مجھے چار دن بھی کھانے پینے کو نہ ملے تو صبر کرلیتا ہوں۔۔۔ سڑکوں پر اذان دینے والے غریب بزرگ کی دکھ بھری کہانی

 
آپ نے سڑک پر اللہ کے نام پر خیرات مانگنے والے تو بہت دیکھے ہوں گے لیکن لاہور میں ایک ایسے بزرگ بھی ہیں جو اللہ کا زکر کسی دنیاوی فائدے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کی آخرت سنوارنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ سڑکوں پر اذان دیتے ہیں اور مائیک پر چلتے ہوئے مسلسل درس دیتے ہیں۔ بابا پنجاب کے تمام صوبوں میں یہ کارِ خیر انجام دینے کے لئے اکثر مستقل سفر میں رہتے ہیں اور ان کا مقصد لوگوں کو گناہ سے نکال کر اللہ کی یاد دلانا ہے۔
 
بابا جی کی گزر بسر کیسے ہوتی ہے؟
بابا جی ایک ہی مخصوص شلوار قمیض پہنتے ہیں اور ان کے پاس ایک ہی جیکٹ ہے۔ سردی ہو یا گرمی وہ کوئی اہتمام نہیں کرتے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں جوتے تک نہیں ہیں بابا جی کہتے ہیں کہ“سردی میں لوگ بلاتے ہیں کہ بابا جی ادھر آگ میں ہاتھ سینک لو میں کہتا ہوں اللہ کے بندے ادھر میں دو منٹ ہاتھ سینک لوں گا اس کے بعد کہاں سینکوں گا میں کسی مسجد میں ہی رہ لیتا ہوں، سو جاتا ہوں ، پانی بھی مسجد سے پیتا ہوں اور اگر مجھے چار دن بھی کھانے پینے کو نہ ملے تو صبر کرلیتا ہوں“
 
 
پیدل حج پر جانا چاہتا ہوں
باباجی کہتے ہیں کہ اگر اللہ انھیں طاقت دے تو وہ پیدل حج اور عمرے پر جانا چاہتے ہیں اور راستے بھر اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ لوگوں برائی سے بچو اور نیکی کی راہ پہ آجاؤ اس کے ساتھ وہ یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اللہ سب مسلمانوں کے دل میں یہ جذبہ پیدا کرے کہ وہ حج ، عمرے پر جانے کی خواہش کریں۔
 
وزیرِاعظم سے درخواست
بابا جی وزیرِاعظم عمران خان سے درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو لوگ بیمار ہیں یا پریشان ہیں انھیں اللہ سے معافی منگوائی جائے تو اللہ ضرور سختیاں ختم فرمائیں گے۔ جب کافر، رب پاک سے معافی مانگتے ہیں تو وہ ان کو بھی معاف کردیتا ہے تو ہم تو پھر مسلمان ہیں۔ واضح رہے کہ اس رپورٹ کی تیاری میں نیشنل پوائنٹ کی ایک ویڈیو سے مدد لی گئی ہے-
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
08 Apr, 2021 Views: 1238

Comments

آپ کی رائے