امید نو

(Rida Bashir, Zafarwal)

کسی مشہور یونیورسٹی کی بیرونی دیوار پر لکھا گیا کسی دانشمند کا یہ قطع مجھے بہت ںھاتا ہے۔

"کسی قوم کو اگر تباہ کرنا ہے تو ایٹم بمب اور اسلحہ بارود تو بہت پرانا ہو چکا ہے انکا تعلیمی نصاب تباہ کر ڈالو انکے امتحانی کلچر میں نقل کو فروغ دو نسلیں خود بخود تباہ ہو جائے گی"

غور کیا جائے تو بلکل حقیقت پر مبنی بات ہے۔ججز عدالتوں میں غلط فیصلے کرے گے۔انجینیرز عمارتیں گراے گے،ڈاکٹرز جانیں لے گے اور کرپٹ لوگ حکمرانی کرے گے۔(اور ملک تباہ،نسلیں برباد)
پاکستان کا موازنہ تعلیم یافتہ ممالک کے تعلیمی نظام سے کیا جائے تو پاکستان بہت پیچھے نظر آئے گا اور باقی رہی سہی کسر کرونا نے پوری کر ڈالی۔پاکستان میں آدھے سے زیادہ سال تو تہواروں کی چھٹیوں کی نظر ہو جاتا ہے۔پوری دنیا پر اسوقت یہ کرونا نامی وبا اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑے اپنے پر پھیلائے نظر آتی ہے۔لیکن۔بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے اپنا تعلیمی نظام بند نہیں کیا بلکہ مکمل SOP's کے ساتھ تعلیمی نظام جاری و ساری رکھا۔پاکستانی قوم جس بحران کا شکار ہے اس صورتحال میں نئے سائنسدان نئ جدت کے ساتھ چاہیے،نۓ ڈاکٹرز نۓ تجربات کے ساتھ چاہیے۔لیکن المیہ تو یہ ہے کہ سارا تعلیمی نظام آن لان کر دیا گیا۔وہاں استاد چیختا رہتا اور طلباء موبائل، لیپ ٹاپس آن کر کے سوۓ رہتے ہیں اور ذرا سا ہوش آنے پر ہاں ہوں بول دیتے ہیں۔جس۔قوم کو اس کڑے وقت میں نۓ ذہنوں،ادیبوں اور دانشوروں کی ضرورت تھی وہاں کی نوجوان نسل ڈھلتے دسمبر پر سستے شاعر بن کر اپنے عاشق ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں اور کوئی جنوری کے جھاروں اور ملگجے اندھیروں پر قیاس آرائیاں کرتا نظر آتا ہے۔

پاکستانی قوم جوشیلی اور جزبوں سے بھری قوم ہے۔اگر نوجوانوں کو صحیح طریقے سے استعمال کر کے ملک و قوم کو مستفید کرنا ہے تو انکا لہو پھر سے گرمانا ہو گا۔انکو روشنی کی کرن دکھانی ہو گی ان میں وہ رمق جگانی ہو گی جو اقبال اپنے شاہینوں میں دیکھنا چاہتے تھے۔

میں اس آنلائین سسٹم کے خلاف نہیں ہوں۔بلکہ نۓ طریقے سیکھنے اور سکھانے چاہیۓ۔لیکن!پہلے اس سسٹم کا عادی بنایا جائے کسی بوجھ کی طرح طلباء پر مسلط نہ کیا جائے۔بلکہ step by step بتایا اور سمجھایا جائے۔میری ذاتی رائے ہے کہ جونہی ادارے کھلے ہر ہفتے طلبا کو ایک motivational lecture دیا جائے لہو گرمایا جائے۔تاکہ وہ آرام جو انکی نس نس میں بس گیا وہ ختم ہو تعلیم کی اہمیت کو جان سکے سال نو کے ساتھ صبحِ نو کی طرف لوٹے۔ اپنی تقریر سنوارے، ملک و قوم کا مستقبل بدلے اور نۓ جہان دریافت کرے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rida Bashir

Read More Articles by Rida Bashir: 17 Articles with 4457 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Apr, 2021 Views: 247

Comments

آپ کی رائے