قُرآن قُدرت کا ایک تُحفہِ رُوح جان !!

(Babar Alyas , Chichawatni)

#العلمAlilm علمُ الکتاب سُورةُالاَسرٰی ، اٰیت 85 تا 89 ازقلم مولانا اخترکاشمیری
علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !!
براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں !!
اٰیات و مفہومِ اٰیات !!
و
یسئلونک
عن الروح قل
الروح من امر ربی
وما اوتیتم من العلم
الا قلیلا 85 ولئن شئنا
لنذھبن الذی اوحینا الیک ثم
لاتجدلک بہ علینا وکیلا 86 الا
رحمة من ربک ان فضلہ کان علیک
کبیرا 87 قل لئن اجتمعت الانس والجن
علٰی ان یاتوابمثل ھٰذاالقراٰن لا یاتون بمثلہ و
لوکان بعضھم لبعض ظھیرا 88 ولقد صرفناللناس
فی ھٰذالقراٰن من کل مثل فابٰی اکثرالناس الا کفورا 89
اے ھمارے رسول ! جو لوگ رُوح کی حقیقت کے بارے میں آپ سے سوال کرتے ہیں تو آپ اُن کو بتا دیں کہ رُوح میرے رَب کے مِن جُملہ اَحکام میں سے ایک حُکم ھے جو جسم میں جان ، دل میں ایمان ، دماغ میں بُرھان ، پُھول میں خوشبُو اور پَھل میں ذائقہ بن کر ظاہر ہوتا ھے لیکن اِس کی لامحدُود علمی کیفیات کے بارے میں انسان کو جو علم دیا گیا ھے وہ بہت ہی محدُود ھے ، اگر ہم کسی کے جسم سے یا خود آپ کے دل سے اپنے اِس اَمرِ رُوح کو نکال دیں تو ھماری سلطنت میں ایسی کوئی ہستی نہیں ھے جو ھماری مرضی کے خلاف ھمارے سامنے لب کشائی کر سکے ، ہر چند کہ اگر ھم چاہیں تو کسی کے جسم یا آپ کے دل سے اپنے اِس اَمرِ رُوح کو نکال سکتے ہیں لیکن ہر ایک تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ہو چکی ھے کہ آپ پر ھماری ایک خاص رحمت و مہربانی ھے اِس لیۓ ھم آپ کے دل میں اُتارے ہوۓ اپنے اَمرِ رُوح کو آپ کے دل سے محو نہیں کرتے ، ھم نے اپنا یہ اَمرِ رُوح جو جان کے طور پر آپ کے جسم میں رکھا ھے یا اپنے وہ دُوسرے اوامر جو قُرآن کی صورت میں آپ کے سینے پر ثبت کیۓ ہیں اور جو ایمان و بیان کی صورت میں بھی آپ کی زبان پر جاری کیۓ ہوۓ ہیں اِن کے بارے میں جن و اِنس میں سے جس کسی کو بھی تردد ہو آپ اُس کو ببانگِ دُھل کہہ دیں کہ مخلوق کے یہ دونوں گروہ باہم مل کر اور ایک دُوسرے کے ساتھ جَتھ بند ہو کر بھی اِس بے مثال کلام کی طرح کا کوئی کلام لاکر دکھا سکتے ہیں تو لا کر دکھا دیں لیکن جن و اِنس کی اِس عاجزانہ مُشکل کے باوجُود بھی جو انسان ایک دیانت دارانہ تحقیق کرے گا تو وہ ضرور اِس اَمر کی تصدیق کرے گا کہ ہم نے قُرآن کو انسانی فہم سے قریب تر بنانے کے لیۓ اِس کے ایک ایک مضمون کو جگہ جگہ پر بیان کیا ھے اور مُختلف اَمثال و اُسلوب کے ساتھ بیان کیا ھے مگر اِس کے باوصف بھی اکثر لوگوں کو قُرآن کے اِس کلام سے اعراض کار اور ناشُکرا ہی پایا ھے !

مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات !
قُرآنِ کریم نے سُورةُالبقرة کی اٰیت 87 و 98 ، سُورہِ یُوسف کی اٰیت 53 ، سُورةُالحجر کی اٰیت 29 ، سُورةُالنحل کی اٰیت 2 ، سُورةُ الاَسرٰی کی 85 ، 86 ، 87 ، 88 ، 89 ، سُورہِ مریم کی اٰیت 17 ، سُورةُالاَنبیاء کی اٰیت 35 ، سُورةُُالشعراء کی اٰیت 193 ، سُورةُالسجدة کی اٰیت 9 و 13 ، سُورةُالزمر کی اٰیت 6 ، سُورةُالشُورٰی کی اٰیت 52 ، سُورةُالمعارج کی اٰیت 4 سُورةُالقیامة 2 ، 14 ، سُورةُالنباء کی اٰیت 38 ، سُورةُالشمس کی اٰیت 7 ، 9 ، 10 اور سُورةُالقدر کی اٰیت 4 کے جن 25 مقامات پر رُوح و اَعمالِ رُوح کا رُوح پرور ذکر کیا ھے اُن 25 مقامات میں سے سُورةُالاَسرٰی کا یہ مقام اِس اعتبار سے ایک اھم تر مقام ھے کہ اِس مقام پر رُوح کا جو ذکر کیا گیا ھے وہ قُرآنِ کریم کے دیگر 24 مقامات سے نسبتاً زیادہ مُفصل ھے ، قُرآنِ کریم نے ذکرِ رُوح کے جن مُختلف مقامات پر جن مُختلف چیزوں کو رُوح کہا ھے اُن میں سے ایک چیز انسان کی وہ جان ھے جس کو قُرآن نفس کہتا ھے اور اُس نفس کا تزکیہ بھی کرتا رہتا ھے ، دُوسری چیز انسان کا وہ اعتماد و اطمینان ھے جس کو قُرآن ایمان کہتا ھے اور اِس ایمان کو اَمنِ عالَم کی کلید قرار دیتا ھے اور تیسری چیز وہ کتابِ عظیم ھے جس کا نام قُرآن ھے جس کے پڑھنے اور پڑھانے کے لیۓ اللہ تعالٰی نے انسانی جسم میں وہ جان داخل کی ھے جو جس پر اپنے اَحکام چلاتی ھے اور اِس جسم و جان میں وہ دھڑکتا دل پیدا کیا ھے جو اِس جسم و جان کے ہر ایک رگ و ریشے کو خون فراہم کر کے جان کو قائم اور جسم کو زندہ و مُتحرک رکھتا ھے اور دل میں وہ ایمان و اطمینان پیدا کیا ھے جو ایک زندہ انسان کی سیرت و کردار میں ظاہر ہو کر اُس کو ایک مثالی انسان کے طور پر مُتعارف کراتا ھے اور جس کو قُرآن اُس"اَمرِ رب" کے ایک حسین عُنوان سے مُعنون کرتا ھے جو اَمرِ رب اپنی ذات میں عالَم کی وسعت کی طرح ایک وسعت کا حامل ھے اور اِس کی وسعت کا عالَم یہ ھے کہ اللہ تعالٰی نے اِس عالَم کے وجُود میں آنے سے پہلے اِس کء ارتقاء کے لیۓ اِس میں اپنا یہی اَمرِ رب اپنے حرفِ قال "کُن" کی صورت صادر فرمایا ھے اور اللہ تعالٰی کے اِس اَمرِ کُن کے بعد ہی یہ سارا عالَم وجُود میں آیا ھے اور جب سے یہ عالَم وجُود میں آیا ھے تَب سے اَب تک "کُن" کا وہی اَمرِ اَوّل و آخر اِس میں جاری و ساری ھے لیکن انسان جو ہر زمان و مکان میں ایک محدُود حیات لے کر آیا ھے وہ ہر زمان و مکان میں اِس اَمرِ "کُن" کے عامل کا ایک معمول ہی رہا ھے اِس کا عالِم کبھی نہیں ہوا ھے کیونکہ رُوح کے اِس حامل وجُود کو رُوح کا اتنا ہی علم دیا گیا ھے اور ہمیشہ اتنا ہی علم دیا جاتا ھے جتنا اِس کی حیاتِ موجُود کا عملی تقاضا ہو تا ھے اور رُوح کے اِس حامل وجُود کو آئندہ بھی رُوح کا اتنا ہی علم دیا جاۓ گا جتنا اُس وقت اُس کی عملی حیات کا ایک عملی تقاضا ہوگا ، رُوح کے بارے میں ایک اور قابل ذکر اَمر یہ ھے کہ رُوح کو اللہ تعالٰی نے اللہ کا اَمر ، رحمٰن کا اَمر یا رحیم کا اَمر نہیں کہا بلکہ رَب کا اَمر کہا ھے جو اللہ کی پالنہاری اور پرورش کاری کا وہ نمائندہ اسم ھے جو عالَم و اَشیاۓ عالَم کی پرورش کے لیۓ خاص ھے اور اللہ کا یہی وہ خاص اَمر ھے جو سُورج کو دیا تو وہ روشنی اور حرارت دینے لگا ، چاند کو دیا تو وہ ایک راحت آمیز ٹھنڈک اور روشنی پھیلانے لگا ، ندیوں ، نالوں اور دریاؤں کو دیا تو وہ مُضطرب و پُر جوش ہوگۓ ، سمندروں پر نافذ ہوا تو وہ ساکت ہوگۓ ، اَحجار پر وارد ہوا تو وہ دریا بہانے لگے اور اَشجار پر صادر کیا گیا تو وہ پُھول اور پَھل دینے لگے لیکن چاند کی برُودت ، سُورج کی حرارت ، ستاروں کی تابانی اور سیاروں کی روانی انسان کے لیۓ ھے اور انسان قُرآن کے لیۓ ھے اور قُرآن نے انسان کو جس رُوح سے مُتعارف کرایا ھے وہ ایک ذَرے سے لے کر آفتاب تک اور ایک قطرے سے لے کر ایک قُلزم تک ہر ایک مقام پر موجُود ھے اور اُس کا عمل اتنا وسیع ھے کہ آج کا انسان اپنی تمام علمی صلاحیتوں کے باوصف اُس کا احاطہ نہیں کر سکتا اور مُستقبل کا انسان شاید اُس کا تھوڑا سا علم حاصل کر لے ، لیکن اِس وقت تک تو انسان علمِ قُرآن سے صرف یہ جان سکا ھے کہ انسان کی جان و ایمان قُدرت کا ایک عالی قدر تُحفہ ھے اور انسان کی جان و ایمان کے لیۓ قُرآن قُدرت کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ گراں قدر تُحفہ ھے !!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 298 Articles with 100106 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
03 Apr, 2021 Views: 75

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