بہار میں بچوں کا ادب :کل اور آج

(Ahsan Alam, India)

ڈاکٹر احسان عالم
پرنسپل الحراء پبلک اسکول، دربھنگہ
بہار میں بچوں کا ادب :کل اور آج
(ڈاکٹر منصور خوشتر کی عمدہ ترتیب)

ڈاکٹر منصور خوشترالمنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے سکریٹری ہیں جو وقت کے ساتھ کچھ نہ کچھ کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ان کا ذہن کمپیوٹر کے پروسیسر (Processor)کی طرح ایکٹیو رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ ا ن کی یہ منفرد کتاب ’’بہار میں بچوں کا ادب : کل اور آج‘‘ہے۔

انسان کی زندگی جستجو کے گرد گھومتی ہے۔ اپنے بچپن سے ہی یہ خوبی ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ ہر شئے کے لئے تجسس، چیزوں سے متاثر ہونے کی صلاحیت، نتیجہ اخذ کرنے اور نقل کرنے کی قابلیت اپنے نقطۂ عروج پر ہوتیہ ے ۔ یعنی انسان اپنے بچپن میں بہت حساس ہوتا ہے۔ بچپن میں وہ جن چیزوں کو دیکھتا ہے اس کی جانب متوجہ ہوتا ہے ۔ جن چیزوں کا وہ استعمال کرتا ہے ان کے متعلق مکمل معلومات حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ وہ اپنے بڑوں سے طرح طرح کے سوالات کرتا ہے۔ ان کے کچھ سوالات بڑوں کو بھی حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسے ہی سوالات کا جواب دینے کی خواہش ڈاکٹر منصور خوشتر کے دل میں ہوئی۔ انہوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو کے مالی تعاون سے ’’بہار میں بچوں کاادب‘‘ پر سیمینار کرانے کا فیصلہ لیا۔ سیمینار سے قبل ان کے دل میں یہ ہلچل پیدا ہوئی کہ کیوں نہ دانشوران اردو سے مضمون قلمبند کرایا جائے اور اسے کتابی صورت عطا کی جائے۔ ان کی اس سوچ وفکر نے کتاب ’’بہار میں بچوں کا ادب: کل اور آج‘‘ کی ترتیب مکمل کرائی۔

ڈاکٹر منصور خوشتر نے اپنے پیش لفظ میں لکھا ہے:
’’بہار میں بچوں کا ادب لکھا گیا ہے لیکن تنقیدی نظر ڈالنے کی پہل بہت کم ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمن غوثی کی ایک کتاب ۲۰۰۵ء میں آئی تھی جس میں ان کے رسالہ ’’مسرت‘‘کے حوالے سے زیادہ مواد تھا۔ کل اور آج تک کے مواد کو سمیٹنے کی کوشش میں نے کی ہے اور ادب اطفال ادیبوں اور شاعروں کی کاوش کو سامنے لانے اور تنقیدی نظر ڈالنے کی کاوش سامنے آرہی ہے۔ ‘‘

کتاب کا پہلا مضمون معروف ادیب اور شاعر پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا ہے۔ اپنے اس مضمون میں انہوں نے بچوں کے حوالے سے کئی معلوماتی باتیں پیش کی ہیں۔ ملاحظہ کریں ان کے مضمون سے ایک مختصر اقتباس:
’’بہار کے حوالے سے اردو میں بچوں کے لئے جتنا ادب لکھا گیا ہے ان کے مطالعہ سے بچے یقینی طور پر مہذب ، بااخلاق ، صحت مند اور سلیقہ شعار بنتے ہیں، صحت و سیرت اور آداب و لحاظ کی کاوشیں ابھرتی ہیں اور معاشرتی اقدار کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔ بچوں کے لئے بہار کے قلمکاروں کے ذریعہ ایسی تمام کہانیوں اور منظومات سے ہمت ، عزم ، حوصلہ ، جرأت اور حاضر دماغی کی صفات، نظم و ضبط اور تناسب و توازن کا استحکام ، محفوظ ، خوشگوار اور تہذیب یافتہ تربیت ، قومی اور ملی جذبہ ، سماجی شعور، بھائی چارگی، رحم دلی، ہمدردی، اخوت، شرافت، انکساری، کسر نفسی، عزت و احترام کی خصوصیات سامنے آتی ہیں۔ ‘‘

پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی نے دوسرا مضمون ’’بچوں کے لئے عبدلمنان طرزی کی نظموں میں کیفیت کی تشریح‘‘کے عنوان سے لکھا ہے۔ پروفیسر طرزی کی شخصیت ، شاعری اور بچوں کے شاعر کے طور پر چند اہم نکتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’عبدالمنان طرزی نے بچوں کے ذہنی سطح کو سامنے رکھ کر سبک اور نازک الفاظ کا استعمال کیا ہے تاکہ لفظ روشنی بن سکے اور سچائی کا اظہار حسن کے ساتھ ہوسکے۔ جس کا تعلق ذہن اور دل کی گہرائی سے ہے اور واقفیت حاصل کرنے سے ہے۔ ان کی ایک نظم ’’کتاب ‘‘ کے عنوان سے ہے جس کے چند اشعار پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی نے پیش کئے ہیں۔ ملاحظہ کریں:
خزانہ چھپا جس میں یہ قیمتی
ہمیں دیتی ہے اس کی کنجی کتاب
وہ کردیتی ہے ہم کو گمراہ بھی
نہیں کام کی ہوتی ساری کتاب
اگر لائبریری بنائیں گے ہم
رہے گی فقط اس میں اچھی کتاب

اردو زبان وادب کے معروف ادیب شاہد جمیل نے ’’بچوں کے لیے ثوبان فاروقی کی جاسوسی کہانیاں‘‘ کے عنوان سے ایک پُرمغز مضمون قلمبند کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ثوبان فاروقی کا نام جدید شاعری کے معتبر شعراء میں آتاہے ۔ وہ بہار کے ویشالی ضلعے کے حاجی پور سے تعلق رکھتے تھے جہاں ایک کالج میں اردو کے پروفیسر تھے۔ ان کا شمار ’’شب خون‘‘ میں لکھنے والے ’’انتہا پسند جدیدیوں ‘‘میں ہوتا تھا۔ یہ حیران کن ہے کہ نظم و غزل کے کسی مجموعے کی بجائے ان کی پہلی کتاب جو شائع ہوئی وہ بچوں کی جاسوسی کہانیوں پر مشتمل ایک تصنیف ’’رحمان کے کارنامے‘‘ تھی۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بچوں کے ادب میں ان کی گہری دلچسپی تھی ۔

معروف نقاد حقانی القاسمی ’’بچوں کے ظفر کمالی‘‘کے عنوان سے اپنا مضمون تحریر کیا ہے۔ ان کی تحریریں کافی جامع اور رواں دواں ہوا کرتی ہیں۔ ظفر کمالی کی نظموں کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں:
’’ظفر کمالی کی نظموں کو اگر بچے کی نظر سے دیکھا جائے تو صرف وہی نظمیں قابل قبول ٹھہریں گی جن میں بچوں کے جذبات، ان کے خواب اور خواہشات کی مکمل ترجمانی ہوگی اور جن میں بچوں کو متاثر کرنے والے صوتی اثرات بھی ہوں گے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو ظفر کمالی نظم ’’چک بم چک بم‘‘بچوں کی پہلی پسند ہوگی کیونکہ چک بم میں جو صوتی اثرات ہیں وہ بچوں کی سماعت اور ذہن کو متاثر کرتے ہیں۔ ظفر کمالی کی نظم کا ایک بند ملاحظہ کریں:
محنت ہم کو پیاری ہے
اس سے ہم کو یاری ہے
خوابوں کی بیدار ہے
آگے بڑھنا جاری ہے
چک بم چک بم چک بم بم
اچھے سچے بچے ہم

ڈاکٹر سید احمد قاری نے ’’بہار میں بچوں کا اردو ادب: ایک مختصر جائزہ‘‘کے عنوان اپنا مضمون لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بہار میں بچوں کے ادب سے متعلق کسی نے یہ لکھا ہے کہ آزادیٔ ہند سے قبل بہار بچوں کے ادب سے خالی ہے۔ میں یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہوں، بلکہ یہ مانتا ہوں کہ تقسیم ہند سے قبل ہی بہار میں بھی بچوں کے ادب کی بہتر صورت حال تھی جو تقسیم ہند کے بعد بتدرییج اردو زبان کی زبوں حالی کی نذر ہوگئی اور اس وقت بہار میں بچوں کے ادب کا باضابطہ کوئی رسالہ ہے اور نہ ہی یہاں کے اسکولوں میں شامل نصابی کتابوں کے درس و تدریس کا بہتر نظم ہے۔

