ہمارا نظام تعلیم کیسا ہونا چاہیے؟

(Allah Bakhash Fareedi, Faisalabad)
تعلیم نام ہے ایک نسل کی دوسری نسل کو اپنی تجربات ، احساسات ، نظریات اور نتائج منتقل کرنے کا۔ ایک نسل دوسری نسل کو جو آداب زندگی اور ذہنی وراثت منتقل کرتی ہے اسے عرف عام میں تعلیم کی نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اب ایک نسل دوسری نسل کو اپنی تجربات ، نظریات و حقائق اور نتائج اعمال کیسے منتقل کرے؟ منتقلی تعلیم کی اصول وضوابط اور معیار کیا ہونا چاہیے؟


مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
مروت حسن عالمگیر ہے مردان غازی کا
شکایت ہے مجھے یا رب ! خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
٭٭٭٭٭
تعلیم نام ہے ایک نسل کی دوسری نسل کو اپنی تجربات ، احساسات ، نظریات اور نتائج منتقل کرنے کا۔ ایک نسل دوسری نسل کو جو آداب زندگی اور ذہنی وراثت منتقل کرتی ہے اسے عرف عام میں تعلیم کی نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اب ایک نسل دوسری نسل کو اپنی تجربات ، نظریات و حقائق اور نتائج اعمال کیسے منتقل کرے؟ منتقلی تعلیم کی اصول وضوابط اور معیار کیا ہونا چاہیے؟ اس کا قرآن کریم میں ایک متصدقہ طریق موجود ہے۔ اس کا اسلوب قرآن کریم یوں سےکھا رہا ہے کہ ایک باپ زندگی بھر اپنی اولاد کی اچھی سے اچھی تربیت کرے اور زندگی کے آخری لمحات میں بھی جب دنیا سے رخصت ہونے لگے تو یاد دہانی اور وصیت کے طور پر ان کو دہراتا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک حکیم و دانا باپ کی اپنی بیٹے کو تعلیم، تربیت، تجربات اور نتائج منتقل کرنے کے طریق کو پسند فرماتے ہوئے اسے قرآن کریم کی زینت بنا کر قیامت تک آنے والے انسانوں کیلئے یہ پیغام اور سبق چھوڑ دیا تاکہ وہ تعلیم کی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقلی کے اس طریق سے فائدہ اٹھاکر اپنا سماج درست کر سکیں۔ قرآن کریم نے اس پر مہر تصدیق ثبت فرما دی کہ اگلی نسلوں کو تعلیم منتقل کرنے کا یہی طریق سب سے معیاری اور افضل و اعلیٰ ہے۔ اگر تم اگلی نسلوں کو اعلیٰ اور بااخلاق و بامقصد تعلیم منتقل کرنے کے خواہاں ہو تو یہی طریق اختیار کرو۔
منتقلی تعلیم کے قرآن سے متصدقہ اصول:
منتقلی تعلیم کا یہ طریق اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا معیار اور دائرہ کار بھی بالترتیب واضح کر رہا ہے کہ نظام تعلیم کا سب سے پہلا معیار اور دائرہ کار انسانی قلوب و اذہان اور عقائد کی درستگی کا ہونا چاہیے۔ قرآن کریم کی رو سے ایک باپ اپنے بیٹے کو، ایک نسل دوسری نسل کو جو تعلیم منتقل کر رہی ہے اس کا پہلا باب یہ ہے کہ
يَا بُنَىَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّـٰهِ ۖ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِـيْمٌ
” اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ یقین جانو شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ “
یعنی ایک اچھے نظام تعلیم کا سب سے پہلا دائرہ کار اور لائحہ عمل اللہ کریم کی واحدنیت انسانی قلوب و اذہان میں بٹھانے کا ہونا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، اس کے فرشتوں اور یوم حساب پر پختہ یقین کا ہونا چاہیے کہ ایک دن سب کو اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
نظام تعلیم کا دوسرا ضابطہ اور دستور اللہ کریم کے علام الغیوب، علیم و خبیر ہونی پر یقین ہونا چاہیے کہ صرف وہی ذات تمام علوم کی اصل ہے، اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے ، کائنات کی کوئی چیز اس کے علم سے چھپی نہیں ہے، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے، کوئی انسانی عمل، کوئی جنبش، کوئی ذرہ بھر حرکت اور دلوں میں پیدا ہونے والا خیال و تصور بھی اس کی ذات سے پوچھیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ دنیا کا کوئی بھی علم اس کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا ہے۔ صرف وہی ایک ذات قادر مطلق ہے اور تمام علوم کی بنیاد ہے اور ہمیں دنیا میں سبھی علوم کے حصول کیلئے صرف اسے ایک ذات سے لگاو اور وابستگی رکھنی ہے۔
يَا بُنَىَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَـتَكُنْ فِىْ صَخْرَةٍ اَوْ فِى السَّمَاوَاتِ اَوْ فِى الْاَرْضِ يَاْتِ بِـهَا اللّـٰهُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْـر
”اے بیٹے! اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو پھر وہ کسی پتھر کے اندر چھپا ہو یا وہ آسمان کے اندر ہو یا زمین کے اندر ہو تب بھی اللہ اس کو حاضر کر دے گا، بے شک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔“
حکیم لقمان رحمہ اللہ جو تعلیم و تربیت کا دوسرا پہلو اپنی بیٹے کو منتقل کر رہے ہیں وہ یہ کہ اس کا یقین رکھا جائے کہ آسمان وزمین اور اس کی اندر جو کچھ ہے اس کے ایک ایک ذرہ سے اللہ جل شانہ کی ذات اچھی طرح سے واقف ہے، کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں ، ہر چیز اس کے دائرہ قدرت و اختیار میں ہے۔ ہر چیز اس کے پختہ دسترس میں ہے۔ کوئی چیز کتنی بھی چھوٹی سے چھوٹی ہو جو عام نظروں میں نہ آسکتی ہو، اور خواہ وہ کتنے اندھیروں اور پردوں میں چھپی ہو وہ اللہ تعالیٰ کے علم ونظر سے چھپی نہیں رہ سکتی۔ غرضیکہ ہم دنیا کے کسی بھی میدان میں ہوں، تجارت کررہے ہوں، کاروبار کر رہے ہوں، درس وتدریس کی خدمات انجام دے رہے ہوں، ملازمت کررہے ہوں، محنت مزدوری کر رہے ہوں یا کئی اور ذرائع سے قوم وملت کی خدمت کر رہے ہوں، ہمیں اس بات کا کامل یقین ہونا چاہیے کہ کائنات کو پیدا کرنی والا ہماری زندگی کے ایک ایک لمحہ سے پوری طرح باخبر ہے اور ہمیں مرنے کے بعد اس کے سامنے کھڑے ہوکر زندگی کے ایک ایک پل کا حساب دینا ہے۔ اگر ہم نے کسی سے چھپ کر رشوت لی ہے، کسی پر زیادتی کی یا کسی شخص پر ظلم کیا ہے یا کسی غریب کو ستایا ہے یا کسی کا حق مارا ہے تو ممکن ہے کہ ہم دنیا والوں کی نظروں سے بچ جائیں لیکن اللہ تعالیٰ کی نظروں سے نہیں بچ سکتے، ہمیں اس کی بارگاہ میں ضروراس کا حساب دینا ہوگا۔
صرف رب پر ایسا یقین رکھنا ہی د نیا بدل سکتا ہے ، دنیا سنوار سکتا ہے کہ وہ ہمیں ہر جگہ، ہر گھڑی ، ہر پل، ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔ رب پر ایسے یقین سے دنیا امن و سکون، اور خیر و سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے اس لئے ایک معیاری نظام تعلیم و تربیت میں اس کو دوسری نمبر پر جگہ دی گئی۔ اگر خدا پر ایسا یقین نظام تعلیم کا حصہ نہیں ہو گا تو زندگی ضرور تاریک ہو گی اور معاشرہ تاریک کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غرق ہو گا اور دنیا میں امن و سکون نہیں ہو گا جیسا کہ آج ہے۔
اب عقائد و یقین کی درستگی کے بعد ایک اچھے نظام تعلیم کا اگلا دائرہ کار عمل سے شروع ہوتا ہے اور اعمال میں سب سے پہلے نماز ہے۔
يَا بُنَىَّ اَقِمِ الصَّلَاةَ
اے میرے بیٹے! ہمیشہ نمازقائم رکھنا۔“اس کو کبھی نہ چھوڑنا یہ انسان کو عوج کامل تک پہنچانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے ، اس کے بغیر انسان رب تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔ “
نظام تعلیم کا چوتھا دائرہ کاراصلاح معاشرہ کی کوشش اور تربیت کا ہونا چاہیے۔ ہر شخص کے اندر یہ خوبی اور واصف ہونا چاہیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی ساتھ معاشرہ کی اصلاح کی کوشش میں لگا ہو۔ کوئی معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرنے والا نہ ہو، سبھی سنوارنے والے ہوں۔ سبھی نیک کاموں کی تلقین کرنے والے اور برے کاموں سے منع کرنے والے ہوں۔ یعنی معاشرہ کا ہر شخص معلم ہو، ساری امت کی سعی و حرکت اور دوڑ دھوپ کا محور دعوت الی الخیر، امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہونا چاہیے ۔ اسی لیے حکیم صاحب جو تعلیم کا چوتھا مرحلہ منتقل فرما رہے ہیں وہ یہ کہ
وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ
بیٹے! لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے رہنا اور برے کاموں سے، بری باتوں سے منع کرتے رہنا۔
نظام تعلیم میں یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ طلباء کے دل نیکیوں پر جما دے اور برائیوں سے پھیردے۔ برائیوں کے خلاف طلباء کے دلوں میں نفرت بھر دے۔ ایسا نظام تعلیم ہو جو طلباء کے دلوں میں تقویٰ بٹھا دے، خدا کے خوف سے بھردے۔ صرف ایسا نظام تعلیم ہی ایک پرہیزگار معاشرہ وجود میں لا سکتا ہے۔ صرف ایسا نظام تعلیم ہی ایک پاکیزہ اورپرسکون معاشرہ کی بنیاد رکھے گا ۔ جس میں لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں گی۔ ایک پاکیزہ بھائی چارہ قائم ہو گا۔ ایک اسلامی اخوت ہوگی، سب لوگ ایک جسدِ واحد کی طرح ہوں گی، کوئی ان میں تفریق نہیں کر سکے گا۔
نظام تعلیم کی پانچویں خوبی یہ ہونی چاہیے کہ وہ طلباء میں تحمل، برداشت اور صبر پیدا کرے اور اگر کوئی ان کو گالی دی تو وہ جواب میں دعا دیں۔ تکلیف پر صبر کریں، لڑائی جھگڑا ، تکرار وفضول بعث سے معذرت کرنے والے ہوں۔ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرنا ایسا عمل ہے کہ اس کی پابندی میں خاصی مشقت و برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اس پر ثابت قدم رہنا آسان نہیں ہوتا خصوصاً امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی خدمت کا صلہ دنیا میں عموماً عداوتوں اور مخالفتوں سے ملتا ہے اس لئے قرآن کریم کی رو سے حکیم صاحب تعلیم منتقل کرتے ہوئے پانچواں نقطہ یہ اٹھا رہے ہیں کہ
