پاوری گرل اورعالمی انعام یافتہ زارا نعیم ڈار

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا میں اس وقت دو پاکستانی طالبات کی شہرت کے چرچے ہیں۔ ایک زارا نعیم ڈار ہیں اور دوسری دنانیر مبین۔ زارا کا تعلق آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کے علاقہ گڑھی سے ہے۔زارا ان دنوں لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ دنانیر کا تعلق پشاور سے ہے۔ صرف پانچ سیکنڈ کی مختصر ویڈیو سے شہرت حاصل کرنے والی پشاور کی لڑکی ’پاوری گرل‘ کی تعریف ہو رہی مگر عالمی امتحان پاس کرکے پاکستان اور کشمیر کا نام روشن کرنے والی لڑکی زارا نعیم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ زارا کے مقابلہ میں انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ زارا نعیم کو دسمبر 2020 میں ہونے والے اے سی سی اے (ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس) کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر لینے پر گلوبل انعام کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ لاہور کے اسکانز اسکول آف اکاؤنٹینسی کی طالبہ زارا نعیم نے فنانشنل رپورٹنگ کے امتحان میں اے سی سی اے کے تمام طلبہ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔ اکاؤنٹینسی کے شعبے میں اے سی سی اے کی تعلیم کو عالمی معیار تصور کیا جاتا ہے اور دنیا کے 179ممالک میں اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔حکومت پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ٹوئٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کو فخر ہے کہ زارا نعیم کو اے سی سی اے میں سب سے زیادہ نمبر لینے پر گلوبل پرائز ونر قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے ٹوئٹ میں کہا کہ دنیا بھر میں اے سی سی اے امتحان میں ٹاپ کرکے زارا نعیم ڈار قوم کا فخر بن گئی ہیں۔زارا نعیم نے اپنی کامیابی کی وجہ اپنے والد کو قرار دیا ۔ان کے والد نے ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی ہے اور وہ ماضی میں فوج میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ملک کا نام روشن کریں۔زارا نعیم نے کہا ’’میرے والد میرے لیے رول ماڈل ہیں، میں نے انہیں فوج میں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے دیکھا جس سے متاثر ہوکر میں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کی ‘‘۔اے سی سی اے میرا فطری انتخاب تھا، اکثر فوجی خاندان چند سالوں بعد دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں تو میں ہمیشہ سے جانتی تھی کہ مجھے ایک ایسی تعلیم کی ضرورت ہے کہ عالمی سطح پر کہیں بھی جایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس مفروضے کو ختم کرنا چاہتی تھیں کہ فنانس اور اکاؤنٹینسی مردوں کے لیے ہے۔اس امتحان میں 179 ممالک کیپانچ لاکھ سے زیادہ طلباء و طالبات نے حصہ لیا۔ زارا نعیم نے زبردست حوصلہ افزائی اور تعریف پر قوم کا شکریہ ادا کیا۔ کامیابی، تعلیم وتربیت اور حوصلہ افزائی کے لئے خاص طور پر اپنے والد کا شکریہ ادا کیا۔ زارا نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کہا کہ انہوں نے اپنے والد کو اپنے کیریئر کی بلندیوں پر اٹھتے دیکھا ہے اور اسی وجہ سے وہ ان کے لئے ایک اہم روشنی ہیں۔

’پاوری گرل‘ پشاور و اسلام آباد کی رہائش لڑکی دنانیر مبین کو ان کی وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد کہا جا رہا ہے۔انہوں نے 6 فروری کو سہیلیوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر کے بعد ایبٹ آباد کے قریب 5 سیکنڈ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔ویڈیو میں دنانیر کو دوستوں کے انگریزی انداز میں اردو میں’’یہ ہماری کار ہے ،یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پاوری (پارٹی) ہو رہی ہے‘ ‘کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔اب ’ہماری پاوری ہو رہی‘ کے دیس پردیس میں چرچے ہیں۔ انہوں نے اپنی شہرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’پاوری ہو رہی ہے‘ کے نام سے ٹی شرٹ فروخت کرنے کا کاروبار بھی شروع کیا۔دنانیر کی بہت زیادہ تعریفیں ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر سوالات ہو رہے ہیں کہ ’پاوری گرل‘ کے برعکس عالمی سطح کااے سی سی اے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرکے ملک کا نام روشن کرنے والی لڑکی زارا نعیم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔اے سی سی اے پاکستان نے زارا نعیم کی تصویر کو ٹوئٹ کرتے ہوئے 12 فروری کو بتایا کہ انہوں نے فنانشنل رپورٹنگ کے عالمی امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرکے گلوبل پرائز ونر کا اعزاز حاصل کیا۔وفاقی وزیر اسد عمر سمیت دیگر وفاقی وزرا اور اہم سرکاری عہدیداروں نے بھی زارا نعیم کی جانب سے نمایاں نمبرز کے ساتھ امتحان پاس کرنے پر انہیں مبارک باد دیتے ہوئے انہیں ملک کا فخر قرار دیا۔ زارا نعیم کی جانب سے ملک کا نام روشن کرنے پر انہیں سلام پیش کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے دونوں لڑکیوں کی شہرت کا موازکیا اور دعویٰ کیا کہ ’پاوری گرل‘ کے مقابلے زارا نعیم کو کم اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پورا ملک ’پاوری گرل‘ سے متعلق ہر چیز تک جان چکا ہے مگر دوسری طرف زارا نعیم ڈارسے متعلق کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں۔ زارا نعیم اور ’پاوری گرل‘ میں موازانہ کرنے کے بعد پاوری گرل دنانیر نے ایک ٹوئٹ کو شیئر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان دونوں کا موازنہ کرنا درست بات نہیں۔انہوں نے مختصر ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ اچھی بات ہے کہ ملک کی خواتین پر ان کے کام کی وجہ سے بحث کی جا رہی ہے مگر دونوں کا موازنہ کرنا درست نہیں۔

زارا نعیم کا کہنا ہے اپنی تعلیم پر توجہ دینے اور محنت سے ہر طالب علم بڑے سے بڑا امتحان پاس کرسکتا ہے بلکہ اپنا اور ملک کا نام روشن کرسکتا ہے۔’’ آپ فوکس ہوکر ،توجہ سے دن میں صرف دو گھنٹے بھی پڑھیں تو آپ کامیاب ہو سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کوئی خصوصی ٹیوشن حاصل نہیں کیا،کوئی کوچنگ نہیں ہوئی، کسی پروفیسر سے خصوصی تعلیم حاصل نہیں کی، مگر اپنے تعلیمی ادارے میں ہی کلاسیں لیں۔شروع سے اپنی پسند کے مطابق بزنس، اکاؤنٹنسی کا انتخاب کیا۔والدین نیکہہ دیا تھا جو اچھا اور آسان لگتا ہے ، جس کا شوق ہے ،وہ منتخب کریں، پھر انھوں نے تعاون کیا۔’’میں نے دن میں تین چار گھنٹے تعلیم پر فوکس کیا‘‘۔پینٹنگ اور میک اپ میں بھی زارا ڈار کی دلچسپی ہے تا ہم اپنی محنت اور پڑھائی پر توجہ دے کر زارا نے پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اے سی سی اے مکمل کرنے میں 10سال کا عرصہ دیا جاتا ہے، اسے مکمل کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ مگر زارا نے صرف دو سال میں فنانشل رپورٹنگ میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے گلوبل ایوارڈ حاصل کیا اور پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ ان کے اس ٹیلنٹ کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ نئی نسل کے لئے رول ماڈل بن سکتی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 230664 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
23 Feb, 2021 Views: 382

Comments

آپ کی رائے