معروف نقاد اور شاعر ڈاکٹر جمال اویسی ’’بچوں کا ادب:کیوں، کیسے اور کس لئے‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ آج مجھے نہ جانے کیوں اس بات کا شدید احساس ہورہا ہے کہ بچوں کے ہاتھوں سے موبائل سیٹ چھین کر ان کے ہاتھوں میں ایسے رسائل دیں جن کی زبان سہل اور سریع الفہم ہو تاکہ بچوں کی شخصیت میں کچھ مثبت اقدار روشن ہوسکیں ۔ ادب اطفال کے نام پر کتابیں آج بھی لکھی جارہی ہیں ، لیکن ا ن کو پڑھنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ کتابیں بھی ادبی کتابوں کی طرح پکی عمر کے لوگوں میں تقسیم کی جاتی ہیں اور شاید پکی عمر کے لوگ انہیں اس لئے نہیں پڑھتے کہ یہ ان کے فائدے کی چیز نہیں۔ تو پھر ادب اطفال کی بحالی کیسے ہو۔

ڈاکٹر عطا عابدی نے قارئین کو بچوں کی کتابوں سے متعارف کرایا ہے۔ اپنے تذکرہ میں لکھتے ہیں:
’’ادب اطفال پر نظر ڈالیں تو نظم و نثر میں کئی اہم شعراء و ادباء کی نظمیں اور کہانیاں ملتی ہیں۔ ان میں سے چند شعراء وادبا ایسے بھی ہیں جنہوں نے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں پر بھی خاص توجہ کی اور ان کے لئے اپنی تحریروں کے مجموعے بھی ترتیب دیئے، شائع کئے۔ ‘‘

ڈاکٹر امام اعظم ’’مناظر عاشق ہرگانوی اور بچوں کے لئے سبق آموز کہانیاں‘‘کے عنوا ن سے لکھتے ہیں کہ موجود ہ عہد میں بچوں کے ادب کے سلسلے میں ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانو ی کا نام ناقابل فراموش ہے۔ جہاں اس قدر بے اعتنائی ہو اور ذہنی تربیت سے غفلت برتی جارہی ہو وہاں کوئی بھی کارنامہ یا کوئی بھی تخلیق اگر سامنے آتی ہے تو یہ مان لینا چاہئے کہ جس ادیب نے اس جانب توجہ دی ہے وہ بالغ نظر ہے۔ اس کا خلوص بے پناہ ہے۔ ادب سے اس کی وابستگی گہری ہے، آنے والی نسلوں سے اسے ہمدردی ہے اور زبان کی خدمت کا جذبہ اس کی رگ و پے میں ہے۔ ڈاکٹر ہرگانوی کا شمار اسی قبیلے کے لوگوں میں کیاجاتا ہے۔

رفیع حیدر انجم نے شاہد جمیل کامقام ادب اطفال میں تعین کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں شاہد جمیل کو ایک ایسا فن کار تصور کرتاہوں جنہوں نے سن شعوری سے قرطاس و قلم سے دوستی کرلی تھی۔ ایسی ہی دوستی ایک قلم کار کو مستقبل میں اعلیٰ تخلیق کار بننے کا راستہ دکھاتی ہے۔ شاہد جمیل نے چودہ پندرہ سال کی عمرمیں بچوں کے لئے نعت لکھی جو ’’غنچہ‘‘ بجنور میں شائع ہوئی۔

ڈاکٹر قیام نیر نے بچوں کے ادب میں کہانیوں کا تذکرہ بہار کے تناظر میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کہانی سننا بچوں کی فطرت میں شامل ہے۔ جب وہ چھوٹا ہوتا ہے تو اپنی ماں اور گھر کے بوڑھے بزرگ سے کہانیاں سنتا ہے اور بے حد خوش ہوتا ہے۔ ان کہانیوں میں اصلاح کا پہلو پوشیدہ ہوتا ہے۔ بچے جب کچھ بڑے ہوتے ہیں تو خود بھی کہانی سنتے ہیں اور سنی ہوئی کہانیوں کو دوسرے کو سناکر فخر محسوس کرتے ہیں۔

راقم الحروف (ڈاکٹر احسان عالم) نے دربھنگہ کے ایک معروف شاعر ذکی احمد چندن پٹوی کے حوالے سے اپنا مضمون تحریر کیا ہے۔ ذکی احمد کی تخلیقات میں ایک بڑی تعداد بچوں پر تحریر کی گئی نظموں کی ہے۔ انہوں نے پوری زندگی ایک معلم کی حیثیت سے درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ انہوں نے اپنے کلاس روم سے باہر بچوں سے مکالمہ کرنا چاہا۔ اس مکالمہ کے لئے انہوں نے منظوم پیرایۂ اظہار کو چنا۔

