لاتوں کے بھوت ، باتوں سے نہیں مانتے۔۔۔ماؤں کا عجیب فلسفہ

 
اکثر مائیں بچوں کی تربیت کرتے ہوئے یہ فلسفہ بیان کرتی ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔۔۔اور ان کے اس فلسفے کے تحت بہت سارے بچے بچپن میں ہی ڈھیٹ ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں مار کی عادت ہوجاتی ہے۔ْ۔۔لیکن مائیں اس بات کو ماننے کے لئے کسی طور تیار نہیں ہوتیں کہ ان کی مار نے بچے کے دماغ کو مار کھانے کا عادی بنادیا ہے اور یہ اس کے دماغ کے لئے کتنا نقصان دہ ہے۔۔۔یہ جاننا کتنا ضروری ہے کہ بچے کو کن باتوں پر جھڑکنا مستقبل میں اس کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔۔۔
 
چوٹ لگنے پر یا گرنے پر بچے کو جھڑکنا
اکثر مائیں بچوں کو بارہار کہتی ہیں ۔۔۔سنبھل کر چلو۔۔۔لیکن بچے تو پھر بچے ہیں۔۔۔چوٹ بھی لگتی ہے اور گرتے بھی ہیں۔۔۔ایسے میں مائیں اپنا فرض سمجھتی ہیں بچے کو ڈانٹنا یا جھڑکنا۔۔۔اور اس میں باپ بھی شامل ہوتے ہیں۔۔۔اس کا نقصان ایسا ہے کہ اگر آپ سوچیں تو دل کانپ جائے۔۔۔اس ایک جھڑک کی وجہ سے بچے اکثر اپنی تکلیف والدین سے چھپانے لگ جاتے ہیں۔۔۔چھوٹی چھوٹی چوٹیں زندگی میں جب بڑی بھی ہوجاتی ہیں تب بھی بچے اپنا غم، اپنی تکلیف ماں باپ کو بیان کرنے سے گھبراتے ہیں۔۔۔ایک ایسی دیوار کھڑی ہوجاتی ہے جسے بیان کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔۔۔بچوں کو چوت لگنے پر ڈانٹیں نہیں بلکہ ان کا دوست بن کر فورا ان کا ساتھ دیں اور کہیں کہ یہ چوٹیں تو لگتی ہی رہتی ہیں۔۔۔لیکن تم نے کھیلنا نہیں چھوڑنا۔۔
 
بچوں کو ضد کرنے پر یا بار بار رونے پر جھڑکنا
کچھ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بہت ضد کرتے ہیں یا بہت زیادہ روتے ہیں۔۔۔ایسی صورت میں مائیں یا تو ایک تھپڑ لگا دیتی ہیں یا اتنا جھڑکتی ہیں کہ بچہ اس کا عادی ہوجائے۔۔۔یہ ایک فطری عمل ہے کہ انسان کا موڈ خراب ہوتا ہے۔۔۔اس میں عمر کا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔یہ اکثر ماؤں اور باپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔۔۔لیکن بچے پر آکر سارے تجربے کرنا ایک غیر فطری عمل ہے۔۔۔یہی تو اصل امتحان ہے والدین کا کہ جب بچہ ضد کرے تو صبر سے اس کی بات کو سنیں۔۔۔اس کو یقین دلائیں کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور اسے جھڑکیں نہیں۔۔۔
 
 
اسکول کا کام نا کرنے پر جھڑکنا
بھلا کون ہے وہ جس نے بچپن میں کبھی اسکول کے کام میں غفلت نا کی ہو۔۔۔تو پھر اپنے بچے کو آئنسٹائن سمجھ لینا کہاں کا انصاف ہے۔۔۔بچوں کو زبردستی پڑھائیں گے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کسی بھری ہوئی الماری میں مزید کپڑے ٹھونسنا اور پھر دھکے لگا کر اس کا دروازہ بند کرنا۔۔۔آپ یہ کپڑے وقتی طور پر کہیں اور تہہ کرکے رکھ دیں اور بعد میں جب جگہ خالی ہو تو الماری میں رکھ دیں۔۔۔یہی حساب بچے کے دماغ کا ہے۔۔۔وہ اپنے لئے وقت چاہتا ہے۔۔۔۔اس کو مار کر یا جھڑک کر تعلیم سے نفرت نا دلوائیں۔۔۔پیار سے سمجھائیں کہ جب بھی آپ یہ کام کرو گے تو آپ کے لئے ایک انعام ہے ۔۔۔یا اس کی تعریف کریں کہ مجھے پتہ ہے کہ تم یہ کرلو گے۔۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
21 Apr, 2021 Views: 644

Comments

آپ کی رائے