اسلامو فوبیا اور میڈیا کا کردار

(Tahir Ayub Janjua, Jehlum)

 لفظ "اسلامو فوبیا" انگریزی زبان میں مستعمل ہے, اور دنیا کی بیشتر زبانوں میں اسلام سے خوف و دہشت کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے, اسلاموفوبیا کی اصطلاح کو گذشتہ چند دہائیوں سے بہت زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے اس سے یہ بے بنیاد مطلب بھی اخذ کرلیا گیا ہے کہ اسلام ایک متعصب دین ہے جو مار دھاڑ اور قتل و غارت گری پر مبنی عقائد و نظریات کا حامل ہے, اور یہ کہ نہ صرف یہ غیر مسلموں کے ساتھ ناروا سلوک اور رویہ روا رکھتا ہے بلکہ اس کے پیروکاروں کی طبیعت مزاج اور جذبات و احساسات میں سختی, درشتی اور شدت پسندی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ سب سراسر جھوٹ, تعصّب اور نفرت پر مبنی نہایت ہی بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈہ ہے, جو یقیناً اسلام جیسے مہذب, امن پسند, خلیق اور خوش اطوار مہذب کے خلاف دانستہ اور جان بوجھ کر پھیلایا گیا ہے۔ اور یقیناً اس میں تمام انسانیت کے دشمن فطری طور پر شیطانی و فسادی ذہنیت رکھنے والے عناصر کارفرما ہیں۔ جو اسلام کی امن پسندی اور صلح جوئی جیسی خاصیت سے صرف اس لیے خائف ہیں کہ یہ مذہب ان کی فطری جبلت یعنی فساد فی الآرض جیسی شیطانیت پر مبنی خواہشات و عادات پر خاص چوٹ کرتا ہے۔ اور تمام بنی نوع انسانیت کے لیے امن و آشتی اور سلامتی و عافیت سے مزین تعلیمات کا بھرپور سرچشمہ ہے۔ بھلا قدم قدم پر اور شعبہ زندگی کے ہر اک نصاب میں اخوت, بھائی چارے, اتحاد و یگانگت اور صلح جوئی کا پرچار کرنے والا مذہب دھشت و شدت کی کیسے حوصلہ افزائی کر سکتا ہے؟ بلاشبہ خطہ ارض پر موجود تمام ادیان کے غیر جانب دار حلقے اسلام کی اس غیر معمولی خاصیت کو نہ صرف مانتے ہیں, بلکہ اس کا برملا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ عرب کے لق و دق صحراؤں اور بے برگ و شجر میدانوں سے نکل کر آنے والا یہ مذہب آج اوسطاً دنیا کے آدھے سے زیادہ رقبے پر محیط اور دنیا کی 30 فیصد سے زیادہ آبادی پر مشتمل دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ایسے ہی نہیں بن گیا, اس کے پس پردہ محرکات میں انسانیت کی فلاح و بہبود, خدمت اور بنی نوع انسان کی رفعت و عظمت کی سینکڑوں داستانیں پوشیدہ ہیں, تاریخ گواہ ہے کہ پچھلے 1400 سو سالوں میں اپنے وقت کی بڑی بڑی عالیشان سلطنتیں بغیر جنگ و جدل کے فتح ہوئیں, فتح مکہ ہو یا محمد بن قاسم کا ہزاروں میلوں دور آ کر ہندوستان جیسے بڑے خطے کو اپنے حسن اخلاق اور نرم روئیے کی بنا پر قتل و غارت گری کے بغیر فتح کرنے کے واقعات ہوں, مسلمانوں کی اپنی قول و فعل کی سچائی, حسن اخلاق شائستگی اور نرم خوئی تاریخ کی کتابوں میں امر ہو کر رہ گئی ہے۔ اور اگر غیرجانبدارانہ اور باریک بینی سے اس کا مطالعہ کیا جائے تو بلاشبہ اسلام کا مثبت چہرہ کس قدر خوب صورت اور تاب ناک نظر آتا ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں میں کچھ نیم حکیم ملاؤں نے نادانستگی میں اس اسلامو فوبیا کے حامل تاثر کو پختہ کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور بلاشبہ ہماری صفوں میں آج بھی چند ایسے مفادپرست عناصر موجود ہیں جن کے دنیاوی طمع حرص, ہوس, لالچ یا کینہ پروری پر مبنی من مانی حرکات کے سبب دنیا کی انگلیاں ہماری طرف اٹھتی ہیں۔ لیکن شاید یہ مردہ دل عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور ان کی حرکات و سکنات یا عقائد و نظریات کا اسلام اور اسلامی تعلیمات سے کسی بھی طرح کی کوئی وابستگی یا تعلق بھی نہیں۔ لیکن یہاں بدقسمتی کا عالم دیکھیے کہ ان مٹھی بھر شرپسند عناصر کو جواز بنا کر گزشتہ کچھ دہائیوں سے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے, اور ان کے مذہبی جذبات و احساسات کو بری طرح مجروح کیا جا رہا ہے۔ اور اس بڑے المیے میں عالمی میڈیا کا کردار اب تک نہایت گھناؤنا رہا ہے, جو دانستہ یا نادانستہ یک طرفہ طور پر مبالغہ آرائی پر مبنی مواد کی اشاعت و ترویج میں پیش پیش ہے۔ جدید دور میں عسکری، معاشی اور علمی قوتوں کے ساتھ میڈیا بھی طاقت کا ایک بہت بڑا اور اہم ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ پہلے روایتی جنگیں مخصوص اوقات اور مخصوص مقامات پر مخصوص انداز سے لڑی جاتی تھیں، مگر آج کے دور کی جنگیں جدید اور منفرد طریقوں سے لڑی جا رہی ہیں۔ ان جنگوں میں جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ جدید میڈیا کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے۔ عسکری طاقت جہاں انسانوں کا وجود مٹانے کے لیے استعمال ہورہی ہے، وہیں میڈیا کی طاقت کو انسانی ذہن، سوچ اور عقائد بدلنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے نظریات اور خیالات تبدیل کرنے کے لیے میڈیا ایک ایسی جنگ مسلط کرتا ہے جن میں حقائق کی جانچ اور پرکھ مشکل ہوتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں آسٹریلیا کے پانچ بڑے نامی گرامی اخبارات میں ایک سال میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تقریبا تین ہزار سے زیادہ مضامین شائع ہوئے۔ جس سے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے نہ صرف مذہبی جذبات مجروح ہوئے بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منفی اور زہر آلود رویوں کی پرورش کی فضا بھی ہموار ہوئی۔ نیوزوِیک اور ٹائم نے اسلام کے بارے میں اپنے بیس اہم مضامین علیحدہ کر کے شائع کیے جن میں اکثر مواد اسلام کے خلاف تھا, اسی طرح امریکہ میں سال 2009 میں ایک رپورٹ The Roots of islamo" phobia ” کے نام سے شائع ہوئی, یعنی "اسلام سے نفرت کی جڑیں“ اس کے مطابق سات رفاہی تنظیموں نے 2001 سے 2005 تک 43 ملین ڈالر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے پر خرچ کیے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف 5 سالوں میں 206 ملین ڈالر 33 گروپس کو دئیے گئے تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد کو ہوا دیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہر نظریہ اور عقیدہ کے ماننے والے کرتے ہیں، تاہم اس سلسلے میں عالمی میڈیا کی بددیانتی کا عالم دیکھیے کہ میڈیا پر مذہبی پس منظر صرف اس وقت بیان کیا جاتا ہے جب کوئی ملزم یا مجرم مسلمان ہوتا ہے۔ اگر یہی شخص کسی دوسرے مذہب کا ماننے والا ہو تو اس کی مذہبی شناخت کے بغیر صرف اس کے جرم بتایا جاتا ہے۔ اور اس کی مذہبی وابستگی پر کسی قسم کا کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا, اب اس کی مثال یوں لیجیے کہ دسمبر 2014ء میں امریکا کے سینڈی ہوک ایلیمنٹری اسکول، نیو ٹاؤن میں حملہ آور سفید فام کیتھولک عیسائی تھا اور اس نے 20 بچوں کو قتل کیا، لیکن میڈیا نے اس کی مذہبی شناخت اور پس منظر بیان کرتے ہوئے آج تک کبھی کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ اب یہاں اس بات کا ایک اور زاویے سے بھی اندازہ لگایا جانا ضروری ہے کہ یہ میڈیا ہاؤسز کسی مسلمان حملہ آور کے ساتھ مذہب کو تو نتھی کرتے ہی ہیں, لیکن ساتھ یہ کبھی نہیں بتاتے کہ اس مسلمان حملہ آور کے حملے کا شکار دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ساتھ خود عام مسلمان بھی بنتے ہیں۔ مثلاً پیرس میں داعش کا حملہ ہوا تو اسی روز بیروت میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا جس میں جاں بحق ہونے والے 43 افراد مسلمان تھے۔ لیکن یہاں صحافتی خیانت یہ ہوئی کہ بیروت حملے کو رسمی کووریج تو ضرور ملی, لیکن اس کی تشہیر ان سطحوحات پر نہ کی جا سکی جو پیرس میں ہونے والے حملوں کی تھی اور دوسری بات یہ کہ پیرس کے حملوں میں بار بار یہ بتایا جاتا رہا کہ حملہ آور مذہب اسلام کے پیروکار تھے لیکن بیروت کے مرنے والوں تک کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ اسلام کے ماننے والے تھے۔ ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلاموفوبیا کا سب سے بڑا محرک مغربی میڈیا ہے, جو اپنے تمام اصول و ضوابط اور پیشہ وارانہ قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال کر ایک مخصوص سوچ اور نظریے کی ترویج میں پیش پیش ہے, یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ کبھی مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کریم کو سرعام جلایا جاتا ہے اور کبھی ان کی جانوں سے قیمتی ناموس رسالتﷺ پر حملے کا شیطانی وار کیا جاتا ہے, اور بلاشبہ اسلامو فوبیا بھی اسی جانب دار میڈیا کا پھیلایا ہوا زہر ہے, جو نیوزی لینڈ کی پرامن مسلمان کمیونٹی کی ایک مسجد میں ایک سفید فام دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ کو جدید اسلحے کے ساتھ داخل کرتا ہے اور وہ دن دیہاڑے نہتے نمازیوں پر فائرنگ شروع کردیتا ہے۔ اس کی نفرت کی انتہا دیکھیے کہ وہ یہ سب کچھ فیس بک پر براہ راست ریکارڈ کر کے ساری دنیا کو دکھا بھی رہا ہوتا ہے, جس میں وہ 3 سال کے معصوم بچے سے لے کر ساٹھ‘ ستر سالہ بزرگ افراد تک‘ سب کو سرعام جدیا آتشیں اسلحے سے اپنی بربریت کا نشانہ بناتا ہے۔ لیکن نہ تو اس سے اس کی مذہب پر کوئی حرف آتا ہے اور نہ ہی اسے مذہبی شدت پسند جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہی وہ المیہ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے, اور اللہ نہ کرے کہ مزید یہ سب ایسے ہی چلتا رہے, ورنہ آج کی دنیا ایک بار پھر کسی بڑے عالمی سانحے سے دوچار ہو سکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی اس خطرے کو بھانپتے ہوئے برملا اس امر کا اقرار کیا اور کہا کہ "مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اسلامو فوبیا کا خاتمہ اقوام متحدہ کی پہلی ترجیح ہے" وہ اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ اس کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہئے کیونکہ یہ عالمی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ انہوں نے یہ بات اسلامی ممالک کی تنظیم کے اقوام متحدہ میں رکن ممالک کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ayub Janjua

Read More Articles by Tahir Ayub Janjua: 21 Articles with 5932 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Mar, 2021 Views: 60

Comments

آپ کی رائے