نظریہ پاکستان اور ہم

(Hamza Alam, )

نظریہ پاکستان صرف 1906 سے 1940 اور 1940 سے 1947 تک کا نظریہ نہیں تھا۔ یہ وہ نظریہ ہے جو آج بھی بھارت میں ار ایس ایس کے غنڈوں کا مقابلہ کر رہا ہے یہ وہ نظریہ ہے جو 1947 سے کشمیر میں زندہ ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جس کی بنیاد ریاست مدینہ سے ہوئی۔ یہ وہ نظریہ ہے جس نے دنیا کی تبا ہ حال قوم کو سب سے عظیم قوم بنا دیا ۔ یہ وہ نظریہ ہے جس نے شودر اور برہمن ، اونچے اور نیچے طبقات کو برابر کر دیا ۔ کالے اور گورے، امیر و غریب کا فرق ختم کر دیا۔ ہر وہ انسان جو ذر اسی بھی عقل رکھتا تھا یہ معاشرے کا چارہ بنا ہوا تھا اس نظریے کا گرویدہ بن گیا۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نظریہ پاکستان اتنا اعلیٰ و عمدہ ہے تو پھر پاکستان اب تک سکھ کا سانس کیوں نہ لے سکا۔ پاکستانی قوم عرب قوم کی طرح پوری دنیا کے لیے مشعل راہ کیوں ثابت نہ ہو سکی ۔ ہم کیوں قرضوں میں ڈوبتے جارہے ہیں؟ کیوں پاکستان میں قتل و غارت گری عام ہے؟ ہم تو مسلمان بھی ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، تلاوت قرآن کے بھی پابند ہیں، تبلیغی اجتماعات ہوں تو لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں، پھر کیوں ہم ترقی نہیں کر رہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اس نظریے کے علم کو صحیح طرح تھام کر امن کے پیغام کو دنیا تک پہچانے میں آج بھی ناکام ہے۔ معذرت کے ساتھ مجھے آج بھی جو وجہ نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ:
شب بھر میں بنادی مسجد تو ایمان کی حرارت والوں نے
دل اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

ہر شخص چاہتا ہے کہ یہ ملک سدھر جائے مگر یہ کوئی نہیں چاہتا کہ ہم سدھر جائیں۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ مجھ سے سب سچ بولیں مگر وہ خود کبھی سچ نہیں بولتا۔ ہم جس مذہب کے پیر وکار ہیں وہ ہمیں اعمال سے زیادہ اخلاق سکھاتا ہے، عبادت سے زیادہ خلوص نیت سکھاتا ہے، حق کا ساتھ دینے اور ناحق کو روکنے کی ہدایت دیتا ہے پھر چاہے سامنے کو ئی بھی ہو، نتیجہ کچھ بھی ہو۔
ہم تو نعرہ لگاتے ہیں کہ حق بات کہیں اور ڈٹ جائیں پھر چاہے گردن کٹ جائے

اب یہ باتیں کہنے اور سننے میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ ہر طلب علم چاہتا کہ میرے سب سے اچھے نمبر آئیں مگر خود اپنا زیادہ تر وقت پڑھائی کی جگہ ہلڑبازی میں ضائع کریں تو بتائیں کہ کیا وہ اچھے نمبر لا سکتا ہے؟ ہر استاد چاہتا کہ کلاس میں صرف پڑھائی کی بات ہو مگر کیا وہ خود اپنے لیکچر کو تعصب اور سیاست سے پاک کر پایا ہے۔ ہر تعلیمی ادارہ چاہتا ہے کہ ہمارے ادارے سے بھی سیاسی و سماجی رہنما پیدا ہو مگر پھر وہی تعلیمی ادارے داخلہ فارم کے ساتھ طلبہ سے عہد نامہ بھی لیتے ہیں کہ آپ کسی بھی سیاسی سر گرمی میں اپنا کوئی کردا ر ادا نہیں کریں گے۔ پھر بتائیں کہ اس تعلیمی ادارے سے کوئی سیاسی لیڈر کیسے پیدا ہوگا جس تعلیمی ادارے نے سیاست کو طلبہ کے لیے ایک گالی بنادیا ہو پھر ایسے ڈرپوک لیڈر ہی پیدا ہوں گے جو کشیمریوں کی حمایت میں اٹھنے والوں کو غدار وطن قراردیں اور اربوں کی کرپشن کرنے والے کو رحم کی بنیاد پر ملک سے جانے کی اجازت دیں۔

ہم کب تک اپنے نظریات پر تقریریں اور تبصرے کرتے رہیں گے؟ کب تک اپنے نظریات کو اچھا اور سچا کہنے کا راگ الاپتے رہیں گے، آخر کب تک؟ کبھی ان پھر عمل کرنے کا سوچیں گے بھی؟ یہ اکیسویں صدی ہے یہاں لوگ روزانہ منصوبے بناتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں مگر ہم اپنے اچھے اور برے ہونے کی بحث سے ہی باہر نہیں آتے۔ خدارا اپنے وقت کی اہمیت کو سمجھیں ان امیدوں کو سمجھیں جو پورے عالم اسلام کو پاکستان سے ہیں۔ ان قربانیوں کو یاد کریں جو اس عظیم نظریے کو زندہ رکھنے اور دنیا میں پھلانے کیلئے دی گئی۔ ان اخلاقیات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں جو اپنا کر عرب قوم قیصر و کسریٰ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ہم وہ قوم ہیں جس کے لیے اقبال ؒ نے کہا تھا:
جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

میں نے اپنی زندگی میں ملت اسلامیہ کو ڈوبتے ہی دیکھا ہے البتہ ابھرنے اور حکومت کرنے کی صرف کہانیاں ہی سنی ہیں مگر مجھے یقیں کہ نہ تو اقبالؒ نے غلط لکھا ہے اور نہ مسلمانوں کی جرات و عظمت کی کہانیاں جھوٹی ہیں۔ اگر مسلمان ماضی میں اپنی ذہانت اور طاقت کے جوھردکھا سکتا ہے تو آج کیوں نہیں؟ وہ سب آج بھی ہو سکتا ہے صرف ہمیں ضرورت ہیں اپنے ارادے اور ایمان کو مضبوط کرنے کی۔
آج بھی ہو ابراھیم کا سا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hamza Alam
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Apr, 2021 Views: 307

Comments

آپ کی رائے