وَاصْبِـرْ عَلٰى مَآ اَصَابَكَ ۖ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ
دین پر چلنے اور اس کو دوسروں تک پہنچانے میں جو مشکلات سامنے آئیں ان پر صبر کرنا، بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے( خدا کے ہاں اس کا بہت بڑا اجر ہے) ۔
نظام تعلیم کا چھٹا وصف، چھٹی خوبی یہ ہونی چاہیے کہ وہ طلباء کو حسنِ گفتار سیکھائے۔ لوگوں سے بات کرنے کے آداب سیکھائے۔ لوگ ایک دوسرے سے تمیزسے بولیں، ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ ایک دوسرے سے حسن اخلاق اور رواداری سے پیش آئیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بغض نہ رکھیں۔ تعصب و عصبیت کا شکار نہ ہوں۔ منتقلی تعلیم کا یہ وصف بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ نیکی کی دعوت اور معاشرہ کی اصلاحِ کار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی تعلیم ، کوئی تربیت مکمل نہیں ہوسکتی ہے، نہ کوئی معاشرہ اس کے بغیر تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ اسی لئے اللہ کریم نے ایک باپ کی اپنے بیٹے کو تعلیم کی منتقلی میں نمایاں ذکر فرمایا اور وصیت فرمائی۔
وَلَا تُصَعِّـرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر،لوگوں کی سامنے (تکبر و غرورسے) اپنی گال مت پھیلا۔ یعنی لوگوں سے ملاقات اور ان سے گفتگو کے وقت ان سے منہ پھیر کر گفتگو نہ کرو جو ان سے اعراض کرنے اور تکبر کرنے کی علامت اور اسلامی اخلاقِ عالیہ کے خلاف ہے۔
قرآن کریم سے ساتویں نصیحت جو منتقلی تعلیم کے وقت آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ
وَلَا تَمْشِ فِى الْاَرْضِ مَرَحًا ۖ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ
اور زمین پر اتراتے ہوئے (اکڑ کر فخر، کبر اور غرور) سے مت چلو، یقین رکھو! اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔
اگر تو پڑھ لکھ کر دنیا میں بڑا آدمی بن جائے، بڑا افسر بن جائے، بڑا ڈاکٹر و انجینئر ہو جائے، بڑا مالدار ہو جائے، مربعوں،بنگلوں، کوٹھیوں والا بن جائے، بڑی حیثیت اور اثر و رسوخ والا ہو جائے تو لوگوں کے سامنے فخر، غرور و تکبر نہ کرتے پھیرنا۔ معاشرے کے غریب و نادار لوگوں کو حقیر و کمتر نہ سمجھنے لگ جانا، کسے کو کمی کہہ کر نہ پکارنا بلکہ عاجزی اختیار کرنا اور رب کا شکر ادا کرتے رہنا اور اپنی حیثیت کو لوگوں کی خدمت پر معمورکر دینا یہی افضل ترین عبادت ہے۔
زمین کو اللہ تعالیٰ نے سارے عناصر سے پست افتادہ بنایا ہے، یہ سب کے قدموں کے نیچے ہے، ہم اسی سے پیدا ہوئے، اسی پر پرورش پاتے ہیں، اسی پر چلتے پھرتے ہیں، اسی سے کھاتے پیتے ہیں اور مرنے کے بعد اسی میں دفن ہو جانا ہے۔ لہٰذا اپنی حقیقت کو پہچانو، اِتراکر نہ چلوجو متکبرین کا طریقہ ہے جسے اللہ کریم ہرگز پسند نہیں فرماتے ہیں۔
نظام تعلیم کی آٹھویں خوبی یہ ہونی چاہیے کہ وہ طلباء کو میانہ روی کا درس دے، اعتدال سیکھائے، بچت کے طور طریقے سمجھائے تاکہ وہ ان کی عملی زندگی میں ان کی کام آئے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں ، ہر معاملہ میں میانہ روی یعنی درمیانی راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرے کیونکہ یہ دنیا میں ایک کامیاب و کامران زندگی گذارنے کا بہت اہم دستور ہے۔ اسے لئے قرآن کریم سے منتقلی تعلیم کے وقت اس اہم نصیحت کا آنا یہ واضح کرتا ہے کہ یہ نظام تعلیم کا ایک بہت اہم ستون ہے اس کے بغیرنہ تعلیم مکمل ہو سکتی ہے نہ تربیت اور نہ انسان اس کے بغیر دنیا میں کامیابیوں کو سمیٹ سکتا ہے۔
وَاقْصِدْ فِىْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۚ اِنَّ اَنْكَـرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَـمِيْـر
اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز کو آہستہ رکھ بیشک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے ( یعنی گدھوں کی طرح اونچا نہ بولا کر جو بہت ناپسندیدہ ہے)۔
اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر، یہاں چال سے مراد صرف پیدل چلنے والی چال نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ کا چال چلن مراد ہے کہ انسان کو زندگی کے ہر شعبہ میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، درمیانی راستہ اپنانا چاہیے۔ اگر چل رہا ہے تو زیادہ تیز نہ چلے کہ بھاگنے کے قریب ہو اور نہ اتنا آہستہ چلے کہ سستی میں داخل ہوجائے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص جماعت کی نماز کو حاصل کرنے کیلئے بھاگا جارہا ہو تو اس کو بھی رسول اکرم ﷺ نے بھاگنے سے منع فرما کر اطمینان وسکون کے ساتھ چلنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اگر بول رہا ہے تو زیادہ تیز اور اونچا نہ بولے کہ وہ گدھوں کی آواز کے قریب پہنچ جائے جو بہت ناپسند کی جاتی ہے۔ اگر کوئی سخاوت کر رہا ہے، صدقہ و خیرات کر رہا ہے، لوگوں کی مالی معاونت کر رہا ہے تو اسے بھی میانہ روی کا درس دیا گیا ہے وہ اتنا زیادہ بھی ہاتھ نہ کھول دے کہ خود محتاج ہو کر بیٹھ جائے۔
تعلیم کے متعلق مشہور ہے کہ یہ آداب ِ معاشرت سکھاتی ہے اور یہ جو قرآن کریم میں اگلی نسلوں میں تعلیم منتقل کرنی کے جو اصول بتائے جا رہے ہیں یہ سارے کا سارا آدابِ معاشرت ہی سے متعلق ہیں۔ تعلیم دراصل کسی قوم کی مادی و روحانی زندگی کی روح رواں ہوتی ہے۔ جتنا کسی قوم کا نظام تعلیم مضبوط ، مستحکم اور دینی اصولوں سے ہم آہنگ، جاندار و قوی ہوگا وہ قوم اتنی ہی مضبوط اور طاقتور ہو گی اور ترقی ، کامیابی و کامرانی کے اعلیٰ مدارج پر فائز ہوگی۔ دینی طرز حیات ہی قوموں کو عروج و کمالات عطا کرتی ہے۔ اپنی اقدارو روایات سے ہٹ کرپست معیار تعلیم ، ناقص تعلیمی نظام اور کھو کھلا تدریسی اندازقوم کو پستیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ جتنا کسی قوم کا نظریہ حیات مستحکم ہوگا اتنا ہی وہ اپنی تعلیم کوروشن روایات عطا کرسکی گی ۔
علم کو انسان کی تیسری آنکھ‘ کہا جاتا ہے۔ انسان کو اپنے مقصد حیات، مقصد تخلیق، سچائی کی پہچان، حقائق کا ادراک اور معاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ علم ہی کی ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز بھی یہی ہے۔ تعلیم کی اہمیت سے واقف ہونے کے باوجود ہماری ہاں آج تک یہ طے نہیں کیا جا سکا کہ ہمارا نظام تعلیم کیسا ہونا چاہیے؟ ہمارا نصاب کیسا ہو؟ ہم اپنے مستقبل کے معماروں کو کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ ہمارے مقاصد کیا ہیں ؟
اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان کا نظام ِ تعلیم:
پاکستان کیونکہ ایک اسلامی فلاحی نظریاتی مملکت ہے اور اس کا پورا معاشرتی ڈھانچہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اسلامی اقدارو روایات ، ضابطہ حیات پر استوارہوتا اور نظام تعلیم میں قرآن وسنت کو مرکزیت دی جاتی۔ کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پروجود میں آیا اور اس کے قیام کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ہم پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے اور اس میں ایک حقیقی اسلامی فلاحی نظام حیات کی بنیاد رکھیں گی مگر افسوس کہ پچھتر سال گزرجانے کے باوجود ہم اپنے مقاصد کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔
امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے کہ ۔”جو قوم ارادے کی پکی ہو وہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتی ہے۔“
مگر ہم اپنے وعدوں اور ارادوں پر کاربند نہ رہ کر دنیا کی مرضی کے مطابق ڈھل گئے۔ آج دنیا ( یہودی اور عیسائی) ہمیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھال رہے ہیں جدھر چاہتے ہیں لے جاتے ہیں ہم اندھوں کی طرح ان کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ کسی قوم کا نظام تعلیم دراصل اس بات کا غماز ہوتا ہے کہ وہ قوم زندگی کے مختلف پہلوﺅں ( آزادی و غلامی) میں سے کون سے پہلوﺅں کو ترجیح دیتی ہے۔ ہم نے بظاہر آزادی تو حاصل کرلی مگر اپنے ضمیر کو اہل مغرب کی غلامی میں دے دیا۔ مملکت خداداد ِ پاکستان کے قیام کے فورا ً بعد اس بات کا حتمی طور فیصلہ ہوجانا چاہیے تھا کہ انگریزی نظام تعلیم کے بعد ہمیں کیسی تعلیم رائج کرنی ہے، کیسا نظام لانا ہے، کیسے قوانین واضح کرنے ہیں۔ کیونکہ انگریزی نظام تعلیم کا مقصد طلباء کو دینی و معاشرتی اسلوب سیکھانا اور ان پر کاربند رکھنا تو ہرگز نہیں تھا بلکہ وہ دین سے دوری تھا۔ اور دین جو دنیا میں غور و خوض اورفکر و تسخیر کی دعوت دیتا ہے اس سے تو مسلم طلباء کو بالکل بہرہ کرنا ان کا مقصود تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ نہ ہی انگریزی نظام تعلیم کا مقصد طلباء کی تخلیقی و تکنیکی صلاحیتوں کو ابھارنا اور اختراعی انداز فکر پیدا کرنا تھا۔ انہیں تو صرف منشیوں اور کلرکوںک ی ضرورت تھی ، ڈاکٹروں ، سائنسدانوں ، انجینئروں و غیرہ کی نہیں ۔ لہٰذا انگریز کے لائے ہوئے انداز تعلیم نے صرف کلرک پیدا کیے نہ کہ ماہرین فنون۔ مگر ایک حقیقی اسلامی فلاحی نظریاتی مملکت (پاکستان ) کے بن جانے کے بعد انگریز کے لائے ہوئے نظام تعلیم میں پیوندکاری کرکے اسے جوں کا توں رہنے دیا گیا جس سے نہ تو طلباء میں تخلیقی وتکنیکی اور ارتقائی استعدادیں ابھریں اور نہ ہی اختراعی انداز فکر پیدا ہوا اور نہ معاشرتی آداب سے روشناس ہو پائے۔
یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم اپنی مقصد ِ آزادی کو حاصل نہ کر سکے۔ لوگ مسلمان تو ہیں مگر اسلام سے بے بہرہ ہیں۔ لوگ اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ پر ایمان کے تو دعویدار ہیں مگر ایمانیت سے عاری ہیں ۔ لوگ قرآن و سنت کے تو پرزور داعی ہیں مگر ان کے چہروں سے انگر یز کی سنت نمودار ہے بلکہ قوم ان کی آندھی تقلید کی طرف جا رہی ہے۔ انہیں کچھ پتہ نہیں کہ سنت کیا چیز ہے؟ ایمان کیا چیز ہے؟ اوراسلام کیا چیز ہے؟ اسلام کا نظریہ حیات کیا ہے؟ اسلام کے اقدارو روایات، عقاہد و نظریات، اخلاقیات اور اصول وضوابط کیا ہیں؟ اسلام میں اخلاق و اطوار اورتہذیب و تمدن کے کیا اطوار ہیں؟ اسلام کے معاشرت، معیشت، سیاست و عدالت کے کیا اصول ہیں؟ اسلام میں عفت وعصمت ، شرم و حیاء اور پردے کی کیا اہمیت ہے؟ اسلام میں دوستی اور دشمنی کے کیا اصول ہیں ؟اسلام کا نظام مملکت کیسا ہونا چاہیے؟ اسلام میں صلح وجنگ اور بین الاقوامی تعلقات کی کیا صورتیں ہیں؟
عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کی تعلیم ایم اے ، بی اے تک ہوتی ہے، ماسٹر ڈگریز ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں مگر وہ قرآن مجید کو اچھی طرح روانی سے نہیں پڑھ سکتے، اس کے تدوین و تلفظ کو صحیح ادا نہیں کر پاتے، اس کی آیات کے صحیح مفہوم و مقصد کو نہیں سمجھ سکتے۔ ہمارے سکول و کالجز میں حتی کہ یونیورسٹیز میں بھی دین کی تربیت و رغبت کا کوئی اہتمام ہی نہیں ہے۔ کوئی طالب علم نماز پڑھے نہ پڑھے کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ ہماری ہاں کلاسوں میں واحد اسلامیات کا پریڈ ایسا ہے جسے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتا اور ہوتا بھی سب سے آخر میں لاوارث و ناتواں۔ نہ کوئی پوچھنے والا، نہ کوئی اس کا پابند۔ دینی بیخ کنی کی ساری صورت حال سکول و کالجز میں دیکھ چکا ہوں۔ ہمارے ہائی سکول میں اسلامیات کا پریڈ تفریح کے بعد آخر میں ہوتا تھا اور اکثر بچے تفریح کے وقت غائب ہو جایا کرتے تھے کہ آگے کوئی اہم پریڈ نہیں ہیں۔ باقی مضامین پہلے اور دین سب سے آخر میں۔ آٹھ، دس ایکڑ رقبہ پر پھیلے ہائی سکول میں ایک وسیع کھیل گراونڈ کے ایک کونے پر ایک چھوٹی سی نہایت تنگ اور خستہ حال مسجد تھی جس میں بمشکل پندرہ سے بیس نمازی سما سکتے تھے اور وہ بھی نماز ظہر کے وقت جو تفریح کی دوران ادا کرتے تھے آدھی خالی ہوتی تھی۔ دو تین اساتذہ اور چند طالب علم۔ مسجد کی ساتھ ملحق کھیل گراونڈ جو دو سے تین ایکڑ رقبہ پر محیط تھا، کڑکتی دھوپ میں بھرا ہوتا تھا۔ مسجد کے سائز اور گراونڈ کے سائز سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم بچوں کو دین کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں یا کھیل کود، لہو ولہب کی طرف؟ گراونڈ کی صفائی ستھرائی اور مینٹینس کا اس قدر سختی اہتمام تھا کہ ہر ہفتے اسے باقاعدہ پانی لگوایا جاتا، ہر دوسرے تیسری روز اکثر پورے سکول کے بچوں کو گراﺅنڈ میں چھوڑ دیا جاتا یا کبھی پی ٹی ماسٹر کوئی ایک کلاس لے لیتا ہے اور پورے گراونڈ کے چکر لگواتا کہ کوئی گندگی، روڑا، تنکا پڑا ہے تو اٹھا کر باہر پھینک دیں مگر کبھی کوئی کلاس مسجد کی صفائی کیلئے نہیں بھیجی گئی تھی۔ جو طالب علم سکول آ کر پی ٹی کے پریڈ سے غیر حاضر ہوتا اسے سخت مار پڑتی مگر مسجد سے پورا سکول ہی غیر حاضر ہوتا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، کوئی احساس دلانے والا نہیں تھا۔ اُس دور میں جب میں وہاں زیر تعلیم تھا وہ مسجد نہایت خستہ حال تھی۔ میرے کچھ عرصہ بعد وہ شہید کر دی گئی جو کئی سال گزر جانے کے باوجود آج بھی کھڑی نہیں ہو سکی۔ اس کے بعد سکول میں تو بہت تبدیلیاں دیکھتے ہیں، وہاں بہت کچھ بنا سنورا، اگر کچھ نہیں بن سکا تو وہ ایک مسجد جس کی ہم جیسے مسلمانوں کو، ہمارے سسٹم کو، ہمارے تعلیمی نظام کو ضرورت ہی نہیں۔
ہم نے سکول میں کھیل کود کیلئے سب سے با اثر اور رعب دار پی ٹی ماسٹر تو رکھ لیا مگر دین دار، دین کا ماسٹر ایک نہ رکھ سکے کہ وہ بچوں کو دین سیکھاتا، بچوں سے دین کے معاملہ میں جواب طلب کرتا اور پانچ وقت کی نماز کا ریکارڈ لیتا، جو سختی سے نماز کی پابندی کا سوال کرتا، سکول میں نماز کے وقت تمام بچوں کو مسجد لا حاضر کرتا۔ کیا کبھی ہمارے نظام اور اس کے بنانے والوں نے کبھی یہ سوچا کہ سکول میں پی ٹی کی کیا ضرورت ہے؟ اگر پی ٹی نہ ہو تو کیا نقصان ہوتا ہے؟ اس کے برعکس جو نقصان ہو رہا ہے اس کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں جاتی ہے۔ اگر وہ نقصان ہو رہا ہے تو دین کا ہو رہا ہے، اخلاقیات کا ہو رہا ہے مگر ہمارے نظام کو اس سے کیا مطلب؟
ہم معاشرہ میں دیکھتے ہیں کہ بچے گلی محلوں میں آوارہ کھیل کود رہے ہوتے ہیں اور بعض چلتے پھرتے گانوں کے رٹ لگا رہے ہوتے ہیں۔ ان کے ذہن میں کھیل کود ، لہو و لہب کے علاوہ کوئی خیال نہیں، کوئی فہم نہیں ، کوئی تدبر نہیں۔ یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ اذان کی آواز آئی اور سب بچے مسجد کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ اس کے برعکس اگر کوئی مداری آ کر آواز لگائے تو پورے محلے کے بچے بھاگے آئیں گے۔ یہ اس کی عکاس ہے کہ ہم نے، ہمارے سسٹم نے، ہمارے نظام تعلیم نے، ہماری تربیت گاہوں نے بچے کے ذہن میں نماز اور مسجد کا نقش بٹھایا ہی نہیں ہے۔ ہم نے بچے کو نماز اور مسجد کی ترغیب ہی نہیں دی۔ ہم نے، ہمارے سسٹم نے بچوں کو جو سیکھایا ، جو ترغیب دی وہ معاشرہ کی مجموعی صورت حال سے ظاہر ہے۔ یہ قصور بیچاری عوام کا نہیں، والدین کا نہیں بلکہ ہمارے فرسودہ نظام تعلیم کا ہے، ہمارے سسٹم کا ہے اور ان کا جنہوں نے اسے ترتیب دیا اورجنہوں نے اس کے نفاذ میں حمایت کی اور ان حکمرانوں کا جنہوں نے اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے ساتھ دھوکا کیا اوران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے کہ ہم آزاد ہونے کے بعد پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی مملکت کے طور پر متعارف کروائیں گے مگر پچھتر سال گزرجانے کے بعد بھی اپنے ان وعدوں کی تکمیل نہ کرسکے۔ ہم ابھی تک وہیں کھڑے ہیں، بلکہ اس وقت کی صورت حال سے بہت گراوٹ میں چلے گئے جو آزادی کے وقت تھی۔ جو دین سے رغبت آزادی کے وقت تھی آج نہیں ہے۔
آزادی کے وقت لوگوں کے ذہن میں دین کی رغبت تھی ، ایک خواب تھا کہ ہم ایک آزاد دینی ریاست میں جا رہے ہیں، ایک فلاحی اسلامی ریاست ہو گی جہاں ہم کھل کر دینی فرائض کی ادائیگی کر سکیں گے۔ لوگوں نے اس دینی ریاست، اس دینی رغبت کو پانے کے لئے جانیں قربان کیں، اپنی جائیدادیں چھوڑیں، اپنے گھر بار، مال و متاع چھوڑ کر بھاگے آئے کہ ایک آزاد دینی ریاست بن رہی ہے۔ مگر افسوس کہ دین کے نام پر ریاست تو بن گئی مگر دین کا کچھ نہ بن سکا۔ ہم نے ، ہمارے حکمرانوں نے لوگوں کو ایسا سسٹم دیا، ایسا نظام دیا کہ اس نے لوگوں سے وہ دینی رغبت ہی چھین لی جس کے لئے انہوں نے مصیبتیں سہیں، تکلیفیں برداشت کیں، اپنوں کی قربانیاں دیں، مال و متاع چھوڑے۔ اس دین کے نام پر بنی ریاست کے حکمران خدا کے کٹھہرا عدالت سے کبھی چھوٹ نہیں پائےں گے۔
یہ ہمارے ملک، ہمارے معاشرہ اور بنیادی تربیت گاہوں ( سکول و کالجز اور یونیورسٹیز) کی عکاسی ہے کہ ہم بچے کی تربیت اور رغبت دین سے کررہے ہیں یا دنیا اور کھیل کود سے؟ ایک تربیت گاہ میں بچے کے بنیادی ذہن میں وسیع عریض اور صاف ستھرا کھیل گراﺅنڈ نقش ہو رہا ہے یا ایک چھوٹی سی تنگ اور خستہ حال مسجد جس کا سکول میں کوئی والی وارث ہی نہیں ہے؟ ہمارے ہاں پرائمری سکولز میں مسجد اور نماز کا تونام و نشان تک نہیں ہے اور نہ قرآن مجید کی تعلیم کا کوئی باقاعدہ ضابطہ و قانون موجود ہے۔ جس معاشرہ نے شروع سے بچے کو مسجد اور نماز کا پابند نہیں کرنا تو وہ معاشرہ کیسے راست باز اور پرہیزگار بن پائے گا؟ کیسے اس معاشرہ میں خدا کا خوف اور پرہیزگاری آئے گی؟ کیسے وہ معاشرہ دین اور شرعی اصولوں کا پابند بنے گا؟ جو بچہ پرائمری سکول جانے کی عمر کا ہوتا ہے اس پر نماز بھی واجب ہو چکی ہوتی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی بچہ سات سال سے کم عمر میں پرائمری پاس کر جاتا ہو ۔ اگر شرعی اصولوں کے مطابق سات سال کے بچے پر نماز واجب ہے تو پھر پرائمری میں کیوں نہیں؟ ہمارے پرائمری سکولوں میں مسجد کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی کوئی استاد پرائمری بچوں کو نماز کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم پرائمری میں بچے کو نماز کی ترغیب نہیں دیں گے تو وہ مڈل اور ہائی میں آ کر کیونکر پڑھے گا؟ مڈل اور ہائی سکول کے بچے پر تو بحکم شریعت نماز فرض ہو چکی ہوتی ہے۔ شریعت اسلامی اجازت دیتی ہے کہ دس سال سے زائد عمرکے بچے کو سختی سے نماز کا پابند کرو تو یہ سختی پرائمری، مڈل اور ہائی سکولز میں کیوں نہیں کی جاتی جو معاشرہ کی بنیادی تربیت گاہیں تصور کی جاتی ہیں؟ کیا اس لئے کہ یہ شریعت کا حکم ہے اور تمہارے نظام تعلیم کو اس کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر یہ تربیت گاہیں معاشرہ کی بنیادی تربیت نہیں کریں گی تو کون کرے گا آکر؟ پورے تعلیمی نظام سے اس کا جواب چاہیے؟؟؟۔۔۔
