بے نقاب ہونے سے بچئے!

(Shahid Mushtaq, Sambrial)

کوئی سال پہلے کی بات ہوگی ایک جاننے والے کا معمولی بیماری کے باعث چند دن میں انتقال ہوگیا، چودہ پندرہ سال کے بچے کے لئے اچانک زندگی کا مفہوم بدل گیا، باپ کا سایہ سر سے اٹھتے ہی پاوں کے نیچے سے زمین بھی کھسکنے لگی، والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کی زمہ داری نے وقت سے پہلے ہی کافی کچھ سکھادیا،چھوٹی سی عمر میں کرائے پہ رکشہ لے کر چلانے لگا۔

ہم کچھ دوستوں نے کوشش کی اچھے دل والے کچھ صاحب ثروت لوگوں نے تعاون کیا اور ہم نے بچے کو اچھی حالت کا رکشہ خرید کر دے دیا، غلطی یہ کر بیٹھے کہ رکشہ بچے کے حوالے کرتے ہوئے اس کی ویڈیو بنالی تاکہ جن لوگوں نے تعاون کیا ہے انہیں اطمینان دلایا جاسکے، بعد میں اس ویڈیو کے ساتھ کچھ دیگر فلاحی کاموں کی ویڈیو بھی ایڈیٹ کرکے شئیر کی تو لوگوں نے کافی تعریف بھی کی مگر محترم بھائی اعجاز لودھی ( مشہور لکھاری ہیں ابن نیاز کے نام سے لکھتے ہیں ) اور آپا ریم غازی( لال مسجد والے مولوی عبدالعزیزغازی کی چھوٹی بہن) نے مجھے واٹس ایپ پہ میسج کیا کہ" شاہد بھائی آپ نے اپنی نیکی ضائع کردی" ۔

ہماری نیتوں کا احوال اللہ جانتا ہے مگر اس ایک جملے نے ہمیں سخت پشیمانی اور ندامت میں مبتلاء کردیا کئی دن خود سے نظر ملاتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی رہی کہ یہ ہم نے کیا کردیا ، بچہ ضرورت مند تھا مگر اس کی مدد کرنے کا فیصلہ ہم نے خود کیا تھا ، اس کے بعد یہ پکاارادہ کیا کہ اج کے بعد اگر کسی کی مدد کرنی ہے تو خاموشی سے تاکہ اگلے بندے کی عزت نفس مجروح نہ ہو ۔

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسلمانوں کا شوق سخاوت عروج پہ پہنچ جاتا ہے اگرچہ اس ماہ مبارک کے آتے ہی ہر طرف مہنگائی کا زور بڑھ جاتا ہے دن بھر روزہ اور رات بھر نماز پڑھنے والے مسلمان اپنے ہی ملک میں ہر چیز کئی گنا مہنگی کردیتے ہیں تاکہ غریب اور عام آدمی کی پریشانیاں کسی طرح کم نہ ہوسکیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے لوگ سخاوت بھی بہت کرتے ہیں کچھ لوگ تو بہت پر خلوص اور خاموشی سے ایسے مدد کرتے ہیں کہ لینے والا بھی شرمندگی سے بچ جاتا ہے مگر کچھ ندیدے شہرت اور دکھاوے کے دلدادہ ضرورت مندوں کے دل پہ آری چلانے سے نہیں کتراتے ۔

اپ ذرا تصور کیجئے جس کے بچے بھوکے یا بیمار ہوں وہ شخص یا خاتون تو کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجائیں گی مگر اپ کا کیمرا انہیں رسوا کرکے آپ کی نیکی بھی ضائع کرتے دیر نہیں لگائے گا ، خدارا اپنے ارد گرد دھیان رکھئے بہت سارے ایسے لوگ بھی ہونگے جو ہاتھ پھیلانے سے کتراتے ہیں مگر وہ اپنے بچوں کی ضرورتیں اور دیگر گھریلو اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں آپ خود ان تک پہنچئے اور بغیر کسی کو بتائے چپکے سے انکی مدد کرکے اپنے لئے جنت کا سامان کر لیجئے ۔

چند دن پہلے کا وہ درد ناک واقعہ کوئی کیسے بھول سکتا ہے جب بھوک کے ہاتھوں بلبلاتے بچوں کی تڑپ ماں باپ کو انتہائی فیصلے پہ لے گئی ، وہ آخری رات اس خاندان کے لئے کتنی تکلیف دہ رہی ہوگی جب انہوں نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کیا ہوگا، گہری نظر سے اپنے اطراف میں بسنے والے خاندانوں کا جائزہ لیجئے جو حقدار ہیں ان کا بھرم رکھئے ، اور یاد رکھئے جو پیالے میں ہو وہی چھلکتا ہے، کوئی چپکے سے مدد کرکے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتا ہے تو کوئی کسی کو شرمندہ کرکے کم ظرفی کی چادر لپیٹتا ہے ۔

آپ کی زکوات، صدقات اور عطیات کا پہلا حقدار اپ کے آس پاس رہنے والا کوئی سفید پوش ضرورت مند ہے جو ہاتھ پھیلانے سے کتراتا ہے مگر حالات نے سخت پریشان کررکھا ہے۔ اگر آپ کی نظر کو آس پاس کوئی مستحق شخص نا ملے تو اپنے عطیات"طاہرویلفئیرفاونڈیشن" کو اس ایزی پیسہ نمبر 03434011974پر بھجوائیے اور یقین رکھئے آپ کے پیسے چپکے سے صحیح حق داروں تک پہنچا دئیے جائیں گے ۔

کالم کا اختتام کرنے سے پہلے ایک چھوٹی سی کہانی پڑھئے شائد یہ کہانی آپ کو وہ سمجھا دے جو میں آپ کو سمجھانا چاہ رہا ہوں ۔
کہتے ہیں حالات کے جبر سے مجبور ایک بیوہ خاتون راشن کا چھوٹا سا تھیلا پکڑے گھر میں داخل ہوئیں کئی دن کی بھوکی یتیم مگر خوددارجوان بچی نے پوچھا
"اماں کہاں سے لائی ہو " ۔
اماں کہنے لگیں
"بیٹا ایک بہت بڑا آدمی سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں یہ سامان تقسیم کرتے ہوئے تصویریں کھینچ کھینچ کر غریبوں کی مدد کر رہا تھا میں بھی قطار میں لگ گئی"۔

بیٹی نے شاید نیا نیا سکول چھوڑا تھا ابھی دانشوروں کی صحبت کا اثر باقی تھا کہنے لگی
"ہاں سامان سے پتہ چل رہاہے وہ کتنا بڑا آدمی ہوگا ، لیکن اماں تمہیں کسی نے دیکھا تو نہیں" ۔

ماں نے دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو پونچھے اور بولی " نہیں بیٹا۔۔۔ پردے کے حکم نے بچا لیا کسی نے پہچانا نہیں کیونکہ میں نقاب میں تھی میں تو بچ گئی البتہ وہ بڑا آدمی بے نقاب ہوگیا "۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Mushtaq

Read More Articles by Shahid Mushtaq: 107 Articles with 39632 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Apr, 2021 Views: 130

Comments

آپ کی رائے