ڈاکٹر عارف حسن وسطوی ’’بہار میں بچوں کے ادب‘‘پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بچوں کا ادب لکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس میدان میں وہی ادیب کامیاب ہوسکتا ہے جس نے فکری، فنی ، ذہنی اور عملی سطح پر بچوں کا قریب سے مطالعہ کیا ہو اور انہیں سمجھنے کی کامیاب کوشش کی ہو۔

ابرار احمد اجراوی نے’’ اکیسویں صدی میں بچوں کا ادب :سمت و رفتار ‘‘کے عنوان سے اپنا مضمون لکھا ہے۔

فرزانہ فرحت نے ’’نسل نو کا معمار امان ذخیروی‘‘کے عنوان سے اپنا مضمون تحریر کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا ہے :’’امان ذخیروی ایک قابل قدر استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پختہ لب و لہجہ کے شاعر بھی ہیں، جنہوں نے شاعری کو نئے مضامین عطا کئے۔ وہ اردو اور ہندی شاعری میں ایک فکر کے معمار اور ایک عہد کی شناخت ہیں۔امان ذخیروی کی کتاب ’’آغوش میں چاند‘‘ خداکے پاک نام سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی پہلی نظم میں بچہ خدا سے دعا مانگتے ہوئے کہہ رہا ہے:
خدایا مجھ کو ایسی زندگی دے
جو میرے نام کو پائندگی دے
زباں تو نے اگر بخشی ہے ہم کو
تو پھر تاثیر دے اور دل کشی دے
تکبر ایک شیطانی عمل ہے
ہمیں بس انکساری عاجزی دے

ڈاکٹر مستفیض احدعارفی نے ڈاکٹر احسان عالم کی کتاب ’’بچوں کے سنگ‘‘ پر ایک جامع جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر احسان عالم تواتر کے ساتھ لکھتے ہیں۔ان کے مضامین ملک او ربیرون ملک کے ادبی رسالے میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کی کل سولہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ درس و تدریس سے جڑے ہونے کے باعث بچوں کے درمیان رہنے کا طویل موقع ملا ہے۔ پیش نظر کتاب ’’بچوں کے سنگ‘‘ کا جواز بھی یہی ہے۔

ڈاکٹر صالحہ صدیقی نے ’’منصور خوشتر کا ادب اطفال: تفہیم اور فکر وفن کے آئینے میں مطالعہ‘‘ کے عنوا ن سے ایک طویل مضمون تحریر کیا ہے۔ان کی شاعری کے حوالے سے و ہ لکھتی ہیں کہ منصور خوشتر کی شاعری میں ان کا انداز عموماً قدر انفرادی ہوتا ہے اور ان کے تخلیقی وجدان میں جمالیات اور حقیقت پسندی کی جو فکری سرشاری ہوتی ہے وہ ان کی شاعری میں بالکل نئی اور عجیب و غریب اہمیت کی حامل بنتی محسوس ہوتی ہے۔ ’’ہمارا اسکول‘‘ کے عنوان سے بچوں کے لئے منصور خوشتر کی ایک پیاری نظم ہے ۔ اس نظم کے چند اشعار ملاحظۃ کریں:
اسکول میں ہمارا
دل خوب ہے بھی لگتا
ساتھی ہیں کیسے کیسے
گلشن کے پھول جیسے
جو وقت ہے گزرتا
خوشیوں کی ہے وہ دولت
رنگین ہے وہ ساعت
حاصل بھی علم کرتے
دامن کو اپنے بھرتے

غلام نبی کمار نے بہار میں ادب اطفال کے نمائندہ قلم کار پر مفصل انداز میں روشنی ڈالی ہے۔بہار میں بچوں کے ادب لکھنے والوں میں نمایاں نام پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا ہے۔ ان کے علاوہ پروفیسر عبدالمنان طرزی، ڈاکٹر عطا عابدی، ڈاکٹر احسان عالم، ڈاکٹر منصور خوشتر، شاہد جمیل، شمیم قاسمی ، مجیر احمد آزاد، ذکی احمد چندن پٹوی وغیرہ بچوں کے ادب میں جان و تن سے خدمت کر رہے ہیں۔

اس طرح ڈاکٹر منصور خوشتر کی ترتیب کردہ کتاب ’’بہار میں بچوں کا ادب:آج اور کل‘‘ بچوں کے ادب سے متعلق ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اس کتاب کی پذیرائی ضرور ہونی چاہئے۔
٭٭٭

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahsan Alam

Read More Articles by Ahsan Alam: 5 Articles with 2097 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2021 Views: 226

Comments

آپ کی رائے