بچوں کی بنیادی تربیت کیسی ہونی چاہیے؟:
بچہ کی بنیادی تربیت میں نماز کے بعد سب سے اہم زکوٰة ہے جو اللہ کی طرف سے فرض ہے بلکہ اگر قرآن کریم میں نماز اور زکوٰة کے فرامین کی جمعیت کے لحاظ سے دیکھیں توزکوٰة نماز سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ (جمعیت کے لحاظ سے مطلب کہ اگر قرآن کریم سے نماز اور زکوٰة کے فرامین الگ الگ جمع کیے جائیں تو زیادہ وسعت، تشریح و تاکید کی بنیاد پر زکوٰة سبقت لی جائے گی)۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ سکول میں بچے کی نماز سے بھی زیادہ زکوٰة کی تربیت کی جائے۔ اگر ایک امیر اور زمیندار کا بچہ سکول میں دس روپے خرچ لے کر آتا ہے تو اس کا یہ ذہن بنایا جائے ، اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ دس میں سے دو روپے غریب بچہ کو دے، اسے قرآن کریم سے غریب کے ساتھ تعاون کے فرامین سمجھائے جائیں، اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ سکول میں زیادہ مہنگے شوز، سویٹروغیرہ نہ پہن کر آئے اس لئے کہ ہو سکتا ہے اسے دیکھ کر غریب کے بچہ کے دل میں یہ بات نہ جائے کہ کاش میں بھی یہ خرید سکتا۔ اسے سمجھایا جائے، پھر اگر وہ باز نہ آئے تو اسے کہا جائے کہ اگر تجھے اچھی اور مہنگی چیزیں پہن کر آنے کا زیادہ شوق ہے تو پھر اپنے ساتھی غریب بچہ کو بھی وہی دلوا کے دے پھر دونوں مل کر پہن کے آنا۔ اس سے بچے کے بنیادی ذہن میں غریب کی مدد کا تصور بیٹھ جائے گا اور وہ اپنی پوری زندگی میں غریب کا خیال رکھے گا، اس کے دل میں غریب کا احساس ہو گا، اس کے دل میں غریب کی لگن ہو گی۔
بلکہ سکول میں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کے انصار و مہاجر اخوت کی مثال کو زندہ کرتے ہوئے ایک زمیندار کے بچہ کے ہاتھ میں ایک غریب کے بچے کا ہاتھ تھما کر کہیں آج سے یہ تمہارا بھائی اور دوست ہے، تم نے ہر معاملہ میں اس کا خیال رکھنا ہے۔ جیسا پہن کے آواسے پہنانا ہے، جیسا کھاواسے کھلانا ہے، تم نے جتنا اور جہاں تک پڑھنا ہے اسے بھی ساتھ پڑھنا ہے۔ اس سے ہمیشہ اچھے اخلاق اور خوش دلی سے پیش آنا ہے۔ تمہارے والدین تمہیں جو لے کر دیں وہ اپنے ساتھ اس کے لئے بھی لینا ہے نہیں تو اپنے لئے بھی نہیں۔ جب بچہ والدین سے یہ ضد کرے گا کہ نہیں اگر میرے لئے لینا ہے تو میرے دوست بھائی کے لئے بھی لے کر دو نہیں تو میرے لئے بھی رہنے دو، مجھے بھی نہیں چاہیے۔ جب معاشرہ میں یہ صورت حال پیدا ہو جائے گی تو سمجھا جائے گا کہ واقعی اساتذہ نے بچوں پر محنت کی ہے۔ اس صورت حال سے صرف ایک نسل بعد ہی جو معاشرہ وجود میں آئے گا وہ اعلیٰ اخلاق، اخوت، بھائی چارہ، ہمدردی و مساوات کی معراج تک پہنچا ہو گا۔ انسانی عظمت و ترقی کی رفعتوں کو چھو رہا ہو گا۔
ایک کلاس میں کتنے ایک غریب اور مستحق بچے ہوتے ہوں گے؟ آپ زیادہ سے زیادہ بھی حساب لگا لیں کبھی ایک تہائی بلکہ چوتھائی سے زیادہ نہیں جائیں گی۔ ایک محلہ، ایک گاوں میں کتنے ایک غریب اور مستحق گھرانے بستے ہیں؟ ایک گاوں میں غریب اور مستحق گھرانوں کی تعداد بڑی مشکل سے پندرہ بیس تک جائے گی اور زمیندار، صاحب استطاعت سینکڑوں کی تعداد میں ہوں گے۔ تو ظاہر ہے کہ سکول میں بھی یہی ریشو آئے گی۔ کیا تین چوتھائی یعنی (75فیصد) مل کر ایک چوتھائی (25 فیصد) کو نہیں سنبھال سکتے؟ اگرہم اور ہمارا معاشرہ ایک چوتھائی نہیں سنبھال پا رہے تو ہم انتہائی پستی اور گراوٹ میں چلے گئے ہیں، ہم سے بڑھ کر ذلیل، گھٹیا اور پستی میں گری خود غرض کوئی قوم نہیں ہے۔
ریاستِ مدینہ میں تو انصارِ مدینہ نے اپنے سے نصف ، بلکہ نصف سے زائد مہاجرین کو سنبھال لیا تھا جو ضرورت مند تھے، جو اپنا گھر بار، مال و متاع مکہ چھوڑ کر آئے تھے۔ یہاں ان کے پاس سر ڈھانپنے کیلئے بھی جگہ نہیں تھی۔ انصارِ مدینہ نے جس فراخ دلی، اخوت و بھائی چارہ کی مثال قائم کی وہ تاریخ انسانی نہ ان سے پہلے کبھی دیکھ سکی اور نہ شائد کبھی بعد میں دیکھ پائے۔ حالانکہ سب کے سب انصار کوئی لاین لاڈ نہیں تھے، سب کے سب صاحب استطاعت و مالدار نہیں تھے۔ ہر انصار نے ایک مہاجر کو اپنا بھائی بنایا، بلکہ اسے اپنے ترکہ و جائیداد میں حقدار بنایا۔ انہیں اپنا مکان آدھا تقسیم کر کے دیا کہ یہاں رہو، جس انصار کے پاس دو بیویاں تھیں اس نے ایک کو طلاق دے کر اپنے مہاجر بھائی کے نکاح میں دے دی۔ یہ تھی اسلامی اخوت، یہ تھا اسلامی بھائی چارہ، یہ تھی اسلامی ہمدردی۔
یہ نہیں کہ آج ایسا ہو نہیں سکتا۔ ہو سکتا ہے مگر اس کیلئے قوت ایمانی چاہیے، جذبہ چاہیے، فراخ دلی چاہیے۔ آگ آج بھی گلزار بن سکتی ہے مگر اس کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے ایمان کی ضرورت ہے۔ اگر جذبہ ایمانی اور خدا پر کامل بھروسہ دلوں میں پختہ ہو تو بحرِ ظلمات سمندر بھی فوجیں دوڑانے کیلئے فرش بن جاتا ہے۔ صرف ایمان اور جذبہ کی ضرورت ہے آج بھی سب کچھ ہو سکتا ہے۔ جب وہ قوت ایمانی آئے گی تو ساتھ وہ جذبہ بھی آئے گا۔ جب وہ جذبہ آئے گا تو وہ صورت حال بھی خود بخود پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔ اور جب یہ صورت حال پیدا ہو گی تو پھر غیب سے خدا کی مدد کے آتے دیکھنا کہ وہ کس زور و قوت سے سائبان بن کر سر پر منڈلاتی ہے۔
ہمارا نظام تعلیم ہمیں کچھ نہ دے صرف دو امور کی تربیت دے دی۔ ایک نماز اور ایک انفاق۔ پھر چند سالوں میں دیکھ لینا کہ معاشرہ کس عظمت ، کس رفعت و سربلندی کی طرف جا رہا ہے۔ ایک اسلامی اخوت قائم ہوگی، ایک بھائی چارہ بڑھے گا، مساوات آئے گی، ایک دوسرے سے لگاو، محبت و الفت اور ہمدردیاں بڑھیں گی۔ امیر و غریب کا فرق ختم ہو جائے گا، غربت دم توڑ جائے گی، مفلسی کا نام تک مٹ جائے گا۔ اس سے پھر جو اسلامی معاشرہ وجود میں آئے گا وہ حقیقی اسلامی فلاحی معاشرہ ہو گا۔ اور پھر دیکھنا پوری دنیا اس نظام، اس تربیت کی طرف راغب ہو گی، اس نظام کو اپنا نظام بنا لے گی، اس دین کو اپنا دین بنا لے گی جو محمد کریم ﷺ لے کر آئے اور اس طرح پوری دنیا اسلام کا گہوارا بن جائے گی۔ ضرورت صرف دنیا کو اسلام کا اصل رخ دیکھانے کی ہے پوری دنیا اسلام کو گلے لگانے پر مجبور ہو جائے گی۔
اسلامی معاشرہ کی پہچان ان دو امور سے ہے ایک نماز اور ایک زکوٰة و انفاق۔ اگر ان میں سے ایک بھی کم ہے ، یا اُس حد، اُس معیار کے مطابق نہیں جو قرآن کی منشاء ہے تو وہ معاشرہ ہرگز اسلامی معاشرہ کہلانے کے لائق نہیں ہے۔ یہ اسلام کی بے حرمتی ہے، یہ اسلام کی بدنامی ہے، یہ اسلام کی گستاخی ہے، یہ اسلام کی توہین ہے، یہ اسلام کی تقدس کی پامالی ہے جو آج ہم پورے زور و شور سے کر رہے ہیں۔ اسلام حکم تو کچھ اور طریق سے دے رہا ہو اور معاشرہ میں عمل کچھ اور طریق سے ہو رہا ہو اور پھر اس منحرف اور بھٹکے طریق پر اسلام کا لیبل لگا دیا جائے کہ یہ اسلامی معاشرہ ہے تو کیا یہ اسلام کی توہین نہیں ہے؟ کیا یہ اسلام کی ساتھ مذاق نہیں ہے؟ اسلام کے تقدس کی پامالی نہیں؟
سکول و کالجز میں تعلیم ِ قرآن کا نظام:
سکولوں میں تعلیم کا ایسا نظام لایا جائے کہ بچے ہائی سکول سے نکلیں تو قرآن کی حافظ ہوں، قرآن کے قاری ہوں۔ آیات کی معانی و مطلب کو سمجھتے ہوں۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ احادیثِ مبارکہ کی تعلیم کا بھی باقاعدہ اہتمام کیا جائے تاکہ بچے سکول و کالجز سے نکلیں تو دین کو سمجھتے ہوں، احکام شریعت اور حسن معاشرت کے اصول و ضوابط جانتے ہوں، شریعت کے اصولوں اور ضابطہ اخلاق کے پابند ہوں۔ مدرسوں میں بچے تین چار سال میں قرآن کریم حفظ کر لیتے ہیں تو کیا پرائمری ، مڈل و ہائی سکولز اور کالجز دس بارہ سالوں میں نہیں کرواسکتے ہیں؟
علم کے تمام سرچشمے قرآن کریم سے پھوٹتے ہیں، قلوب و اذہان کے پرزے تعلیم قرآن سے کھلتے اور منور ہوتے ہیں اور وسعت اختیار کرتے ہیں۔ تمام علوم و حکمت، اخلاق و تمدن، فنون و سائنس کی اصل قرآن حکیم ہی ہے۔ دنیا میں علم کی جستجو، کائنات کی تخلیق میں غور و خوض، تخلیق کے راز کو جاننے ، کائنات میں گھوم پھر کر چیزوں کا قریب سے مشاہد ہ کرنے اور اس کی حقیقت کو جاننے کی دعوت اور حکمت قرآن نے عطا کی۔ قرآن ہی نے انسانیت کو پکارا کہ آوغور کرو، فکر کرو، جستجو کرو، مشاہدہ کرو آسمان کی بلندیوں اور زمین کی تہوں سے رب کائنات کے پوشیدہ رازوں اور خزانوں کو ڈھونڈ نکالو اور ان پر تحقیق کرو۔اسلام اپنی ماننے والوں کے دل و دماغ کند نہیں کرتا بلکہ سائنسی تحقیق کو فرض قرار دیتا ہے۔ کائنات کی اندر غور و فکر کرنا ، اس کی پوشیدہ حقیقتوں کو عیاں کرنا، مختلف مخلوقات پر ریسرچ کرنا یہ اسلام کی دعوت و فطرت ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ ساری دنیا انسان کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے کہ وہ اسے مسخر کرے، اس سے فائدہ اٹھائے۔ جو کام ہمارے کرنے کے تھے جس کا ہمیں حکم اور دعوت فکر دی گئی تھی وہ اہل مغرب نے بخوبی انجام دیا اور دے رہے ہیں۔
