داماد عرف جوائی

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر نبیلہ شہزاد
پاکستان کے دوسرے صوبہ جات کا تو مجھے علم نہیں لیکن شاید ہمارے لوگوں نے پنجاب کی ثقافت میں ایک یہ شق بھی شامل کر دی ہے کہ عزیز واقارب میں خوشیوں کے مواقع پر اپنی اہمیت کا احساس دلوانا۔ یہ احساس خوشیوں سے متاثرہ گھرانے سے روٹھ کر دلایا جاتا ہے۔ ان مواقع میں سب سے اہم موقع شادی بیاہ ہے۔ اکثر اوقات پر کوئی نہ کوئی چچا، ماموں، پھوپھی روٹھے ہوتے ہیں۔ انہیں پرانے سے پرانے گلے شکوے اس خوشی کے موقع پر یاد آتے ہیں۔کبھی کبھی تو برات والے دن بھی دولھا میاں سجنے سنورنے سے پہلے اپنے باپ کے ساتھ مل کر ان رشتوں کو منا رہا ہوتا ہے کہ یہ لوگ بارات کے ساتھ جائیں۔ ان روٹھنے والے رشتوں میں سب سے اہم رشتہ جوائی عرف داماد کا ہے۔ جسے روٹھنے کے لیے کسی معقول وجہ کی بھی ضرورت نہیں۔ اس داماد نامی مخلوق کے ارد گرد سینکڑوں وجوہات بکھری پڑی ہوتی ہیں۔ اور وہ بیچارہ ماتھے پر سات سلوٹیں ڈال کر گھور گھور کر ان وجوہات میں سے اپنی پسند کا انتخاب کر رہا ہوتا ہے۔

رشتہ طے کرنے سے لے کر دن مقرر کرنے ہوں یا مینیو کا انتخاب ہو، ہر معاملے میں اسے برکت کے طور پر شامل رکھا جاتا ہے۔ پھر ساس صاحبہ اس کے ہر رشتے دار کو فون کر کر شادی میں شامل ہونے کا کہتی ہے۔ بیٹے کی شادی سے پہلے ہی داماد کا بہترین جوڑا سوٹ سلوا کر بھیج دیا جاتا ہے۔ کہ ہمارے بیٹے کی بارات والے دن یہ پہننا ہے۔ شادی میں ساس کو کسی اور مہمان کی فکر ہو نہ ہو داماد کی فکر میں وہ ضرور گھل رہی ہوتی ہے۔ کہ اس نے ناشتہ کیا ہے یا نہیں، کھانا کھایا ہے یا نہیں، اگر داماد کا نوالہ ذرا سا بھی حلق سے نیچے رہ گیا تو یہ روٹھ جائے گا اور کھٹ سے کہے گا کہ ’’مجھے تو کسی نے پوچھا ہی نہیں، میری تو کوئی وقعت ہی نہیں سسرال میں، ہی نہیں، میں بھوکا رہا‘‘۔

بھلا اتنی قدروقیمت کم ہے کیا؟ پورا سسرالی کنبہ اس کے آگے پیچھے دوڑ رہا ہوتا ہے۔ چاہے اس بھاگ دوڑ میں وہ آپس میں ہی ٹکراتے رہیں۔ ایک داماد ہی سارے مہمانوں سے بھاری نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اگر شومئی قسمت داماد ایک سے زیادہ ہوں۔ تو زیادہ تر ان کی آپس میں مخالفت ہی ہوتی ہے۔ وہ سسرال گھر میں بیٹھ کر غصے میں ایک دوسرے کو ایسے گھور رہے ہوتے ہیں جیسے گھر میں بندھی ہوئی ایک مخلوق گھر میں آنے والے اجنبی لوگوں کو گھورتی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے موقع ملتے ہی یہ ان کو کچا چبا جائیں گے۔

ان کی آپس میں دوستی۔۔۔۔ ارے نہیں نہیں۔۔۔ وہ بھی خطر ناک ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ مل بیٹھ کر سسرال کے خلاف ہی پلاننگ میں مشغول رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کا دکھ درد سانجھا ہوتا ہے۔ایک سادہ لوح داماد، جس نے اپنے سسرال میں اوپر دیکھا، نیچے دیکھا، دائیں دیکھا، بائیں دیکھا، روٹھنے کی کوئی وجہ نہ مل سکی۔ آخر کار تنگ آکر تھک ہار کر بچوں کے ہاتھ میں گھی کے خالی کنستر اور ڈنڈے پکڑا دیے کہ چھت پر جا کر انہیں ڈھول کی طرح پیٹو تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ شادی والا گھر ہے۔ بچوں نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا۔ کانوں کے پردے پھاڑنے والا شور سن کر نیچے موجود کچھ لوگوں نے کہ دیا۔

’’یہ کون ہے اوپر‘‘؟بس جی اسی بات پر اعتراض ہو گیا کہ ’’اب ہم کون ہیں؟ ہم کون ہیں تو کون ہی سہی‘‘ اتنی سی بات پر روٹھ کر یہ جا اور وہ جا۔

ایسے ہی ایک بار ایک داماد اپنے سسرال مخالف تانے بانے بننے کی مصروفیت میں الجھا ہوا موٹر سائیکل پر جا رہا تھا۔ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کر گیا۔ ٹریفک کانسٹیبل نے روک کرگرج دار آواز میں پوچھا۔’’اوئے توں کی لگا ایں‘‘؟۔ یعنی کس بڑے عہدے پر فائز ہو جس کے غرور میں قانون کی خلاف ورزی کر دی؟ خیالات کی دنیا میں تذبذب کا شکار اس شخص نے جواب دیا۔ ’’ میں جوائی لگا ہوں‘‘ (میں داماد کے عہدے پر فائز ہوں)

ضروری نہیں کہ سارے داماد ایسے ہی ہوں مذکورہ قسم کے برعکس بھی داماد ہوتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520171 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Feb, 2021 Views: 137

Comments

آپ کی رائے