استاد کی عظمت کو سلام

(Sarah Omer, Saudi Arab)

پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں مگر دیکھنے والوں کو صرف پھول ہی دکھائی دیتا ہے وہ کانٹوں کا ذکر نہیں کرتے جو پھولوں کی سجاوٹ کے دوران تراش دئیے جاتے ہیں- بالکل اسی طرح ایک استاد بھی پھول کی طرح طالب علم کی تراش خراش کرتا ہے اور دنیا والوں کو صرف پھول ہی دکھائی دیتا ہے اس کے ساتھ موجود کانٹوں کو وہ دیکھ نہیں سکتے جسے اس کے استاد نے تراش دیا ہوتا ہے-اس کی تمام ناکامیوں،کمی اور کوتاہیوں کو استاد اس کے اندر سے نکال کر اس کی خوبیوں اور صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے-اس کے ہنر اور صفات کو اس طرح نکھارا جاتا ہے کہ خوبیاں اس کی خامیوں پر غالب آجاتی ہیں-اس طرح دنیا والوں کے سامنے طالب علم ایک پھول کی طرح لگتا ہے اور اس کی دلکش سجاوٹ لوگوں کا دل موہ لیتی ہے لیکن اس کے پیچھے محنت کرنے ہاتھ کسی کو دکھائی نہیں دیتے-

ہر انسان کی زندگی میں استاد کا بہت اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ وہی انسان کی شخصیت کو سنوارتا اور بناتا ہے-وہ انسان کو ایسے سانچے میں ڈالتا ہے کہ جیسا وہ چاہتا ہے وہ ویسا بن جاتا ہے یعنی کہ اگر آپ ایک دینی استاد کی تربیت میں وقت گزاریں تو نہ صرف دین کے احکامات اور شریعت کے متعلق بہت اچھی طرح جان جائیں گے بلکہ فقہ،حدیث، قرآن، اسلامی تعلیمات،دین کے مسائل اور دیگر معاملات کے مطابق بھی معاملہ فہم ہو جائیں گے-بالکل اسی طرح جیسے خوشبو کی دکان سے خوشبو لی جاتی ہے اور کوئلے کی کان سے کوئلہ-

اگر آپ اپنی زندگی کے اوراق کی جانب نظر دوڑا کر دیکھیں تو اپنی زندگی میں ایسے کئی استاد نظر آتے ہیں جنہوں نے آپ کی شخصیت کے وہ پہلو نکھارے جن سے آپ کبھی خود بھی آشنا نہ تھے-بعض اوقات آپ کو خود معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کے اندر کون سے ہنر پوشیدہ ہیں لیکن ایک جوہری ہی ہیرے کی پہچان کر سکتا ہے بالکل اسی طرح ایک استاد ہی جان جاتا ہے کہ اس شخص کے اندر کونسی ایسی پوشیدہ صلاحیتیں ہیں جنہیں نکھارنے سے اس کی تمام شخصیت نکھر جائے گی-استاد کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی ہی طالب علم کے لیے مشعل راہ ثابت ہوتی ہے۔استاد کے الفاظ طالب علم کے لئے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔

اپنی ذاتی زندگی میں بہت سے ایسے استاد دیکھے ہیں جو زندگی کے سفر میں ہمیشہ ہی معاون و مددگار ثابت ہوئے-

اسکول سے یونیورسٹی اور یونیورسٹی سے نوکری تک کئی استاد زندگی میں زندگی کا سبق پڑھا گئے مگر اصل تجربہ تو زندگی کی بھٹی میں جل کر ہی ملتا ہے-اصل تجربہ تو انسان اپنی غلطیوں سے سیکھ کر ہی حاصل کرتا ہے اور ہر وقت اپنی اصلاح کرنا اور آگے بڑھتے رہنا ہی زندگی میں کامیابی کا باعث ہے-
اپنے ادبی سفر کا ذکر کیا جائے تو بہت استاد ایسے میسر آئے جنہوں نے اردو زبان کی اصلاح اور ترویج میں بھرپور کردار ادا کیا-کچھ اساتذہ نے تخیل کی پرواز کو ممکن بنایا تو کچھ اساتذہ نے تخلیقی سوچ کو پروان چڑھایا-کچھ نے جملوں کی بنت سیکھائی تو کسی نے املا کے الفاظ کی درستی کی-غرضیکہ ایک ایک لفظ پڑھانے اور سیکھانے والا میرا استاد ہے اپنے کچھ اساتذہ کا ضرور ذکر کروں گی جنہوں نے میرے ادبی سفر میں اپنا بہترین کردار ادا کیا-

اپنے استادوں میں سب سے پہلے میں اپنے والدین کا ذکر کروں گی جنہوں نے مجھے اس مقام پہ پہنچایا-والدین گھر سے ہی اولاد کی ایسی تربیت کرتے ہیں کہ آگے بڑھتے ہوئے زندگی کے سفر میں مشکلات کا مقابلہ ہمت سے کیا جا سکے-میری والدہ مرحومہ اردو کی استانی تھیں اور گورنمنٹ اسکول میں میڑک کلاس کو اردو پڑھاتیں-ان سے اردو سیکھنے اور اردو کے الفاظ کی اصلاح کرنے کا موقع ملا-کتنے ہی جملوں کی اصلاح کھانے کی میز پہ ہوتی کبھی بولتے ہوئے ان سے ہجے پوچھ لیتے کہ یہ لفظ کس حرف سے شروع ہوتا ہے-والد صاحب اور والدہ اپنے دور میں تختی لکھتے رہے تبھی ان کی لکھائی موتیوں سے پرے ہوئے ایک ہار کی مانند لگتی مگر ہم تختیوں سے نہ سیکھ سکے البتہ اچھے لکھنے کی کوشش جاری رہتی-گھر میں اس دور کے ہر رسالے،کتاب،ڈائجسٹ کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ ہمارے والدین نے اردو زبان سیکھانے کے لیے ہمیں کتاب کی دوستی سے آشنا کروا دیا-