یہ علمی ورثہ ہمارا تھا جو ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے آگے غیروں کو منتقل کر دیا۔ انہوں نے قرآن سے ریسرچ کی اور ہم نی کتابِ ثواب سمجھ کر غلافوں میں بند کر دیا۔ انہوں نے قرآن سے علم بھی سیکھا، راہنمائی بھی لی، ایجادات و تخلیقات بھی کیں اور اجتماعی رہن سہن، حسن معاشرت، اخلاقیات کے آداب سیکھے بھی اور اپنائے بھی۔ جبکہ ہم نے قرآن سے راہنمائی لینے کی بجائے اس علوم وعرفان و حکمت کے سمندرکو پس پست پھینک کر مغرب کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور قرآن کو صرف کتاب ثواب و برکت سمجھ کے محض ثواب و برکت کی غرض سے پڑھنی کیلئے غلافوں میں لپیٹ کر گھروں میں رکھوا دیا اور معاشرہ کو پروان چڑھانے اور ترقی کیلئے مغرب کی نقل پر اتر آئے۔ تقلید اور نقل معاشرے کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے خواہ وہ تقلید مغرب کی ہو یا کسی اور کی۔ جو قومیں تقلید کرتی ہیں وہ تہذیبی و فکری جنگ ہار جاتی ہیں اور اپنی انفرادیت کھو بیٹھتی ہیں، اس لیے ہمیں تقلید کی بجائے محنت، لگن تحقیق و جستجو کا جذبہ پیدا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اپنی خودی کا سر سربلند کرنا چاہیے۔
اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ( علم و حکمت اور معاش ) کی تلاش میں نکلو اور علوم و فنون، معرفت، دانش وحکمت کے موتی تمہیں جہاں کہیں سے ملیں فوراً حاصل کر لو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنے دور عروج میں علمی وعملی لحاظ سے تمام دنیا پر فائق تھے اور پوری دنیا ان کے دست نگر بن کر رہ گئی تھی ۔ پھر ایک زمانہ آیا کہ مسلمانوں نے علمی و عملی میدان میں کام کرنا چھوڑ دیا ۔ تحقیق کی جگہ اندھی تقلید نے لے لی اور عمل کی جگہ بد عملی کو اپنایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر جگہ ان کا غلام بنا دیا جو علمی وعملی میدان میں ان سے آگے تھے۔ کہیں ان پر انگریز مسلط ہوگئے، کہیں پرتگالی اور کہیں فرانسیسی استحصال کرنے لگے توکہیں جرمن۔ کیونکہ دور جدید میں جہاں مسلمانوں نے کام کرنا چھوڑ دیا وہاں اہل یورپ نے ان کی جگہ لے لی اورعلمی وعملی میدان میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دئیے اور علم وعمل کی بدولت ساری دنیا پر چھا گئے۔
دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا نہ ہونا قوم کو زوال و پستی کی طرف لے جاتا ہے اور ہمارے راج الوقت نظام تعلیم میں دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا سوال ہے پیدا نہیں ہوتا۔ اخلاقی و سماجی تعلیم و تربیت کے بغیر معاشرہ صرف قانون کے سہارے نہیں چلایا جاسکتا۔ قانون تو چند مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ہوتا ہے جو دین سے بیزارہو کر وحشی درندے بن چکے ہوں، جبکہ عام لوگ اجتماعی مفاد، دینی اصول اور اخلاقیات کی پاسداری کی خاطر ایک روایت کے طور پر قانون و اقدار کی پابندی کرتے ہیں، مگرہمارے ہاں کسی اعلیٰ اجتماعی اخلاقی نصب العین اور دینی ضابطہ کے نہ ہونے کی بنا پر لوگ اپنی ذات اور مفاد سے آگے دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا ہر شخص، ہرگھر، ہرسڑک، گلی محلہ ،ہر دفتراور ہر فیکٹری اجتماعی اخلاقیات کے اصولوں کی بھر پور خلاف ورزی کا نمونہ بن چکی ہے۔ جب ہم اسلامی تعلیمات و اخلاقیات پرعمل پیرا ہوں گی اورمضبوطی سے اس پر ثابت قدم رہیں گے، اور اپنی ذہنوں میں یہ تصور بٹھائیں گے کہ دنیا کی زندگی ایک عارضی زندگی ہے، اس کی چمک دمک محض ایک دھوکہ ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ تو پھر ہمارا ضمیرہمیشہ بیدار رہے گا اورہم عارضی دنیا کو ترجیح دینے کی بجائے آخرت کی دائمی زندگی، اس کی راحت و سکون کو فوقیت دیں گے اوراس طرح معاشرہ ترقی کرے گا اور زوال پذیری کے اثرات زائل ہوں گے۔
ہمارا قومی اور مذہبی کلچر کیا ہے، ہمیں نہیں معلوم۔ ہماری ثقافت و پہچان کیا ہے، ہم نہیں جانتے۔ من حیث القوم ہماری کوئی منزل نہیں رہی، ہم زندگی کے ہر گوشہ، ہر شعبہ میں مغرب کی نقل اتارنے کو ترقی سمجھ رہے ہیں۔ تعلیم کسی بھی قوم کی معاشرتی، معاشی، نفسیاتی اور اخلاقی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قوموں کا مستقبل بنانے میں کلیدی کردار تعلیم کا ہی ہوتا ہے۔ اس لیے جتنی بھی ترقی یافتہ اقوام ہیں، وہ تعلیمی منصوبہ بندی کو قومی دفاع سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں اور تعلیم کے ساتھ تربیت کو ترقی کی شاہ کلید سمجھتی ہیں۔
ہمارا پہلا المیہ تعلیم کی تقسیم:
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم حصول علم کوہی سب سے بڑی کامیابی تصور کرتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ تربیت مفت میں حاصل ہوجائے گی بلکہ اگریہ کہا جائے کہ ہماری ہاں تربیت کا کوئی تصورہی نہیں پایا جاتا توغلط نہیں ہوگا۔ حالانکہ تربیت اگر تعلیم کے ساتھ مفت میں حاصل ہو جاتی تو قرآن کریم میں جگہ جگہ علم اور تعلیم کے ساتھ تذکیروتذکیہ کی الفاظ الگ سے کیوں ذکرکیے گئے، محض علم و تعلیم کا ذکرکافی ہوتا۔ اخلاق و کردار کے ذیل میں تربیت کا تذکرہ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ دراصل اسی کی بطن سے اخلاق و کردارجنم لیتے ہیں، تواضع وانکساری کی نمود ابھرتی ہے اورزندگی کے عملی مظاہرے کے اظہار کا رخ متعین ہوتا ہے۔
ہمارے نظام نے تعلیم اور تربیت کودو شعبوں میں بانٹ کر اور ایک دوسری سے الگ کر کے دو مختلف اداروں کی نظر کر رکھا ہے۔ دنیاوی علم سکول دے اور دینی علم مسجد کا ملاں۔ تعلیم سکول دے اور تربیت مسجد کا ملاں کرے۔ بچے صبح اٹھیں، ایک آدھ گھنٹہ کیلئے مسجد جائیں، قرآن پڑھیں خیر و برکت حاصل کریں، تربیت لیں ، اخلاق و آداب سیکھیں پھر آٹھ دس گھنٹے کیلئے سکول آئیں اور تفریح و کھیل کود میں دن گذار دیں۔ دو کشتیوں کا سوار آخر کار ڈوب کے ہی رہتا ہے وہ کسے کنارے نہیں لگ پاتا۔ جیسا کہ آج ہمارا معاشرہ کسے نتیجے اور منزل پر نہیں پہنچ سکا۔ اس کی ایک کشتی کا رخ مغرب کی طرف ہے اور دوسری انجام کار سے غافل، غفلت، کاہلی، سستی و ناداری کی تاریکیوں کی طرف۔
ہمارا دوسرا المیہ تعلیم برائے روزگار:
دوسرا ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم تعلیم کو محض اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ اس سے کوئی روزگار کا اچھا ذ ریعہ مل جائے گا۔ کوئی نوکری مل جائے گی اور زندگی اچھی بسر ہو گی۔ جس معاشرہ میں حصول تعلیم کی غرض صرف نوکری کرنا ہو تو وہ معاشرہ صرف نوکر ہے پیدا کرے گا معمار و ہنرمند نہیں، تحقیق و ایجادات اور ارتقائی انداز فکر رکھنے والے نہیں۔ ہم تعلیم حاصل کرنے کی بعد صرف نوکری یعنی دوسروں کی خدمت، دوسروں کی غلامی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ نہ ہم تعلیم قوم کے لیے حاصل کر رہے ہیں نہ مذہب کے لیے بلکہ صرف روزگار کیلئے حاصل کر رہے وہ بھی اغیار کی غلامی کر کے، اغیار کے ہاں نوکری کر کے۔ نتیجتاً ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو دین سے بیزار، قرآن و سنت سے بہرہ، اخلاقیات سے عاری، اپنی تاریخ پر شرمسار اور مغرب سے مرعوبیت کا شکار ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ انگریزی فرفر بولنا آ گئی تو مقصد حاصل ہو گیا جو یقیناً مغرب سے مرعوبیت کا شاخسانہ اور انگریزوں کی ڈیڑھ سو سالہ غلامی کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا پورے کا پورا تعلیمی نظام اپنی قومی زبان سے ہٹ کے انگریزی زبان میں ہے یعنی ہمارا ذہن غلامی کی طرف ہی ہے کہ ہم نے پڑھ لکھ کے انگریز کی غلامی ہے کرنی ہے، ایجادات و اختراع نہیں۔
اگر ہمیں ترقی کرنی ہے اور دنیا میں سر بلند ہونا ہے تو قلوب و اذہان کو نوکری، غلامی سے واش کرکے تعلیم کو بامقصد بنانا ہو گا اور نئی نسل کو اچھی، واضح اور بامقصد ، بااخلاق ہنرمند تعلیم سے آراستہ کرنا ہو گا اورذہنی و اختراعی، تکنیکی، تخلیقی و ارتقائی استعداد کو ابھارنا ہو گا۔ اس وقت ہمارے ہاں اسکول، کالج و جامعات میں صرف نظام ہی نہیں، نصاب بھی مختلف ہیں۔ جو نہ سیکولر ہے نہ لبرل، نہ اسلامی۔ یہی وجہ ہے کہ جو طلبا ان اداروں سے نکل رہے ہیں انھیں نہ منزل کا پتہ ہے نہ مقاصد کا علم۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بھر کے اسکولوں و کالجز میں یکساں نظام اور متوازن نصاب رائج کیا جائے اور اس میں قرآن وسنت کو فوقیت دی جائے۔
ہمارا تیسرا المیہ اغیار کی زبان:
تیسرا ہمارا سب سے بڑا المیہ اور احمقانہ کردار یہ ہے جس نے ہمارے قلوب و اذہان کی کلیوں کو کھلنے نہیں دیا، ہمارے طلباء میں اختراعی انداز فکر پیدا نہیں ہونے دیا وہ یہ کہ ہمارے ہاں تعلیم کو غیر کی زبان میں کنورٹ کر کی پیش کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے طالب علم کسی بھی شئے کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تو وہ اس کنورٹ شدہ لینگوئج کے الفاظ کے معانی کی جستجو میں مگن ہوتا ہے۔ جب طالب علم ایک ایک کر کے اس ٹاپک کے تمام الفاظ کے معانی کو سمجھتا ہے تو اس وقت اس کی طبیعت اکتا کر چیز کو سمجھنے کی حس سے محروم ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر بلا آخر اسے کمرہ امتحان میں کامیابی کیلئے ان الفاظ کا رٹا لگانے کی علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔ وہ کمرہ امتحان میں اس چیز کی بارے اظہار اپنے ذہن سے نہیں الفاظ کے لگائے رٹے سے کرتا ہے۔ تعلیم محض کتابوں کو رٹنے کا نام نہیں، بلکہ خود کو پہچاننے، اپنی شخصیت سے، اپنی مقاصد سے آگاہی کا نام ہے۔ جبکہ ہماری ہاں رٹا دستور بن گیا صرف غیرکی زبان کی وجہ سے۔ اگر اس کی جگہ طالب علم کی اپنی مادری یا قومی زبان میں اس کی تدریس ہوتی تو پھر اس کی پوری توجہ متعلقہ چیز کی طرف ہوتی اور اس میں اختراعی و تکینکی استعداد بھی ابھر کے سامنے آتیں۔ جو بیچارے انگلش پوری طرح نہیں سمجھ سکتے اور نہ پوری طرح بول سکتے ہیں وہ چیزوں پر اپنا خود ساختہ اظہار خیال کیسے کر پائیں گے؟؟؟
