اُلجھن

(Sadia Ijaz Hussain, Lahore,University of Education)

اب مجھے لگ رہا ہے زندگی کچھ چاہ رہی ہے جو کے دماغ کے لیۓ مسئلہ ہے ، دل سہما ہوا اور زندگی کے اپنے مسائل ہیں ، ان سب کے بیچ میں کیا کرۓ ایک انسان ؟؟؟ یہ اہم سوال ہے ؟ ویسے تو انسان دوسرے انسان کی کم ہی سنتا ہے مگر اگر سن لے تو کیا ہوتا ہے ؟ اُف بہت عجیب سا میلہ ہے جیسے خاموشیوں نے انسان کو شور میں گریبان سے آ پکڑا ہو اور ہر طرف شور کے باوجود بھی سناٹا ہی سناٹا لگے اور انسان بھاگ رہا ہو مگر بھاگنا فضول ہو کیونکہ جن چیزوں سے بھاگ رہا ہے وہ اسکی اپنی پہنچ کے احاطے میں ہیں مسئلہ عجیب ہے ویسے میرے جیسے لکھاری لکھ کر من ہلکا کر ہی لیتے ہیں کیونکہ کسی کچھ بتانا بہت مشکل ہے اس لیے خامشی اچھی لگتی ہے ، باتیں بتانا اچھا نہیں لگتا ہاں پر سُنا جا سکتاہے ، کیونکہ شایئد مجھے ایسا لگتا ہے دوستوں کے بھی دوست ہوتے ہیں یا شاید ایسا لگتا ہے کہ اگلا بد گمان نہ ہوجاۓ ویسے اس لیے لکھنا اچھا لگتا ہے ۔۔ایسا لگتا ہے یہ جو زندگی ہے نصرت کی قوالیاں ہیں کبھی "دل پر زخم کھاتے ہیں "تو کبھی "پیر جی کے شیدائ روشنی سے ڈرتے ہیں " تو کبھی "جا مڑ جا " جو بھی ہے اگر انسان دکھی ہو اور زرا سی بھی غزل یا قوالی سن لے تو بس پھر چند منٹوں میں آنسوؤں کی قطاریں ، اسلیے کبھی کبھی قوالیوں اور غزلوں سے پرہیز ضروری ہو جاتی ہے ، اور مجھ جیسی کوئ ہو جسکی شاعری سے سلام دعا ہو اور شاعری لِکھنا جانتی ہو تو پھر اُسکے اضطراب میں کمی مشکل ہے ویسے انسان بہت ہی بے بس ہے بے بسی انسان کو بہت توڑ دیتی ہے ،کبھی کبھی تو انسان کو خود پتا نہیں ہوتا ہو کیا رہا ہے ؟ تو کبھی کبھی پتا ہونے کے باوجود چپ رہتا ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ ہوتا کیا ہے ؟ ویسے میری زندگی پر ایک بہترین فلم بن سکتی ہے ، ویسے اگر میرا دل اداس ، پریشان ، غمگین ہو جو اکثر رات کے وقت ہو ہی جاتا ہے کیوں کے سوچیں رات کو آتی ہیں اور آج کل تو شاید بہت چیزیں عجیب ہو گئ ہیں جو میری اپنی سمجھ سے ہی باہر ہیں اور دل اداس ہے ، کیو نکہ کچھ چیزیں انسان سمجھ نہیں پاتا ہاں محسوس ہو جاتی ہیں چلو خیر بہت سی vibes ہیں لیکن اپنی کوئ vibe نہیں اُف کیا ہو رہا ہے ؟ اور اس پر نصرت کی قوالی جس مٰیں وہ کہتا ہے" تو بھی کہے ہاۓ دل " یہ یاد آتی ہے، بہت پیچیدگی ہے انسان کو اپنا مسئلہ خدا کو ہی بتانا چاہیے اور التجا بھی اُسی سے کرنی چاہیے وہ قوالی ہے نا میاں عزیز کی " کوئ انسان کسی انسان کو کیا دیتا ہے " پھر نصرت کی قوالی ہے " اس جہاں میں نہیں کوئ اہل وفا اے فنا اس جہاں سے کنارہ کرو "

ویسے کبھی کبھی جو چیز شدت پکڑتی ہے وہ قوالی ہے " اے زندگی تو ہی مختصر ہو جا شبِ غم مختصر نہی ہوتی " ویسے نصرت صاحب کی قوالیاں دل پر پٹھاک بجتی ہیں چلو خیر زندگی ہے زندگی میں اونچ نیچ کا پہاڑ تو چلتا ہی رہنا ہے اب انسان سواۓ صبر ، شکر کے کچھ کر نہیں سکتا ۔۔جو چیز مل جاۓ شکر کریں جو نہ مل سکے تو صبر کریں وہ شعر ہے نا

"ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دل نکلے ۔۔ اب انسان کیا کرۓ ؟ ؟؟؟ تو جواب ہے دکھ کو رنگ دیں اور خوشی کو گلے لگا لیں ۔۔ میری سمجھ تو یہی کہتی ہے ویسے میری بیس سال کی زندگی نے بہت چیزیں سیکھائ ہیں اور اس میں معجزے بھی ہیں جو میرے ﷲ پاک ﷻ نے مجھے دیکھاۓ ہیں اسکی زات سے میں کبھی نا امید نہیں ہوں ہاں لیکن صاف صاف کہتی ہوں انسانوں سے کوئ امید نہیں ۔۔ ہاں کچھ اچھی روحیں بھی ہیں لیکن امیدیں کسی سے نہیں زندگی ﷲ کے حوالے ہے وہی مالک ہے جہاں لے جاۓ اس کی قدرت! بس ایک دعا ہے وہ مجھے مجھ پر نہ چھوڑے کیونکہ خود پر مجھے کوئ بھروسہ نہیں وہی چلا رہا ہے ، وہی اٹھا رہا ہے ، وہی سنبھال رہا ہے ورنہ میں تو چل بھی نہ پاؤں ۔۔اسکی ﷻ زات کی بہت شکرگزار ہوں 💝
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sadia Ijaz Hussain

Read More Articles by Sadia Ijaz Hussain: 17 Articles with 7705 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Feb, 2021 Views: 257

Comments

آپ کی رائے