یہ تو صرف 148 باقی رہ گئے ہیں، وہ 7 جانور جو جلد ہی ہماری دنیا سے غائب ہوجائیں گے

 
جانوروں کے ناپید ہونے کی وجہ تلاش کی جائے تو صرف ایک ہی جواب سامنے آتا ہے، اور وہ جواب انسان ہیں۔ کہیں انسان جانوروں کا بےپناہ شکار کر رہا ہے تو کہیں ان کے قدرتی مسکن کی کٹائی میں مصروف ہے- یہاں تک کہ آبی مخلوق بھی انسان سے محفوظ نہیں کیونکہ سمندروں میں جانے والا کچرا بھی سمندری جانوروں کی مختلف اقسام کو اپنا شکار بنا لیتا ہے- اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب جانوروں کی چند اقسام دنیا سے ناپید ہوجائیں گی کیونکہ یہ اب تعداد میں بہت تھوڑی رہ گئی ہیں-
 
Global mountain gorilla
پہاڑی گوریلا کی مستقبل میں موجودگی کی امید کسی حد تک روشن ہوگئی ہے کیونکہ ان کی تعداد اضافے کے بعد 1063 تک پہنچ گئی ہے- یہ دنیا میں صرف 2 مقامات پر پائے جاتے ہیں اور وہ دونوں مقامات محفوظ جنگلات ہیں- اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں معدومیت سے بچانے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں-تاہم Bwindi-Sarambwe نیشنل پارک میں اسمگلروں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے اب بھی ان کی نسل خطرے سے دوچار ہے-
 
Saola
ساؤلا کو 1992 میں ویتنام کے ایک پہاڑی جنگل سے دریافت کیا گیا تھا اور اس وقت ان کی تعداد 790 سے بھی کم ہے جبکہ بدقسمتی سے اس تعداد میں مسلسل کمی بھی آرہی ہے- ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ انسان ہے کیونکہ ان کا شکار عام ہے جس کی وجہ سے اکثر انہیں تکلیف پہنچتی ہے- یہی وجہ ہے کہ بہت ساری تنظیمیں جنگل میں ان کے لئے محفوظ ماحول پیدا کرنے کے لئے متحد ہو کر کام کر رہی ہیں۔
 
Kangaroo Island dunnart
یہ چھوٹی سے مخلوق آسٹریلین کینگرو جزیرے پر پائی جاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد 500 سے بھی کم ہے- اس کے علاوہ ، 2019 اور 2020 میں آسٹریلیا کے جنگل میں لگنے والی آگ نے بھی جانوروں 95 فیصد اقسام کو جلا دیا تھا۔اسی وجہ سے ڈنارٹ اور دیگر خطرے سے دوچار نسلوں کو معدومیت سے بچانے کے لئے ایک محفوظ علاقہ بنایا گیا ہے۔
 
Iberian lynx
بیشتر نایاب جانوروں کو بلوط کے درختوں پر مشتمل صرف جنوب مغربی اسپین کے 2 جنگلوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔1985 اور 2001 کے درمیان اس لینکس نامی جانور کی آبادی میں 87 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، لیکن آج جنگل میں 400 کے قریب لینکس ہیں۔ ان کا قدرتی مسکن نئی شاہراہوں اور درختوں کی کٹائی کی وجہ سے تباہ ہو رہا ہے۔
 
Black-footed ferret
اس جانور کے بارے میں اگرچہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ معدوم ہوچکا ہے، لیکن یہ ابھی بھی وجود میں ہے۔ تاہم ، بیماریوں اور قدرتی رہائش گاہ کے نقصان کی وجہ سے ان کی آبادی تیزی سے کم ہورہی ہے۔ جنگل میں ان کی کل آبادی کی تعداد لگ بھگ 370 ہے۔
 
Gharial crocodiles
سال 2010 میں، بھارتی ریاست بہار کے دریائے گندک میں صرف مگرمچھوں کی اس خاص قسم کے 15 مگرمچھ پائے گئے۔ جس کے بعد سن 2014 میں ایک پروگرام کے تحت 30 ​​مگرمچھوں کو رہا کر کے انہیں دریا میں واپس ڈال دیا گیا جس سے ان کی آبادی بڑھنے لگی۔2018 میں، 2 علیحدہ سروے میں سے پتہ چلا کہ اب 148-166 گھریال ندی میں رہ رہے ہیں، جبکہ 40 سے زیادہ بچے بڑے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم، انھیں اب بھی پانی میں مچھلی کے لیے لگائے جانے والے ماہی گیروں کے جالوں سے خطرہ ہے۔
 
Canadian harbor seal
کیوبیک میں پائی جانے والی، یہ اود بلاؤ کی واحد قسم ہے جو مچھلیوں کو کھا کر مکمل طور پر میٹھے پانی میں زندہ رہتی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میں 100 سے زیادہ اود بلاؤ رہائش پزیر نہیں ہیں۔ اس کی وجہ انسانی سرگرمی سے بتائی جاتی ہے، اکثر افراد شکار کے دوران انہیں پکڑ لیتے ہیں۔ نیز، بہت سارے مواقع پر، یہ مچھلیوں کے لیے لگائے جانے والے جال میں پھنس جاتی ہیں اور خود کو آزاد نہیں کرواسکتی ہیں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
11 Apr, 2021 Views: 1214

Comments

آپ کی رائے