مادری زبان ہی وہ پہلی زبان ہوتی ہے جو بچہ ماں کی گود میں سیکھتا ہے۔ اسے اس فطری زبان میں ماں کی ازلی محبت ملتی ہے۔ اس زبان کی آوازیں بچے کی قلوب و اذہان کے خلیات پر ایسے نقش ہو جاتی ہیں کہ ساری زندگی وہ قدرتی طور پر ان سے مانوس رہتا ہے۔ مادری زبان انسان کا قدرتی ذریعہ اظہار ہے اور تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان میں خود اظہار کی قوت بڑھے۔ مادری زبان، ذریعہ تعلیم ہونے سے تعلیم نہ صرف آسان ہو جائے گی بلکہ طالب علم چیزوں کو اس کی آخری تہہ کی گہرائی تک سمجھے گا اوردوسروں کو سمجھا بھی پائے گا، اس میں اس چیز کی بارے میں قوت اظہار اور خود اعتمادی پیدا ہو گی۔ مادری زبان صرف بولنے تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ اس میں حالات، پس منظر تہذیب اور ثقافت اور ان کی روایات پر محیط ورثہ بھی موجود ہوتا ہے۔ زبان دراصل کسی بھی تہذیب کا سب سے بڑا اظہار ہوتی ہے مادری زبان کی تراکیب انسان کی زبان کے علاقائی پس منظر کا اندازہ لگانے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہیں۔
مادری زبان سے انسان کی فطرت کھلتی بھی ہے اور نکھرتی بھی ہے، دنیا کے تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک میں بچہ کی ابتدائی تعلیم کے لئے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم لازمی قرار دے رکھا ہے۔ دراصل ماں کی گود بچے کا پہلا مکتب ہوتی ہے اور بچہ اس مکتب کے ذریعہ وہی کچھ سیکھتا ہے جو ایک ماں اپنے بچہ کو سیکھاتی ہے اس لئے یہ کہا جاتا ہے کہ مادری زبان انسان کی جبلت کا جز ہوا کرتی ہے۔
دور حاضر میں انسان کی ذہنی نشوونما کیلئے مادری زبان ایک لازمی عنصر ہے۔ آج نہ صرف مغرب بلکہ تمام تر ترقی یافتہ ممالک کا نعرہ مادری زبان میں تعلیم دینے کا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم اپنی اولاد کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دلوانے کی بجائے انگریزی تعلیم کو ہی بچہ کا مستقبل قرار دیتے ہیں جبکہ بچہ اپنی مادری زبان ہی میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے مقصد کو آسانی سے حاصل کرسکتا ہے چونکہ بچہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے تمام علوم کو بڑی آسانی سے سمجھتے ہوئے حاصل کرتا ہے۔ آج اس ترقیاتی دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ماہرین دانشور اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ انسان کی ذہنی نشوونما صرف اور صرف مادری زبان کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
حکمرانوں کی کم ظرفی اور احمقانہ کردار:
ہمارے کم ظرف حکمرانوں نے ہر میدان میں اپنی کم ظرفی، نا اندیشی کا عملی ثبوت دیا۔ وہ تعلیم میں اصلاحات لانے، معیار تعلیم کو بہتر کرنے اور جدید تقاضوں اور قرآن و سنت سے ہم آہنگ کرنے کی بجائے انہیں تعلیم کو بہتر کرنے، اور دور جدید کی ضروتوں سے ہم آہنگ کرنے کی ترکیب لیپ ٹاپ سکیم ہی سوجھی۔ جو طلباء کچھ ذہین و ہونہار تھے انہیں لیپ ٹاپ تھام کر ان کے معیار اور ذہانت کا بھٹہ بیٹھا دیا۔ جن جن طلباء کو لیپ ٹاپ دئیے گئے سکولوں سے ان کے ریکارڈ چیک کریں لیپ ٹاپ ملنے سے پہلے اور بعد کے، اور لیپ ٹاپ بھی چیک کریں ان میں ماسوائے تفریحی، فحش گانوں، فلموں، ڈراموں کے علاوہ اور کچھ ملتا ہو جو حصول تعلیم میں ان کیلئے معاون و فائدہ مند ثابت ہو، وہ اب پڑھنے کی بجائے زیادہ تر وقت لیپ ٹاپ اور تفریحی میں بسر کرتے ہیں۔ میں نے خود سے واقفیت رکھنے والے کئی طلبہ کے جنہیں لیپ ٹاپ ملے چیک کیے اور پوچھا اسے کس عمل میں لاتے ہیں، اس سے کیا سیکھتے ہیں؟ تقریباً سب کا ایک ہی جواب تھا کہ کیا کرنا بس انجوائے کرتے ہیں گانا سن لیا، فلم دیکھ لی، گیم وغیرہ کھیل لی۔ ہماری قوم ابھی اتنی نہیں سلجھی کہ چیزوں کا جائز اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرے۔
ہماری قومی زبان اردو ہے ۔ کیا اسے قومی زبان کا درجہ حاصل ہے؟ ہمارے سرکاری و غیر سرکاری اداروں، دفاتروں، بنکوں، تعلیمی اداروں میں جا کر دیکھیں کوئی فارم ، کوئی نوٹس تمہیں سرکاری و قومی زبان میں نظر آتا ہے؟ کوئی قومی عدالت کوئی فیصلہ قومی و سرکاری زبان میں تحریر کرتی ہے؟ کسی بھی سرکاری و نجی ادارہ کے دفتر میں چلے جائیں وہاں موجود انگریز کے متشبی بول تو ٹھوس پنجابی یا دوسری علاقائی زبانیں رہے ہوتے ہیں مگر کچھ لکھنا چاہیں تو انگریز کی لسانی غلامی یاد آتی ہے کہ ہم حقیقت میں تو غلام ہیں اس لیے جو لکھنا ہے انگریز کی لسانی غلامی میں لکھیں گے۔ بولی ہوئی بات مستند نہیں ہوتی ہمیشہ لکھی ہوئی مستند ہوتی ہے۔ بولی ہوئی بات اہمیت نہیں رکھتی لکھی ہوئی اہمیت رکھتی ہے، اس لئے ہم بولتے تو اپنی زبان ہیں کہ بولنا غیر مستند ہے اور جب لکھتے ہیں تو انگریزی لکھتے ہیں کہ مستند ہے اور یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم بھی تو انگریز کے مستند غلام ہیں۔ ہم نے اغیار کی لسانی غلامی میں تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ کیا ہماری اپنی کوئی زبان نہیں ہے؟ کیا ہماری زبان کی کوئی پہچان نہیں ہے دنیا میں؟ تقریباً دنیا کی نصف کے قریب آبادی جنوبی ایشیاء میں بستی ہے اور سارا جنوبی ایشیاء ہماری زبان کو سمجھتا ہے بلکہ مشرقی وسطیٰ والے عرب ممالک بھی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کیونکہ اردو زبان عربی، فارسے اور ہندی سے مل کر وجود میں آئی ہے۔ اردو اور ہندی بولنے اور سمجھنے میں تو ایک ہی ہے صرف لکھنے میں فرق ہے۔ اس کے علاوہ بنگالی، افغانی، ایرانی، نیپالی، سری لنکن وغیرہ سارے اردو کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ یعنی تقریباً آدھی دنیا اردو کو باآسانی سمجھ سکتی ہے لیکن انگلش بولنے اور سمجھنے والے دنیا میں ایک چوتھائی بھی نہیں بنتے پھر بھی ہم ان کی لسانی غلامی کو ترجیح دیتے ہیں۔
ٹھیک ہے کہ اس نے ایک عالمی زبان کا درجہ حاصل کر لیا ہے اور وہ بھی ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے، تو اسے صرف سیکھنے ، سمجھنے کی حد تک رکھیں آگے تمہارے قومی معاملات میں اس کا کیا عمل دخل ہے؟ ہمارا قومی لباس شلوار قمیض ہے۔ کیا یہ کسی بھی سرکاری و نجی دفتر میں بطور قومی لباس نظر آتا ہے؟ ویسے تو ادارے آئین کے بڑے محافظ بنتے ہیں اور آئین کی توہین برداشت نہیں کرتے تو کیا یہ آئین کی توہین نہیں ہے کہ آئین میں تو سرکاری زبان اردو ہو مگر کسی سرکاری و نجی دفتر میں کسی کاغذ کے ٹکڑے پر بھی نظرنہ آتی ہو اور نہ کسی عدالتی فیصلہ میں لکھی جاتی دیکھائی دیتی ہو؟ کیا یہ آئین کی توہین نہیں ہے کہ آئین میں سرکاری لباس شلوار قمیض ہو مگر سرکاری دفاتر میں پہن کر آنا قابل ملامت ہو اور اسے پسند ہی نہ کیا جائے؟ ہم نے ظاہری آزادی تو حاصل کر لی ہے مگر اس قوم کے ضمیر ابھی تک غلام ہیں وہ آزاد نہیں ہوئے ہیں۔ ہمیں حقیقی آزادی اس وقت ملی گی جب ہمارے ضمیر آزاد ہوں گی اور وہ کسی کی غلامی یا تشبہ میں جانے کی بجائے اپنے قومی وقار اور قومی شناخت کو ترجیح دینے لگیں گے۔
ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ کیا صرف ہمیں ہی ضرورت ہے، ہمیں ہی غرض ہے، ہمیں ہی ان سے مطلب ہے کہ ہم انگریز کی زبان سیکھیں؟ ا نگریز کو ہم سے کوئی مطلب نہیں؟ انگریز کو ہم سے کوئی غرض نہیں ؟ انگریز ہم سے کچھ نہیں چاہتا صرف ہم ہی انگریز سے کچھ چاہتے ہیں؟ اگر انہیں بھی ہم سے غرض ہے، ہم سے کوئی مطلب ہے، وہ ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو ہم کیوں نہیں قومی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو اپنی قومی زبان سیکھنے پر مجبور کرتے؟ جب ہم ان سے اپنی قومی زبان کے علاوہ بات ہی نہ کریں تو کیا وہ اسے سیکھنے پر مجبور نہیں ہوں گی؟ اس طرح قومیں بنتی ہیں، اس طرح مضبوط، نڈر اور بی باک قومیں وجود میں آتی ہیں جو اپنی خود ی پر قائم رہتی ہیں، جو اپنی خودی کا سر بلند کرتی ہیں۔
ہم ان سے ان کی زبان میں بات کر کے ان کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں اور اپنی قوم کے لئے مشکل ۔ حیرت ہے اس قوم پر اور اس نظام پر جو اپنی قوم پر تو بوجھ ڈالے اور اغیار کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ ہمارے ہمسایہ میں چند بچے ایک نجی سکول ( دی ایجوکیٹر) میں ابتدائی کلاسوں پہلی اور دوسری میں پڑھتے تھے۔ وہاں سے ہفتہ ، دو ہفتہ میں کوئی نہ کوئی نوٹس گھر والدین کیلئے آیا رہتا۔ ان کے والدین میرے پاس لے آتے کہ بتائیں کیا لکھا ہے اور کیا کہتے سکول والے؟ اس میں انگریزی کے اتنی مشکل الفاظ کا استعمال ہوتا کہ ان کا سمجھنا مشکل ہوتا۔ حیرت ہوتی کہ ایک دوسری کلاس کا بچہ اور مڈل کلاس والدین۔ اور سکول والے اس بچے کے ہاتھ انگریزی نوٹس تھما کے بھیج رہے ہیں جو ابھی پوری طرح انگریزی حروف تہجی سے بھی واقف نہیں۔ یہ حال ہے ہمارے نظام تعلیم کا جو محض دکھاوا اور ریاکاری کے سوا کچھ نہیں کہ دیکھو ہم تو انگریز دان بنا رہے ہیں۔ اور احساس دیکھو قوم کا کہ وہ سمجھ ہی نہ سکیں اور مائیں نوٹس اٹھا کر باہر غیر مردوں سے پڑھاتی پھیریں کہ کیا نوٹس آیا ہے۔
