جس عمران خان کو میں جانتی تھی وہ تو کہتا تھا کہ ۔۔ وزیراعظم کے پردے سے متعلق بیان پر سابقہ اہلیہ جمائمہ کا تنقید کرتے ہوئے قرآنی آیت سے جواب

 
مومن مردوں سے کہو کہ وہ اپنی آنکھیں روکیں اور اپنے شرمگاہ کی حفاظت کریں۔" قرآن 24:31
 
جمائمہ گولڈ اسمتھ۔ نے وزیرِ اعظم کے بیان پر یہ آیت لکھتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ “ذمہ داری مردوں پر ہے“ جمائمہ اپنے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے اگلی ٹوئٹ میں کہتی ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ترجمے کی غلطی ہے یا [عمران خان کی] بات کو غلط پیش کیا گیا ہے کیونکہ جس عمران کو میں جانتی ہوں وہ کہتا تھاکہ پردہ عورتوں کے نہیں بلکہ مردوں کی آنکھوں پر ڈالنا چاہیے‘۔
 
جمائمہ گولڈ اسمتھ (جو وزیرِ اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ رہ چکی ہیں) نے یہ ٹوئٹ گزشتہ دنوں جنسی زیادتی کی شرح بڑھنے پر وزیرِ اعظم کے بیان پر کیا جس پر عوام کا مختلف ردِ عمل دیکھنے میں آرہا ہے۔
 
 
وزیرِ اعظم نے کیا کہا تھا
عوام سے براہِ راست سوال جواب کے سیشن میں جب ایک کالر نے وزیِر اعظم سے جنسی جرائم کی روک تھام کے بارے سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا “ ’اگرچہ ریپ کے بارے میں حکومت نے سخت قوانین بنائے ہیں لیکن ایسے جرائم کے بڑھنے کی وجوہات کو بھی دیکھنا ہوگا اور ان میں سے ایک وجہ فحاشی کا پھیلنا ہے‘۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے صرف قانون بنانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے مذید کہا کہ ’معاشرے نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ معاشرے کی تباہی ہے اور اس کی وجوہات ہیں۔ آج جس معاشرے کے اندر آپ فحاشی بڑھاتے جائیں تو اس کے اثرات ہوں گے۔ ہمارے دین میں کیوں منع کیا گیا ہے؟ پردے کی تاکید کیوں کی گئی ہے؟ تاکہ کسی کو ترغیب نہ ملے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے۔۔۔ آپ معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھاتے جائیں گے تو اس کے اثرات ہوں گے۔‘
 
 
عوام کا ردِعمل
سوشل میڈیا پر وزیرِ اعظم کے اس بیان پر کافی شدید تنقیدی ردِعمل سامنے آرہا ہے۔ کچھ صارفین اس پر افسوس کا اظہار کرہے ہیں اور کچھ اسے براہِراست “وکٹم بلیمنگ“ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وزیرِاعظم کے بیان کے خلاف ایک خط جاری کیا گیا ہے جس میں وزیرِاعظم کے بیان کی مذمت کے ساتھ ان سے معافی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے اس خط میں عوام کے علاوہ 200 خواتین کے حقوق سے وابستہ کئی تنظیموں نے بھی دستخط کیے ہیں۔
 
 
“ وزیرِاعظم نے جنسی زیادتی کا شکار ہونے والوں کا دل دکھایا ہے“ مریم اورنگزیب کا بیان
اس کے علاوہ مختلف سیاسی پارٹی کے رہنماؤں نے بھی وزیرِاعظم کے اس بیان پر تنقید کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ “یہ بیان دے کر عمران صاحب نے ریپ کا شکار ہونے والوں اور ان کے گھر والوں کا دل دکھایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے دیا گیا یہ بیان ’ہر باشعور شخص کے لیے حیران کن ہے‘۔پاکستان مسلم لیگ کی ترجمان نے سوال اٹھایا کہ ’کمسن بچوں کو جو ریپ کا نشانہ بنایا جارہا ہے کیا اس کی وجہ بھی فحاشی ہی ہے؟‘
 
انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے مذمت
گزشتہ روز پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے بھی وزیر اعظم عمران خان کے جنسی زیادتی کو فحاشی سے جوڑنے کے بیان کی مذمت کی تھی۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
07 Apr, 2021 Views: 17589

Comments

آپ کی رائے