کو تسلیم کئے بغیر اس کی اصلاح کاغذات پر تو کی جاسکتی ہے لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں۔ روزنامہ ڈان کیلئے لکھے گئے اپنے مضمون میں محترم خرم حسین نے نشاندہی کی ہے کہ حکومت کی جانب سے تجارت و کاروبار کے لئے تقریباً 2 کھرب روپے کی مراعات کے باوجود قومی خزانے کو نصف سے بھی کم، 92 ارب روپے کی وصولیاں ہوئیں انڈر انوائسنگ ہورہی ہے۔
 
 
اس کا کیا مطب ہے، صاف ظاہر ہے کہ حکومت کی ناک کے نیچے گنگا بہہ رہی ہے۔ اس حمام میں سبھی نہا رہے ہیں۔ تری میں دری بچھانے والے، خشکی میں بیٹھے افراد کا منہ چڑا رہے ہیں۔ کیا حکومتی ٹیم میں اتنی اہلیت نہیں کہ ایسے عناصر کا ہاتھ پکڑ سکیں۔ ملک کے وسائل کا بھرپور استعمال کرنے والے حکام کے پاس کیا ایسی میرٹ نہیں کہ ایسے اور اس جیسے رونما ہونے والے دھوکوں کو منظر عام پر لائیں۔
 
شجر سایہ دار، ملک پاکستان کی جڑوں کو جو لوگ کھوکھلا کر رہے ہیں، حکومت اگر ان کو پہچان ہی نہیں سکتی تو وہ کس کام کی۔ لٹھ لے ہوا میں لہرانے سے تو مکھی بھی نہیں مرتی۔ زیادہ سے زیادہ سلطان راہی کا لقب مل سکتا ہے، قوم کیلئے انٹرٹینمنٹ تو ہوسکتی ہے، کسی مرض کا علاج ہوسکتا ہے، نہ کسی ناسور کو چیرا لگ سکتا ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
02 Feb, 2021 Views: 2548

Comments

آپ کی رائے