بچوں پر غیر ضروری اضافی بوجھ کم کریں۔ جو چیزیں روزمرہ زندگی میں کام آنے والی نہیں انہیں نصاب سے نکال دیں۔ صرف وہی پڑھائیں جو بچے کی روزمرہ زندگی میں کام آئیں۔ ہم ریاضی کے ہر کلاس میں بچوں کو کتنی ابواب پڑھاتے ہیں مگر روزمرہ زندگی میں سوائے جمع، تفریق، ضرب، تقسیم اور الجبرا کے کسی کی بھی روزمرہ زندگی کے معمول میں حاجت پیش نہیں آتی ہے۔ انگریزی کے مضامین میں بھی بچوں کو وہ پڑھائیں جس سے کچھ سیکھیں، جس سے انہیں کوئی سبق ملے۔ فضول اور بے مقصد قصے کہانیوں کو نصاب سے نکال دیا جائے تاکہ فضولیات میں بچوں کے قیمتی وقت کا ضائع نہ ہو۔
تشخیص اگر صحیح ہو اور علاج غلط ہوتو مرض میں افاقہ کی بجائے اضافہ ہوگا۔ یہ تشخیص تو درست ہے کہ موجودہ تمام معاشرتی عفریتوں کا واحد حاصل قرآن کریم میں ہی مضمر ہے مگر ہم اگر حتمی علاج سے ہٹ کرکہیں اور حل ڈھونڈیں تو یہ مرض مزید بڑھے گا کم ہونے والا نہیں۔ حکومتی سطح پر ان خرابیوں کے سد باب کے لیے قانون درقانون وضع کئے جا رہے ہیں مگر صرف قانون اس وقت تک نہ تو کسی کی اصلاح کرسکتا ہے اور نہ ہی جرائم کی روک تھام کر سکتا جب تک دیانت وامانت کے جذبات وفکریات اس کی پشت پناہی نہ کریں یہ جذبات تبھی پیدا ہوں گے جب اخلاقی و سماجی تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا جائے گا۔ عصری تعلیم گاہیں ان علوم سے یکسر خالی ہیں ان میں صرف موضوعاتی نصاب شامل ہے یہی وجہ ہے کہ معاشرتی اخلاقی خرابیاں عروج پر ہیں، ان تمام خرابیوں کا واحد حل صرف اور صرف سرچشمہ رشد و ہدایت قرآن کریم اور دینی تعلیمات میں موجود ہے جس کو مذکورہ تعلیمی ادارے قبول نہیں کرتے۔ بہر کیف اہل اسلام تو ان باتوں پرعمل پیرا ہوسکتے ہیں اور اپنی دارین کو سدھار سکتے ہیں۔
علم و حکمت کے موتی اور دامن اسلام:
انسان سرتاج کائنات اور زمین پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بہترین مخلوق ہے وہ باقی مخلوقات سے صرف اس لیے افضل و اعلیٰ ، اشرف و ممتاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے علم اور عقل ِسیلم سے نوازا، سوچنے اور سمجھنے کی توفیق بخشی اور سب سے زیادہ علم عنائت فرمایا ۔ اسی علم ہی کی بنا پر فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کے آگے جھکنا پڑا اوراسی علم ہی کی بدولت ساری کائنات انسان کیلئے مطیع و مسخر ہو کر رہ گئی۔ حضور نبی کریم ﷺ پر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی اس میں بھی اللہ رب العزت نے سب سے پہلے علم کی ہی بات کی۔ فرمایا
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّـذِىْ خَلَقَ [1] خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ [2] اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْـرَمُ [3] اَلَّذِىْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [4] عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ [5]
’’پڑھو اپنے پرودگارکے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کوجمے ہوئے خون سے بنایا، پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے جس نے قلم کی ذریعہ علم سیکھایا ، انسان کو وہ سیکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔“ (العلق 1...5:96)
دنیا میں جو انسان نور ایمان سے منور ہوکر اپنی ذہنی و فکری اور علمی وعملی قوتوںسے کام لیتی ہوئی صراط مستقیم پر قائم رہتی ہیں ان کی ساتھ اللہ کریم کاوعدہ ہے کہ وہ انہیں دنیا میں کامیابی وکامرانی ،عزت ووقار اور عظمت و سربلندی عطا فرمائی گا اور آخرت میںبھی عظیم کامیابی سے ہمکنار فرمائی گا۔
‏‏يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ (المجادلة‏:‏ 11‏
اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرمائے گا۔
ویسے تو سب انسان اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں مگر وہ جو علم کے زیور سے آراستہ ہوئے اور پھر اس پر پوری طرح عمل کیا وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں ، بے علم جاہل ہیں اللہ تعالیٰ سے دور، دین سے دور ، دنیا سے دور۔ علم ایک نور ہے ، علم ایک روشنی ہے ، علم ایک چراغ کی مانند ہے، اور چراغ چاہے جتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو ساری دنیا کا اندھیرا مل کر بھی اسے نہیں بجھا سکتا۔ اسی لئے حضور نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی اورعلم کا حصول ہر مسلمان پر فرض قرار دیا۔ فرمایا
طلب علم فریضة علیٰ کل مسلم و مسلمة ( ابن ماجہ)
”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد ، عورت پر فرض ہے۔“
یہا ں علم سے مراد محض دینی علم نہیں بلکہ اس میں ہر قسم کے تمام علوم فنون اور حرب ضرب شامل ہیں ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور سید عالم ﷺ سے علم کی بارے میں ایک مفصل حدیث نقل کی ہے جس سے علم کی ضرورت و اہمیت اور افادیت پر تفصیلی روشنی پڑتی ہے۔ فرمایا
” علم حاصل کرو ، اللہ تعالیٰ کیلئے علم حاصل کرنا نیکی ہے، علم کی طلب عبادت ہے اور اس میں مصروف رہنا تسبیح اور بحث و مباحثہ کرنا جہاد ہے ۔ علم سکھاﺅ تو صدقہ ہے، علم تنہائی کا ساتھی، فراخی اور تنگدستی میں رہنما ، غم خوار دوست اور بہترین ہم نشین ہے۔ علم جنت کا راستہ دکھاتا ہے، اللہ تعالیٰ علم ہی کے ذریعہ قوموں کو سر بلندی عطا کرتا ہے، لوگ علماء کے نقش قدم پر چلتے ہیں تو دنیا کی ہر چیز ان کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے۔ علم دلوں کی زندگی ہے اور اندھوں کی بینائی ۔ علم جسم کی توانائی اور قوت ہے۔علم کے ذریعے انسان فرشتوں کے اعلیٰ درجات تک پہنچتا ہے۔ علم میں غور وخوض کرنا روزے کے برابر ہے اور اس میں مشغول رہنا نماز کی برابر ہے، علم ہی کی ذریعے اللہ تعالیٰ کی صحیح اطاعت، فرمانبرداری وعبادت کی جاتی ہے، علم سے ہی انسان معرفت خداوندی حاصل کرتا ہے ،علم ہی کی بدولت انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے۔ علم ایک پیش رو اور رہبر ہے اور عمل اس کا تابع ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو علم حاصل کرتے ہیں اور بدبخت اس کی سعادت سے محروم رہتے ہیں۔“
اسلام کا دامن علم و حکمت اور دانائی کے موتیوں سے بھرا پڑا ہے۔ دین اسلام تمام دنیا کے انسانوں کو فکرو عمل کی دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے علوم وفنون کیلئے اس کی آغوش کھلی ہے۔ اسلام اصولی طور پر تحقیقات اورسائنس ہی کا دین ہے جو خود کائنات مں غور و فکر اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔ دنیا کا اور کوئی مذہب کائنات میں غورو فکر اور مشاہدے کی دعوت نہیں دیتا اور یہ ان کی باطل ہونے کی کھلی دلیل ہے ۔ صرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو کہتا ہے کہ فطرت کے قریب آﺅ، فطرت کو قریب سے دیکھو ، کائنات کی تخلیق میں غور وفکر کرو کہ اسے کس نے پیدا کیا؟ اس کو پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اور اس سے انسانی زندگی کیلئے کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟ جس قدر سائنس کی تحقیقات، ایجادات اور انکشافات میں اضافہ ہو گا اسی قدر اسلام کے دین فطرت اور دین حق ہونے کا اعتراف بڑھتا جائے گا اور توحید حق کے پرستاروں میں اضافہ ہو گا۔ جس طرح ماضی میں مسلمانوں نے بے نظیر سائنسی کارنامے سرانجام دئیے اور دنیا میں ایک پر وقار مقام حاصل کیا، اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر دنیا میں اپنا وہ کھویا ہوا عظیم مقام پھر سے حاصل کریں۔
مغرب تو آج ترقی کر رہا ہے مگر اسلام نے مسلمانوں کو ابتداء سے ہی عروج و اقبال عطا کر دیا تھا اور تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر لگا دیا تھا، تمام علوم و عرفان، ہنرو فن، تخلیق و ارتقاء کے چراغ جلانے کی شروعات مسلمانوں نے کیں۔ الفابیٹک، ریاضی، الجبرا، جیومیڑی، سائنس، سیاروں اور ستاروں کے علم کی سرچشمی مسلمانوں سے ہی پھوٹی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب مغرب جہالت و تاریکی کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا اس وقت ہمارے علم و فن کے چراغ روشن تھے۔ آج کے ترقی یافتہ یورپ کے پاس جب لباس کا تصور نہ تھا اس وقت بغداد میں ململ سے لیکر مخمل تک نفیس کپڑوں کے کارخانے کام کر رہے تھے۔ جب یورپ میں فن تعمیر کا تخیل تک بھی نہ پایا جاتا تھا اور کھلے آسمان کے نیچے زندگی کے تاریک دن کاٹ رہا تھا اس دور میں مسلمان فن تعمیر میں بلند مقام حاصل کر چکے تھے۔ بغداد، قرطبہ اور غرناطہ میں دنیا کی حسین ترین عمارتیں، دیدہ زیب مساجد اورتدریسی جامعات موجود تھیں اور یورپ کی طالب علم اپنی علمی پیاس بجھانی کے لیے اسلامی تمدن کی حامل شہروں بغداد، قاہرہ، قسطنطنیہ اور اندلس و قرطبہ کی طرف کھینچے چلے آتے تھے اور اسکندریہ یونیورسٹی میں داخلہ مل جانے پر فخر کیا کرتے تھے۔
