”جانِ پر سوز“ایک ابھرتے ہوئے شاعر کا متاثر کن کلام

(Syeda Gilani, Australia)

”جانِ پر سوز“ایک ابھرتے ہوئے شاعر کا متاثر کن کلام
سیدہ ایف گیلانی-آسٹریلیا
[یہ مضمون "جانِ پرسوز" کی تقریبِ رونمائی میں پیش کیا گیا]
صدر مجلس اورمعزز سامعین!
شعر وسخن اور ادب ِعالیہ سے وابستہ اہلِ علم و دانش اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ شاعری کوئی آسان کام نہیں:
ع شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصّع ساز کا
کیونکہ اس دشت میں اک عمر گزرتی ہے پھرکہیں جا کر فکر و اندیشہ ہائے انجمن کی بات لفظوں کا جامہ پہن کر ذہن کے نہاں خانوں سے نکل کراور قلم و قرطاس کا سہارا لے کر منصہ شہود پر آتی ہے۔پس ”جانِ پر سوز“ایک ابھرتے ہوئے شاعر کا متاثر کن کلام ہی نہیں بلکہ ایک عمر کی ریاضت کا ثمر ہے۔
”جان پرسوز“محسن آرزوؔکی غزلوں، نظموں اور نثرلطیف پر مشتمل ہے، جس میں کئی رنگ دیکھے جاسکتے ہیں گویا یہ رجائیت کا بھی آئینہ ہے اور کہیں کہیں اداسی کا عنصر بھی اس میں شامل ہو گیا ہے لیکن یہ اداسی قنوطیت کے در پر دستک نہیں دیتی۔ تاہم ماحول کو وقتی طور افسردہ ضرور کردیتی ہے۔
کوئی موسم جواں نہیں ہوتا اک اداسی سی گھر میں رہتی ہے
میرے دروازے پہ اداس دیا بے ضرورت ہی جلتا جاتا ہے
اور
میری آنکھوں کی اُداسی کا مجھے کیا معلوم
جانے کیا بات ہے یہ روز برستی کیوں ہیں
اس اداسی کی وجہ شاید یہ ہے کہ:
دلِ ناشاد میں احساس زیاں رہتا ہے
جل چکا ہے جو مکاں اُسکا دھواں رہتا ہے
پھر یہ اداسی تنہائی کی اوڑھنی اوڑھ لیتی ہے اورشاعر کے دل پر ڈھیرے ڈالتی ہے اور وہ گم شدہ منزل کا راستہ تلاش کرنے میں سر گرداں نظر آتا ہے۔
زندگی کے سفر میں اکیلا ہوں میں میری منزل کہاں میرا رستہ نہیں
میں ازل سے ہی تنہا رہا دوستو! اس جہاں میں کوئی میرا اپنا نہیں
اس اداسی اور تنہائی کے سوتے ہجر کی تلخی سے پھوٹتے ہیں اور سوگواری کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ تو شاعر کی آنکھ اشکبار ہو جاتی ہے۔
میں تیری یاد میں رویا ہوں اس طرح جیسے
فلک کی آنکھ زمیں کے لیے برستی ہے
محسن آرزوؔ خوشی اور غم کے ملے جلے احساسات سے غزل کا تانہ بانہ بنتے ہیں؛

تیری تلاش میں بے چین وقت بھی گزرا
تیرے خیال میں آسودگی بہت پائی
ان کی شاعری قلبی کیفیات، دکھ، درد،مسرت اور جزبہ و احساس کا حسین امتزاج بھی ہے۔
پتھر شہر میں رہتے ہوئے کانچ گھر میں ہوں
گویا میں کاغذات سمیٹے بحر میں ہوں
اے کاش! کوئی مجھ کو سکون کی امان دے
میں حادثاتِ وقت کی پہلی نظر میں ہوں
کہیں کہیں وہ انسانی رویوں کی داستان سناتے دکھائی دیتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ہاں خارجیت اور داخلیت دونوں کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔
میں کیا کروں کہ تکلفوں کے
بناوٹوں کے مروتوں کے
ہزار رشتے نبھا چکا ہوں
میں قرض سارے چکا چکا ہوں
تو کہیں ان کے یہاں رجائیت کے پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔
آنے والاہے نیا وقت زمین مہکے گی
شان سے اپنے گلی کوچہ و بازار میں چل
محسن نے غزل اور نظم دونوں میں طبع آزمائی کی ہے لیکن کہیں کہیں ان کی نظم پڑھ کر اس پر غزل کا گمان ہوتا ہے۔مثلاً، نظم ”احساسِ محرومی“میں اسے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔بایں ہمہ ان کی بعض نظمیں خوب صورت منظر کشی کے ساتھ ساتھ معاشرت اور ثقافت کی عکاسی کے عمدہ مرقعے ہیں نظم”پردیس“ اس کی بہترین مثال ہے۔
اپنے گھر کے آنگن میں اک چولہا تھا اک چکی تھی
اس چولہے کی مٹی یارو تھوڑی کچی پکی تھی!
مٹی کی اک ہانڈی تھی جو اس چولہے پہ رکھی تھی
اس ہانڈی پہ پکنے والی ہرشے کتنی اچھی تھی
ماں، آنسو، حالاتِ حاضرہ اوراے وادیئ کشمیران کی بہت اچھی نظمیں ہیں۔ خاص طو ر پر”اے وادیئ کشمیر“ دل کو چھونے والی نظم ہے جو کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے پس منظر میں لکھی گئی ہے اور اگر اسے کشمیری لوگوں کا نوحہ کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔
جہاں تک ان کی غزلوں کا تعلق ہے تو ان میں روانی بھی ہے اور تسلسل بھی۔کچھ غزلیں قدما کے تتبع میں لکھی معلوم ہوتی ہیں اور کچھ جدید تاثر کا احساس دلاتی ہیں لیکن ایک بات جس نے زیادہ متاثر کیا وہ ان کا عاجزانہ رویہ ہے جو غزل اور نظم دونوں میں نمایاں ہے اور ایسے اشعار درحقیقت ان کی شخصیت کا صحیح آئینہ ہیں۔
مجھے امیدِ واثق ہے کہ آنے والے زمانے میں محسن آرزوؔ کی شاعری کو مثال سمجھا جائے گا۔”جان پرسوز“کے مطالعے سے ایک اور بات جو سامنے آتی ہے وہ شاعر کے تخلیقی کلام ہونے کی تصدیق ہے۔امید ہے کہ وہ اسی طرح اپنے کلام سے اردو شعر وادب سے محبت رکھنے والوں کو مستفید کرتے رہیں گے اور دعا ہے کہ ان کا کلام شہرت دوام حاصل کرے۔آمین!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda Gilani

Read More Articles by Syeda Gilani: 36 Articles with 23159 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2021 Views: 108

Comments

آپ کی رائے