ہم گھروالوں کو کتابوں کا اس قدر شوق تھا کہ جہاں ملتی وہیں پڑھنے کے لیے بیٹھ جاتے ایک بار کسی ہوٹل میں کھانا کھانے گئے تو وہاں موجود ایک دکان سے کتابیں خرید لیں اور کھانے آنے تک سب ہی میز کے گرد مطالعے میں مشغول رہے-یہ بات یقینا ہوٹل آنے والوں کے لیے بہت عجیب تھی مگر یہ بھی کتاب دوستی کی ایک مثال ہے کہ والدین کیسے اپنے بچوں میں اس شوق کو اجاگر کر سکتے ہیں-

اپنے دیگر ادبی اساتذہ میں نمرہ احمد کا نام ضرور لوں گی کہ یہ وہ استاد ہیں کہ جنہوں نے کبھی نہ مجھے دیکھا اور نہ ہی مجھ سے ملاقات کی لیکن ان کی لکھی ہوئی ایک ایک بات میرے لیے مشعل راہ ہے-ان کی تخلیقات میں اس قدر حوصلہ ہے کہ مجھے معلوم ہوا کہ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں،وہ شہسوار ہی کیا جو لڑتے ہوئے نہ گرے- مقابلہ کرنے سے ہی انسان کو اپنی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے- وہ شخص جس نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنا ہو اسے چاہیے کہ وہ نہ صرف حریف کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور جرات پیدا کرے بلکہ بار بار ناکامی سے سیکھنے کا حوصلہ اور قوت بھی پیدا کرے- نمرہ احمد کی لکھی گئی تحاریر اور اس میں بیان کی گئی قرآن کی تفسیر نہ صرف میرے لیے بلکہ میری طرح کی کئی خواتین کے لیے باعث رحمت ثابت ہوئی-

ایک لکھاری کے سفر میں تعریف اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی بامقصد تنقید اور اصلاح حیثیت رکھتی ہے-میرے استاد سر رشید احمد نعیم صاحب کی بھی یہی خاصیت ہے کہ تعریف کے ساتھ ساتھ اصلاح کا دامن تھامے رکھتے ہیں- بحثیت استاد بہت سے لکھاریوں کے لیے نہ صرف ان کی تحاریر کی اشاعت کا ذریعہ بنے بلکہ نئے لکھاریوں کو بہتر سے بہتر لکھنے کی ترغیب بھی دی-مختلف سرگرمیوں کے انعقاد اور نت نئے موضوعات کی بدولت نئے لکھاریوں کے لیے معاون ثابت ہوئے-اب تک کئی لکھنے والے سر رشید کے زیر سایہ تربیت کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ان شائاﷲ جلد ان کے طالب علم دنیا میں اپنا نام بنا کر اپنے استاد کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے-

سر رشید کے علاوہ کچھ مہربان ہستیاں اور بھی ادب کی ترویج میں معاون ثابت ہوئیں جن میں سر محمود ظفر صاحب،شہباز علی نقوی صاحب،راحت جبین صاحبہ،ڈاکٹر صبا صاحبہ،سر وسیم سہیل صاحب،سر شاہد،سر راشد علی مرکھیانی صاحب شامل ہیں جنہوں نے بہت بار اصلاح بھی کی اور اپنے کام کے ذریعے بہت علم سیکھایا بھی-

استاد کی سیکھائی گئی تمام مہارتیں اور ہنر ایک نہ ایک دن طالب علم کے کام ضرور آتی ہیں بلاشبہ ایک طالب علم ہر صورت اپنے استاد سے ایک قدم پیچھے ہی ہوتا ہے اور استاد علم کا ایسا گہرا سمندر ہے جس کے ساتھ گزرا ہر لمحہ طالب علم کو کچھ نیا سیکھنے پہ مجبور کر دیتا ہے-اگر زندگی میں کامیابی کا حصول چاہتے ہیں تو کبھی اپنے اساتذہ کو فراموش نہ کریں اور ان کی تنقید سے سیکھیے اور اس تنقید کو مثبت انداز میں لے کر اپنے اندر اصلاح کا دروازہ کھول لیجیے تاکہ کامیابی و کامرانی آپ کا مقدر بن سکے-استاد کی عظمت پہ قیصر حیات کیا خوب لکھتے ہیں
سنگ بے قیمت تراشا اور جوہر کر دیا
شمع علم و آگہی سے دل منور کر دیا
فکر و فن تہذیب و حکمت دی شعور و آگہی
گم شدان راہ کو گویا کہ رہبر کر دیا
چشم فیض اور دست وہ پارس صفت جب چھو گئے
مجھ کو مٹی سے اٹھایا اور فلک پر کر دیا
دے جزا اﷲ تو اس باغبان علم کو
جس نے غنچوں کو کھلایا اور گل تر کر دیا
خاکہ تصویر تھا میں خالی از رنگ حیات
یوں سجایا آپ نے مجھ کو کہ قیصرؔ کر دیا

زندگی میں ہمیشہ ہر مقام پر اپنے اساتذہ کی قدر کیجیے کیونکہ آپ کی ہر کامیابی کے پیچھے ان کی محنت اور جانفشانی شامل ہے-اﷲ تعالی تمام اساتذہ کو علم کو نسل در نسل منتقل کرنے پہ اجر عظیم عطا فرمائے آمین-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarah Omer

Read More Articles by Sarah Omer: 8 Articles with 1710 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Apr, 2021 Views: 342

Comments

آپ کی رائے