جب آج کا یو رپ طب، علاج معالجہ سے بی بہرہ تھا اس وقت مسلمانوں نے علوم طب میں اعلی معارج کو طے کر لیا تھا اور یورپ کے لوگ اپنے علاج معالجہ کی غرض سے اسلامی ممالک کا رخ کرتے تھے۔ آپریشن و سرجری کے تمام مسلمان طبی ماہرین کے ہی ایجاد کردہ ہیں اور آج تک پوری دنیا میں وہی آلات استعمال ہو رہے ہیں۔ پورا یورپ مل کر ان میں کسی ایک کا بھی اضافہ نہیں کر سکا۔ آج کا ترقی یافتہ یورپ جب ایجاد واختراع کے ہر احساس، ہر تصور اور سوچ سے تہی دامن تھا اس وقت مسلمان ایجاد و انکشافات کی دنیا میں دھوم مچائے ہوئے تھے۔ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ کے دور میں بحری جہاز پر کام ہو رہا تھا۔ جب یورپ سمندر میں تیرنا نہیں جانتا تھا اس وقت مسلمان افواج بحری جہازوں کے ذریعے یورپ کے تمام مشرقی اور جنوبی ساحلوں کو چھو چکے تھے۔ جب یورپ جنگی اوزار سے بے خبر تھا اس وقت مسلمان منجیق کے ذریعے بھاری پتھر اٹھا کر دشمنوں پر دے مارنے کی مشق کر چکی تھے۔ آج دنیا کو نظام مملکت کا درس سیکھانے والا یورپ جب ملک چلانے کے اطوار سے نا آشنا تھا اس وقت اسلام کا دیا نظام آدھی دنیا پر حکومت انتہائی احسن انداز میں چلا رہا تھا اور معاشرہ کے ایک ایک فرد تک اس کا ثمر پہنچتا تھا مختلف رنگ و نسل، لسان، تہذیب و تمدن ہونے کے باوجود۔ اس وقت پوری دنیا میں اسلام کے نظام عدل، نظم و ضبط، رہن سہن، نظام معاشرت، نظام دفاع میں کوئی ثانی نہیں تھا۔ الغرض کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس میں مسلمانوں نے اختراع و ایجادات کے جوہر نہ دکھائے ہوں۔
مسلمانوں کے علمی عروج کی تصدیق اغیار کی زبانی:
قرآن کریم کی حقانیت اور مسلمانوں کے علمی عروج اور سائنسی ترقی بارے معروف یورپی دانشور اور مورخ ڈاکٹر موریس بوکالے (Dr. Maurice Bucaille) اپنی کتاب ”بائبل ، قرآن اور سائنس“ کے باب” قرآن اور جدید سائنس “ میں لکھتا ہے۔
”قرآن جہاں ہمیں سائنس کو ترقی دینے کی دعوت دیتا ہے وہاں خود اس میں قدرتی حوادث سے متعلق بہت سے مشاہدات و شواہد ملتے ہیں اور اس میں ایسی تشریحی و تفصیلات موجود ہیں جو جدید سائنسی مواد سے کلی مطابقت رکھتے ہیں۔ یہودی و عیسائی تنزیل میں اس جیسے کوئی بات نہیں۔ اس کی باوجود یہ خیال کرنا غلط ہو گا کہ تاریخ اسلام میں کچھ عقیدت مندوں نے کبھی سائنس کی جانب سے ایک مختلف رویہ کو اپنے دل میں جگہ نہیں دی ہے۔ یہ ایک امر واقع ہے کہ بعض ادوار میں مسلم ملکوں میں لوگوں کو تعلیم دینے کی ذمہ داری کو نظر انداز کیا گیا۔ یہ مساوی طور پر صحیح ہے کہ عالم اسلام میں دوسری جگہوں کی طرح بعض اوقات سائنسی ترقی کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ پھر بھی یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلام کے انتہائی ترقی کے زمانہ میں جو آٹھویں اور بارہویں صدی عیسوی کے درمیان کا زمانہ ہے یعنی وہ زمانہ ہے جب سائنسی ترقی پر عیسائی دنیا میں پابندیاں عائد تھیں، اسلامی جامعات میں مطالعہ اور تحقیقات کا کام بڑی پیمانے پر جاری تھا۔ یہی وہ جامعات ہیں جہاں اس دور کے قابل ذکر ثقافتی سرمائے ملتے ہیں۔ قرطبہ کی مقام پر خلیفہ (الحکم ثانی) کے کتب خانہ میں چار لاکھ کتابیں تھیں، ابن رشد وہاں درس دیتا تھا، اور یونانی، ہندوستانی اور ایرانی علوم سیکھائے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام یورپ سے کھینچ کر طلبہ قرطبہ میں تعلیم حاصل کرنے جایا کرتے تھے، بالکل اسی طرح جیسے آج کل لوگ تعلیم مکمل کرنے کیلئے ریاست ہائے متحدہ امریکہ جاتے ہیں۔ مہذب عربوں کا یہ ہمارے اوپر بڑا احسان ہے کہ ان کی بدولت قدیم مخطوطات کا ایک بڑا ذخیرہ ہمیں ہم دست ہو گیا۔ انہی عربوں نے مفتوحہ ممالک کے کلچر کو منتقل کرنے کا کام کیا۔ تاہم ریاضی، الجبرا عربوں کی ایجاد ہے، فلکیات، طبیعیات( مناظر و مرایا)، ارضیات، نباتات، طب (ابن سینا) وغیرہ کیلئے ہم بڑی حد تک عربی تمدن کی ممنون احسان ہیں۔ سائنس نے پہلے پہل قرون وسطیٰ کی اسلامی جامعات میں بین الاقوامی صورت اختیار کی، اس زمانہ کے لوگ مذہبی رنگ میں آج سے کہیں زیادہ رنگے ہوئے تھے، لیکن اسلامی دنیا میں یہ چیز ان کو اس بات سے نہیں روکتی تھی کہ مذہبی اور سائنسی تعلیم دونوں ایک ساتھ ہوں۔ سائنس مذہب کے ساتھ ہم آہنگ تھی اور اس کی یہ حیثیت کبھی ختم نہیں ہو سکتی تھی۔“
ابتدائی مسلمانوں کے ترقی، عروج و کمالات اور علمی لگاو بیان کرتے ہوئے معروف مغربی مورخ ڈاکٹر گوسٹاوے لکھتا ہے۔
”جب یورپ والے لائبریری کے مفہوم سے بھی نا آشنا تھے، یورپ کی تمام کلیساوں کے راہبوں سے جمع کی جانے والی کتابوں کی تعداد پانچ سو سے متجاوز نہ تھی اس وقت اسلامی ممالک میں کتابوں کی جمع آواری کی داستان یہ تھی کہ قاہرہ کی لائبریری میں ایک ملین کتابیں موجود تھیں، طرابلس کی لائبریری میں تین ملین کتابیں ذخیرہ کی گئی تھیں، بغداد کی لائبریری میں چار ملین کتابیں کشش کا باعث تھیں۔ اسپین کی لائبریری کیلئے سالانہ ستر، اسی ہزار کتابیں جمع کی جاتی تھیں۔ تیرہویں صدی عیسوی کی ابتداء میں مستنصریہ یونیورسٹی پوری دنیا میں انفرادیت کی حامل تھی۔“
امریکی مورخ انگرسال مسلمانوں کے ابتدائی دور کے عروج و کمالات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
”قرآن کے وسیع تر نظریہ تعلیم کے تحت عربو ں نے جابجا کالج قائم کئے ، رصد گاہیں تعمیرکیں، سائنسی علوم کو عام کیا، ہندسے رائج کیے، الجبرا سیکھایا، ستاروں کے نقشے اور زاویے بنائے، ستاروں کے نام رکھے، زمین کا حجم دریافت کیا، سن عیسوی کا کیلنڈر درست کیا، علوم فلکیہ کو ترویج دی، آلات ہیئت تعمیر کیے، جنگی اوزار بنائے، علم کیمیا کی ایجاد کی، خیراتی شفاء خانوں کا نظام رائج کیا۔“
جب اسلام کے ابتدائی دور کی ترقی وکمالات پر نگاہ پڑتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اگر ہم غفلت کی نیند نہ سوتے، ہمیں لا پرواہی کا زنگ نہ لگتا، سستی و کاہلی کا دیمک نہ کھاتا اور اختراع و ایجادات، ارتقاء و انکشافات کا سلسلہ یونہی جاری رکھتے تو آج کا مغرب ہماری قدموں کی گرد و غبار کو بھی نہ چھو سکتا تھا۔ اگر ہم قرآن سے غافل نہ ہوتے ، سنت کا دامن نہ چھوڑتے تو کبھی ہمیں زوال کا دیمک نہ کھاتا۔ ہم نے قرآن کو پورے نظام تعلیم سے الگ کرکے گھروں میں رکھوا دیا کہ صرف ثواب کی غرض سے پڑھو، اور باقی معاملات ِ زندگی سے اس کو الگ کر دو، زندگی کے کسی شعبہ میں اس کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ زندگی کے باقی معاملات میں ہمارے جمہوری خود ساختہ قوانین چلیں۔

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
دنیا کی دوسری قومیں جو ایک مدت اور عرصہ دراز تک اہل اسلام کے خرمن ِ کمالات کی خوشہ چین رہیں آج دنیاوی ترقی کی اس معراج تک جا پہنچی ہیں کہ اس زمانہ کے مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ اس کی اصل وجہ صرف ہماری غفلت، کاہلی و بے پرواہی ہے ، قرآن و سنت سے دوری ہے۔ اپنے دینی اصولوں، اپنے ضابطہ حیات، اپنے طرز زندگی سے بیزاری ہے اپنے اسلاف، اپنے بزرگوں کے اعلیٰ کارناموں سے ناواقفیت ہے۔ جب ہم اپنے نظام حیات کو چھوڑ کے دوسروں کی نقل اور تقلید پر اتر آئے تو ہم دنیا ہی میں ذلیل و رسواء ہو کر رہ گئے۔ قرآن پر عمل پیرا نہ ہونے کے باعث آج مسلمان زندگی کے ہر میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔ شروع میں جب مسلمانوں نے دینی علم کی ساتھ ساتھ سائنسی علم بھی حاصل کیا اور دوسرے علوم و فنون کو بھی نہ صرف سیکھا بلکہ انہیں مزید ترقی اور وسعت دی تو وہ ساری دنیا پر غالب آ گئے ۔ اس لحاظ سے علم مسلمانوں کا قومی ورثہ ہے اور اس عظیم وراثت کو صحیح استعمال میں لا کر مسلمان دین و دنیا کی جملہ کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ غیر مسلم قومیں دنیاوی علوم و فنون میں ترقی یافتہ ہیں اور آج مسلمانوں سے بہت آگے ہیں اور وہ دنیا پر حکومت کر رہی ہیں لیکن کیونکہ وہ دینی وروحانی علم سے محروم ہیں جس کی سبب دنیا میں امن وسکون نہیں ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ پہلے تو وہ صحیح معنوں میں مسلمان بنیں، اپنی اصلاح کریں ، اپنے معاشرہ کی اصلاح کریں ، اپنے معاشرہ کو ہر قسم کی تمام برائیوں سے پاک کر کے ایک حقیقی اسلامی فلاحی معاشرہ بنائیں۔ دینی علوم کو فروغ دیں اور دنیا پر واضح کر دیں کہ اسلام مسلکوں اور فرقوں کا نام نہیں بلکہ اسلام ایک یکجا قوت کا نام ہے، اسلام ایک اتحاد و یکجہتی کا نام ہے، اسلام ایک نظام کا نام ہے، اسلام ایک ضابطہ حیات کا نام ہے۔ پھر اسلام پے چل کر، قرآن و سنت کا دامن مضبوطی سے تھام کرجدید علوم و فنون ، سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ میں انتہا درجہ کی مہارت حاصل کریں۔ وہ اتنی ذکاوت و مستعدی اور علم رکھتے ہوں اور سخت سے سخت محنت کرنے پر کمربستہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جو طبعی قوتیں پیدا کی ہیں، اور زمین میں دولت و قوت کے جو چشمے اور دفینے رکھ دیے ہیں، ان سے کام لیتے ہوئے اِن کو اسلام کے عظیم مقاصد اور صحیح تشخص کے لیے مفید بنا سکیں۔
دورِ حاضر سائنس و ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کا دور ہے ہمیں روایتی تدریس سے ہٹ کر جدید ذرائع سے اپنی تعلیم کو موثر کرنا ہوگا تاکہ طلبا کو روز ہونی والی تبدیلیوں اور انقلابات سے واقف کراتے ہوئے ان میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکے، صرف اسی صورت میں مسلمان پوری دنیا پر غالب آ سکتے ہیں اور دنیا میں اپنا کھویا ہوا عظیم مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں جب وہ زیورِتعلیم کو قرآن و سنت کے نور سے آراستہ کریں وگرنہ ترقی یافتہ اقوام کی غلامی اور صہیونی و سامراجی قوتوں سے نجات پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Allah Bakhash Fareedi

Read More Articles by Allah Bakhash Fareedi: 77 Articles with 48756 views »
For more articles & info about Writer, Please visit his own website: www.baidari.com
mail@baidari.com
اللہ بخش فریدی بانی و مدیر بیداری ڈاٹ کام ۔ ہ
.. View More
20 Mar, 2021 Views: 563

Comments

آپ کی رائے